حدیث نمبر: 16936
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَأَنْ أَقْعُدَ أَذْكُرُ اللَّهَ ، وَأُكَبِّرُهُ ، وَأَحْمَدُهُ ، وَأُسَبِّحُهُ ، وَأُهَلِّلُهُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ ، أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَعْتِقَ رَقَبَتَيْنِ [ أَوْ أَكْثَرَ ] مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ . وَمِنْ بَعْدِ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ ، أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَعْتِقَ أَرْبَعَ رَقَبَاتٍ مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ " . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میں ( صبح کی نماز کے بعد ) بیٹھ کر اللہ کا ذکر کرتا ہوں ، اس کی کبریائی بیان کروں ، اس کی حمد بیان کروں اس کی تسبیح بیان کروں ، لا اله الا اللہ پڑھوں ، اور ایسا اس وقت تک کروں کہ سورج طلوع ہو جائے ، یہ میرے نزدیک اس سے زیادہ محبوب ہے کہ میں سیدنا اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے دو یا اس سے زیادہ غلام آزاد کر دوں ، اور میں عصر کے بعد سے لے کر سورج غروب ہونے تک ایسا کروں ، یہ میرے نزدیک اس سے زیادہ محبوب ہے کہ میں نے سیدنا اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے چار غلام آزاد کیے ہوں ۔ “
حدیث نمبر: 16937
وَفِي رِوَايَةٍ : " إِنْ أَذْكُرَ اللَّهَ [ مِنْ طُلُوعِ الْفَجْرِ ] إِلَى طُلُوعِ الشَّمْسِ : أُكَبِّرُ ، وَأُهَلِّلُ ، وَأُسَبِّحُ ، أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَعْتِقَ أَرْبَعًا مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ ، وَلَأَنْ أَذْكُرَ اللَّهَ مِنْ صَلَاةِ الْعَصْرِ إِلَى أَنْ تَغِيبَ الشَّمْسُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَعْتِقَ كَذَا وَكَذَا مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ " . ¤ رَوَاهُ كُلَّهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ بِنَحْوِ الرِّوَايَةِ الثَّانِيَةِ ، وَأَسَانِيدُهُ حَسَنَةٌ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : میں صبح صادق کے بعد سے لے کر سورج طلوع ہونے تک تکبیر ، تہلیل اور تسبیح پڑھتا رہوں ، یہ میرے نزدیک اس سے زیادہ محبوب ہے کہ میں نے سیدنا اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے چار غلاموں کو آزاد کیا ہو ، اور میں عصر کی نماز کے بعد سے لے کر سورج غروب ہونے تک اللہ کا ذکر کرتا رہوں ، یہ میرے نزدیک اس سے زیادہ محبوب ہے کہ میں سیدنا اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے اتنے اتنے غلام آزاد کروں ۔ “ یہ تمام روایات امام أحمد نے نقل کی ہیں ، اور امام طبرانی نے دوسری روایت کی مانند روایت نقل کی ہے ، ان کی اسانید حسن ہیں ۔
حدیث نمبر: 16938
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ صَلَّى صَلَاةَ الْغَدَاةِ فِي جَمَاعَةٍ ، ثُمَّ جَلَسَ يَذْكُرُ اللَّهَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ، انْقَلَبَ بِأَجْرِ حَجَّةٍ وَعُمْرَةٍ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ جَيِّدٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص صبح کی نماز باجماعت ادا کرے اور پھر بیٹھ کر سورج طلوع ہونے تک اللہ کا ذکر کرتا رہے ، پھر وہ اُٹھ کر دو رکعت نماز ادا کرے ، تو وہ حج اور عمرے کا اجر لے کر واپس جاتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند عمدہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند عمدہ ہے ۔
حدیث نمبر: 16939
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرٍ : أَنَّ أَبَا أُمَامَةَ ، وَعُتْبَةَ بْنَ عَبْدٍ حَدَّثَاهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ صَلَّى صَلَاةَ الصُّبْحِ فِي [ مَسْجِدِ ] جَمَاعَةٍ ، ثُمَّ ثَبَتَ حَتَّى يُسَبِّحَ اللَّهَ سُبْحَةَ الضُّحَى [ كَانَ ]، لَهُ كَأَجْرِ حَاجٍّ وَمُعْتَمِرٍ ، تَامٌ لَهُ حَجَّتُهُ وَعُمْرَتُهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ الْأَحْوَصُ بْنُ حَكِيمٍ ، وَثَّقَهُ الْعِجْلِيُّ وَغَيْرُهُ ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ وَفِي بَعْضِهِمْ خِلَافٌ لَا يَضُرُّ . ¤
