کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: نماز کے بعد اذکار کے بارے میں ، جو منقول ہے
حدیث نمبر: 16911
عَنْ عَلِيٍّ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمَّا زَوَّجَهُ فَاطِمَةَ ، بَعَثَ بِهَا بِخَمِيلَةٍ وَوِسَادَةٍ مَنْ أَدَمٍ ، حَشْوُهَا لِيفٌ ، وَرَحَيَيْنِ ، وَسِقَاءٍ ، وَجَرَّتَيْنِ ، فَقَالَ عَلِيٌّ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - لِفَاطِمَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - ذَاتَ يَوْمٍ : وَاللَّهِ لَقَدْ سَنَوْتُ حَتَّى أَشْكَتَيْتُ صَدْرِي ، وَقَدْ جَاءَ اللَّهُ أَبَاكِ بِسَبْيٍ ، فَاذْهَبِي فَاسْتَخْدِمِيهِ . فَقَالَتْ : وَأَنَا وَاللَّهِ ، لَقَدْ طَحَنْتُ حَتَّى مَجَلَتْ يَدَايَ . فَأَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " مَا جَاءَ بِكِ أَيْ بُنَيَّةُ ؟ " . قَالَتْ : جِئْتُ لِأُسَلِّمَ عَلَيْكَ ، وَاسْتَحْيَتْ أَنْ تَسْأَلَهُ وَرَجَعَتْ . فَقَالَ : مَا فَعَلْتِ ؟ قَالَتِ : اسْتَحْيَيْتُ أَنْ أَسْأَلَهُ . فَأَتَيَا جَمِيعًا النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ عَلِيٌّ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَقَدْ سَنَوْتُ حَتَّى اشْتَكَيْتُ صَدْرِي ، وَقَالَتْ فَاطِمَةُ : قَدْ طَحَنْتُ حَتَّى مَجَلَتْ يَدَايَ ، وَقَدْ جَاءَكَ اللَّهُ بِسَبْيٍ وَسَعَةٍ فَأَخْدِمْنَا ، فَقَالَ : " وَاللَّهِ ، لَا أُعْطِيكُمْ ، وَأَدَعُ أَهْلَ الصُّفَّةِ تُطْوَى بُطُونُهُمْ مِنَ الْجُوعِ ، لَا أَجِدُ مَا أُنْفِقُ عَلَيْهِمْ ، وَلَكِنِّي أَبِيعُهُمْ ، وَأُنْفِقُ عَلَيْهِمْ أَثْمَانَهُمْ " . فَرَجَعَا ، فَأَتَاهُمَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَدْ دَخَلَا فِي قَطِيفَتِهِمَا ، إِذَا غَطَّتْ رُءُوسَهُمَا تَكَشَّفَتْ أَقْدَامُهُمَا ، وَإِذَا غَطَّتْ أَقْدَامَهُمَا تَكَشَّفَتْ رُءُوسُهُمَا ، فَثَارَا فَقَالَ : " مَكَانَكُمَا " . ثُمَّ قَالَ : "أَلَا أُخْبِرُكُمَا بِخَيْرٍ مِمَّا سَأَلْتُمَانِي ؟ " . قَالَا : بَلَى . قَالَ : " كَلِمَاتٌ عَلَّمَنِيهِنَّ جِبْرِيلُ [ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ] فَقَالَ : تُسَبِّحَانِ دُبُرَ كُلِّ صَلَاةٍ عَشْرًا ، وَتَحْمَدَانِ عَشْرًا ، وَتُكَبِّرَانِ عَشْرًا ، فَإِذَا آوَيْتُمَا إِلَى فِرَاشِكُمَا فَسَبِّحَا ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ ، وَاحْمَدَا ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ ، وَكَبِّرَا أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ " . ¤ قَالَ : فَوَاللَّهِ ، مَا تَرَكْتُهُنَّ مُنْذُ سَمِعْتُهُنَّ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . ¤ قَالَ : فَقَالَ لَهُ ابْنُ الْكَوَّاءِ : وَلَا لَيْلَةَ صِفِّينَ ؟ فَقَالَ : قَاتَلَكُمُ اللَّهُ يَا أَهْلَ الْعِرَاقِ ، [ نَعَمْ ] ، وَلَا لَيْلَةَ صِفِّينَ . ¤ قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ بَعْضُهُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، وَقَدْ سَمِعَ مِنْهُ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ قَبْلَ اخْتِلَاطِهِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کی شادی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ کروائی تو ان کے جہیز میں ایک چادر ، چمڑے سے بنا ہوا ایک تکیہ ، جس کے اندر پتے بھرے ہوئے تھے ، دو چکیاں ، ایک مشکیزہ اور دو گھڑے دیے ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ایک دن سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے کہا: اللہ کی قسم ! تمہیں اتنا کام کرنا پڑتا ہے کہ مجھے پریشانی ہوتی ہے ، اللہ تعالیٰ نے تمہارے والد کو غلام دیے ہیں ، تم جاؤ ! اور ان سے کوئی خدمتگار مانگ لو ! سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اللہ کی قسم ! میں آٹا پیستی ہوں جس کے نتیجے میں میرے ہاتھوں کی جلد خراب ہو گئی ہے ، پھر سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : اے میری بیٹی ! تم کس سلسلے میں آئی ہو ؟ انہوں نے عرض کی : میں آپ کو سلام کرنے کے لئے آئی ہوں ، انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مانگتے ہوئے شرم آ گئی اور وہ ویسے ہی واپس چلی گئیں ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : کیا بنا ؟ انہوں نے جواب دیا : مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مانگتے ہوئے شرم آ گئی ، پھر وہ دونوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اکٹھے حاضر ہوئے ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں پانی بھر کے لاتا ہوں ، جس کے نتیجے میں مجھے سینے میں تکلیف ہوتی ہے ، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی : میں آٹا پیستی ہوں ، جس کے نتیجے میں میرے ہاتھوں کی جلد خراب ہو گئی ہے ، اب اللہ تعالیٰ نے آپ کو قیدی اور گنجائش عطا کیے ہیں ، تو آپ ہمیں کوئی خدمت گار دیدیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ کی قسم ! ایسا نہیں ہو سکتا کہ میں تم لوگوں کو دے دوں اور اہل صفہ کو چھوڑ دوں ، جن کے پیٹ بھوک کی وجہ سے لپٹے ہوئے ہوتے ہیں ، مجھے اتنی گنجائش نہیں ملتی کہ میں اُن پر خرچ کروں ، میں ان غلاموں کو فروخت کر دوں گا اور ان کی قیمت اہل صفہ پر خرچ کروں گا ۔ وہ دونوں واپس چلے گئے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان دونوں کے ہاں تشریف لائے ، وہ دونوں اس وقت سونے کے لئے لیٹ چکے تھے ، ان کا لحاف ایسا تھا کہ اگر سر کو ڈھانپتے تو پاؤں کھل جاتے تھے اور اگر پاؤں کو ڈھانپتے تو سر کھل جاتا تھا ، وہ دونوں اُٹھنے لگے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اپنی جگہ پر رہو ! پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا میں تم دونوں کو اس چیز کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ جو تم دونوں کے لیے اس چیز سے زیادہ بہتر ہے جو تم نے مجھ سے مانگی تھی ، ان دونوں نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کچھ کلمات ہیں ، جو جبرائیل نے مجھے سکھائے ہیں ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم دونوں ہر نماز کے بعد ، دس مرتبہ «سبحان الله» ، دس مرتبہ «الحمد لله» اور دس مرتبہ «الله اكبر» پڑھا کرو ! اور جب تم دونوں بستر پر لیٹے ہو تو 33 مرتبہ «سبحان الله» 33 مرتبہ «الحمد لله» اور 34 مرتبہ «الله اكبر» پڑھو ۔ “ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کرتے ہیں : جب سے میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی یہ بات سنی ہے اس کے بعد کبھی ان کلمات کو پڑھنا ترک نہیں کیا ۔
راوی بیان کرتے ہیں : ابن الكواء نے اُن سے دریافت کیا : کیا جنگ صفین کی رات بھی نہیں ؟ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے اہل عراق ! اللہ تعالیٰ تمہیں تباہ کرے ، جی ہاں ! جنگ صفین کی رات بھی نہیں ( یعنی اُن کو پڑھنا ترک نہیں کیا ) ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : صحیح میں اس روایت کا کچھ حصہ مذکور ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے ، حماد بن سلمہ نے اس کے اختلاط کا شکار ہونے سے پہلے اس سے سماع کیا تھا ، اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 16911
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (838)»
حدیث نمبر: 16912
وَعَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ قَالَتْ : نَزَلَ بِأَبِي الدَّرْدَاءِ رَجُلٌ ، فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ : أَمُقِيمٌ فَنُسَرِّحُ ، أَمْ ظَاعِنٌ فَنَعْلِفُ ؟ قَالَ : بَلْ ظَاعِنٌ ، قَالَ : فَإِنِّي سَأُزَوِّدُكَ زَادًا لَوْ أَجِدُ مَا هُوَ أَفْضَلُ مِنْهُ لَزَوَّدْتُكَ ، أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ذَهَبَ الْأَغْنِيَاءُ بِالدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ، نُصَلِّي وَيُصَلُّونَ ، وَنَصُومُ وَيَصُومُونَ ، وَيَتَصَدَّقُونَ وَلَا نَتَصَدَّقُ . قَالَ : "أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى شَيْءٍ إِذَا أَنْتَ فَعَلْتَهُ لَمْ يَسْبِقْكَ أَحَدٌ كَانَ قَبْلَكَ ، وَلَمْ يُدْرِكْكَ أَحَدٌ بَعْدَكَ إِلَّا مَنْ فَعَلَ مِثْلَ الَّذِي تَفْعَلُ ؟ دُبُرَ كُلِّ صَلَاةٍ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ تَسْبِيحَةً ، وَثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ تَحْمِيدَةً ، وَأَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ تَكْبِيرَةً " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ بِأَسَانِيدَ ، وَأَحَدُ أَسَانِيدِ الطَّبَرَانِيِّ رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام درداء رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ کے ہاں ایک شخص آ کر ٹھہرا ، سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم ٹھہرو گے کہ ہم ٹھہرنے کا بندوبست کریں ، یا مسافر ہو کہ ہم زاد سفر کا بندوبست کریں ، اس نے کہا: بلکہ مسافر ہوں ، سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں تمہیں زاد سفر دوں گا ، اگر مجھے اس سے زیادہ فضیلت والا زاد سفر دستیاب ہوتا تو وہ میں نے تمہیں دے دینا تھا ، پھر انہوں نے بتایا : ایک مرتبہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! خوشحال لوگ دنیا اور آخرت کی بھلائی لے گئے ہیں ، ہم نماز پڑھتے ہیں اور وہ بھی نماز پڑھتے ہیں ، ہم روزے رکھتے ہیں اور وہ بھی روزے رکھتے ہیں ، لیکن وہ صدقہ کرتے ہیں اور ہم صدقہ نہیں کر پاتے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا میں تمہاری رہنمائی ایسی چیز کے بارے میں نہ کروں ؟ کہ جب تم اسے کر لو گے تو تم سے پہلے کا کوئی فرد تم سے سبقت نہیں لے جا سکے گا ، اور تمہارے بعد والا کوئی فرد تم تک پہنچ نہیں سکے گا ، البتہ اس شخص کا معاملہ مختلف ہے جو اسی طرح کا عمل کر لے ، جو تم نے کیا ہو ، تم ہر نماز کے بعد 33 مرتبہ «سبحان الله» 33 مرتبہ «الحمد لله» اور 34 مرتبہ «الله اكبر» پڑھو ۔ “
یہ روایت امام أحمد ، امام بزار اور امام طبرانی نے مختلف اسانید کے حوالے سے نقل کی ہے ، امام طبرانی کی اسانید میں سے ایک کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 16912
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3095) اخرجه احمد فى المسند (196/5)»
حدیث نمبر: 16913
