کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: جب آدمی ، اپنے گھر میں داخل ہو ، یا جب اس سے نکلے ، تو کیا پڑھے ؟
حدیث نمبر: 17075
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ قَرَأَ : ( قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ ) حِينَ يَدْخُلُ مَنْزِلَهُ نَفَتِ الْفَقْرَ عَنْ أَهْلِ ذَلِكَ الْمَنْزِلِ وَالْجِيرَانِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَرْوَانُ بْنُ سَالِمٍ الْغِفَارِيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص گھر میں داخل ہوتے وقت سورۂ اخلاص پڑھ لے تو اس گھر کے رہنے والوں اور اُس کے پڑوسیوں سے غربت دور ہو جاتی ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مروان بن سالم غفاری ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 17075
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير “ (2419)»
حدیث نمبر: 17076
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ قَالَ : كَانَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ إِذَا دَخَلَ مَنْزِلَهُ قَرَأَ فِي زَوَايَا الْبَيْتِ آيَةَ الْكُرْسِيِّ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ إِلَّا أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ ، لَمْ يَسْمَعْ مِنِ ابْنِ عَوْفٍ . ¤
محمد محی الدین
عبداللہ بن عبید بن عمیر بیان کرتے ہیں : سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ جب اپنے گھر میں داخل ہوتے تھے تو گھر کے تمام گوشوں میں آیت الکرسی پڑھتے تھے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ، البتہ عبداللہ نامی راوی نے سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 17076
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ منقطع
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (7207)»
حدیث نمبر: 17077
وَعَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَخْرُجُ مِنْ بَيْتِهِ يُرِيدُ سَفَرًا أَوْ غَيْرَهُ فَقَالَ حِينَ يَخْرُجُ : آمَنْتُ بِاللَّهِ ، اعْتَصَمْتُ بِاللَّهِ ، تَوَكَّلْتُ عَلَى اللَّهِ ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ إِلَّا رُزِقَ خَيْرَ ذَلِكَ الْمَخْرَجِ ، وَصُرِفَ عَنْهُ شَرُّ ذَلِكَ الْمَخْرَجِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ عُثْمَانَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو بھی مسلمان سفر پر جانے کے لیے ، یا کسی اور سلسلے میں اپنے گھر سے نکلتا ہے اور نکلتے ہوئے یہ پڑھ لیتا ہے :
«آمَنْتُ بِاللَّهِ ، اعْتَصَمْتُ بِاللَّهِ ، تَوَكَّلْتُ عَلَى اللَّهِ ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ» ” میں اللہ پر ایمان لایا ، میں نے اللہ تعالیٰ کو مضبوطی سے تھام لیا ، میں نے اللہ تعالیٰ پر توکل کیا ، اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر کچھ نہیں ہو سکتا ۔ “
( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : ) تو اُس نکلنے میں اسے بھلائی نصیب کی جاتی ہے ، اور اس نکلنے میں ، اُس سے برائی کو پھیر دیا جاتا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے ایک شخص کے حوالے سے ، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 17077
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (471)»
حدیث نمبر: 17078
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَصِيفَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَقُولُ إِذَا خَرَجَ مِنْ بَيْتِهِ : " بِسْمِ اللَّهِ ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ ، مَا شَاءَ اللَّهُ ، تَوَكَّلَتْ عَلَى اللَّهِ ، حَسْبِيَ اللَّهُ ، وَنِعْمَ الْوَكِيلُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ النَّوْفَلِيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
زید بن عبداللہ بن خصیفہ اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گھر سے باہر تشریف لے جاتے تھے تو آپ یہ پڑھتے تھے :
«بِسْمِ اللَّهِ ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ ، مَا شَاءَ اللَّهُ ، تَوَكَّلَتْ عَلَى اللَّهِ ، حَسْبِيَ اللَّهُ ، وَنِعْمَ الْوَكِيلُ» ” اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے ، اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر کچھ نہیں ہو سکتا ، جو اللہ چاہتا ہے ( یعنی وہی ہوتا ہے ) میں نے اللہ تعالیٰ پر توکل کیا ، اللہ تعالیٰ میرے لئے کافی ہے ، اور وہ بہترین کارساز ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یزید بن عبدالملک نوفلی ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 17078
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جدا
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (396/22)»
حدیث نمبر: 17079
وَعَنْ عَوْفٍ قَالَ : كَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ إِذَا خَرَجَ مِنْ بَيْتِهِ قَالَ : بِسْمِ اللَّهِ ، تَوَكَّلْتُ عَلَى اللَّهِ ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ . ¤ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ كَعْبٍ الْقُرَظِيُّ : هَذَا فِي الْقُرْآنِ : ( ارْكَبُوا فِيهَا بِسْمِ اللَّهِ ) ، وَقَالَ : عَلَى اللَّهِ تَوَكَّلْنَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مَوْقُوفًا ، وَإِسْنَادُهُ مُنْقَطِعٌ ، وَفِيهِ الْمَسْعُودِيُّ وَقَدِ اخْتَلَطَ . ¤
محمد محی الدین
عوف بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ جب اپنے گھر سے نکلتے تھے تو یہ پڑھتے تھے :
«بِسْمِ اللَّهِ ، تَوَكَّلْتُ عَلَى اللَّهِ ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ» ” اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے ، میں نے اللہ تعالیٰ پر توکل کیا اور اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر کچھ نہیں ہو سکتا ۔ “
محمد بن کعب قرظی کہتے ہیں : یہ چیز قرآن میں ہے : ” تم اللہ کا نام لے کر اس میں سوار ہو جاؤ “ اور انہوں نے یہ بھی کہا: ” ہم اللہ تعالیٰ پر ہی توکل کرتے ہیں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے ” موقوف “ روایت کے طور پر نقل کی ہے ، اس کی سند ” منقطع “ ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مسعودی ہے ، جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 17079
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (889)»
حدیث نمبر: 17080
وَعَنْ مَيْمُونَةَ قَالَتْ : مَا خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ بَيْتِي قَطُّ إِلَّا رَفَعَ طَرْفَهُ إِلَى السَّمَاءِ فَقَالَ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ أَنْ أَضِلَّ أَوْ أُضَلَّ ، أَوْ أَزِلَّ أَوْ أُزَلَّ ، أَوْ أَجْهَلَ أَوْ يُجْهَلَ عَلَيَّ ، أَوْ أَظْلِمَ أَوْ أُظْلَمَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ أَبُو بَكْرٍ الْهُذَلِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیده میمونہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی میرے گھر سے باہر تشریف لے جاتے تو آپ نگاہ اُٹھا کر آسمان کی طرف دیکھتے اور پھر یہ دعا کرتے :
«اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ أَنْ أَضِلَّ أَوْ أُضَلَّ ، أَوْ أَزِلَّ أَوْ أُزَلَّ ، أَوْ أَجْهَلَ أَوْ يُجْهَلَ عَلَيَّ ، أَوْ أَظْلِمَ أَوْ أُظْلَمَ»
” اے اللہ ! بے شک میں اس بات سے تیری پناہ مانگتا ہوں کہ میں گمراہ ہو جاؤں ، یا مجھے گمراہ کر دیا جائے ، یا میں پھسل جاؤں ، یا مجھے پھسلا دیا جائے ، میں جہالت کا مظاہرہ کروں ، یا میرے خلاف جہالت کا مظاہرہ کیا جائے ، یا میں ظلم کروں یا میرے خلاف ظلم کیا جائے ۔ “

یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوبکر ہذلی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 17080
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (9/24)»