محمد محی الدین
عبداللہ بن عامر بیان کرتے ہیں : سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا عتبہ بن عبد رضی اللہ عنہ نے انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ حدیث بیان کی : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص صبح کی نماز مسجد میں باجماعت ادا کرے ، پھر اپنی جگہ ٹھہرا رہے ، یہاں تک کہ وہ چاشت کی نماز ادا کر لے ، تو اسے حج کرنے والے اور عمرہ کرنے والے ایسے فرد کی مانند اجر ملتا ہے جس کا حج اور عمرہ مکمل ہوا ہو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی احوص بن حکیم ہے جسے عجلی اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ، جبکہ ایک جماعت نے اس کو ضعیف کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں اور اس کے بعض راویوں کے بارے میں ایسا اختلاف پایا جاتا ہے جو نقصان دہ نہیں ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی احوص بن حکیم ہے جسے عجلی اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ، جبکہ ایک جماعت نے اس کو ضعیف کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں اور اس کے بعض راویوں کے بارے میں ایسا اختلاف پایا جاتا ہے جو نقصان دہ نہیں ہے ۔
حدیث نمبر: 16940
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا صَلَّى الْفَجْرَ لَمْ يَقُمْ مِنْ مَجْلِسِهِ حَتَّى يُمْكِنَهُ الصَّلَاةُ وَقَالَ : " مَنْ صَلَّى الصُّبْحَ ، ثُمَّ جَلَسَ مَجْلِسَهُ حَتَّى يُمْكِنَهُ الصَّلَاةُ ، كَانَتْ بِمَنْزِلَةِ حَجَّةٍ وَعُمْرَةٍ مُتَقَبَّلَتَيْنِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ الْفَضْلُ بْنُ مُوَفَّقٍ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَضَعَّفَ حَدِيثَهُ أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب فجر کی نماز ادا کر لیتے تھے تو آپ اپنی جگہ سے اُس وقت تک نہیں اٹھتے تھے ، جب تک آپ کے لیے نماز ادا کرنا ممکن نہیں ہو جاتا تھا ( یعنی جب تک سورج نکل نہیں آتا تھا ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جو شخص صبح کی نماز ادا کرنے کے بعد اپنی جگہ بیٹھا رہے ، یہاں تک کہ اس کے لیے نماز ادا کرنا ممکن ہو جائے ، تو یہ اس کے لئے مقبول حج اور عمرے کی منزلت میں ہے ( اُسے مقبول حج اور عمرہ کا ثواب ملتا ہے ) ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی فضل بن موفق ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے جبکہ ابوحاتم رازی نے اس کی نقل کردہ حدیث کو ضعیف کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی فضل بن موفق ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے جبکہ ابوحاتم رازی نے اس کی نقل کردہ حدیث کو ضعیف کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حدیث نمبر: 16941
وَعَنْ عَمْرَةَ قَالَتْ : سَمِعْتُ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ - يَعْنِي عَائِشَةَ - تَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ صَلَّى الْفَجْرِ - أَوْ قَالَ : الْغَدَاةِ - فَقَعَدَ فِي مَقْعَدِهِ ، فَلَمْ يَلْغُ بِشَيْءٍ مِنْ أَمْرِ الدُّنْيَا ، وَيَذْكُرُ اللَّهَ حَتَّى يُصَلِّيَ الضُّحَى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ خَرَجَ مِنْ ذُنُوبِهِ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ ، لَا ذَنْبَ لَهُ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِنَحْوِهِ ، وَفِيهِ الطَّيِّبُ بْنُ سَلْمَانَ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَضَعَّفَهُ الدَّارَقُطْنِيُّ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ أَبِي يَعْلَى رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