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ : أَنَّهُ أَتَاهُ نَاسٌ يَتَحَدَّثُونَ إِلَيْهِ فَقَالَ : سَأُزَوِّدُكُمْ مَا زَوَّدَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِذَا صَلَّيْتَ فَسَبِّحْ دُبُرَ كُلِّ صَلَاةٍ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ ، وَاحَمَدْ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ ، وَكَبِّرْ أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ ، وَقُلْ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ ، لَهُ الْمُلْكُ ، وَلَهُ الْحَمْدُ ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَسْعُودُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، وَهُوَ مَجْهُولٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : ایک مرتبہ کچھ لوگ اُن کے پاس آئے اور ان کے ساتھ بات چیت کرنے لگے ، سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں تمہیں زاد سفر کے طور پر وہ چیز دوں گا ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے زاد سفر کے طور پر دی تھی ، انہوں نے فرمایا : ” جب تم نماز ادا کرو تو ہر نماز کے بعد 33 مرتبہ «سبحان الله» 33 مرتبہ «الحمد لله »اور 34 مرتبہ «الله اكبر» پڑھو اور پھر یہ پڑھو : ” اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، صرف وہی ایک معبود ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ہے ، بادشاہی اسی کے لئے مخصوص ہے اور حمد اسی کے لیے مخصوص ہے اور وہ ہر شے پر قدرت رکھتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مسعود بن سلیمان ہے اور وہ مجہول ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 16913
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 16914
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " أُمِرْنَا بِالتَّسْبِيحِ فِي أَدْبَارِ الصَّلَوَاتِ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ تَسْبِيحَةً ، وَثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ تَحْمِيدَةً ، وَأَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ تَكْبِيرَةً " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ ، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” ہمیں اس تسبیح کا حکم دیا گیا ہے کہ نمازوں کے بعد 33 مرتبہ «سبحان الله» 33 مرتبہ «الحمد لله» اور 34 مرتبہ «الله اكبر» پڑھا جائے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 16914
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 16915
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ سَبَّحَ اللَّهَ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ ، وَحَمِدَ اللَّهَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ ، وَكَبَّرَ اللَّهَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ ، فَيَبْلُغُ تِسْعًا وَتِسْعِينَ ثُمَّ قَالَ تَمَامَ الْمِائَةِ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ، غَفَرَ لَهُ خَطَايَاهُ وَإِنْ كَانَتْ مِثْلَ زَبَدِ الْبَحْرِ " . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص ہر نماز کے بعد 33 مرتبہ «سبحان الله» پڑھے ، 33 مرتبہ «الحمد لله» پڑھے ، 33 مرتبہ «الله اكبر» پڑھے اور ان کی تعداد 99 ہو جائے ، اور پھر وہ 100 مکمل کرنے کے لیے یہ پڑھے : ” اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، صرف وہی ایک معبود ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ہے ، بادشاہی اسی کے لیے مخصوص ہے اور حمد اسی کے لیے مخصوص ہے اور وہ ہر شے پر قدرت ہے ۔ “ ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : ) تو اس شخص کے گناہوں کی مغفرت ہو جائے گی اگرچہ وہ سمندر کے جھاگ کی مانند ہوں ۔ “
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت ” صحیح “ میں اختصار کے ساتھ منقول ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 16915
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (471/2)»
حدیث نمبر: 16916
وَعَنْ أَبِي كَثِيرٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ : أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا ذَرٍّ الْغِفَارِيَّ صَاحِبَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : كَلِمَاتٌ مَنْ ذَكَرَهُنَّ مِائَةَ مَرَّةٍ دُبُرَ كُلِّ صَلَاةٍ : اللَّهُ أَكْبَرُ ، وَسُبْحَانَ اللَّهِ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ ، ثُمَّ لَوْ كَانَتْ خَطَايَاهُ مِثْلَ زَبَدِ الْبَحْرِ لَمَحَتْهُنَّ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ مَوْقُوفًا ، وَأَبُو كَثِيرٍ لَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ حَدِيثُهُمْ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
بنو ہاشم کے غلام ، ابوکثیر بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا : کچھ کلمات ہیں ، جنہیں ہر نماز کے بعد 100 مرتبہ پڑھا جاتا ہے : «الله اكبر» - «سبحان الله» ۔ «الحمد لله» اور یہ کلمہ : «لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لا شَرِيكَ لَهُ ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ» ” اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، صرف وہی ایک معبود ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ہے اور اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر کچھ نہیں ہو سکتا ۔ “ اگر اُس شخص کے گناہ سمندر کے جھاگ جتنے ہوں ، تو یہ کلمات انہیں مٹا دیں گے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے موقوف روایت کے طور پر نقل کی ہے اور ابوکثیر نامی راوی سے میں واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال کی نقل کردہ حدیث حسن ہوتی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 16916
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (173/5)»
حدیث نمبر: 16917
