کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: حمد کے بارے میں ، جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 16882
عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " عَجِبْتُ مِنْ قَضَاءِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - لِلْمُؤْمِنِ إِنْ أَصَابَهُ خَيْرٌ حَمِدَ رَبَّهُ وَشَكَرَ ، وَإِنْ أَصَابَتْهُ مُصِيبَةُ حَمِدَ رَبَّهُ وَصَبَرَ ، الْمُؤْمِنُ يُؤْجَرُ فِي كُلِّ شَيْءٍ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ بِأَسَانِيدَ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَزَادَ : " فِي كُلٍّ يُؤْجَرُ الْمُؤْمِنُ حَتَّى فِي أَكْلَتِهِ يَرْفَعُهَا إِلَى فِيهِ " . ¤ وَالْبَزَّارُ وَقَالَ : " يُؤْجَرُ فِي كُلِّ أَمْرِهِ ، حَتَّى اللُّقْمَةَ يَرْفَعُهَا إِلَى فِيِّ امْرَأَتِهِ " . ¤ وَأَسَانِيدُ أَحْمَدَ رِجَالُهَا رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَكَذَلِكَ بَعْضُ أَسَانِيدِ الْبَزَّارِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” مؤمن کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا فیصلہ مجھے پسند ہے ، اگر اس مومن کو بھلائی نصیب ہوتی ہے تو وہ اپنے پروردگار کی حمد بیان کرتا ہے ، اور شکر کرتا ہے اور اگر اُسے کوئی مصیبت لاحق ہوتی ہے تو وہ اپنے پروردگار کی حمد بیان کرتا ہے اور صبر کرتا ہے ، مؤمن کو ہر صورتحال میں اجر ملتا ہے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ، امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ” مومن کو ہر کام میں اجر ملتا ہے ، یہاں تک کہ اس کے کھانے میں جو وہ لقمہ اپنے منہ کی طرف بلند کرتا ہے ( یعنی اُس کا بھی اجر ملتا ہے ) ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” اسے ہر کام میں اجر ملتا ہے ، یہاں تک کہ اس لقمے کا بھی اجر ملتا ہے ، جو وہ اپنی بیوی کے منہ کی طرف بلند کرتا ہے ۔ “ امام أحمد کی اسانید کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، امام بزار کی بعض اسانید بھی اسی طرح ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 16882
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (1487 و 1492 و 1531 و 1575)»
حدیث نمبر: 16883
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَوَّلُ مَنْ يُدْعَى إِلَى الْجَنَّةِ الْحَمَّادُونَ ، الَّذِينَ يَحْمَدُونَ اللَّهَ فِي السَّرَّاءِ وَالضَّرَّاءِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الثَّلَاثَةِ بِأَسَانِيدَ ، وَفِي أَحَدِهَا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ ، وَثَّقَهُ شُعْبَةُ وَالثَّوْرِيُّ وَغَيْرُهُمَا ، وَضَعَّفَهُ يَحْيَى الْقَطَّانُ وَغَيْرُهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤ وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جنت کی طرف سب سے پہلے حمد بیان کرنے والوں کو بلایا جائے گا ، جو آسانی اور تنگی ہر حال میں ، اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کرتے تھے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے تینوں کتابوں میں ، مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ، ان میں سے ایک سند میں ایک راوی قیس بن ربیع ہے ، جسے شعبہ اور ثوری اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ، جبکہ یحیی قطان اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 16883
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (288) اخرجه البزار فى المسند (3114) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير 12345»
حدیث نمبر: 16884
وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَفْضَلُ عِبَادِ اللَّهِ - تَعَالَى - يَوْمَ الْقِيَامَةِ الْحَمَّادُونَ " . فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے بندوں میں سب سے زیادہ فضیلت والے لوگ ، حمد بیان کرنے والے ہوں گے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 16884
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (124/18)»
حدیث نمبر: 16885
