کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: ’’ لا حول ولا قوۃ الا باللہ “ کے بارے میں ، جو منقول ہے
حدیث نمبر: 16897
عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى بَابٍ مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ ؟ " . قَالَ : وَمَا هُوَ ؟ قَالَ : " لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى كَنْزٍ مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ ؟ " . ¤ وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، وَقَدْ حَدَّثَ عَنْهُ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ قَبْلَ الِاخْتِلَاطِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : ” کیا میں تمہاری رہنمائی جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازے کی طرف نہ کروں ؟ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : وہ کیا ہے ؟ نبی نے فرمایا : ” «لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ الَّا بِاللهِ پڑهنا» ۔ “ ”
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے , تاہم امام طبرانی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” کیا میں تمہاری رہنمائی جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ کی طرف نہ کروں ؟ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ان دونوں روایات کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ، صرف عطاء بن سائب کا معاملہ مختلف ہے ، حماد بن سلمہ نے اس کے حوالے سے اس کے اختلاط کا شکار ہونے سے پہلے روایات نقل کی تھیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 16897
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (174/20) اخرجه احمد فى المسند (228/2)»
حدیث نمبر: 16898
وَعَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِهِ مَرَّ عَلَى إِبْرَاهِيمَ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - فَقَالَ : يَا جِبْرِيلُ ، مَنْ مَعَكَ ؟ قَالَ : هَذَا مُحَمَّدٌ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لَهُ إِبْرَاهِيمُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - : مُرْ أُمَّتَكَ فَلْيُكْثِرُوا مِنْ غِرَاسِ الْجَنَّةِ ; فَإِنَّ تُرْبَتَهَا طَيِّبَةٌ ، وَأَرْضَهَا وَاسِعَةٌ ، قَالَ : " وَمَا غِرَاسُ الْجَنَّةِ ؟ " . قَالَ : لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي مَرَرْتُ بِإِبْرَاهِيمَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا جِبْرِيلُ ، مَنْ هَذَا مَعَكَ ؟ فَقَالَ : مُحَمَّدٌ فَسَلَّمَ عَلَيَّ ، وَرَحَّبَ بِي وَقَالَ : مُرْ أُمَّتَكَ " . وَالْبَاقِي بِنَحْوِهِ . ¤ وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، وَهُوَ ثِقَةٌ لَمْ يَتَكَلَّمْ فِيهِ أَحَدٌ ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جس رات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج کروائی گئی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے پاس سے ہوا ، انہوں نے دریافت کیا : اے جبرائیل ! یہ تمہارے ساتھ کون ہیں ؟ سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے بتایا : یہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ، سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: آپ اپنی امت کو یہ حکم دیں کہ وہ کثرت کے ساتھ جنت میں پودے لگائے ، کیونکہ اس کی مٹی پاکیزہ ہے اور زمین کھلی ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : اُس میں پودے لگانے سے مراد کیا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : «لا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ» پڑھنا ۔ “
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ” جس رات مجھے معراج کروائی گئی ، میرا گزر سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے پاس سے ہوا ، انہوں نے دریافت کیا : اے جبرائیل ! تمہارے ساتھ کون ہیں ؟ تو جبرائیل نے بتایا : یہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ، انہوں نے مجھے سلام کیا اور مجھے خوش آمدید کہا: اور یہ فرمایا : آپ اپنی امت کو یہ حکم دیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ اس کے بعد راوی نے پوری روایت حسب سابق ذکر کی ہے ۔ امام أحمد کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف عبداللہ بن عبدالرحمن بن عبداللہ بن عمر بن خطاب کا معاملہ مختلف ہے ، وہ ثقہ ہے ، کسی نے اس کے بارے میں کلام نہیں کیا ہے ، ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 16898
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (3898) اخرجه احمد فى المسند (418/5)»
حدیث نمبر: 16899