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : اشْتَكَى فُقَرَاءُ الْمُؤْمِنِينَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَا فُضِّلَ بِهِ أَغْنِيَاؤُهُمْ ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِخْوَانُنَا صَدَّقُوا تَصْدِيقَنَا ، وَآمَنُوا إِيمَانَنَا ، وَصَامُوا صِيَامَنَا ، وَلَهُمْ أَمْوَالٌ يَتَصَدَّقُونَ مِنْهَا ، وَيَصِلُونَ بِهَا الرَّحِمَ ، وَيُنْفِقُونَهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، وَنَحْنُ مَسَاكِينُ لَا نَقْدِرُ عَلَى ذَلِكَ . فَقَالَ : " أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِشَيْءٍ إِذَا أَنْتُمْ فَعَلْتُمُوهُ أَدْرَكْتُمْ مِثْلَ فَضْلِهِمْ ؟ قُولُوا : اللَّهُ أَكْبَرُ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ إِحْدَى عَشْرَةَ مَرَّةً ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ مِثْلَ ذَلِكَ ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مِثْلَ ذَلِكَ ، وَسُبْحَانَ اللَّهِ مِثْلَ ذَلِكَ ، تُدْرِكُونَ مِثْلَ فَضْلِهِمْ " . فَفَعَلُوا . ¤ فَذَكَرُوا ذَلِكَ لِلْأَغْنِيَاءِ فَفَعَلُوا مِثْلَ ذَلِكَ ، فَرَجَعَ الْفُقَرَاءُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَذَكَرُوا ذَلِكَ لَهُ فَقَالُوا : هَؤُلَاءِ إِخْوَانُنَا فَعَلُوا مِثْلَ مَا نَقُولُ فَقَالَ : " ذَلِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ ، يَا مَعْشَرَ الْفُقَرَاءِ أَلَا أُبَشِّرُكُمْ ، فُقَرَاءُ الْمُسْلِمِينَ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ قَبْلَ أَغْنِيَائِهِمْ بِنِصْفِ يَوْمٍ خَمْسِمِائَةِ عَامٍ " . وَتَلَا مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ : ( وَإِنَّ يَوْمًا عِنْدَ رَبِّكَ كَأَلْفِ سَنَةٍ مِمَّا تَعُدُّونَ ) ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ الرَّبَذِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ غریب مسلمانوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی : خوشحال لوگوں کو ان پر فضیلت عطا کی گئی ہے ، انہوں نے کہا: یا رسول اللہ ! ہمارے بھائی ہماری طرح تصدیق کرتے ہیں ، ہماری طرح ایمان لائے ہیں ہماری طرح روزے رکھتے ہیں ، لیکن ان کے پاس اموال ہیں ، جن میں سے وہ صدقہ کرتے ہیں اور جن کے ذریعے وہ صلہ رحمی کرتے ہیں اور اموال کو اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں ، جبکہ ہم لوگ غریب ہیں ، ہم ایسا کرنے کی قدرت نہیں رکھتے ہیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” کیا میں تمہیں ایسی چیز کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ کہ جب تم وہ کام کر لو گے تو تم اس فضیلت تک پہنچ جاؤ گے ، جو ان لوگوں کو حاصل ہے ، تم لوگ ہر نماز کے بعد گیارہ مرتبہ «الله اكبر» پڑھو ، اتنی ہی مرتبہ «الحمدلله» پڑھو ، اتنی ہی مرتبہ «لا اله الا الله» پڑھو ، اور اتنی ہی مرتبہ «سبحان الله» پڑھو ، تو تم ان کی فضیلت کی مانند تک پہنچ جاؤ گے ۔ “
راوی بیان کرتے ہیں : تو ان لوگوں نے ایسا ہی کیا ، پھر ان لوگوں نے اس بات کا تذکرہ خوشحال لوگوں سے کیا ، تو خوشحال لوگوں نے بھی یہ عمل کرنا شروع کر دیا ، غریب لوگ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس آئے اور آپ کے سامنے یہ صورتحال ذکر کی اور یہ کہا: ہمارے ان بھائیوں نے بھی اسی طرح پڑھنا شروع کر دیا ہے جس طرح ہم پڑھتے ہیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے ، وہ جسے چاہتا ہے اُسے عطا کر دیتا ہے ، اسے غریبوں کے گروہ ! کیا میں تمہیں خوشخبری نہ سناؤں ؟ غریب مسلمان ، امیر لوگوں سے نصف دن پہلے جنت میں داخل ہوں گے ، جو ( نصف دن ) 500 سال کا ہو گا ۔ “
پھر موسیٰ بن عبیدہ نامی راوی نے یہ آیت تلاوت کی : «وَإِنَّ يَوْمًا عِنْدَ رَبِّكَ كَأَلْفِ سَنَةٍ مِمَّا تَعُدُّونَ» ( الحج : 47 ) ” اور تمہارے پروردگار کے نزدیک ایک دن تمہاری گنتی کے حساب سے ایک ہزار سال جتنا ہے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ربذی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 16917
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3974)»
حدیث نمبر: 16918
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : رَأَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أُمَّ سُلَيْمٍ وَهِيَ تُصَلِّي فِي بَيْتِهَا فَقَالَ : " يَا أُمَّ سُلَيْمٍ ، إِذَا صَلَّيْتِ الْمَكْتُوبَةَ ، فَقُولِي : سُبْحَانَ اللَّهِ عَشْرًا ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَشْرًا ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ عَشْرًا ، ثُمَّ سَلِي مَا شِئْتِ ; فَإِنَّهُ يَقُولُ لَكِ : نَعَمْ ، نَعَمْ ، نَعَمْ ، ثَلَاثًا " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَأَبُو يَعْلَى بِنَحْوِهِ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : فَصَلَّى فِي بَيْتِهَا صَلَاةَ تُطَوُّعٍ فَقَالَ : " يَا أُمَّ سُلَيْمٍ " . وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ : أَبُو شَيْبَةَ الْوَاسِطِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کو دیکھا کہ وہ اپنے گھر میں نماز ادا کر رہی تھیں ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے ام سلیم ! جب تم نماز ادا کر لو ، تو تم دس مرتبہ «سبحان الله» ، دس مرتبہ «الحمد لله» ، دس مرتبہ «الله اكبر» پڑھو ، پھر تم جو چاہو ، سوال کرو ، اللہ تعالیٰ تم سے یہ فرمائے گا : جی ہاں ! جی ہاں ! جی ہاں ! ( یعنی میں نے تمہاری دعا کو قبول کیا ) وہ تین مرتبہ یہ کہے گا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور امام ابویعلیٰ نے اس کی مانند نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کے گھر میں نفل نماز ادا کی ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے ام سلیم ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن اسحاق ابوشیبہ واسطی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 16918