وَعَنْ مُطَرِّفٍ قَالَ : قَالَ لِي عِمْرَانُ : إِنِّي لَأُحَدِّثُكَ بِالْحَدِيثِ الْيَوْمَ لَعَلَّ اللَّهَ يَنْفَعُكَ بِهِ بَعْدَ الْيَوْمِ ، اعْلَمْ أَنَّ خِيَارَ عِبَادِ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الْحَمَّادُونَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ مَوْقُوفًا ، وَهُوَ شِبْهُ الْمَرْفُوعِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
مطرف بیان کرتے ہیں : سیدنا عمران رضی اللہ عنہ نے مجھ سے فرمایا : آج میں تمہیں ایک حدیث بیان کروں گا ، ہو سکتا ہے آج کے بعد اللہ تعالیٰ تمہیں اس حدیث کے حوالے سے نفع دے ، ” تم یہ بات جان لو ! کہ اللہ تعالیٰ کے بندوں میں قیامت کے دن سب سے بہتر ، حمد بیان کرنے والے لوگ ہوں گے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے ” موقوف “ روایت کے طور پر نقل کی ہے اور یہ ” مرفوع “ ہونے کے ساتھ مشابہت رکھتی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 16885
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (434/4)»
حدیث نمبر: 16886
وَعَنِ الْأُسُودِ بْنِ سَرِيعٍ قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي حَمِدْتُ رَبِّي - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - بِمَحَامِدَ وَمَدْحٍ وَإِيَّاكَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَمَا إِنَّ رَبَّكَ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - يُحِبُّ الْمَدْحَ " . قُلْتُ : فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، وَقَدْ تَقَدَّمَ فِي الْأَدَبِ بِتَمَامِهِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ بِتَمَامِهِ ، وَالطَّبَرَانِيُّ بِنَحْوِهِ ، وَفِي رِوَايَةٍ عِنْدَ الطَّبَرَانِيِّ : " إِنَّ رَبَّكَ يُحِبُّ الْحَمْدَ " . بَدَلَ : " الْمَدْحِ " . ¤ وَأَحَدُ أَسَانِيدِ أَحْمَدَ رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا اسود بن سریع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے اپنے پروردگار کے بارے میں کچھ کلمات کہے ہیں اور آپ کی تعریف کے بارے میں کچھ کلمات کہے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جہاں تک تمہارے پروردگار کا معاملہ ہے ، تو وہ مدح کو پسند کرتا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ راوی کہتے ہیں : پھر اس کے بعد انہوں نے پوری حدیث ذکر کی ہے ، جو اس سے پہلے کتاب ” الادب “ میں مکمل روایت گزر چکی ہے ۔ یہ مکمل روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، امام طبرانی نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے ، امام طبرانی کی روایت میں لفظ ” مدح “ کی جگہ یہ الفاظ ہیں : ” بیشک تمہارا پروردگار حمد کو پسند کرتا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ امام أحمد کی اسانید میں سے ایک کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 16886
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (823 و 822 و 821 و 820) اخرجه احمد فى المسند (435/3)»
حدیث نمبر: 16887
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا أَنْعَمَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - عَلَى عَبْدٍ نِعْمَةً ، فَحَمِدَ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - عَلَيْهَا ، إِلَّا كَانَ ذَلِكَ أَفْضَلُ مِنْ تِلْكَ النِّعْمَةِ وَإِنْ عَظُمَتْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ سُوَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کو کوئی نعمت عطا کرے اور وہ بندہ اُس نعمت کے حوالے سے اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کرے ، تو یہ چیز اس نعمت سے بھی افضل ہوتی ہے ، خواہ وہ نعمت کتنی ہی بڑی کیوں نہ ہو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سوید بن عبدالعزیز ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 16887
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7794)»
حدیث نمبر: 16888
