کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: آدمی صبح اور مغرب کی نماز کے بعد کیا پڑھے ؟
حدیث نمبر: 16955
عَنْ أَبِي أَيُّوبَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ قَالَ إِذَا صَلَّى الصُّبْحَ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ عَشْرَ مَرَّاتٍ ; كُنَّ لَهُ كَعَدْلِ أَرْبَعِ رَقَبَاتٍ ، وَكُتِبَ لَهُ بِهِنَّ عَشْرُ حَسَنَاتٍ ، وَمُحِيَ عَنْهُ بِهِنَّ عَشْرُ سَيِّئَاتٍ ، وَكُنَّ لَهُ حِرْزًا مِنَ الشَّيْطَانِ حَتَّى يُمْسِيَ ، وَإِذَا قَالَهَا بَعْدَ الْمَغْرِبِ فَمِثْلُ ذَلِكَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ بِاخْتِصَارٍ ، وَفِي إِسْنَادِ أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، وَهُوَ مُدَلِّسٌ ، وَفِي إِسْنَادِ الطَّبَرَانِيِّ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي لَيْلَى ، وَهُوَ ثِقَةٌ سَيِّئُ الْحِفْظِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِمَا ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص صبح کی نماز ادا کر لینے کے بعد دس مرتبہ یہ پڑھے : «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ»
” اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، صرف وہی ایک معبود ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ہے ، بادشاہی اسی کے لئے مخصوص ہے ، اور حمد اسی کے لیے مخصوص ہے اور وہ ہر شے پر قدرت رکھتا ہے ۔ “
( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : ) تو یہ عمل اُس کے لیے چار غلام آزاد کرنے کے برابر ہو گا اور ان کلمات کی وجہ سے اس کے لئے دس نیکیاں نوٹ کی جائیں گی ، اور ان کلمات کی وجہ سے اس کے دس گناہ مٹا دیئے جائیں گے اور یہ کلمات شام ہونے تک شیطان سے اس کے لیے بچاؤ کا ذریعہ بن جائیں گے ، اور اگر کوئی شخص مغرب کے بعد انہیں پڑھ لے گا ، تو اس کی مانند ( یعنی اجر و ثواب ) حاصل ہو گا ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، امام أحمد کی سند میں ایک راوی محمد بن اسحاق ہے ، اور وہ مدلس ہے جبکہ امام طبرانی کی روایت میں ایک راوی محمد بن ابولیلیٰ ہے اور وہ ثقہ ہے ، لیکن حافظے کی خرابی کا شکار ہے ، ان دونوں کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 16955
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 16956
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ : " مَنْ قَالَ قَبْلَ أَنْ يَنْصَرِفَ وَيَثْنِيَ رِجْلَهُ مِنْ صَلَاةِ الْمَغْرِبِ وَالصُّبْحِ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ ، [ بِيَدِهِ الْخَيْرُ ] يُحْيِي وَيُمِيتُ ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ، عَشْرَ مَرَّاتٍ ; كُتِبَ لَهُ بِكُلِّ وَاحِدَةٍ عَشْرُ حَسَنَاتٍ ، وَمُحِيَ عَنْهُ عَشْرُ سَيِّئَاتٍ ، وَرُفِعَ لَهُ عَشْرُ دَرَجَاتٍ ، وَكَانَتْ حِرْزًا مِنْ كُلِّ مَكْرُوهٍ ، وَحِرْزًا مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ ، وَلَمْ يَحِلَّ لِذَنْبٍ أَنْ يُدْرِكَهُ إِلَّا الشِّرْكَ ، وَكَانَ مِنْ أَفْضَلِ النَّاسِ عَمَلًا ، إِلَّا رَجُلًا يَفْضُلُهُ بِقَوْلٍ أَفْضَلَ مِمَّا قَالَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبدالرحمن بن غنم رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص مغرب اور صبح کی نماز کے بعد اُٹھنے سے پہلے اور ٹانگ موڑنے سے پہلے یہ کلمات دس مرتبہ پڑھے : «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ ، بِيَدِهِ الْخَيْرُ يُحْيِي وَيُمِيتُ ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ»
” اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، صرف وہی ایک معبود ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ہے ، بادشاہی اسی کے لئے مخصوص ہے اور حمد اسی کے لیے مخصوص ہے ، ہر قسم کی بھلائی اسی کے دست قدرت میں ہے ، وہ زندگی دیتا ہے اور وہ موت دیتا ہے اور وہ ہر شے پر قدرت رکھتا ہے ۔ “
( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : ) تو ان میں سے ہر ایک کے عوض میں ، اس شخص کے لئے دس نیکیاں نوٹ کی جاتی ہیں اور اس شخص کے دس گناہ مٹا دیئے جاتے ہیں ، اور اس کے دس درجات بلند کر دیے جاتے ہیں اور یہ کلمات اس کے لیے ہر ناپسندیدہ چیز سے بچاؤ کا ذریعہ اور مردود شیطان سے بچاؤ کا ذریعہ بن جاتے ہیں ، اور شرک کے علاوہ کسی گناہ کے لیے یہ حلال نہیں ہے کہ وہ اس شخص تک پہنچ جائے ، اور ایسا شخص عمل کے اعتبار سے لوگوں میں سب سے زیادہ فضیلت والا ہوتا ہے ، البتہ اس شخص کا معاملہ مختلف ہو گا ، جس نے اس کے پڑھے ہوئے کلمات سے زیادہ تعداد میں ان کلمات کو پڑھا ہو ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف شہر بن حوشب کا معاملہ مختلف ہے ، اور اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 16956
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (227/4)»
حدیث نمبر: 16957
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ : أَنَّ فَاطِمَةَ جَاءَتْ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَشْتَكِي إِلَيْهِ الْخِدْمَةَ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَقَدْ مَجَلَتْ يَدَايَ مِنَ الرَّحَا ، أَطْحَنُ مَرَّةً وَأَعْجِنُ مَرَّةً . فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنْ يَرْزُقْكِ اللَّهُ شَيْئًا يَأْتِكِ ، وَسَأَدُلُّكِ عَلَى خَيْرٍ مِنْ ذَلِكَ ، إِذَا لَزِمْتِ مَضْجَعَكِ فَسَبِّحِي اللَّهَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ ، وَكَبِّرِي ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ ، وَاحْمَدِي أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ ، فَذَلِكَ مِائَةٌ [ فَهُوَ ] خَيْرٌ لَكِ مِنَ الْخَادِمِ . وَإِذَا صَلَّيْتِ الصُّبْحَ فَقُولِي : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ ، لَهُ الْمُلْكُ ، وَلَهُ الْحَمْدُ ، يُحْيِي وَيُمِيتُ ، بِيَدِهِ الْخَيْرُ ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ، عَشْرَ مَرَّاتٍ بَعْدَ صَلَاةِ الصُّبْحِ ، وَعَشْرَ مَرَّاتٍ بَعْدَ صَلَاةِ الْمَغْرِبِ ; فَإِنَّ كُلَّ وَاحِدَةٍ مِنْهُنَّ تَكْتُبُ عَشْرَ حَسَنَاتٍ ، وَتَحُطُّ عَشْرَ سَيِّئَاتٍ ، وَكُلُّ وَاحِدَةٍ مِنْهُنَّ كَعِتْقِ رَقَبَةٍ مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ ، وَلَا يَحِلُّ لِذَنْبٍ كُتِبَ ذَلِكَ الْيَوْمَ أَنْ يُدْرِكَهُ إِلَّا أَنْ يَكُونَ الشِّرْكَ ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ ، وَهُوَ حَرَسُكِ مَا بَيْنَ أَنْ تَقُولِيهِ غُدْوَةً إِلَى أَنْ تَقُولِيهِ عَشِيَّةً مِنْ كُلِّ شَيْطَانٍ ، وَمِنْ كُلِّ سُوءٍ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ بِنَحْوِهِ أَخْصَرَ مِنْهُ وَقَالَ : " هِيَ تَحْرُسُكِ " . مَكَانَ " وَهُوَ " . وَإِسْنَادُهُمَا حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : فاطمہ ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور آپ کے سامنے کام کاج کی شکایت کی ، اس نے کہا: یا رسول اللہ ! چکی پیسنے کی وجہ سے میرے ہاتھ خراب ہو گئے ہیں ، میں ایک مرتبہ آٹا پیستی ہوں اور ایک مرتبہ گوندھتی ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اگر اللہ تعالیٰ نے تمہیں کوئی چیز نصیب کی ، تو وہ تمہارے پاس آ جائے گی ، البتہ میں تمہاری رہنمائی اس سے زیادہ بہتر چیز کی طرف کرتا ہوں ، جب تم اپنے بستر پر جاؤ ، تو 33 مرتبہ «سبحان الله» 33 مرتبہ «الله اكبر» اور 34 مرتبہ «الحمد لله» پڑھو ، یہ 100 ہو جائیں گے اور یہ تمہارے لئے خادم ملنے سے بہتر ہیں ، اور جب تم صبح کی نماز ادا کر لو ، تو تم یہ پڑھو :
” اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، صرف وہی ایک معبود ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ہے ، بادشاہی اسی کے لئے مخصوص ہے حمد اسی کے لیے مخصوص ہے ، وہ زندگی دیتا ہے اور وہ موت دیتا ہے اور ہر قسم کی بھلائی اسی کے دست قدرت میں ہے اور وہ ہر شے پر قدرت رکھتا ہے ۔ “