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3096) اخرجه أبو يعلى فى المسند (4292)»
حدیث نمبر: 16919
وَعَنْ أُمِّ مَالِكٍ الْأَنْصَارِيَّةِ أَنَّهَا جَاءَتْ بِعُكَّةِ سَمْنٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِلَالًا فَعَصَرَهَا ، ثُمَّ دَفَعَهَا إِلَيْهَا ، فَرَجَعَتْ فَإِذَا هِيَ مُمْتَلِئَةٌ ، فَأَتَتِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَتْ : نَزَلَ فِيَّ شَيْءٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْكَ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : " وَمَا ذَاكَ يَا أُمَّ مَالِكٍ ؟ " . فَقَالَتْ : لِمَ رَدَدْتَ [ إِلَيَّ ] هَدِيَّتِي ؟ ! فَدَعَا بِلَالًا فَسَأَلَهُ عَنْ ذَلِكَ ، فَقَالَ : وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ ، لَقَدْ عَصَرْتُهَا حَتَّى اسْتَحْيَيْتُ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " هَنِيئًا لَكِ يَا أُمَّ مَالِكٍ ، [ هَذِهِ ] بَرَكَةٌ عَجَّلَ اللَّهُ ثَوَابَهَا " . ثُمَّ عَلَّمَهَا فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ : سُبْحَانَ اللَّهِ عَشْرًا ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَشْرًا ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ عَشْرًا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ثِقَةٌ ، وَلَكِنَّهُ اخْتَلَطَ ، وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام مالک انصاریہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں یہ بات منقول ہے : وہ گھی کا برتن لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ اس میں سے گھی نکال لیں ، پھر سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے اس خاتون کو وہ برتن واپس کر دیا ، جب وہ خاتون واپس گئی تو اس نے دیکھا کہ وہ برتن گھی سے بھرا ہوا ہے ، وہ خاتون نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس آئی ، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا میرے بارے میں کوئی حکم نازل ہوا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : اے ام مالک ! کیا ہوا ؟ اس خاتون نے عرض کی : آپ نے میرا تحفہ مجھے واپس کیوں کر دیا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو بلایا اور ان سے اس بارے میں دریافت کیا ، تو انہوں نے عرض کی : اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے ، میں نے اس برتن میں سے اتنا نکالا کہ مجھے حیا آنے لگی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اسے اُم مالک ! تمہیں مبارک ہو ، یہ وہ برکت ہے کہ جس کا ثواب اللہ تعالیٰ نے جلدی دیدیا ہے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون کو یہ تعلیم دی کہ وہ ہر نماز کے بعد دس مرتبہ «سبحان الله» دس مرتبہ «الحمد لله »اور دس مرتبہ «الله اكبر» پڑھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے جو ثقہ ہے ، لیکن وہ اختلاط کا شکار ہو گیا تھا اور اس کی سند میں ایک ایسا راوی ہے جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 16919
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (145/25)»
حدیث نمبر: 16920
وَعَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ قَالَ : صَلَّى رَجُلٌ إِلَى جَنْبِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِي فَسَمِعَهُ حِينَ سَلَّمَ يَقُولُ : " اللَّهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ ، وَمِنْكَ السَّلَامُ ، تَبَارَكْتَ يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ " . ¤ ثُمَّ صَلَّى إِلَى جَنْبِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ فَسَمِعَهُ حِينَ سَلَّمَ يَقُولُ مِثْلَ ذَلِكَ ، فَضَحِكَ الرَّجُلُ ، فَقَالَ لَهُ ابْنُ عُمَرَ : مَا أَضْحَكَكَ ؟ ! فَقَالَ : إِنِّي صَلَّيْتُ إِلَى جَنْبِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ مِثْلَ ذَلِكَ ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ ذَلِكَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
عون بن عبداللہ بن عتبہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے پہلو میں نماز ادا کی ، جب انہوں نے سلام پھیرا ، تو اس شخص نے انہیں یہ کہتے ہوئے سنا : «اللَّهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ ، وَمِنْكَ السَّلَامُ ، تَبَارَكْتَ يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ» ” اے اللہ ! بے شک تو سلامتی عطا کرنے والا ہے ، سلامتی تیری طرف سے حاصل ہوتی ہے ، تو برکت والا ہے ، اے جلال اور اکرام والے !“ ۔
پھر اس شخص نے ایک مرتبہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پہلو میں نماز ادا کی ، تو اس نے انہیں بھی سلام کے بعد اس کی مانند کلمات کہتے ہوئے سنا ، وہ شخص ہنس پڑا ، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اس سے دریافت کیا : تم کس بات پر ہنسے ہو ؟ اس نے بتایا : میں نے سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کے پہلو میں نماز ادا کی تھی ، تو میں نے انہیں بھی اس کی مانند کلمات پڑھتے ہوئے سنا تھا ، تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بتایا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ ( کلمات ) پڑھا کرتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 16920
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (13288)»
حدیث نمبر: 16921