وَعَنْ حُذَيْفَةَ : أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " بَيْنَا أَنَا أُصَلِّي إِذْ سَمِعْتُ مُتَكَلِّمًا يَقُولُ : اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ كُلُّهُ ، وَلَكَ الْمُلْكُ كُلُّهُ ، بِيَدِكَ الْخَيْرُ كُلُّهُ ، إِلَيْكَ يَرْجِعُ الْأَمْرُ كُلُّهُ ، عَلَانِيَتُهُ وَسِرُّهُ ، فَأَهْلٌ أَنْ تُحْمَدَ ، إِنَّكَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي جَمِيعَ مَا مَضَى مِنْ ذُنُوبِي ، وَاعْصِمْنِي فِيمَا بَقِيَ مِنْ عُمْرِي ، وَارْزُقْنِي عَمَلًا زَاكِيًا تَرْضَى بِهِ عَنِّي " . فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " ذَاكَ مَلَكٌ أَتَاكَ يُعَلِّمُكَ تَحْمِيدَ رَبِّكَ - عَزَّ وَجَلَّ - " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، انہوں نے بتایا : میں نماز ادا کر رہا تھا ، اسی دوران میں نے کسی کہنے والے کو یہ کہتے ہوئے سنا : «اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ كُلُّهُ ، وَلَكَ الْمُلْكُ كُلُّهُ ، بِيَدِكَ الْخَيْرُ كُلُّهُ ، إِلَيْكَ يَرْجِعُ الْأَمْرُ كُلُّهُ ، عَلَانِيَتُهُ وَسِرُّهُ ، فَأَهْلٌ أَنْ تُحْمَدَ ، إِنَّكَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي جَمِيعَ مَا مَضَى مِنْ ذُنُوبِي ، وَاعْصِمْنِي فِيمَا بَقِيَ مِنْ عُمْرِي ، وَارْزُقْنِي عَمَلًا زَاكِيًا تَرْضَى بِهِ عَنِّي»
” اے اللہ ! ساری کی ساری حمد تیرے ہی لیے مخصوص ہے اور ساری کی ساری بادشاہی تیرے ہی لئے مخصوص ہے ، اور ساری بھلائی تیرے ہی دست قدرت میں ہے ، ہر معاملہ تیری ہی طرف لوٹتا ہے ، خواہ وہ علانیہ ہو یا پوشیدہ ہو ، تو اس بات کا اہل ہے کہ تیری حمد بیان کی جائے ، بیشک تو ہر شے پر قدرت رکھتا ہے ، اے اللہ ! میرے جتنے گناہ گزر چکے ہیں ، تو ان سب کی مغفرت کر دے اور باقی کی عمر میں ، مجھے گناہوں سے محفوظ رکھنا ، اور مجھے ایسا عمل نصیب کرنا جو پاکیزہ ہو ، جس کی وجہ سے تو مجھ سے راضی ہو جائے ۔ “
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” وہ ایک فرشتہ تھا جو تمہارے پاس آیا تھا تاکہ تمہیں اس بات کی تعلیم دے کہ تم نے اپنے پروردگار کی حمد کیسے بیان کرنی ہے ؟ “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ہے جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ، اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 16888
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (395/5)»
حدیث نمبر: 16889
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - يَقُولُ : إِنَّ عَبْدِي الْمُؤْمِنَ عِنْدِي بِمَنْزِلَةِ كُلِّ خَيْرٍ يَحْمَدُنِي ، وَأَنَا أَنْزِعُ نَفْسَهُ مِنْ بَيْنِ جَنْبَيْهِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ” اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : میرا مؤمن بندہ جب میری حمد بیان کرتا ہے تو وہ میری بارگاہ میں ہر قسم کی بھلائی کی منزلت میں ہوتا ہے ، اور اس کے دونوں پہلوؤں کے درمیان سے ، میں خود اس کی جان نکالتا ہوں ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 16889
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (341/2)»
حدیث نمبر: 16890
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ : " آيَةُ الْعِزِّ : ( الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي لَمْ يَتَّخِذْ وَلَدًا وَلَمْ يَكُنْ لَهُ شَرِيكٌ فِي الْمِلْكِ ) إِلَى آخَرِ السُّورَةِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا عَلَى ضَعْفٍ فِي بَعْضِهِمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاذ بن انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” غلبہ والی آیت یہ ہے : ﴿الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي لَمْ يَتَّخِذْ وَلَدًا وَلَمْ يَكُنْ لَهُ شَرِيكٌ فِي الْمِلْكِ﴾ ” ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے جو اولاد سے پاک ہے اور بادشاہی میں اُس کا کوئی شریک نہیں ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ یہ سورت کے آخر تک ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کے رجال میں سے بعض کے ضعیف ہونے کے باوجود اُن کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 16890
