کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: ذکر کی مجالس کے بارے میں ، جو منقول ہے
حدیث نمبر: 16763
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " يَقُولُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - يَوْمَ الْقِيَامَةِ : سَيَعْلَمُ أَهْلُ الْجَمْعِ مَنْ أَهْلُ الْكَرَمِ " . فَقِيلَ : وَمَنْ أَهْلُ الْكَرَمِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " مَجَالِسُ الذِّكْرِ فِي الْمَسَاجِدِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ بِإِسْنَادَيْنِ ، وَأَحَدُهُمَا حَسَنٌ ، وَأَبُو يَعْلَى كَذَلِكَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” قیامت کے دن اللہ تعالیٰ فرمائے گا ، عنقریب اہل محشر جان لیں گے کہ کون لوگ کرم والے ہیں ؟ عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! کرم والے لوگ کون ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : مساجد میں ذکر کی محافل والے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ، ان دونوں میں سے ایک سند حسن ہے ، امام ابویعلیٰ نے بھی
یہ روایت اسی طرح نقل کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 16763
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه أبو يعلى فى المسند (1403 و 1046) اخرجه احمد فى المسند (68/3)»
حدیث نمبر: 16764
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَا مِنْ قَوْمٍ اجْتَمَعُوا يَذْكُرُونَ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - لَا يُرِيدُونَ بِذَلِكَ إِلَّا وَجْهَهُ إِلَّا نَادَاهُمْ مُنَادٍ مِنَ السَّمَاءِ : أَنْ قُومُوا مَغْفُورًا لَكُمْ ، فَقَدْ بُدِّلَتْ سَيِّئَاتُكُمْ حَسَنَاتٌ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَالْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مَيْمُونٌ الْمَرَئِيُّ ، وَثَّقَهُ جَمَاعَةٌ ، وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جب بھی کچھ لوگ اکٹھے ہو کر ، اللہ کا ذکر کرتے ہیں اور وہ اس کے ذریعے صرف اس کی رضامندی چاہتے ہیں ، تو آسمان سے ایک منادی یہ اعلان کرتا ہے : تم ایسی حالت میں اُٹھ جاؤ کہ تمہاری مغفرت ہو چکی ہے ، اور میں نے تمہاری برائیوں کو نیکیوں میں تبدیل کر دیا ہے ۔ “
یہ روایت امام أحمد ، امام ابویعلیٰ ، امام بزار اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی میمون مرئی ہے جس کو ایک جماعت نے ثقہ قرار دیا ہے ، اس میں ضعف پایا جاتا ہے ، امام أحمد کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 16764
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3061) اخرجه ابو يعلى فى المسند (4141) اخرجه احمد في (4141) اخرجه احمد فى المسند (142/3)»
حدیث نمبر: 16765
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : كَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ إِذَا لَقِيَ الرَّجُلَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : تَعَالَ نُؤْمِنُ بِرَبِّنَا سَاعَةً ، فَقَالَ ذَاتَ يَوْمٍ لِرَجُلٍ ، فَغَضِبَ الرَّجُلُ ، فَجَاءَ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَلَا تَرَى إِلَى ابْنِ رَوَاحَةَ يَرْغَبُ عَنْ إِيمَانِكَ إِلَى إِيمَانِ سَاعَةٍ ؟ ! فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَرْحَمُ اللَّهُ ابْنَ رَوَاحَةَ ; إِنَّهُ يُحِبُّ الْمَجَالِسَ الَّتِي تَتَبَاهَى بِهَا الْمَلَائِكَةُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب سے تعلق رکھنے والے کسی فرد سے جب ملتے تھے تو یہ فرماتے تھے : آؤ ! تاکہ ہم گھڑی بھر کے لیے اپنے پروردگار پر ایمان لے آئیں ( یعنی گھڑی بھر کے لیے اُس کا ذکر کر لیں ) ایک دن انہوں نے ایک شخص سے یہی بات کہی ، تو وہ شخص غصے میں آ گیا ، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا اور بولا: یا رسول اللہ ! کیا آپ نے ابن رواحہ کو ملاحظہ نہیں کیا ؟ کہ وہ آپ کے ایمان سے موڑ کر ، گھڑی بھر کے ایمان کی طرف ترغیب دیتا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اللہ تعالیٰ ابن رواحہ پر رحم کرے ! اوہ ان محافل کو پسند کرتا ہے جن کے حوالے سے فرشتے فخر کا اظہار کرتے ہیں ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 16765
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (265/3)»
حدیث نمبر: 16766
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : مَرَّ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَوَاحَةَ وَهُوَ يَذْكُرُ أَصْحَابَهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَمَّا إِنَّكُمُ الْمَلَأُ الَّذِينَ أَمَرَنِي اللَّهُ أَنْ أُصَبِّرَ نَفْسِي مَعَكُمْ " . ثُمَّ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ : ( وَاصْبِرْ نَفْسَكَ مَعَ الَّذِينَ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ ) . إِلَى قَوْلِهِ : ( وَكَانَ أَمْرُهُ فُرُطًا ) ، أَمَا إِنَّهُ مَا جَلَسَ عُدَّتُكُمْ إِلَّا جَلَسَ مَعَهُمْ عِدَّتُهُمْ مِنَ الْمَلَائِكَةِ ، إِنْ سَبَّحُوا اللَّهَ - تَعَالَى - سَبَّحُوهُ ، وَإِنْ حَمِدُوا اللَّهَ - تَعَالَى - حَمِدُوهُ ، وَإِنْ كَبَّرُوا اللَّهَ كَبَّرُوهُ ، ثُمَّ يَصْعَدُونَ إِلَى الرَّبِّ - جَلَّ ثَنَاؤُهُ - وَهُوَ أَعْلَمُ مِنْهُمْ فَيَقُولُونَ : يَا رَبَّنَا ، عِبَادُكَ سَبَّحُوكَ فَسَبَّحْنَا ، وَكَبَّرُوكَ فَكَبَّرْنَا ، وَحَمِدُوكَ فَحَمِدْنَا ، فَيَقُولُ رَبُّنَا : يَا مَلَائِكَتِي ، أُشْهِدُكُمْ أَنِّي غَفَرْتُ لَهُمْ ، فَيَقُولُونَ : فِيهِمْ فُلَانٌ وَفُلَانٌ الْخَطَّاءُ . فَيَقُولُ : هُمُ الْقَوْمُ لَا يَشْقَى بِهِمْ جَلِيسُهُمْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ حَمَّادٍ الْكُوفِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کے پاس سے ہوا ، جو اپنے اصحاب کے ہمراہ ذکر کر رہے تھے ( یعنی انہیں وعظ و نصیحت کر رہے تھے ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم لوگ ایسا گروہ ہو کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ حکم دیا ہے کہ میں اپنے آپ کو تمہارے ساتھ رکھوں ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کی : ” اور اپنے آپ کو ان لوگوں کے ساتھ رکھو جو صبح و شام اپنے پروردگار کو پکارتے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ یہ آیت یہاں تک ہے : ” اور اس کا معاملہ حد سے گزر گیا ۔ “ ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جہاں تک تمہاری تعداد میں بیٹھے ہوئے لوگوں کا تعلق ہے ، تو اتنی ہی تعداد میں فرشتے بھی ایسے لوگوں کے ساتھ بیٹھتے ہیں ، اگر وہ لوگ اللہ کی تسبیح بیان کرتے ہیں تو فرشتے بھی اس کی تسبیح بیان کرتے ہیں ، اگر وہ لوگ اللہ کی حمد بیان کرتے ہیں ، تو فرشتے بھی اس کی حمد بیان کرتے ہیں ، اگر وہ لوگ اللہ کی کبریائی کا ذکر کرتے ہیں ، تو فرشتے بھی اس کی کبریائی کا ذکر کرتے ہیں ، پھر وہ فرشتے اوپر پروردگار کی بارگاہ میں چلے جاتے ہیں ، وہ پروردگار ان فرشتوں سے زیادہ علم رکھتا ہے ، فرشتے عرض کرتے ہیں : اے ہمارے پروردگار ! تیرے بندے تیری تسبیح بیان کر رہے تھے ، تو ہم نے بھی تیری تسبیح بیان کی ، وہ تیری کبریائی بیان کر رہے تھے تو ہم نے بھی تیری کبریائی بیان کی ، وہ تیری حمد بیان کر رہے تھے تو ہم نے بھی تیری حمد بیان کی ، تو ہمارا پروردگار یہ فرماتا ہے : اے میرے فرشتو ! میں تمہیں گواہ بنا رہا ہوں کہ میں نے ان لوگوں کی مغفرت کر دی ہے ، فرشتے عرض کرتے ہیں : اُن کے درمیان فلاں اور فلاں خطاکار شخص موجود تھا ، تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : وہ لوگ ( یعنی ذکر کرنے والے لوگ ) ایسے ہیں کہ ان کے ساتھ بیٹھا ہوا شخص بدنصیب ( یعنی محروم ) نہیں رہتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن حماد کوفی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 16766
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (1074)»
حدیث نمبر: 16767