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الْهُذَيْلِ قَالَ : كَانُوا يَسْتَحِبُّونَ إِذَا قَضَى الرَّجُلُ الصَّلَاةَ أَنْ يَقُولَ : اللَّهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ ، وَمِنْكَ السَّلَامُ ، تَبَارَكْتَ يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
عبداللہ بن ابوہذیل بیان کرتے ہیں : پہلے لوگ اس بات کو پسند کرتے تھے کہ جب کوئی شخص نماز ادا کر لے ، تو وہ یہ پڑھے :
«اللَّهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ ، وَمِنْكَ السَّلَامُ ، تَبَارَكْتَ يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ»
” اے اللہ ! بے شک تو سلامتی عطا کرنے والا ہے ، سلامتی تیری طرف سے ہی حاصل ہوتی ہے ، تو برکت والا ہے ، اے جلال اور اکرام والے ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 16921
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (4720)»
حدیث نمبر: 16922
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ قَرَأَ آيَةَ الْكُرْسِيِّ دُبُرَ كُلِّ صَلَاةٍ مَكْتُوبَةٍ لَمْ يَمْنَعْهُ مِنْ دُخُولِ الْجَنَّةِ إِلَّا أَنْ يَمُوتَ " . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص ہر فرض نماز کے بعد آیت الکرسی پڑھ لے گا ، اُس کے جنت میں داخل ہونے کے لئے رکاوٹ صرف موت ہو گی ۔ “
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 16922
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7532)»
حدیث نمبر: 16923
وَفِي رِوَايَةٍ : وَ ( قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ ) ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ بِأَسَانِيدَ ، وَأَحَدُهَا جَيِّدٌ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” «قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ» “ ( یعنی جو ہر نماز کے بعد سورہ اخلاص پڑھ لے گا ، اس کے جنت میں داخلے کے لئے رکاوٹ صرف موت ہو گی ) ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ، جن میں سے ایک سند عمدہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 16923
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ جید
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7532)»
حدیث نمبر: 16924
وَعَنْ حَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ قَرَأَ آيَةَ الْكُرْسِيِّ فِي دُبُرِ الصَّلَاةِ الْمَكْتُوبَةِ كَانَ فِي ذِمَّةِ اللَّهِ إِلَى الصَّلَاةِ الْأُخْرَى " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا امام حسن بن علی رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص فرض نماز کے بعد آیت الکرسی پڑھ لے گا ، وہ اگلی نماز تک اللہ تعالیٰ کی پناہ میں ہو گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 16924
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2733)»
حدیث نمبر: 16925
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " ثَلَاثٌ مَنْ جَاءَ بِهِنَّ مَعَ إِيمَانٍ دَخَلَ مِنْ أَيِّ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ شَاءَ ، وَزُوِّجَ مِنَ الْحُورِ الْعِينِ حَيْثُ شَاءَ : مَنْ عَفَا عَنْ قَاتِلِهِ ، وَأَدَّى دَيْنًا خَفِيًّا ، وَقَرَأَ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ مَكْتُوبَةٍ عَشْرَ مَرَّاتٍ : ( قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ ) " . ¤ قَالَ : فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : أَوْ إِحْدَاهُنَّ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " أَوْ إِحْدَاهُنَّ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ نَبْهَانَ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تین چیزیں ایسی ہیں ، جو شخص ایمان کے ہمراہ انہیں لے کر آئے گا ، وہ جنت کے جس دروازے سے چاہے گا ، اندر داخل ہو جائے گا اور جس حورعین سے وہ چاہے گا ، اس کی شادی ہو جائے گی ، ( وہ تین امور یہ ہیں : ) وہ شخص اپنے قاتل سے درگزر کرے ، پوشیدہ قرض ادا کر دے اور ہر فرض نماز کے بعد دس مرتبہ سورہ اخلاص پڑھے ۔ “ راوی کہتے ہیں : سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اگر وہ ان میں سے کوئی ایک چیز کر لے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اگر وہ ان میں سے کوئی ایک کر لے ( یعنی تو بھی یہی اجر و ثواب حاصل ہو گا ) ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمر بن نبہان ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 16925
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (1794)»
حدیث نمبر: 16926
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَرْقَمَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ قَالَ [ فِي ] دُبُرَ كُلِّ صَلَاةٍ : سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ ، وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ، [ ثَلَاثُ مَرَّاتٍ ] فَقَدِ اكْتَالَ بِالْجَرِيبِ الْأَوْفَى مِنَ الْأَجْرِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْمُنْعِمِ بْنُ بَشِيرٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا . ¤
محمد محی الدین
عبداللہ بن ارقم اپنے والد کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص ہر نماز کے بعد تین مرتبہ یہ پڑھے :
«سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ ، وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ»