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (439/3)»
حدیث نمبر: 16891
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ قَالَ : الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي تَوَاضَعَ كُلُّ شَيْءٍ لِعَظَمَتِهِ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي ذَلَّ كُلُّ شَيْءٍ لِعِزَّتِهِ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي خَضَعَ كُلُّ شَيْءٍ لِمُلْكِهِ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي اسْتَسْلَمَ كُلُّ شَيْءٍ لِقُدْرَتِهِ ، فَقَالَهَا يَطْلُبُ بِهَا مَا عِنْدَ اللَّهِ ، كَتَبَ اللَّهُ لَهُ بِهَا أَلْفَ حَسَنَةٍ ، وَرَفَعَ لَهُ بِهَا أَلْفَ دَرَجَةٍ وَوَكَّلَ بِهَا سَبْعِينَ أَلْفَ مَلِكٍ ، يَسْتَغْفِرُونَ لَهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَابِلُتِّيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ” جو شخص یہ کلمات پڑھ لے :
«الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي تَوَاضَعَ كُلُّ شَيْءٍ لِعَظَمَتِهِ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي ذَلَّ كُلُّ شَيْءٍ لِعِزَّتِهِ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي خَضَعَ كُلُّ شَيْءٍ لِمُلْكِهِ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي اسْتَسْلَمَ كُلُّ شَيْءٍ لِقُدْرَتِهِ»
” ہر طرح کی حمد اس اللہ کے لیے مخصوص ہے ، جس کی عظمت کے سامنے ہر چیز تواضع اختیار کیے ہوئے ہے ، اور ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے ، جس کے غلبے کے آگے ہر چیز کم تر ہے ، اور ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے جس کی بادشاہی کے سامنے ہر چیز جھکی ہوئی ہے ، اور ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے جس کی قدرت کے لئے ، ہر چیز خود کو سونپے ہوئے ہے ۔ “
( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : ) اور وہ شخص ، اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں موجود اجر و ثواب کے حصول کے لیے انہیں پڑھتا ہے ، تو اللہ تعالیٰ ان کلمات کے عوض میں اس کے لئے ایک ہزار نیکیاں نوٹ کرتا ہے ، اور ان کی وجہ سے اس کے ایک ہزار درجات بلند کرتا ہے اور ان کی وجہ سے اس شخص کے لئے ستر ہزار فرشتے مقرر کرتا ہے ، جو قیامت کے دن تک اُس کی مغفرت کی دعا کرتے رہتے ہیں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن عبداللہ بابلتی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 16891
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير “ (13562)»
حدیث نمبر: 16892
وَعَنْ سَلْمَانَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " قَالَ رَجُلٌ : الْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا ، فَأَعْظَمَهَا الْمَلَكُ أَنْ يَكْتُبَهَا ، فَرَاجَعَ فِيهَا رَبَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - فَقِيلَ لَهُ : اكْتُبْهَا كَمَا قَالَهَا عَبْدِي كَثِيرًا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ يُوسُفُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الْوَاسِطِيُّ ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ایک شخص نے یہ کلمات پڑھے : «الحمد الله كثيرا» ( ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے جو بہت زیادہ ہو ) تو ایک فرشتے نے اسے نوٹ کرنے کو بہت بڑا کام سمجھا ، اس نے اس کلمے کے بارے میں اپنے پروردگار کی طرف رجوع کیا ، تو اس سے یہ کہا: گیا : تم اسے اُسی طرح نوٹ کر لو ، جس طرح میرے بندے نے کہا: ہے کہ وہ کثیر تعداد میں ہو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یوسف بن عبد الملک واسطی ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 16892
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 16893