وَعَنْ سُهَيْلِ بْنِ حَنْظَلَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا جَلَسَ قَوْمٌ مَجْلِسًا يَذْكُرُونَ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - فِيهِ فَيَقُومُونَ حَتَّى يُقَالَ لَهُمْ : قُومُوا ، قَدْ غَفَرَ اللَّهُ لَكُمْ ، وَبُدِّلَتْ سَيِّئَاتُكُمْ حَسَنَاتٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ الْمُتَوَكِّلُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَالِدُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي السَّرِيِّ ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سہیل بن حنظلہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب بھی کچھ لوگ کسی محفل میں بیٹھ کر اللہ کا ذکر کرتے ہیں ، تو جب وہ اُٹھتے ہیں ، تو ان سے کہا: جاتا ہے : تم ایسی حالت میں اُٹھو کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے گناہوں کی مغفرت کر دی ہے ، اور تمہاری برائیوں کو نیکیوں میں تبدیل کر دیا گیا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی متوکل بن عبدالرحمن ہے جو محمد بن ابوسری کا والد ہے ، میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 16767
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (6039)»
حدیث نمبر: 16768
وَعَنْ جَابِرٍ - يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ - قَالَ : خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنَّ لِلَّهِ سَرَايَا مِنَ الْمَلَائِكَةِ تُجِلُّ اللَّهَ ، وَتَقِفُ عَلَى مَجَالِسِ الذِّكْرِ فِي الْأَرْضِ فَارْتَعُوا فِي رِيَاضِ الْجَنَّةِ " . قَالُوا : وَأَيْنَ رِيَاضُ الْجَنَّةِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " مَجَالِسُ الذِّكْرِ ، فَاغْدُوَا وَرُوحُوا فِي ذِكْرِ اللَّهِ ، وَاذْكُرُوهُ بِأَنْفُسِكُمْ ، مَنْ كَانَ يُحِبُّ أَنْ يَعْلَمَ مَنْزِلَتَهُ عِنْدَ اللَّهِ فَلْيَنْظُرْ كَيْفَ مَنْزِلَةُ اللَّهِ عِنْدَهُ ، فَإِنَّ اللَّهَ يُنْزِلُ الْعَبْدَ مِنْهُ حَيْثُ أَنْزَلُهُ مِنْ نَفْسِهِ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَالْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ مَوْلَى عُفْرَةَ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ غَيْرُ وَاحِدٍ ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِمْ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے لوگو ! بے شک اللہ تعالیٰ کچھ فرشتوں کو بھیجتا ہے جو اللہ تعالیٰ کا احترام کرتے ہیں اور زمین میں ذکر کی محافل کے پاس ٹھہرتے ہیں ، تو تم لوگ جنت کے باغوں میں سے کچھ کھانے کے لئے حاصل کر لیا کرو ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! جنت کے باغات کہاں ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ذکر کی محافل ، تم لوگ صبح و شام اللہ کا ذکر کیا کرو ، اور دل میں بھی اس کا ذکر کیا کرو ، جو شخص یہ چاہتا ہو کہ وہ یہ بات جان لے کہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اُس کی قدر و منزلت کیا ہے ؟ تو اُسے اس بات کا جائزہ لینا چاہئے کہ اُس کے نزدیک اللہ تعالیٰ کی عظمت کیا ہے ؟ کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنی ذات کے حوالے سے بندے کو اُسی مقام پر رکھتا ہے ، جیسے بندہ اللہ تعالیٰ کو اپنے نزدیک سمجھتا ہے ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ ، امام بزار نے اور امام طبرانی نے اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمر بن عبدالله ہے جو عفرہ کا غلام ہے ، ایک سے زیادہ افراد نے اسے ثقہ قرار دیا ہے جبکہ ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ، ان کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 16768
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3064) اخرجه أبو يعلى فى (3064) اخرجه أبو يعلى فى المسند (2138 و 1865)»
حدیث نمبر: 16769