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ : قَالَ لِي أَبُو أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيُّ : أَلَا أُعَلِّمُكَ كَلِمَةً عَلَّمَنِيهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ قُلْتُ : بَلَى يَا عَمِّ ، قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حِينَ نَزَلَ عَلَيَّ قَالَ : "أَلَا أُعَلِّمُكَ - يَا أَبَا أَيُّوبَ - كَلِمَةً مِنْ كَنْزِ الْجَنَّةِ ؟ " . قُلْتُ : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ ، بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي ، قَالَ : " أَكْثِرْ مِنْ قَوْلِ : لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ بِإِسْنَادَيْنِ ، وَرِجَالُ أَحَدِهِمَا ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
عبداللہ بن سعد بن ابی وقاص بیان کرتے ہیں : سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے مجھ سے فرمایا : کیا میں تمہیں ایسے کلمہ کی تعلیم نہ دوں ، جس کی تعلیم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دی تھی ؟ میں نے جواب دیا : جی ہاں ! تو انہوں نے فرمایا : ” جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں آ کر ٹھہرے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے ابوایوب ! کیا میں تمہیں ایک ایسے کلمے کی تعلیم نہ دوں جو جنت کے خزانوں میں سے ہے ؟ میں نے عرض کی : جی ہاں ! یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم کثرت کے ساتھ «لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ» پڑھا کرو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ، ان دونوں میں سے ایک کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 16899
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (1964) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (3899)»
حدیث نمبر: 16900
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " " أَكْثِرُوا مِنْ غَرْسِ الْجَنَّةِ ، فَإِنَّهُ عَذْبٌ مَاؤُهَا ، طَيِّبٌ تُرَابُهَا ، فَأَكْثِرُوا مِنْ غِرَاسِهَا لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عُقْبَةُ بْنُ عَلِيٍّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جنت میں زیادہ پودے لگاؤ ! کیونکہ اس کا پانی میٹھا ہے اور اس کی مٹی پاکیزہ ہے اور اس میں زیادہ پودے لگانے کا طريقه «لا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ» پڑھنا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عقبہ بن علی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 16900
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (13354)»
حدیث نمبر: 16901
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ دَوَاءٌ مِنْ تِسْعَةٍ وَتِسْعِينَ دَاءً ، أَيْسَرُهَا الْهَمُّ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ بِشْرُ بْنُ رَافِعٍ الْحَارِثِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ وَقَدْ وُثِّقَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنَّ النُّسْخَةَ مِنَ الطَّبَرَانِيِّ الْأَوْسَطِ سَقَطَ مِنْهَا عَجْلَانُ وَالِدُ مُحَمَّدٍ الَّذِي بَيَّنَهُ وَبَيْنَ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” «لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِالله» پڑھنا ننانوے بیماریوں کی دوا ہے ، جن میں سے سب سے ہلکی بیماری پریشانی ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی بشر بن رافع حارثی ہے اور وہ ضعیف ہے ، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، البتہ معجم اوسط کے نسخے میں ، محمد نامی راوی کے والد عجلان کا نام نہیں ہے ، جو اس کے اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے درمیان موجود راوی ہے ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 16901
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 16902
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَقُولُ : " أَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى كَنْزٍ مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ ؟ تُكْثِرُونَ مِنْ قَوْلِ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرٍ الْأَسْلَمِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا میں تم لوگوں کی رہنمائی جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ کی طرف نہ کروں ؟ تم لوگ کثرت کے ساتھ «لا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ» پڑھا کرو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن عامر اسلمی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 16902
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (4809)»
حدیث نمبر: 16903