عمرہ نامی خاتون بیان کرتی ہیں : میں نے اُم المؤمنین ، یعنی سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے ، وہ فرماتی ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص فجر کی نماز ادا کر لے ۔ راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) ۔ صبح کی نماز ادا کر لے اور پھر اپنی جگہ پر بیٹھا رہے ، اس دوران وہ دنیا کے کسی کام سے تعلق رکھنے والی کوئی لغو حرکت نہ کرے ، بلکہ اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتا رہے ، یہاں تک کہ چاشت کی نماز کی چار رکعات ادا کر لے ، تو وہ اپنے گناہوں سے نکل کر یوں ہو جاتا ہے جیسے اُس دن تھا جب اس کی ماں نے اسے جنم دیا تھا ، اس کا کوئی گناہ نہیں تھا ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، امام طبرانی نے معجم اوسط میں اس کی مانند نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی طیب بن سلمان ہے جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور دارقطنی نے اسے ضعیف کہا: ہے ، ابویعلیٰ کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، امام طبرانی نے معجم اوسط میں اس کی مانند نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی طیب بن سلمان ہے جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور دارقطنی نے اسے ضعیف کہا: ہے ، ابویعلیٰ کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 16942
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ صَلَّى الْعَصْرَ ثُمَّ جَلَسَ يُمْلِي خَيْرًا حَتَّى يُمْسِيَ ، كَانَ أَفْضَلَ مِمَّنْ أَعْتَقَ ثَمَانِيَةً مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ " . قُلْتُ : لَهُ حَدِيثٌ عِنْدَ التِّرْمِذِيِّ وَأَبِي دَاوُدَ غَيْرُ هَذَا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص عصر کی نماز ادا کر لے اور پھر بیٹھ کر بھلائی املاء کرواتا رہے ( یعنی ذکر اذکار کرتا رہے ) یہاں تک کہ شام ہو جائے ( یعنی سورج غروب ہو جائے ) تو یہ سیدنا اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے آٹھ افراد کو آزاد کرنے سے افضل ہے ۔ “
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ان صحابی کے حوالے سے امام ترمذی نے اور امام ابوداؤد نے ایک حدیث نقل کی ہے ، جو اس روایت کے علاوہ ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ان صحابی کے حوالے سے امام ترمذی نے اور امام ابوداؤد نے ایک حدیث نقل کی ہے ، جو اس روایت کے علاوہ ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔
حدیث نمبر: 16943
وَفِي رِوَايَةٍ لِأَبِي يَعْلَى : " لَأَنْ أَجْلِسَ مَعَ قَوْمٍ يَذْكُرُونَ اللَّهَ مِنْ غَدْوَةٍ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ ، أَحَبُّ إِلَيَّ مِمَّا طَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ " . ¤ وَفِي رِوَايَةِ أَحْمَدَ لَمْ يُذْكَرْ يَزِيدُ الرَّقَاشِيُّ . ¤ وَرَوَاهُ أَبُو يَعْلَى عَنِ الْمُعَلَّى بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ يَزِيدَ الرَّقَاشِيِّ ، وَيَزِيدُ ضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ ، وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین
امام ابویعلیٰ کی ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” میں ایسے لوگوں کے ساتھ بیٹھ جاؤں ، جو صبح سے لے کر سورج طلوع ہونے تک اللہ کا ذکر کرتے رہیں ، یہ میرے نزدیک اس سے زیادہ محبوب ہے ، جس بھی چیز پر سورج طلوع ہوتا ہے ۔ “ امام أحمد کی روایت میں یزید رقاشی نامی راوی کا ذکر نہیں ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے معلیٰ بن زیاد کے حوالے سے ، یزید رقاشی سے نقل کی ہے ، اور یزید کو جمہور نے ضعیف قرار دیا ہے ، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے معلیٰ بن زیاد کے حوالے سے ، یزید رقاشی سے نقل کی ہے ، اور یزید کو جمہور نے ضعیف قرار دیا ہے ، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 16944