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم صبح کی نماز کے بعد دس مرتبہ اور مغرب کی نماز کے بعد دس مرتبہ ان کلمات کو پڑھو ، کیونکہ ان میں سے ہر ایک کے عوض میں دس نیکیاں نوٹ کی جاتی ہیں اور دس گناہ مٹا دیئے جاتے ہیں اور ان میں سے ہر ایک کلمہ سیدنا اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے ایک غلام کو آزاد کرنے کی مانند ہے ، اور کسی گناہ کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ اس دن میں ، اس شخص تک پہنچے ، البتہ شرک ہو تو معاملہ مختلف ہے ” «لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ» “ کے یہ الفاظ تمہارے صبح کے وقت پڑھنے سے لے کر تمہارے شام کے وقت انہیں پڑھنے کے درمیان کے وقت میں ، ہر شیطان اور ہر برائی کے حوالے سے تمہارے محافظ ہوں گے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور امام طبرانی نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے ، جو اس سے زیادہ مختصر ہے ، اور انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” وہ تمہاری حفاظت کریں گے ۔ “ ان دونوں کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 16957
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (339/23) اخرجه احمد فى المسند (298/6)»
حدیث نمبر: 16958
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ قَالَ بَعْدَ صَلَاةِ الصُّبْحِ وَهُوَ ثَانٍ رِجْلَهُ قَبْلَ أَنْ يَتَكَلَّمَ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ ، يُحْيِي وَيُمِيتُ ، بِيَدِهِ الْخَيْرُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ، عَشْرَ مَرَّاتٍ كُتِبَ لَهُ بِكُلِّ مَرَّةٍ عَشْرُ حَسَنَاتٍ ، وَمُحِيَ عَنْهُ عَشْرُ سَيِّئَاتٍ ، وَرُفِعَ لَهُ عَشْرُ دَرَجَاتٍ ، وَكُنَّ لَهُ فِي يَوْمِهِ ذَلِكَ حِرْزًا مِنْ كُلِّ مَكْرُوهٍ ، وَحَرَسًا مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ ، وَكَانَ لَهُ بِكُلِّ مَرَّةٍ عِتْقُ رَقَبَةٍ مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ عَنْ كُلِّ رَقَبَةٍ اثْنَا عَشَرَ أَلْفًا ، وَلَمْ يَلْحَقْهُ يَوْمَئِذٍ ذَنْبٌ إِلَّا الشِّرْكُ بِاللَّهِ . ¤ وَمَنْ قَالَ ذَلِكَ بَعْدَ صَلَاةِ الْمَغْرِبِ كَانَ لَهُ مِثْلُ ذَلِكَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَطَاءٍ الْبَلْقَاوِيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص صبح کی نماز ادا کرنے کے بعد کسی سے بات چیت کرنے سے پہلے ان کلمات کو پڑھے ، جبکہ اس نے اپنی ٹانگ کو موڑا ہوا ہو : «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ ، يُحْيِي وَيُمِيتُ ، بِيَدِهِ الْخَيْرُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ»
” اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، صرف وہی ایک معبود ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ہے ، بادشاہی اسی کے لئے مخصوص ہے اور حمد اسی کے لیے مخصوص ہے ، وہ زندگی دیتا ہے اور وہ موت دیتا ہے ، ہر قسم کی بھلائی اسی کے دست قدرت میں ہے ، اور وہ ہر شے پر قدرت رکھتا ہے ۔ “
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : جو شخص دس مرتبہ انہیں پڑھ لے ، تو ہر ایک مرتبہ کے عوض میں اس کے لئے دس نیکیاں نوٹ کی جائیں گی اور اس کے دس گناہ مٹا دیئے جائیں گے ، اور اس کے دس درجات بلند کر دیے جائیں گے ، اور یہ کلمات اُس دن میں اس شخص کے لیے ہر قسم کی ناپسندیدہ چیز سے بچاؤ کا ذریعہ بن جائیں گے اور مردود شیطان سے حفاظت کا باعث بن جائیں گے اور ہر ایک مرتبہ کے عوض میں اس شخص کو سیدنا اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے ایک غلام آزاد کرنے کا ثواب ملے گا ، جس کی قیمت 12000 ہو ، اور اس دن کوئی گناہ اس شخص کو لاحق نہیں ہو گا ، البتہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنے کا معاملہ مختلف ہے ۔ “
( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : ) اور جو شخص مغرب کی نماز کے بعد انہیں پڑھ لے گا ، اُسے بھی اس کی مانند ( یعنی اجر و ثواب حاصل ) ہو گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن محمد بن عطاء بلقاوی ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 16958
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جداً
حدیث نمبر: 16959