وَعَنْ أَنَسٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ لِلَّهِ سَيَّارَةً مِنَ الْمَلَائِكَةِ ، يَطْلُبُونَ حِلَقَ الذِّكْرِ ، فَإِذَا أَتَوْا عَلَيْهِمْ وَحَفُّوا بِهِمْ ، ثُمَّ بَعَثُوا رَائِدَهُمْ إِلَى السَّمَاءِ إِلَى رَبِّ الْعِزَّةِ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - فَيَقُولُونَ : رَبَّنَا ، أَتَيْنَا عَلَى عِبَادٍ مِنْ عِبَادِكَ يُعَظِّمُونَ آلَاءَكَ ، وَيَتْلُونَ كِتَابَكَ ، وَيُصَلُّونَ عَلَى نَبِيِّكَ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَيَسْأَلُونَكَ لِآخِرَتِهِمْ وَدُنْيَاهُمْ ، فَيَقُولُ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - : غَشُّوهُمْ رَحْمَتِي ، فَيَقُولُونَ : يَا رَبِّ ، إِنَّ فِيهِمْ فُلَانًا الْخَطَّاءَ إِنَّمَا اعْتَنَقَهُمُ اعْتِنَاقًا ! فَيَقُولُ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - : غَشُّوهُمْ رَحْمَتِي ; فَهُمُ الْجُلَسَاءُ لَا يَشْقَى بِهِمْ جَلِيسُهُمْ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ مِنْ طَرِيقِ زَائِدَةَ بْنِ أَبِي الرُّقَادِ ، عَنْ زِيَادٍ النُّمَيْرِيِّ ، وَكِلَاهُمَا وُثِّقَ عَلَى ضَعْفِهِ ، فَعَادَ هَذَا إِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” بے شک اللہ تعالیٰ کے کچھ گھومنے پھرنے والے فرشتے ہوتے ہیں ، جو ذکر کے حلقوں کو تلاش کرتے ہیں ، جب وہ ان حلقوں کے پاس آتے ہیں ، تو انہیں ڈھانپ لیتے ہیں ، پھر وہ اپنے نمائندے کو آسمان کی طرف رب العزت کی بارگاہ میں بھیجتے ہیں اور کہتے ہیں : اے ہمارے پروردگار ! ہم تیرے بندوں میں سے کچھ بندوں کے پاس آئے ، جو تیری نعمتوں کی عظمتوں کا اعتراف کر رہے تھے ، اور تیری کتاب کی تلاوت کر رہے تھے ، اور تیرے نبی سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیج رہے تھے ، اور وہ تجھ سے دنیا اور آخرت کا سوال کر رہے تھے ، تو پروردگار فرماتا ہے : تم میری رحمت کے ذریعے انہیں ڈھانپ لو ! فرشتے عرض کرتے ہیں : اے ہمارے پروردگار ! اُن کے درمیان فلاں گناہ گار شخص موجود تھا ، وہ ذرا سی دیر کے لیے اُن کے پاس آیا تھا ، تو پروردگار فرماتا ہے : تم اُن لوگوں کو میری رحمت کے ذریعے ڈھانپ لو ! کیونکہ وہ ساتھ بیٹھے ہوئے ایسے افراد ہیں کہ جن کے ساتھ بیٹھا ہوا شخص بدنصیب ( یعنی محروم ) نہیں رہتا ہے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے زائدہ بن ابورقاد کے حوالے سے زیاد نمیری سے نقل کی ہے ، اور ان دونوں کے ضعیف ہونے کے باوجود ان کی توثیق کی گئی ہے ، تو یہ سند حسن ہو جاتی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 16769
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3063 و 3062)»
حدیث نمبر: 16770
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَيَبْعَثَنَّ اللَّهُ أَقْوَامًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِي وُجُوهِهِمُ النُّورُ ، عَلَى مَنَابِرِ اللُّؤْلُؤِ ، يَغْبِطُهُمُ النَّاسُ ، لَيْسُوا بِأَنْبِيَاءَ وَلَا شُهَدَاءَ " . ¤ قَالَ : فَجَثَا أَعْرَابِيٌّ عَلَى رُكْبَتَيْهِ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، حَلِّهِمْ لَنَا نَعْرِفْهُمْ . ¤ قَالَ : هُمُ الْمُتَحَابُّونَ فِي اللَّهِ ، مِنْ قَبَائِلَ شَتَّى ، وَبِلَادٍ شَتَّى ، يَجْتَمِعُونَ عَلَى ذِكْرِ اللَّهِ يَذْكُرُونَهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کچھ ایسے لوگوں کو زندہ کرے گا جن کے چہروں پر نور ہو گا اور وہ موتیوں کے بنے ہوئے منبروں پر موجود ہوں گے اور لوگ اُن پر رشک کر رہے ہوں گے ، وہ نہ انبیاء ہوں گے اور نہ شہداء ہوں گے ، راوی بیان کرتے ہیں : تو ایک دیہاتی شخص گھٹنوں کے بل جھک گیا ، اُس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ ان کی صفت ہمارے سامنے بیان کیجئے ! تاکہ ہم انہیں پہچان لیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” وہ اللہ تعالیٰ کی خاطر ایک دوسرے سے محبت رکھنے والے لوگ ہوں گے ، جن کا تعلق مختلف قبائل سے اور مختلف علاقوں سے ہو گا اور وہ اللہ کے ذکر کی خاطر اکٹھے ہو کر اُس کا ذکر کرتے ہوں گے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 16770
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
حدیث نمبر: 16771
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " عَنْ يَمِينِ الرَّحْمَنِ - وَكِلْتَا يَدَيْهِ يَمِينٌ - رِجَالٌ لَيْسُوا بِأَنْبِيَاءَ وَلَا شُهَدَاءَ ، يَغْشَى بَيَاضُ وُجُوهِهِمْ نَظَرُ النَّاظِرِينَ ، يَغْبِطُهُمُ النَّبِيُّونَ وَالشُّهَدَاءُ بِمَقْعَدِهِمْ وَقُرْبِهِمْ مِنَ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - " . قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَنْ هُمْ ؟ ! قَالَ : " هُمْ جِمَاعٌ مِنْ نَوَازِعِ الْقَبَائِلِ ، يَجْتَمِعُونَ عَلَى ذِكْرِ اللَّهِ ، فَيَنْتَقُونَ أَطَايِبَ الْكَلَامِ كَمَا يَنْتَقِي آكِلُ التَّمْرِ أَطَايِبَهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” ( قیامت کے دن ) رحمان کے دائیں طرف ۔ ویسے اُس کے دونوں ہاتھ دائیں ہیں ۔ ( اس کے دائیں طرف ) کچھ ایسے افراد ہوں گے جو نہ انبیاء ہوں گے اور نہ شہداء ہوں گے ، اُن کے چہرے کی چمک دیکھنے والوں کی نگاہ کو ڈھانپے ہوئے ہو گی ، انبیاء کرام اور شہداء اُن کے بیٹھنے کے مقام اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ کے قرب کے حوالے سے ان پر رشک کریں گے ، عرض کی گئی : یا رسول اللہ وہ کون ہوں گے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” وہ مختلف قبائل سے تعلق رکھنے والے افراد ہوں گے ، جو اللہ کے ذکر کی خاطر اکٹھے ہوتے ہوں گے ، اور چن چن کر پاکیزہ باتیں یوں حاصل کریں گے جس طرح کھجور کھانے والا شخص ، عمدہ کھجوریں چن چن کر کھاتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 16771
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 16772
وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سُئِلَ عَنْ جَمَاعَةِ النِّسَاءِ ، فَقَالَ : " لَا خَيْرَ فِي جَمَاعَتِهِنَّ إِلَّا عِنْدَ ذِكْرٍ ، أَوْ جِنَازَةٍ ، وَإِنَّمَا مَثَلُ جَمَاعَتِهِنَّ إِذَا اجْتَمَعْنَ كَمَثَلِ صَيْقَلٍ أَدْخَلَ حَدِيدَةً النَّارَ ، فَلَمَّا أَحْرَقَهَا ضَرَبَهَا ، فَأَحْرَقَ شَرَرُهَا كُلَّ شَيْءٍ أَصَابَتْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مِنْ طَرِيقِ يَحْيَى بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ عُبَادَةَ ، وَيَحْيَى لَمْ يُدْرِكْ عُبَادَةَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ اللہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے خواتین کے اجتماع کے بارے میں دریافت کیا گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” خواتین کے اجتماع میں بھلائی نہیں ہے ، البتہ ذکر ، یا جنازے کا معاملہ مختلف ہے ، اُن کے اجتماع کی مثال ، جب وہ اکٹھی ہوتی ہیں ، تو ان کے اجتماع کی مثال صیقل کی مانند ہے کہ جب لوہے کو آگ میں داخل کیا جاتا ہے ، اور جب وہ گرم ہو جاتا ہے ، تو اُس پر ضرب لگائی جاتی ہے ، تو اس کے شرارے ہر اس چیز کو جلا دیتے ہیں ، جسے وہ لگتے ہیں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے یحیی بن اسحاق کے حوالے سے سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہے اور یحیی نامی راوی نے سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 16772
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 16773
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا غَنِيمَةُ مَجَالِسِ الذِّكْرِ ؟ قَالَ : " غَنِيمَةُ مَجَالِسِ الذِّكْرِ الْجَنَّةُ الْجَنَّةُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُ أَحْمَدَ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ذکر کی محافل کی غنیمت کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ذکر کی محافل کی غنیمت ، جنت ہے ، جنت ہے ۔ “
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، امام أحمد کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 16773
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (6650)»