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَأَنْ أَقْعُدَ مَعَ قَوْمٍ يَذْكُرُونَ اللَّهَ مِنْ بَعْدِ صَلَاةِ الْفَجْرِ إِلَى أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَعْتِقَ أَرْبَعَةً مِنْ بَنِي إِسْمَاعِيلَ ، دِيَةُ كُلِّ رَجُلٍ مِنْهُمُ اثْنَا عَشَرَ أَلْفًا . وَلَأَنْ أَقْعُدَ مَعَ أَقْوَامٍ يَذْكُرُونَ اللَّهَ مِنْ بَعْدِ صَلَاةِ الْعَصْرِ إِلَى أَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَعْتِقَ أَرْبَعَةً مِنْ بَنِي إِسْمَاعِيلَ دِيَةُ كُلِّ رَجُلٍ مِنْهُمُ اثْنَا عَشَرَ أَلْفًا " . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ بِاخْتِصَارٍ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ مُحْتَسِبٌ أَبُو عَائِدٍ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَضَعَّفَهُ غَيْرُهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضٰ اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میں فجر کی نماز کے بعد اللہ کا ذکر کرنے والے لوگوں کے ساتھ بیٹھ جاؤں ، اور اس وقت تک بیٹھا رہوں کہ سورج طلوع ہو جائے ، یہ میرے نزدیک اس سے زیادہ محبوب ہے کہ میں سیدنا اسماعیل علیہ السلام کی اولاد سے تعلق رکھنے والے چار افراد کو آزاد کر دوں ، جن میں سے ہر ایک شخص کی قیمت 12000 ہو اور میں عصر کی نماز کے بعد سے لے کر سورج غروب ہونے تک اللہ کا ذکر کرنے والے لوگوں کے ساتھ بیٹھا رہوں ، یہ میرے نزدیک اس سے زیادہ محبوب ہو گا کہ میں سیدنا اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے چار ایسے افراد کو آزاد کر دوں ، جن میں سے ہر ایک کی قیمت 12000 ہو ۔ “
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ابوداؤد نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محتسب ابوعائد ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ابوداؤد نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محتسب ابوعائد ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 16945
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ صَلَّى صَلَاةَ الْفَجْرِ ، ثُمَّ قَعَدَ يَذْكُرُ اللَّهَ تَعَالَى حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ ، وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ " . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ بِاخْتِصَارِ قَوْلِهِ : " وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ زَبَّانُ بْنُ فَائِدٍ ، ضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ ، وَقَالَ أَبُو حَاتِمٍ : صَالِحٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ حَدِيثُهُمْ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاذ بن انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص فجر کی نماز ادا کر لے اور پھر بیٹھ کر سورج طلوع ہونے تک اللہ کا ذکر کرتا رہے ، اس کے لیے جنت واجب ہو جاتی ہے ۔ “
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت امام ابوداؤد نے ان الفاظ کے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے : ” اس کے لیے جنت واجب ہو جاتی ہے ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی زبان بن فائد ہے ، جسے جمہور نے ضعیف قرار دیا ہے ، ابوحاتم کہتے ہیں : یہ صالح ہے ، اس روایت کے رجال ایسے ہیں کہ ان کی نقل کردہ حدیث حسن ہوتی ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت امام ابوداؤد نے ان الفاظ کے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے : ” اس کے لیے جنت واجب ہو جاتی ہے ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی زبان بن فائد ہے ، جسے جمہور نے ضعیف قرار دیا ہے ، ابوحاتم کہتے ہیں : یہ صالح ہے ، اس روایت کے رجال ایسے ہیں کہ ان کی نقل کردہ حدیث حسن ہوتی ہے ۔
حدیث نمبر: 16946
وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَأَنْ أَشْهَدَ الصُّبْحَ ثُمَّ أَجْلِسَ فَأَذْكُرَ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَحْمِلَ عَلَى جِيَادِ الْخَيْلِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِأَسَانِيدَ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَأَسَانِيدُهُ ضَعِيفَةٌ ، فِي بَعْضِهَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حُمَيْدٍ ، وَفِي بَعْضِهَا الْمِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ وَغَيْرُهُ ، وَكُلُّهُمْ ضُعَفَاءُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میں صبح کی نماز باجماعت میں شریک ہوؤں ، پھر میں بیٹھ کر سورج طلوع ہونے تک اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتا رہوں ، یہ میرے نزدیک اس سے زیادہ محبوب ہو گا کہ میں سورج طلوع ہونے تک اللہ کی راہ میں عمدہ گھوڑے سواری کے لیے دوں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی اسانید ضعیف ہیں ، اس کی بعض اسانید میں ایک راوی محمد بن ابوحمید ہے اور بعض میں ایک راوی مقدام بن داؤد اور دوسرا راوی ہے اور یہ سب ضعیف ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی اسانید ضعیف ہیں ، اس کی بعض اسانید میں ایک راوی محمد بن ابوحمید ہے اور بعض میں ایک راوی مقدام بن داؤد اور دوسرا راوی ہے اور یہ سب ضعیف ہیں ۔