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ قَالَ دُبُرَ كُلِّ صَلَاةِ الْغَدَاةِ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ ، يُحْيِي وَيُمِيتُ ، بِيَدِهِ الْخَيْرُ ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ، مِائَةَ مَرَّةٍ قَبْلَ أَنْ يَثْنِيَ رِجْلَيْهِ ; كَانَ يَوْمَئِذٍ مِنْ أَفْضَلِ أَهْلِ الْأَرْضِ عَمَلًا ، إِلَّا مَنْ قَالَ مِثْلَ مَا قَالَ أَوْ زَادَ عَلَى مَا قَالَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُ الْأَوْسَطِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص صبح کی نماز کے بعد یہ کلمات پڑھے : «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ ، يُحْيِي وَيُمِيتُ ، بِيَدِهِ الْخَيْرُ ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ»
” اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، صرف وہی ایک معبود ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ہے ، بادشاہی اسی کے لئے مخصوص ہے اور حمد اسی کے لیے مخصوص ہے ، وہ زندگی دیتا ہے اور وہ موت دیتا ہے اور ہر قسم کی بھلائی اسی کے دست قدرت میں ہے ، اور وہ ہر شے پر قدرت رکھتا ہے ۔ “
جو شخص اپنی ٹانگیں موڑنے سے پہلے سو مرتبہ انہیں پڑھ لے ، تو وہ اس دن عمل کے اعتبار سے اہل زمین کا سب سے زیادہ فضیلت والا شخص ہو گا ، البتہ اس کا معاملہ مختلف ہے ، جس نے اس کے پڑھے ہوئے جتنا پڑھا ہو ، یا اس کے پڑھے ہوئے سے زیادہ پڑھا ہو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور معجم اوسط کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 16959
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8075)»
حدیث نمبر: 16960
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ قَالَ حِينَ يَنْصَرِفُ مِنْ صَلَاةِ الْغَدَاةِ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ ، لَهُ الْمُلْكُ ، وَلَهُ الْحَمْدُ ، بِيَدِهِ الْخَيْرُ ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ، عَشْرَ مَرَّاتٍ ; أُعْطِيَ بِهِنَّ سَبْعًا ، كُتِبَ لَهُ بِهِنَّ عَشْرُ حَسَنَاتٍ ، وَمُحِيَ عَنْهُ بِهِنَّ عَشْرُ سَيِّئَاتٍ ، وَرُفِعَ لَهُ بِهِنَّ عَشْرُ دَرَجَاتٍ ، وَكُنَّ لَهُ عَدْلَ عَشْرِ نَسَمَاتٍ ، وَكُنَّ لَهُ حَافِظًا مِنَ الشَّيْطَانِ ، وَحِرْزًا مِنَ الْمَكْرُوهِ ، وَلَمْ يَلْحَقْهُ فِي ذَلِكَ الْيَوْمِ ذَنْبٌ إِلَّا الشِّرْكُ بِاللَّهِ ، وَمَنْ قَالَهُنَّ حِينَ يَنْصَرِفُ مِنْ صَلَاةِ الْمَغْرِبِ أُعْطِيَ مِثْلَ ذَلِكَ لَيْلَتَهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مِنْ طَرِيقِ عَاصِمِ بْنِ مَنْصُورٍ ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ وَثَّقَهُ وَلَا ضَعَّفَهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص صبح کی نماز سے فارغ ہونے کے بعد یہ پڑھے :« لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ ، لَهُ الْمُلْكُ ، وَلَهُ الْحَمْدُ ، بِيَدِهِ الْخَيْرُ ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ » ” اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، صرف وہی ایک معبود ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ہے ، بادشاہی اسی کے لئے مخصوص ہے ، حمد اسی کے لیے مخصوص ہے ، ہر قسم کی بھلائی اسی کے دست قدرت میں ہے اور وہ ہر شے پر قدرت رکھتا ہے ۔ “ جو شخص دس مرتبہ یہ کلمات پڑھ لے گا ، اسے ان کے عوض میں سات چیزیں عطا کی جائیں گی ، اسے ان کی وجہ سے دس نیکیاں ملیں گی ان کی وجہ سے اس کے دس گناہ مٹا دیئے جائیں گے ، ان کی وجہ سے اس کے دس درجات بلند ہوں گے ، یہ کلمات اس کے لئے 10 غلام آزاد کرنے کے برابر ہوں گے ، یہ کلمات اس کے لیے شیطان سے حفاظت کا ذریعہ اور ناپسندیدہ چیز سے بچاؤ کا باعث ہوں گے ، اور اس دن میں کوئی بھی گناہ اس شخص کو لاحق نہیں ہو گا ، البتہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنے کا معاملہ مختلف ہے ، اور جو شخص مغرب کی نماز سے فارغ ہونے کے بعد ان کلمات کو پڑھ لے گا اُسے اس رات میں ، اس کی مانند اجر و ثواب عطا کیا جائے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے عاصم بن منصور کے حوالے سے نقل کی ہے ، میں نے کوئی ایسا شخص نہیں پایا جس نے اس کی توثیق کی ہو ، یا جس نے اس کو ضعیف قرار دیا ہو ، اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 16960
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير “ (65/20)»
حدیث نمبر: 16961
وَعَنْ زُمَيْلٍ الْجُهَنِيِّ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا صَلَّى الصُّبْحَ قَالَ وَهُوَ ثَانٍ رِجْلَهُ : " سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ ، وَأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ إِنَّهُ كَانَ تَوَّابًا " . سَبْعِينَ مَرَّةً . ثُمَّ يَقُولُ : " سَبْعِينَ بِسَبْعِمِائَةٍ ، لَا خَيْرَ لِمَنْ كَانَتْ ذُنُوبُهُ فِي يَوْمٍ وَاحِدٍ أَكْثَرَ مِنْ سَبْعِمِائَةٍ " . ثُمَّ يَسْتَقْبِلُ النَّاسَ بِوَجْهِهِ . ¤ قُلْتُ : فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، وَقَدْ تَقَدَّمَ فِي التَّعْبِيرِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابن زمیل جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب صبح کی نماز ادا کر لیتے تھے تو آپ یہ پڑھتے تھے ، آپ نے اس وقت اپنی ٹانگ موڑی ہوئی ہوتی تھی :
«سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ ، وَأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ إِنَّهُ كَانَ تَوَّابًا»
” اللہ تعالیٰ کی ذات ہر عیب سے پاک ہے ، اور حمد اسی کے لیے مخصوص ہے ، اور میں اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرتا ہوں ، بے شک وہ بہت زیادہ توبہ قبول کرنے والا ہے ۔ “
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ کلمات ستر مرتبہ پڑھتے تھے ، پھر آپ یہ فرماتے تھے : یہ ستر کلمات 700 ہو جائیں گے اور ایسے شخص کے لئے کوئی بھلائی نہیں ہے ، جس کے ایک دن میں گناہ 700 سے زیادہ ہوں ، پھر اس کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کی طرف رخ کرتے تھے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس کے بعد انہوں نے پوری روایت ذکر کی ہے ، جو اس سے پہلے تعبیر سے متعلق کتاب میں گزر چکی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 16961
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 16962
وَعَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ قَالَتْ : كَانَ أَبِي إِذَا صَلَّى الصُّبْحَ جَلَسَ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ ، لَا يَتَكَلَّمُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ ، فَرُبَّمَا كَلَّمْتُهُ فِي الْحَاجَةِ فَلَا يُكَلِّمُنِي ، فَقُلْتُ : مَا هَذَا ؟ فَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ صَلَّى الصُّبْحَ ثُمَّ قَرَأَ : قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ مِائَةَ مَرَّةٍ قَبْلَ أَنْ يَتَكَلَّمَ ، فَكُلَّمَا قَرَأَ : قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ غُفِرَ لَهُ ذَنْبُ سَنَةٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقُشَيْرِيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیده اسماء بنت واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میرے والد جب صبح کی نماز ادا کر لیتے تھے تو وہ قبلہ کی طرف رخ کر کے بیٹھے رہتے تھے اور سورج نکلنے تک کوئی کلام نہیں کرتے تھے ، بعض اوقات میں کسی کام کے سلسلے میں انہیں مخاطب کر لیتی تھی ، لیکن وہ میرے ساتھ کوئی بات نہیں کرتے تھے ، میں نے دریافت کیا : اس کی وجہ کیا ہے ؟ تو انہوں نے بتایا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص صبح کی نماز ادا کرنے کے بعد ، کسی کے ساتھ کلام کرنے سے پہلے 100 مرتبہ سورہ اخلاص پڑھے گا ، تو جب بھی وہ ایک مرتبہ سورہ اخلاص پڑھے گا ، تو اس کے ایک سال کے گناہوں کی مغفرت ہو جائے گی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبدالرحمن قشیری ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 16962
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (96/22)»