” تمہارا پروردگار جو غلبے والا پروردگار ہے ، وہ ان چیزوں سے پاک ہے ، جو وہ ( اس کی ) صفت بیان کرتے ہیں ، اور رسولوں پر سلام ہو ، اور ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے ، جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے ۔ “
تو وہ اجر کا ایک مکمل ” جریب “ ( یہ اناج کو ماپنے کا ایک آلہ ہوتا ہے ) حاصل کر لیتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالمنعم بن بشیر ہے اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 16926
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (5124)»
حدیث نمبر: 16927
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : كُنَّا نَعْرِفُ انْصِرَافَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِقَوْلِهِ : " سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ ، وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ہمیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز ختم ہونے کا ، آپ کے یہ پڑھنے سے پتہ چلتا تھا : «سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ ، وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ» ” تمہارا پروردگار جو غلبے والا پروردگار ہے ، وہ ان چیزوں سے پاک ہے ، جو وہ ( اس کی ) صفت بیان کرتے ہیں ، اور رسولوں پر سلام ہو اور ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے ، جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبداللہ بن عبید بن عمیر ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 16927
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (1121)»
حدیث نمبر: 16928
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ قَالَ دُبُرَ الصَّلَاةِ : سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ وَبِحَمْدِهِ ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ ، قَامَ مَغْفُورًا لَهُ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ مِنْ رِوَايَةِ أَبِي الزَّهْرَاءِ ، عَنْ أَنَسٍ ، وَأَبُو الزَّهْرَاءِ لَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالٌ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص نماز کے بعد یہ پڑھتا ہے : «سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ وَبِحَمْدِهِ ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ» ” اللہ تعالیٰ کی ذات ہر عیب سے پاک ہے ، جو عظمت والا ہے اور حمد اسی کے لیے مخصوص ہے ، اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر کچھ نہیں ہو سکتا ۔ “ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : جب وہ شخص اُٹھتا ہے تو اس کی مغفرت ہو چکی ہوتی ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے ابوزہراء کی سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے اور ابوزہراء نامی راوی سے میں واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 16928
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3097)»
حدیث نمبر: 16929
وَعَنْ جَابِرٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ إِذَا صَلَّى قَالَ : " لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ ، يُحْيِي وَيُمِيتُ ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ، اللَّهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ ، وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز ادا کر لیتے تھے ، تو آپ یہ پڑھتے تھے : ” «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ ، يُحْيِي وَيُمِيتُ ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ، اللَّهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ ، وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ ۔ » ، ” اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے ، صرف وہی ایک معبود ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ہے ، بادشاہی اسی کے لئے مخصوص ہے ، حمد اسی کے لیے مخصوص ہے ، وہ زندگی دیتا ہے اور وہ موت دیتا ہے اور وہ ہر شے پر قدرت رکھتا ہے ، اے اللہ ! جسے تو عطا کرے اسے کوئی رکاوٹ بننے والا نہیں ہے ، اور جسے تو عطا نہ کرے ، اُسے کوئی دینے والا نہیں ہے اور تیرے مقابلے میں کوشش کرنے والے کی کوشش فائدہ نہیں دیتی ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کی سند عمدہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 16929
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3098)»
حدیث نمبر: 16930
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا انْصَرَفَ مِنْ صَلَاتِهِ قَالَ : " لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ ، لَهُ الْمُلْكُ ، وَلَهُ الْحَمْدُ ، بِيَدِهِ الْخَيْرُ ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ، اللَّهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ ، وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ بِنَحْوِهِ ، إِلَّا أَنَّهُ زَادَ : " يُحْيِي وَيُمِيتُ " . وَلَمْ يَقُلْ : " بِيَدِهِ الْخَيْرُ " . وَإِسْنَادُهُمَا حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز پڑھ کر فارغ ہوتے تھے تو آپ یہ پڑھتے تھے :
«لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ ، لَهُ الْمُلْكُ ، وَلَهُ الْحَمْدُ ، بِيَدِهِ الْخَيْرُ ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ، اللَّهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ ، وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ»
” اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، صرف وہی ایک معبود ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ہے ، بادشاہی اسی کے لئے مخصوص ہے ، حمد اسی کے لیے مخصوص ہے ، ہر بھلائی اسی کے دست قدرت میں ہے اور وہ ہر شے پر قدرت رکھتا ہے ، اے اللہ ! جسے تو عطا کرے اسے کوئی رکاوٹ بننے والا نہیں ہے اور جسے تو عطا نہ کرے ، اُسے کوئی دینے والا نہیں ہے ، اور تیرے مقابلے میں کسی کوشش کرنے والے کی کوشش کام نہیں آتی ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے اس کی مانند نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کئے ہیں : ” وہ زندگی دیتا ہے اور وہ موت دیتا ہے “ اور انہوں نے یہ الفاظ نقل نہیں کئے ہیں : ” ہر قسم کی بھلائی اسی کے دست قدرت میں ہے ۔ “
ان دونوں کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 16930
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3099) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (12796)»
حدیث نمبر: 16931
وَعَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَقُولُ فِي دُبُرِ الصَّلَاةِ : " لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ ، يُحْيِي وَيُمِيتُ وَهُوَ حَيٌّ لَا يَمُوتُ ، بِيَدِهِ الْخَيْرُ ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ " . قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہر نماز کے بعد یہ پڑھا کرتے تھے : «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ ، يُحْيِي وَيُمِيتُ وَهُوَ حَيٌّ لَا يَمُوتُ ، بِيَدِهِ الْخَيْرُ ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ»
” اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، صرف وہی ایک معبود ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ہے ، بادشاہی اسی کے لئے مخصوص ہے ، حمد اسی کے لیے مخصوص ہے وہ زندگی دیتا ہے اور وہ موت دیتا ہے اور وہ زندہ ہے اُسے موت نہیں آئے گی ، ہر قسم کی بھلائی اسی کے دست قدرت میں ہے اور وہ ہر شے پر قدرت رکھتا ہے ۔ “
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ” صحیح “ میں اختصار کے ساتھ منقول ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 16931
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (386/20)»
حدیث نمبر: 16932
وَعَنْ مَكْحُولٍ قَالَ : سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَقُولُ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ إِذَا انْفَتَلَ مِنَ الصَّلَاةِ قَالَ : " لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ، اللَّهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ ، وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
مکحول بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو منبر پر یہ بیان کرتے ہوئے سنا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز پڑھ کر فارغ ہوتے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ پڑھتے تھے : «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ، اللَّهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ ، وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ»
” اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، صرف وہی ایک معبود ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ہے ، بادشاہی اسی کے لئے مخصوص ہے اور حمد اسی کے لیے مخصوص ہے ، اور وہ ہر شے پر قدرت رکھتا ہے ، اے اللہ ! جسے تو عطا کرے اسے کوئی رکاوٹ بننے والا نہیں ہے ، اور جسے تو عطا نہ کرے ، اُسے کوئی دینے والا نہیں ہے اور تیرے مقابلے میں کوشش کرنے والے کی کوشش کام نہیں آتی ۔ “

یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی عبدالعزیز بن عبیداللہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 16932
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (393/19)»
حدیث نمبر: 16933
وَعَنْ أَبِي أَيُّوبَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " عَشْرٌ مَنْ قَالَهُنَّ فِي دُبُرِ صَلَوَاتِهِ إِذَا صَلَّى : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ، كَتَبَ اللَّهُ لَهُ بِهِنَّ عَشْرَ حَسَنَاتٍ وَمَحَا عَنْهُ بِهِنَّ عَشْرَ سَيِّئَاتٍ ، وَرَفَعَ لَهُ بِهِنَّ عَشْرَ دَرَجَاتٍ ، وَكُنَّ لَهُ عَدْلَ عَشْرِ رَقَبَاتٍ ، وَكُنَّ لَهُ حَرِيسًا مِنَ الشَّيْطَانِ حَتَّى يُمْسِيَ ، وَمَنْ قَالَهُنَّ حِينَ يُمْسِي كَانَ مِثْلُ ذَلِكَ حَتَّى يُصْبِحَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” دس کلمات ایسے ہیں ، جو شخص نماز ادا کرنے کے بعد انہیں پڑھے :« لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ »” اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، صرف وہی ایک معبود ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ہے ، بادشاہی اسی کے لئے مخصوص ہے اور حمد اسی کے لیے مخصوص ہے اور وہ ہر شے پر قدرت رکھتا ہے ۔ “ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : تو اللہ تعالیٰ ان کلمات کی وجہ سے ان کے لئے دس نیکیاں نوٹ کر لیتا ہے اور ان کی وجہ سے اس شخص کے دس گناہ مٹا دیتا ہے ، اور ان کلمات کی وجہ سے ، اس شخص کے دس درجات بلند کرتا ہے اور یہ کلمات اُس شخص کے لئے دس غلام آزاد کرنے کے ثواب کے برابر ہوتے ہیں ، اور یہ کلمات اس شخص کے لئے شام تک کے لئے شیطان سے بچاؤ کا باعث ہوتے ہیں ، اور جو شخص شام کے وقت ان کلمات کو پڑھ لے گا ، تو صبح ہونے تک اسے یہی اجر و ثواب حاصل ہو گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 16933
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (4092)»