حدیث نمبر: 16947
وَعَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَأَنْ أَجْلِسَ مِنْ صَلَاةِ الْغَدَاةِ إِلَى أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَعْتِقَ أَرْبَعَ رِقَابٍ مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " لَأَنْ أُصَلِّيَ الْغَدَاةَ وَأَذْكُرَ اللَّهَ تَعَالَى حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ شَدٍّ عَلَى الْخَيْلِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ " . ¤ وَفِي إِسْنَادِهِمَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حُمَيْدٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میں صبح کی نماز کے بعد سے لے کر سورج طلوع ہونے تک بیٹھ کر ( یعنی اللہ کا ذکر کرتا رہوں ) یہ میرے نزدیک اس سے زیادہ محبوب ہو گا کہ میں سیدنا اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے چار غلام آزاد کر دوں ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے بھی نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” میں صبح کی نماز ادا کرنے کے بعد اللہ کا ذکر کرتا رہوں ، یہاں تک کہ سورج طلوع ہو جائے ، یہ میرے نزدیک اس سے زیادہ محبوب ہے کہ میں سورج طلوع ہونے تک ، اللہ کی راہ میں دینے کے لیے گھوڑے تیار کرتا رہوں ۔ “ ان دونوں سند میں ایک راوی محمد بن ابوحمید ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے بھی نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” میں صبح کی نماز ادا کرنے کے بعد اللہ کا ذکر کرتا رہوں ، یہاں تک کہ سورج طلوع ہو جائے ، یہ میرے نزدیک اس سے زیادہ محبوب ہے کہ میں سورج طلوع ہونے تک ، اللہ کی راہ میں دینے کے لیے گھوڑے تیار کرتا رہوں ۔ “ ان دونوں سند میں ایک راوی محمد بن ابوحمید ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 16948
وَعَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ قَالَ : سَمِعْتُ جَدِّي رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَا مِنْ عَبْدٍ يُصَلِّي صَلَاةَ الصُّبْحِ ، ثُمَّ يَجْلِسُ يَذْكُرُ اللَّهَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ إِلَّا كَانَ ذَلِكَ [ لَهُ ] حِجَابًا مِنَ النَّارِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ الْحَسَنُ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ الْجَفْرِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ ، وَهُوَ فِي نَفْسِهِ صَدُوقٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا امام حسن بن علی رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نے اپنے نانا ، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو بھی بندہ صبح کی نماز ادا کرنے کے بعد سورج نکلنے تک بیٹھ کر اللہ کا ذکر کرتا رہے ، تو یہ عمل اس کے لئے جہنم سے بچاؤ کا باعث بن جائے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حسن بن ابوجعفر جفری ہے اور وہ اپنے حافظے کے حوالے سے ضعیف ہے ، لیکن اپنی ذات کے حوالے سے صدوق ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حسن بن ابوجعفر جفری ہے اور وہ اپنے حافظے کے حوالے سے ضعیف ہے ، لیکن اپنی ذات کے حوالے سے صدوق ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 16949
وَعَنْ عُمَيْرِ بْنِ الْمَأْمُومِ قَالَ : أَتَيْتُ الْمَدِينَةَ أَزُورُ ابْنَةَ عَمٍّ لِي تَحْتَ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ ، فَشَهِدْتُ مَعَهُ صَلَاةَ الصُّبْحِ فِي مَسْجِدِ الرَّسُولِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَصْبَحَ ابْنُ الزُّبَيْرِ قَدْ أَوْلَمَ ، فَأَتَى رَسُولُ ابْنِ الزُّبَيْرِ فَقَالَ : يَا ابْنَ رَسُولِ اللَّهِ ، إِنَّ ابْنَ الزُّبَيْرِ قَدْ أَصْبَحَ قَدْ أَوْلَمَ ، وَقَدْ أَرْسَلَنِي إِلَيْكَ ، فَالْتَفَتَ إِلَيَّ فَقَالَ : هَلْ طَلَعَتِ الشَّمْسُ ؟ قُلْتُ : لَا أَحْسَبُ إِلَّا قَدْ طَلَعَتْ ، قَالَ : الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْلَعَهَا مِنْ مَطْلَعِهَا ، ثُمَّ قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي وَجَدِّي - يَعْنِي النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ صَلَّى الْغَدَاةَ ، ثُمَّ قَعَدَ يَذْكُرُ اللَّهَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ ، جَعَلَ اللَّهُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ النَّارِ سِتْرًا " . ¤ ثُمَّ قَالَ : قُومُوا فَأَجِيبُوا ابْنَ الزُّبَيْرِ . فَلَمَّا انْتَهَيْنَا إِلَى الْبَابِ تَلَقَّاهُ ابْنُ الزُّبَيْرِ عَلَى الْبَابِ فَقَالَ : يَا ابْنَ رَسُولِ اللَّهِ ، أَبْطَأْتَ عَنِّي فِي هَذَا الْيَوْمِ . فَقَالَ : أَمَا إِنِّي قَدْ أَجَبْتُكُمْ وَأَنَا صَائِمٌ ، قَالَ : فَهَهُنَا تُحْفَةٌ ، فَقَالَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ : سَمِعْتُ أَبِي وَجَدِّي - يَعْنِي النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " تُحْفَةُ الصَّائِمِ الذَّرَائِرُ أَنْ يُغَلِّفَ لِحْيَتَهُ ، وَيُجَمِّرَ ثِيَابَهُ ، وَيَذْرُرَ " . ¤ قَالَ : قُلْتُ : يَا ابْنَ رَسُولِ اللَّهِ ، أَعِدْ عَلَيَّ الْحَدِيثَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي وَجَدِّي - يَعْنِي النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ أَدَامَ الِاخْتِلَافَ إِلَى الْمَسْجِدِ أَصَابَ آيَةً مُحْكَمَةً ، أَوْ رَحْمَةً مُنْتَظَرَةً ، أَوْ عِلْمًا مُسْتَطْرَفًا ، أَوْ كَلِمَةً تَزِيدُهُ هُدًى ، أَوْ تَرُدُّهُ عَنْ رَدًى ، أَوْ يَدَعُ الذُّنُوبَ خَشْيَةً أَوْ حَيَاءً " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ سَعِيدُ بْنُ طَرِيفٍ الْحَدَّاءُ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
عمیر بن ماموم بیان کرتے ہیں : میں اپنی چچا زاد سے ملنے کے لیے مدینہ منورہ آیا ، جو سیدنا امام حسن بن علی رضی اللہ عنہما کی اہلیہ تھیں ، میں نے مسجد نبوی میں سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ کے ساتھ صبح کی نماز میں شرکت کی ، اس دن سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کا ولیمہ تھا ، سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کا قاصد آیا اور بولا: اے اللہ کے رسول کے صاحبزادے ! سیدنا ابن زبیر کا آج ولیمہ ہے ، انہوں نے مجھے آپ کی طرف بھیجا ہے ، تو سیدنا امام حسن بن علی رضی اللہ عنہ میری طرف متوجہ ہوئے اور انہوں نے دریافت کیا : کیا سورج نکل آیا ہے ؟ میں نے جواب دیا : میرا خیال ہے نکل چکا ہو گا ، انہوں نے فرمایا : ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے جس نے اس کے طلوع ہونے کے مخصوص مقام سے اسے طلوع کیا ہے ، پھر انہوں نے بتایا : میں نے اپنے نانا ، یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص صبح کی نماز ادا کرنے کے بعد سورج نکلنے تک بیٹھ کر اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتا رہے ، اللہ تعالیٰ اس شخص اور جہنم کے درمیان رکاوٹ ڈال دیتا ہے ۔ “ پھر انہوں نے فرمایا : تم لوگ اُٹھو اور ابن زبیر کی دعوت میں چلو ! راوی کہتے ہیں : جب ہم دروازے پر پہنچے تو سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہما کی دروازے پر اُن سے ملاقات ہوئی ، سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہما نے کہا: اے اللہ کے رسول کے صاحبزادے ! آج آپ کو میرے پاس آنے میں تاخیر ہو گئی ، تو سیدنا امام حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے فرمایا : میں نے تمہاری دعوت قبول کر لی ہے ، حالانکہ میں نے روزہ رکھا ہوا ہے اور یہ تحفہ ہے پھر سیدنا امام حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے فرمایا : میں نے اپنے نانا ، یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” روزہ دار کا تحفہ خوشبو ہے کہ وہ اپنی داڑھی پر خوشبو لگائے اور اپنے کپڑوں پر خوشبو لگائے اور اسے پھیلا دے ۔ “ راوی کہتے ہیں ، میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول کے صاحبزادے ! آپ یہ بات میرے سامنے دُہرا دیں ، تو انہوں نے فرمایا : میں نے اپنے نانا یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص مسجد میں آتا جاتا رہتا ہے ، وہ کوئی محکم آیت سیکھ لیتا ہے ، یا کسی منتظر رحمت کو حاصل کر لیتا ہے ، یا کسی علم کو حاصل کر لیتا ہے ، یا کوئی ایسی بات سیکھ لیتا ہے جس سے اس کی ہدایت میں اضافہ ہو جاتا ہے ، یا جو بات اس سے کسی بری چیز کو پرے کر دیتی ہے ، یا وہ شخص خشیت یا حیا کی وجہ سے گناہوں کو ترک کر دیتا ہے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سعد بن طریف الحذاء ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سعد بن طریف الحذاء ہے اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 16950
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : بَيْنَمَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَالِسٌ ، وَأَبُو بَكْرٍ ، وَابْنُ مَسْعُودٍ ، وَمُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ ، وَنُعَيْمُ بْنُ سَلَامَةَ ، إِذْ قَدَمَ بُرَيْدٌ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ بَعْثٍ بَعَثَهُ ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا رَأَيْنَا بَعْثًا أَسْرَعَ إِيَابًا وَلَا أَكْثَرَ مَغْنَمًا مِنْ هَؤُلَاءِ ! فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا أَبَا بَكْرٍ ، أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى مَا هُوَ أَسْرَعُ إِيَابًا وَأَفْضَلُ مَغْنَمًا ؟ مَنْ صَلَّى الْغَدَاةَ فِي جَمَاعَةٍ ، ثُمَّ ذَكَرَ اللَّهَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ حُمَيْدٌ مَوْلَى ابْنِ عَلْقَمَةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما تھے ، آپ کے ساتھ سیدنا ابوبکر ، سیدنا عبداللہ بن مسعود ، سیدنا معاذ بن جبل اور سیدنا نعیم بن سلامہ رضی اللہ عنہم بھی موجود تھے ، اسی دوران آپ کی بھیجی ہوئی ایک جنگی مہم کا نمائندہ حاضر ہوا ، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم نے ایسی کوئی جنگی مہم نہیں دیکھی جو ان سے زیادہ جلدی واپس آ گئی ہو ، اور جسے ان سے زیادہ مال غنیمت حاصل ہوا ہو ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے ابوبکر ! کیا میں تمہاری رہنمائی اس کی طرف نہ کروں ، جس میں آدمی اس سے زیادہ جلدی واپس آتا ہے اور اُسے اس سے زیادہ مال غنیمت حاصل ہوتا ہے ، جو شخص صبح کی نماز باجماعت ادا کرے اور پھر سورج طلوع ہونے تک اللہ کا ذکر کرتا رہے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حمید ہے ، جو ابن علقمہ کا غلام ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حمید ہے ، جو ابن علقمہ کا غلام ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 16951
وَعَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ وَقَدْ صَلَّى الصُّبْحَ ، وَهُوَ جَالِسٌ فِي الْمَسْجِدِ فَقُلْتُ لَهُ : يَعْنِي لَوْ قُمْتَ إِلَى فِرَاشِكَ كَانَ أَوْطَأَ لَكَ ، فَقَالَ : سَمِعْتُ عَلِيًّا يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ صَلَّى الصُّبْحَ ، ثُمَّ جَلَسَ فِي مُصَلَّاهُ صَلَّتْ عَلَيْهِ الْمَلَائِكَةُ ، وَصَلَاتُهُمْ عَلَيْهِ : اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ ، اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ [ وَمَنِ انْتَظَرَ الصَّلَاةَ ، صَلَّتْ عَلَيْهِ الْمَلَائِكَةُ ، وَصَلَاتُهُمْ عَلَيْهِ : اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ ، اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ ] " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَعَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ قَدِ اخْتَلَطَ . ¤
محمد محی الدین
عطاء بن سائب بیان کرتے ہیں : میں سیدنا ابوعبدالرحمن سلمی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا ، وہ صبح کی نماز ادا کر چکے تھے ، اور وہ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے ، میں نے ان سے کہا: اگر آپ اُٹھ کر اپنے بستر پر چلے جائیں ، تو یہ آپ کے لئے زیادہ مناسب ہو گا ، انہوں نے بتایا : میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے : وہ کہتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص صبح کی نماز ادا کر لے اور پھر اپنی جائے نماز پر بیٹھا رہے ، فرشتے اس کے لئے دعائے رحمت کرتے رہتے ہیں اور فرشتوں کی اس کے لیے دعاء یہ ہوتی ہے : اے اللہ ! تو اس کی مغفرت کر دے ، اے اللہ ! تو اس پر رحم کر ! ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : ) اور جو شخص نماز کا انتظار کر رہا ہوتا ہے ، فرشتے اس کے لئے بھی دعا کرتے ہیں ، اور اس شخص کے لئے اُن کی دعا یہ ہوتی ہے : اے اللہ ! تو اس کی مغفرت کر دے ، اے اللہ ! تو اس پر رحم کر ! “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور عطاء بن سائب نامی راوی اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور عطاء بن سائب نامی راوی اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔
حدیث نمبر: 16952
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ إِذَا صَلَّى الصُّبْحَ جَلَسَ يَذْكُرُ اللَّهَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ . قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ غَيْرُ قَوْلِهِ : يَذْكُرُ اللَّهَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب صبح کی نماز ادا کر لیتے تھے ، تو آپ سورج نکلنے تک بیٹھ کر اللہ کا ذکر کرتے رہتے تھے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت ” صحیح “ میں مذکور ہے ، تاہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں : ” اللہ کا ذکر کرتے رہتے تھے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت ” صحیح “ میں مذکور ہے ، تاہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں : ” اللہ کا ذکر کرتے رہتے تھے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حدیث نمبر: 16953
وَعَنْ مُدْرِكٍ قَالَ : مَرَرْتُ بِبِلَالٍ ، وَهُوَ جَالِسٌ حِينَ صَلَّى الْغَدَاةَ فَقُلْتُ : مَا يُجْلِسُكَ يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ ؟ ! قَالَ : أَنْتَظِرُ طُلُوعَ الشَّمْسِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مُدْرِكِ بْنِ عَوْفٍ الْبَجَلِيُّ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
مدرک بیان کرتے ہیں : میرا گزر سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کے پاس سے ہوا وہ صبح کی نماز ادا کرنے کے بعد بیٹھے ہوئے تھے ، میں نے کہا: اے ابوعبداللہ ! آپ کیوں بیٹھے ہوئے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا : میں سورج نکلنے کا انتظار کر رہا ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف مدرک بن عوف بجلی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف مدرک بن عوف بجلی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حدیث نمبر: 16954
وَعَنْ إِبْرَاهِيمَ - يَعْنِي النَّخَعِيَّ - قَالَ : حَدَّثَنِي مَنْ رَأَى ابْنَ مَسْعُودٍ صَلَّى الْفَجْرَ ، ثُمَّ قَعَدَ فَلَمْ يَقُمْ لِصَلَاةٍ حَتَّى نُودِيَ بِالظُّهْرِ ، فَقَامَ فَصَلَّى أَرْبَعًا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَشَيْخُ إِبْرَاهِيمَ لَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ابراہیم نخعی بیان کرتے ہیں : مجھے اس شخص نے یہ بات بتائی ہے ، جس نے یہ دیکھا ہے کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے صبح کی نماز ادا کی ، اور پھر وہ بیٹھے رہے ، وہ کسی نماز کے لیے نہیں اُٹھے ، یہاں تک کہ ظہر کی نماز کے لئے اذان ہو گئی ، تو وہ اُٹھے اور انہوں نے چار رکعات ادا کیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور ابراہیم نخعی کے استاد سے میں واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور ابراہیم نخعی کے استاد سے میں واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