وَعَنْ أَبِي أَيُّوبَ قَالَ : قَالَ رَجُلٌ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا ، طَيِّبًا ، مُبَارَكًا فِيهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ صَاحِبُ الْكَلِمَةِ ؟ " . فَسَكَتَ الرَّجُلُ ، وَرَأَى أَنَّهُ قَدْ هَجَمَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى شَيْءٍ يَكْرَهُهُ . ¤ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ هُوَ ؟ فَإِنَّهُ لَمْ يَقُلْ إِلَّا صَوَابًا " . فَقَالَ رَجُلٌ : أَنَا قُلْتُهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَرْجُو بِهَا الْخَيْرَ ، فَقَالَ : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، لَقَدْ رَأَيْتُ ثَلَاثَةَ عَشَرَ مَلَكًا يَبْتَدِرُونَ كَلِمَتَكَ أَيُّهُمْ يَرْفَعُهَا إِلَى اللَّهِ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس یہ کلمات پڑھے :
«الْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا ، طَيِّبًا ، مُبَارَكًا فِيهِ»
” ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے جو کثرت والی ہو ، پاکیزہ ہو ، اُس میں برکت موجود ہو ۔ “
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : یہ کلمہ کس نے پڑھا ہے ؟ وہ شخص خاموش رہا ، اس نے یہ سمجھا کہ شاید اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ناراضگی کا سامنا کرنا پڑے گا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ شخص کون ہے ؟ اس نے ٹھیک بات کہی ہے ، اس شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ میں نے پڑھا ہے ، اور میں نے اس کے ذریعے بھلائی کی امید رکھی ہے ۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، میں نے تیرہ فرشتوں کو دیکھا کہ وہ تمہارے کلمے کی طرف لپکے ، اس لیے کہ اُن میں سے کون اس کو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں لے جاتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 16893
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير “ (4088)»
حدیث نمبر: 16894
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَالِسًا فِي الْحَلْقَةِ ، إِذْ جَاءَ رَجُلٌ فَسَلَّمَ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَالْقَوْمِ ، فَقَالَ : السَّلَامُ عَلَيْكُمْ ، وَرَحْمَةُ اللَّهِ ، فَرَدَّ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَيْهِ : " وَعَلَيْكُمُ السَّلَامُ ، وَرَحْمَةُ اللَّهِ ، وَبَرَكَاتُهُ " . فَلَمَّا جَلَسَ الرَّجُلُ قَالَ : الْحَمْدُ لِلَّهِ حَمْدًا كَثِيرًا ، طَيِّبًا ، مُبَارَكًا فِيهِ ، كَمَا يُحِبُّ رَبُّنَا أَنْ يُحْمَدَ وَيَنْبَغِي لَهُ . فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " كَيْفَ قُلْتَ ؟ " . فَرَدَّ عَلَيْهِ كَمَا قَالَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، لَقَدِ ابْتَدَرَهَا عَشَرَةُ أَمْلَاكٍ كُلُّهُمْ حَرِيصٌ عَلَى أَنْ يَكْتُبَهَا ، فَمَا دَرَوْا كَيْفَ يَكْتُبُونَهَا حَتَّى رَفَعُوهَا إِلَى ذِي الْعِزَّةِ فَقَالَ : اكْتُبُوهَا كَمَا قَالَ عَبْدِي " . ¤ قُلْتُ : رَوَى لَهُ أَبُو دَاوُدَ فِي الِاسْتِفْتَاحِ فِي الصَّلَاةِ غَيْرَ هَذَا بِاخْتِصَارٍ عَنْهُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک محفل میں بیٹھا ہوا تھا ، اسی دوران ایک شخص آیا ، اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور حاضرین کو سلام کیا ، اس نے کہا: ” «السلام عليكم ورحمته الله» “ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے جواب دیتے ہوئے فرمایا : ” «وعليكم السلام ورحمته الله و بركاته» “ جب وہ شخص بیٹھ گیا تو اس نے یہ کلمات پڑھے :
«الْحَمْدُ لِلَّهِ حَمْدًا كَثِيرًا ، طَيِّبًا ، مُبَارَكًا فِيهِ ، كَمَا يُحِبُّ رَبُّنَا أَنْ يُحْمَدَ وَيَنْبَغِي لَهُ» ” ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے ، ایسی حمد جو زیادہ ہو ، پاکیزہ ہو ، اس میں برکت موجود ہو ، وہ ایسی ہو کہ ہمارا پروردگار اس طرح سے حمد بیان کرنے کو پسند کرتا ہو ، اور وہ حمد اُس کی شان کے لائق ہو ۔ “
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : تم نے کیا کہا: ہے ؟ اس نے جو پہلے پڑھا تھا ، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے دہرا دیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، بارہ فرشتے اس کی طرف لپکے تھے ، اُن میں سے ہر ایک اس بات کا خواہش مند تھا کہ وہ اس کو نوٹ کرے ، انہیں یہ سمجھ نہیں آئی کہ وہ اس کو کیسے لکھیں ؟ یہاں تک کہ وہ اسے لے کر رب العزت کی بارگاہ میں چلے گئے ، تو پروردگار نے فرمایا : تم اسے اُسی طرح نوٹ کرو ، جس طرح میرے بندے نے کہا: ہے ۔ “