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ إِسْحَاقَ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ : أَدْرَكَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى بَابِ الْمَسْجِدِ فَقَالَ : " أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى كَنْزٍ مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ ؟ " . قُلْتُ : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَقَدْ سَقَطَ مِنَ الْأَصْلِ الْمَسْمُوعِ وَغَيْرِهِ مَنْ بَيْنَ ابْنِ لَهِيعَةَ وَبَيْنَهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا زید بن اسحاق انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد کے دروازے پر مجھے پایا تو ارشاد فرمایا : کیا میں تمہاری رہنمائی جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ کی طرف نہ کروں ؟ میں نے عرض کی : جی ہاں ! یا رسول اللہ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : «لا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ» ( پڑھنا ) ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کے سماعت والے نسخے اور دیگر نسخوں میں ابن لہیعہ اور ان کے درمیان کے راوی ساقط ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 16903
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (5151)»
حدیث نمبر: 16904
وَعَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ حَيْدَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ كَنْزٌ مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : «لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ» - جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 16904
درجۂ حدیث محدثین: حدیث صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (1017)»
حدیث نمبر: 16905
وَعَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمًا ، وَقَدْ صَلَّيْتُ صَلَاةَ الصُّبْحِ وَاضْطَجَعْتُ ، فَضَرَبَنِي بِرِجْلِهِ وَقَالَ : " أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى كَنْزٍ مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ ؟ " . قَالَ : " لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مَيْمُونِ بْنِ أَبِي شَبِيبٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا قیس بن سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : راوی کہتے ہیں ، میں اُس وقت صبح کی نماز ادا کرنے کے بعد لیٹ گیا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے پاؤں مارا اور ارشاد فرمایا : ” کیا میں تمہاری رہنمائی جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ کی طرف نہ کروں ؟ آپ نے فرمایا : ” «لَا حَوْلَ وَلَا قَوَّةَ إِلَّا بِاللهِ» ( پڑھنا ہے ) ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف میمون بن ابوشبیب کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 16905
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3085) اخرجه احمد فى المسند (422/3)»
حدیث نمبر: 16906
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : كُنْتُ أَمْشِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي بَعْضِ حِيطَانِ الْمَدِينَةِ ، فَقَالَ لِي : " يَا أَبَا هُرَيْرَةَ " . قُلْتُ : لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " إِنَّ الْمُكْثِرِينَ هُمُ الْأَقَلُّونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، إِلَّا مَنْ قَالَ بِمَالِهِ هَكَذَا وَهَكَذَا " وَأَوْمَأَ بِيَدِهِ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ " وَقَلِيلٌ مَا هُمْ " . ثُمَّ قَالَ : " يَا أَبَا هُرَيْرَةَ ، أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى كَنْزٍ مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ ؟ " . قُلْتُ : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ ، وَلَا مَلْجَأَ مِنَ اللَّهِ إِلَّا إِلَيْهِ " . ¤ ثُمَّ قَالَ : " يَا أَبَا هُرَيْرَةَ ، هَلْ تَدْرِي مَا حَقُّ اللَّهِ عَلَى الْعِبَادِ ، وَمَا حَقُّ الْعِبَادِ عَلَى اللَّهِ ؟ " . قُلْتُ : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، قَالَ : " فَإِنَّ حَقَّ اللَّهِ عَلَى الْعِبَادِ أَنْ يَعْبُدُوهُ وَلَا يُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا ، وَحَقُّ الْعِبَادِ عَلَى اللَّهِ أَنْ لَا يُعَذِّبَ مَنْ لَا يُشْرِكُ بِهِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ مُطَوَّلًا هَكَذَا وَمُخْتَصَرًا ، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ كُمَيْلِ بْنِ زِيَادٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ منورہ میں کسی جگہ پر چلتا ہوا جا رہا تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : اے ابوہریرہ ! میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں حاضر ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ( دنیا میں ) مال و دولت کے حوالے سے کثرت والے لوگ ، قیامت کے دن قلت والے ہوں گے ، البتہ اس شخص کا معاملہ مختلف ہے جو اپنے مال کے بارے میں اس اس طرح کرتا ہے ( یعنی اس کو اللہ کی راہ میں خرچ کرتا ہے ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک کے ذریعے اپنے دائیں طرف اور بائیں طرف اشارہ کر کے یہ بات ارشاد فرمائی : ” اور ایسے لوگ کم ہیں ۔ “ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے ابوہریرہ ! کیا میں تمہاری رہنمائی جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ کی طرف نہ کروں ؟ میں نے عرض کی : جی ہاں ! یا رسول اللہ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” «لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ ولا منجا من الله إِلَّا اليه» ( پڑھنا ) ۔ “ ( اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر کچھ نہیں ہو سکتا اور اللہ تعالیٰ کے سامنے صرف اسی کی پناہ لی جا سکتی ہے ) ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے ابوہریرہ ! کیا تم یہ بات جانتے ہو کہ بندوں پر اللہ تعالیٰ کا حق کیا ہے ، اور اللہ تعالیٰ پر بندوں کا حق کیا ہے ؟ میں نے عرض کی : اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بندوں پر اللہ تعالیٰ کا حق یہ ہے کہ وہ اس کی عبادت کریں اور کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہرائیں اور اللہ تعالیٰ پر بندوں کا حق یہ ہے کہ وہ ایسے کسی شخص کو عذاب نہ دے ، جو کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہراتا ہو ۔ “
یہ روایت امام بزار نے اسی طرح طویل روایت کے طور پر نقل کی ہے اور اسے مختصر طور پر بھی نقل کیا ہے ، ان دونوں کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف کمیل بن زیاد کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 16906
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3089) اخرجه احمد فى المسند (7953)»
حدیث نمبر: 16907
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ : كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ : لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " تَدْرِي مَا تَفْسِيرُهَا ؟ " . قُلْتُ : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، قَالَ : " لَا حَوْلَ عَنْ مَعْصِيَةِ اللَّهِ إِلَّا بِعِصْمَةِ اللَّهِ ، وَلَا قُوَّةَ عَلَى طَاعَةِ اللَّهِ إِلَّا بِعَوْنِ اللَّهِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ بِإِسْنَادَيْنِ : أَحَدُهُمَا مُنْقَطِعٌ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ خِرَاشٍ ، وَالْغَالِبُ عَلَيْهِ الضَّعْفُ ، وَالْآخَرُ مُتَّصِلٌ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا ، میں نے کہا: ” «لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ الا بالله» نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا تم جانتے ہو اس کی وضاحت کیا ہے ؟ میں نے عرض کی : اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم زیادہ بہتر جانتے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ( اس سے مراد یہ ہے : ) اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے ، صرف اللہ تعالیٰ کی عطا کی ہوئی عصمت کے ذریعے ہی بچا جا سکتا ہے ، اور اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری کی قوت ، صرف اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی مدد کے ذریعے حاصل ہو سکتی ہے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ، ان دونوں میں سے ایک کی سند منقطع ہے ، اس میں ایک راوی عبداللہ بن خراش ہے ، جس پر ضعیف ہونا غالب ہے ، اور دوسری سند متصل اور حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 16907
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3083 و 3084)»
حدیث نمبر: 16908
وَعَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ أَرَادَ كَنَزَ الْجَنَّةِ فَعَلَيْهِ بِلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مِنْ طَرِيقِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يُورَا ، وَعَبْدُ اللَّهِ لَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص جنت کا خزانہ چاہتا ہو اس پر لازم ہے کہ وہ «لا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِالله» پڑھے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے عبداللہ بن یزید کے حوالے سے ، ربیعہ بن یورا سے نقل کی ہے اور عبداللہ نامی راوی سے میں واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 16908
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (301/18)»
حدیث نمبر: 16909
وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِ نِعْمَةً فَأَرَادَ بَقَاءَهَا فَلْيُكْثِرْ مِنْ قَوْلِ : لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ " . ثُمَّ قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : ( وَلَوْلَا إِذْ دَخَلْتَ جَنَّتَكَ قُلْتَ مَا شَاءَ اللَّهُ لَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ ) . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ خَالِدُ بْنُ نَجِيحٍ ، وَهُوَ كَذَّابٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جس شخص کو اللہ تعالیٰ کوئی نعمت عطا کرے اور وہ اس نعمت کو باقی رکھنے کا ارادہ رکھتا ہو تو اسے کثرت کے ساتھ «لا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ» پڑھنا چاہیے ۔ “ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کی : ﴿وَلَوْلَا إِذْ دَخَلْتَ جَنَّتَكَ قُلْتَ مَا شَاءَ اللَّهُ لَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ﴾ ( الكهف : 39 )
” اور جب تم اپنے باغ میں داخل ہوئے تھے ، اس وقت تم نے یہ کیوں نہیں کہا: ؟ جو اللہ چاہے اور اللہ کی مدد کے بغیر کوئی قوت نہیں ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی خالد بن نجیح ہے اور وہ کذاب ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 16909
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ موضوع
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (155) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (310/17)»
حدیث نمبر: 16910
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ لِي نَبِيُّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَا أَبَا هُرَيْرَةَ ، أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى كَلِمَةٍ [ كَنْزٍ ] مِنْ كَنْزِ [ الْجَنَّةِ ] تَحْتَ الْعَرْشِ ؟ " . قَالَ : قُلْتُ : فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي ، قَالَ : " أَنْ تَقُولَ : لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ " . قَالَ أَبُو بَلْجٍ : وَأَحْسَبُ أَنَّهُ قَالَ : " فَإِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - يَقُولُ : أَسْلَمَ عَبْدِي وَاسْتَسْلَمَ " . قَالَ : قُلْتُ لِأَبِي هُرَيْرَةَ : لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ ؟ قَالَ : لَا إِنَّهَا فِي سُورَةِ الْكَهْفِ : ( وَلَوْلَا إِذْ دَخَلْتَ جَنَّتَكَ قُلْتَ مَا شَاءَ اللَّهُ لَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ . ¤ قُلْتُ : لَهُ حَدِيثٌ عِنْدَ التِّرْمِذِيِّ غَيْرُ هَذَا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " أَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى كَلِمَةٍ مِنْ كَنْزِ الْجَنَّةِ مِنْ تَحْتِ الْعَرْشِ " . ¤ وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ ، غَيْرَ أَبِي بَلْجٍ الْكَبِيرِ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : اے ابوہریرہ ! کیا میں تمہاری رہنمائی ، عرش کے نیچے موجود جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ والے کلمے کی طرف نہ کروں ؟ راوی کہتے ہیں : میں نے عرض کی : جی ہاں ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہو جائیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم «لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ» پڑھو ! “ ۔ ابوبلچ نامی راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے ، روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں : اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : میرے بندے نے اطاعت و فرمانبرداری کی ۔ راوی کہتے ہیں : میں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہا: لا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ کے الفاظ ہیں ؟ انہوں نے فرمایا : جی نہیں ! سورہ کہف میں یہ الفاظ ہیں :
﴿وَلَوْلَا إِذْ دَخَلْتَ جَنَّتَكَ قُلْتَ مَا شَاءَ اللَّهُ لَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ ﴾ ( الكهف : 39 )
” اور ایسا کیوں نہ ہوا کہ جب تم اپنے باغ میں داخل ہوئے تو تم یہ کہتے : جو اللہ نے چاہا ( ویسا ہوا ) اور اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر کچھ نہیں ہو سکتا ۔ “
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ان صحابی کے حوالے سے امام ترمذی نے ایک حدیث نقل کی ہے جو اس روایت کے علاوہ ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، امام بزار نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” کیا میں تمہاری رہنمائی ، عرش کے نیچے موجود جنت کے خزانے کے ایک کلمے کی طرف نہ کروں ؟ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ان دونوں روایات کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف ابوبلج کبیر کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 16910
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3088 و 3087 و 3086) اخرجه احمد فى المسند (335/2)»