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابوداؤد نے ان صحابی کے حوالے سے نماز کے آغاز میں پڑھی جانے والی دعا کے بارے میں روایت نقل کی ہے ، جو اس روایت کے علاوہ ہے ، اور وہ اس سے مختصر ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 16894
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (158/3)»
حدیث نمبر: 16895
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ قَالَ : الْحَمْدُ لِلَّهِ قَبْلَ كُلِّ أَحَدٍ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ بَعْدَ كُلِّ أَحَدٍ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى كُلِّ حَالٍ ، أُعْطِيَ مِنَ الْأَجْرِ كَعِبَادَةِ مَنْ عَبَدَ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس یا نبی اکرم صلی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : جو شخص یہ کلمات پڑھے :
«الْحَمْدُ لِلَّهِ قَبْلَ كُلِّ أَحَدٍ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ بَعْدَ كُلِّ أَحَدٍ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى كُلِّ حَالٍ»
” ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے جو ہر ایک سے پہلے تھا ، اور ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے جو ہر ایک کے بعد ہو گا ، اور ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے جو ہر حال میں ہو ۔ “
( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ) تو اُس شخص کو اتنا اجر ملے گا ، جتنا اس شخص کی عبادت کا ہوتا ہے ، جس نے اللہ تعالیٰ کی عبادت کی ہو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 16895
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الأوسط (1013)»
حدیث نمبر: 16896
وَعَنْ عَلِيٍّ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ نَزَلَ عَلَيْهِ جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، إِنْ سَرَّكَ أَنْ تَعْبُدَ اللَّهَ لَيْلَةً حَقَّ عِبَادَتِهِ فَقُلِ : اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ حَمْدًا خَالِدًا مَعَ خُلُودِكَ ، وَلَكَ الْحَمْدُ حَمْدًا دَائِمًا لَا مُنْتَهَى لَهُ دُونَ مَشِيئَتِكَ ، وَعِنْدَ كُلِّ طَرْفَةِ عَيْنٍ ، وَتَنَفُّسِ نَفْسٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ الصَّلْتِ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤ قُلْتُ : وَقَدْ تَقَدَّمَتْ أَحَادِيثُ مُتَعَلِّقَةٌ بِالْحَمْدِ فِي بَابٍ جَامِعِ التَّسْبِيحِ وَالتَّحْمِيدِ قَبْلَ هَذَا بِأَرْبَعَةِ أَبْوَابٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں : سیدنا جبرائیل علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئے اور انہوں نے یہ کہا: اے سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! اگر آپ یہ چاہتے ہیں کہ آپ ایک رات اللہ تعالیٰ کی یوں عبادت کریں ، جو اس کی عبادت کا حق ہے تو آپ یہ پڑھیں :
«اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ حَمْدًا خَالِدًا مَعَ خُلُودِكَ ، وَلَكَ الْحَمْدُ حَمْدًا دَائِمًا لَا مُنْتَهَى لَهُ دُونَ مَشِيئَتِكَ ، وَعِنْدَ كُلِّ طَرْفَةِ عَيْنٍ ، وَتَنَفُّسِ نَفْسٍ»
” اے اللہ ! حمد تیرے ہی لیے مخصوص ہے ، ایسی حمد جو تیرے ہمیشہ رہنے کے ہمراہ ہمیشہ رہے اور حمد تیرے ہی لیے مخصوص ہے ، جو دائمی ہو ، جس کی تیری مشیت کے علاوہ اور کوئی انتہاء نہ ہو ، اور وہ ( حمد ) ہر آنکھ جھپکنے کے وقت اور ہر سانس لینے کے وقت ہو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن صلت ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس سے پہلے حمد سے متعلق کچھ احادیث تسبیح و تحمید کے مجموعہ سے متعلق باب میں گزر چکی ہیں ، جو اس سے چار ابواب پہلے گزرا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 16896
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف