کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: اللہ کا ذکر کرنے کی فضیلت اور اُسے زیادہ کرنا
حدیث نمبر: 16743
عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ أَعْمَالِكُمْ وَأَزْكَاهَا عِنْدَ مَلِيكِكُمْ ، وَأَرْفَعُهَا لِدَرَجَاتِكُمْ ، وَخَيْرٌ لَكُمْ مِنْ إِعْطَاءِ الْوَرِقِ وَالذَّهَبِ وَالْوَرَقِ ، وَخَيْرٌ لَكُمْ مِنْ أَنْ تَلْقَوْا عَدُوَّكُمْ ، فَيَضْرِبُونَ رِقَابَكُمْ ، وَتَضْرِبُونَ رِقَابَهُمْ ؟ ذِكْرُ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” کیا میں تمہیں ایسے عمل کے بارے میں بتاؤں ؟ جو تمہارے مالک کے نزدیک سب سے بہتر ہے اور سب سے زیادہ پاکیزہ ہے ، اور تمہارے درجات کو زیادہ بلند کرنے کا باعث ہے ، اور تمہارے لئے سونا اور چاندی خرچ کرنے سے بہتر ہے اور تمہارے لئے اس سے بہتر ہے کہ تم دشمن کا سامنا کرو اور وہ تمہاری گردنیں اڑائے ، اور تم اس کی گردنیں اڑاؤ ( یعنی وہ چیز ) اللہ کا ذکر ہے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 16743
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (447/6)»
حدیث نمبر: 16744
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ : أَنَّهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا عَمِلَ آدَمِيٌّ عَمَلًا أَنْجَى لَهُ مِنْ عَذَابِ اللَّهِ مِنْ ذِكْرِ اللَّهِ " . ¤ وَقَالَ مُعَاذٌ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ أَعْمَالِكُمْ لَكُمْ ، أَزْكَاهَا عِنْدَ مَلِيكِكُمْ ، وَأَرْفَعُهَا فِي دَرَجَاتِكُمْ ، وَخَيْرٌ لَكُمْ مِنْ تَعَاطِي الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ ، وَمِنْ أَنْ تَلْقَوْا عَدُوَّكُمْ غَدًا فَتَضْرِبُوا أَعْنَاقَهُمْ ، وَيَضْرِبُوا أَعْنَاقَكُمْ ؟ " . قَالُوا : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " ذِكْرُ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، إِلَّا أَنَّ زِيَادَ بْنَ أَبِي زِيَادٍ مَوْلَى ابْنِ عَيَّاشٍ لَمْ يُدْرِكْ مُعَاذًا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” آدمی کوئی ایسا عمل نہیں کرتا ، جو اس کے لیے اللہ تعالیٰ کے ذکر سے زیادہ ، اللہ کے عذاب سے نجات دلانے والا ہو ۔ “ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” کیا میں تمہیں تمہارے سب سے بہتر عمل کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ جو تمہارے مالک کے نزدیک زیادہ پاکیزہ ہے اور تمہارے درجات کی بلندی کے لئے زیادہ مناسب ہے ، اور تمہارے لیے سونا چاندی خرچ کرنے سے زیادہ بہتر ہے ، اور اس سے بھی زیادہ بہتر ہے کہ کل تم دشمن کا سامنا کرو ، اور تم اُن کی گردنیں اڑاؤ اور وہ تمہاری گردنیں اُڑائیں ؟ لوگوں نے عرض کی : جی ہاں ! یا رسول اللہ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ کا ذکر کرنا ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ، البتہ ابن عیاش کے غلام زیاد بن ابوزیاد نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 16744
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ منقطع
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (239/5)»
حدیث نمبر: 16745
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا عَمِلَ آدَمِيٌّ عَمَلًا أَنْجَى لَهُ مِنْ عَذَابِ اللَّهِ - تَعَالَى - مِنْ ذِكْرِ اللَّهِ تَعَالَى " . قَالُوا : وَلَا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ؟ قَالَ : " وَلَا الْجِهَادُ ، إِلَّا أَنْ يَضْرِبَ بِسَيْفِهِ حَتَّى يَنْقَطِعَ " . ثَلَاثَ مَرَّاتٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” آدمی کوئی ایسا عمل نہیں کرتا جو اُسے اللہ کے ذکر سے زیادہ ، اللہ کے عذاب سے نجات دلانے والا ہو ، لوگوں نے عرض کی : اللہ کی راہ میں جہاد کرنا بھی نہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جہاد کرنا بھی نہیں ، البتہ یہ صورت حال مختلف ہو گی کہ آدمی اپنی تلوار کے ذریعے زخم لگاتا رہے ، یہاں تک کہ وہ ( تلوار ) ٹوٹ جائے ، یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 16745
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (166/20)»
حدیث نمبر: 16746
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَمْ يَتَحَسَّرْ أَهْلُ الْجَنَّةِ إِلَّا عَلَى سَاعَةٍ مَرَّتْ بِهِمْ لَمْ يَذْكُرُوا اللَّهَ - تَعَالَى - فِيهَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ ، وَفِي شَيْخِ الطَّبَرَانِيِّ : مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الصُّورِيِّ خِلَافٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اہل جنت کو صرف اُس گھڑی کے بارے میں حسرت ہو گی جو ( دنیا میں ) ان پر گزری تھی اور اس گھڑی میں اُنہوں نے اللہ کا ذکر نہیں کیا تھا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ، امام طبرانی کے استاد محمد بن ابراہیم صوری کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 16746
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير “ (93/20)»
حدیث نمبر: 16747
وَعَنْ مَالِكِ بْنِ يُخَامِرَ : أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ قَالَ لَهُمْ : إِنَّ آخِرَ كَلَامٍ فَارَقْتُ عَلَيْهِ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ قُلْتُ : أَيُّ الْأَعْمَالِ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ ؟ قَالَ : " أَنْ تَمُوتَ وَلِسَانُكَ رَطْبٌ مِنْ ذِكْرِ اللَّهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِأَسَانِيدَ ، وَفِي هَذِهِ الطَّرِيقِ خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي مَالِكٍ ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ ، وَوَثَّقَهُ أَبُو زُرْعَةَ الدِّمَشْقِيُّ وَغَيْرِهِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤ وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ مِنْ غَيْرِ طَرِيقِهِ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : أَخْبِرْنِي بِأَفْضَلِ الْأَعْمَالِ وَأَقْرَبِهَا إِلَى اللَّهِ ؟ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
مالک بن یخامر بیان کرتے ہیں : سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں سے فرمایا : ” نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے جدا ہوتے وقت جو میری آخری گفتگو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہوئی تھی ، اُس میں ، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا : اللہ تعالیٰ کے نزدیک کون سا عمل سب سے زیادہ پسندیدہ ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” یہ کہ تم ایسی حالت میں مرو کہ تمہاری زبان اللہ کے ذکر سے تر ہو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے مختلف اسناد کے ساتھ نقل کی ہے اور اس طریق میں ایک راوی خالد بن یزید بن عبدالرحمن بن ابومالک ہے ، جسے ایک جماعت نے ضعیف قرار دیا ہے ، جبکہ ابوزرعہ دمشقی اور دیگر حضرات نے اسے ثقہ کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے دوسرے حوالے سے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” آپ مجھے سب سے زیادہ فضیلت والے اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ عمل کے بارے میں بتائیے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔
اس روایت کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 16747
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3059) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (106/20)»
حدیث نمبر: 16748
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : أَنَّ رَجُلًا سَأَلَهُ فَقَالَ : أَيُّ الْجِهَادِ أَعْظَمُ أَجْرًا ؟ قَالَ : " أَكْثَرُهُمْ لِلَّهِ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - ذِكْرًا " . ¤ قَالَ : فَأَيُّ الصَّالِحِينَ أَعْظَمُ أَجْرًا ؟ قَالَ : " أَكْثَرُهُمْ لِلَّهِ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - ذِكْرًا " . ¤ ثُمَّ ذَكَرَ الصَّلَاةَ ، وَالزَّكَاةَ ، وَالْحَجَّ ، وَالصَّدَقَةَ ، كُلُّ ذَلِكَ وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " أَكْثَرُهُمْ لِلَّهِ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - ذِكْرًا " . فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ لِعُمَرَ : يَا أَبَا حَفْصٍ ، ذَهَبَ الذَّاكِرُونَ بِكُلِّ خَيْرٍ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَجَلْ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : سَأَلَهُ ، فَقَالَ : أَيُّ الْمُجَاهِدِينَ أَعْظَمُ أَجْرًا ؟ . وَفِيهِ زَبَّانُ بْنُ فَائِدٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ ، وَكَذَلِكَ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاذ بن انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں : ایک شخص نے آپ سے سوال کیا : کون سا جہاد زیادہ اجر کا باعث ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اللہ تعالیٰ کا سب سے زیادہ ذکر کرنا ۔ “ اُس شخص نے سوال کیا : نیک لوگوں میں کن کو زیادہ اجر ملے گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو اللہ تعالیٰ کا زیادہ ذکر کرتے ہوں ۔ “ پھر اُس شخص نے نماز ، زکوۃ اور صدقہ ، سب چیزوں کا ذکر کیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہی ارشاد فرماتے رہے : وہ لوگ جو اللہ کا ذکر کثرت سے کرتے ہوں ، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: اے ابوحفص ! ذکر کرنے والے لوگ ، ہر قسم کی بھلائی لے گئے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ایسا ہی ہے ۔ “
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” اُس شخص نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کرتے ہوئے کہا: مجاہدین میں کسے زیادہ اجر ملے گا ؟ “ ۔
اس روایت کی سند میں ایک راوی زبان بن فائد ہے ، اور وہ ضعیف ہے ، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ، ابن لہیعہ کا معاملہ بھی اسی طرح ہے ، امام أحمد کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 16748
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (186/20) اخرجه احمد فى المسند (438/3)»
حدیث نمبر: 16749
وَعَنْ جَابِرٍ - رَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَا عَمِلَ آدَمِيٌّ عَمَلًا أَنْجَى لَهُ مِنَ الْعَذَابِ مِنْ ذِكْرِ اللَّهِ تَعَالَى " . قِيلَ : وَلَا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ؟ ! قَالَ : " وَلَا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ إِلَّا أَنْ يَضْرِبَ بِسَيْفِهِ حَتَّى يَنْقَطِعَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تک مرفوع حدیث کے طور پر یہ بات نقل کرتے ہیں : ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ) ” آدمی کوئی ایسا عمل نہیں کرتا ، جو اُسے عذاب سے ، اللہ کے ذکر سے زیادہ نجات دینے والا ہو ، عرض کی گئی : اللہ کی راہ میں جہاد کرنا بھی نہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ کی راہ میں جہاد کرنا بھی نہیں ، البتہ اس صورت کا معاملہ مختلف ہے کہ آدمی اپنی تلوار کے ذریعے ضرب لگاتا رہے ، یہاں تک کہ وہ ( تلوار ) ٹوٹ جائے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور حجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور ان دونوں روایات کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 16749
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (209)»
حدیث نمبر: 16750
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ عَجَزَ مِنْكُمْ عَنِ اللَّيْلِ أَنْ يُكَابِدَهُ ، وَبَخِلَ بِالْمَالِ أَنْ يُنْفِقَهُ ، وَجَبُنَ عَنِ الْعَدُوِّ أَنْ يُجَاهِدَهُ ، فَلْيُكْثِرْ ذِكْرَ اللَّهِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ أَبُو يَحْيَى الْقَتَّاتُ ، وَقَدْ وُثِّقَ ، وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ الْبَزَّارِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص رات کے وقت عبادت کرنے سے عاجز ہو ، اور مال کو خرچ کرنے کے حوالے سے بخیل ہو ، اور دشمن کے ساتھ جنگ کرنے کے حوالے سے بزدل ہو ، اسے اللہ کا ذکر کثرت سے کرنا چاہیے ۔ “
یہ روایت امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابویحیی قتات ہے جس کی توثیق کی گئی ہے ، جمہور نے اسے ضعیف قرار دیا ہے امام بزار کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 16750
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3058) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (11121)»
حدیث نمبر: 16751
وَعَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَوْ أَنَّ رَجُلًا فِي حِجْرِهِ دَرَاهِمُ يُقَسِّمُهَا ، وَآخَرُ يَذْكُرُ اللَّهَ كَانَ ذِكْرُ اللَّهِ أَفْضَلَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اگر کسی شخص کی گود میں درہم موجود ہوں ، جنہیں وہ تقسیم کر رہا ہو اور دوسرا شخص اللہ کا ذکر کر رہا ہو ، تو اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنا زیادہ فضیلت رکھتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 16751
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
حدیث نمبر: 16752
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا مِنْ صَدَقَةٍ أَفْضَلُ مِنْ ذِكْرِ اللَّهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” کوئی صدقہ اللہ کے ذکر سے زیادہ فضیلت نہیں رکھتا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 16752
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
حدیث نمبر: 16753
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَوْصِنِي ، قَالَ : " عَلَيْكَ بِتَقْوَى اللَّهِ مَا اسْتَطَعْتَ ، وَاذْكُرِ اللَّهَ عِنْدَ كُلِّ حَجَرٍ ، وَشَجَرٍ ، وَمَا عَمِلْتَ مِنْ سُوءٍ فَأَحْدِثْ لِلَّهِ فِيهِ تَوْبَةً ، السِّرُّ بِالسِّرِّ ، وَالْعَلَانِيَةُ بِالْعَلَانِيَةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے نصیحت کیجئے ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم پر یہ لازم ہے کہ جہاں تک تم سے ہو سکے ، تم اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور ہر پتھر اور درخت کے پاس اللہ کا ذکر کرو اور جب تم کسی برائی کا ارتکاب کرو تو اس کے مطابق اللہ تعالیٰ کے لیے نیا ( یعنی نیکی کا ) کام کرو ( برائی کے بعد نیکی کرتے ہوئے ) پوشیدہ کی جگہ پوشیدہ ہو گا اور علانیہ کی جگہ علانیہ ہو گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 16753
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (159/20)»
حدیث نمبر: 16754
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ : أَوْصَانِي خَلِيلِي - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : بِكَثْرَةِ ذِكْرِ اللَّهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ عِيَاضِ بْنِ جَعْدِيَّةَ ، وَهُوَ كَذَّابٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میرے خلیل صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اللہ کا ذکر کثرت سے کرنے کی تلقین کی تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یزید بن عیاض بن جعدیہ ہے اور وہ کذاب ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 16754
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جداً
حدیث نمبر: 16755
وَعَنْ أُمِّ أَنَسٍ أَنَّهَا قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَوْصِنِي ، قَالَ : " اهْجُرِي الْمَعَاصِيَ ; فَإِنَّهَا أَفْضَلُ الْهِجْرَةِ ، وَحَافِظِي عَلَى الْفَرَائِضِ ; فَإِنَّهَا أَفْضَلُ الْجِهَادِ ، وَأَكْثَرِي مِنْ ذِكْرِ اللَّهِ ; فَإِنَّكِ لَا تَأْتِينَ اللَّهَ بِشَيْءٍ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ كَثْرَةِ ذِكْرِهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ نِسْطَاسٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . قُلْتُ : وَهَذِهِ أُمُّ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام انس رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے تلقین کیجیے ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم گناہوں سے لاتعلق ہو جاؤ ، کیونکہ یہ سب سے زیادہ فضیلت والی ہجرت ہے ، اور تم فرائض باقاعدگی ۔ سے سرانجام دو ، کیونکہ یہ سب سے زیادہ فضیلت والا جہاد ہے ، اور تم اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کوئی ایسی چیز پیش نہیں کروں گی ، جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس کے ذکر سے زیادہ پسندیدہ ہو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی اسحاق بن ابراہیم بن نسطاس ہے اور وہ ضعیف ہے ، میں یہ کہتا ہوں : یہ خاتون سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی والدہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 16755
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (129/25)»
حدیث نمبر: 16756
وَعَنْ أُمِّ أَنَسٍ قَالَتْ : أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ : جَعَلَكَ اللَّهُ فِي الرَّفِيقِ الْأَعْلَى مِنَ الْجَنَّةِ ، وَأَنَا مَعَكَ ، وَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، عَلِّمْنِي عَمَلًا صَالِحًا أَعْمَلُهُ ، فَقَالَ : " أَقِيمِي الصَّلَاةَ ; فَإِنَّهَا أَعْظَمُ الْجِهَادِ ، وَاهْجُرِي الْمَعَاصِي ; فَإِنَّهَا أَفْضَلُ الْهِجْرَةِ ، وَاذْكُرِي اللَّهَ كَثِيرًا ; فَإِنَّهُ أَحَبُّ الْأَعْمَالِ إِلَى اللَّهِ أَنْ تَلْقَيْنَهُ بِهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَقَالَ : أُمُّ أَنَسٍ هَذِهِ لَيْسَتْ أُمَّ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، مِنْ طَرِيقِ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ الْأَنْصَارِيِّ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي أَنَسٍ ، وَكِلَاهُمَا ذَكَرَهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ جَرْحًا ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام انس رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی ، میں نے عرض کی : اللہ تعالیٰ آپ کو جنت میں رفیق اعلیٰ میں رکھے اور میں آپ کے ساتھ ہوؤں ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے کسی ایسے نیک عمل کی تعلیم دیجئے جس پر میں عمل کروں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم نماز قائم کرو ! کیونکہ یہ سب سے زیادہ فضیلت والا جہاد ہے اور تم گناہوں سے لاتعلق رہو ! کیونکہ یہ سب سے زیادہ فضیلت والی ہجرت ہے ، اور تم کثرت کے ساتھ اللہ کا ذکر کرو ! کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ عمل ہے کہ تم اُس عمل کے ہمراہ اُس کی بارگاہ میں حاضر ہو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، وہ بیان کرتے ہیں : سیدہ ام انس رضی اللہ عنہا نامی یہ خاتون ، سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی والدہ نہیں ہیں ، انہوں نے
یہ روایت محمد بن اسماعیل انصاری کے حوالے سے ، یونس بن عمران بن ابوانس کے حوالے سے نقل کی ہے ، ابن ابوحاتم نے ان دونوں کا تذکرہ کیا ہے اور انہوں نے اس کے بارے میں کوئی جرح نقل نہیں کی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 16756
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (149/25)»
حدیث نمبر: 16757
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : لَأَنْ أَذْكُرَ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - يَوْمًا إِلَى اللَّيْلِ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَحْمِلَ عَلَى جِيَادِ الْخَيْلِ يَوْمًا إِلَى اللَّيْلِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مِنْ طَرِيقِ الْقَاسِمِ ، عَنْ جَدِّهِ : ابْنِ مَسْعُودٍ ، وَلَمْ يَسْمَعْ مِنْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں ایک پورا دن ، رات ہونے تک اللہ کا ذکر کرتا رہوں ، یہ میرے نزدیک اس سے زیادہ پسندیدہ ہے کہ میں ایک پورا دن ، رات ہونے تک عمدہ گھوڑے سواری کے لیے دوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے قاسم کے حوالے سے اُن کے دادا سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہے اور انہوں نے اپنے دادا سے سماع نہیں کیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 16757
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ منقطع
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8508)»
حدیث نمبر: 16758
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ : بَيْنَمَا نَحْنُ نَسِيرُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَيْنَ السَّابِقُونَ ؟ " . قَالُوا : مَضَى نَاسٌ ، وَتَخَلَّفَ نَاسٌ ، قَالَ : " أَيْنَ السَّابِقُونَ ؟ الَّذِينَ يَسْتَهْتِرُونَ بِذِكْرِ اللَّهِ . مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَرْتَعَ فِي رِيَاضِ الْجَنَّةِ فَلْيُكْثِرْ ذِكْرَ اللَّهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، قَالَ ابْنُ الْأَثِيرِ : يُقَالُ : هَتَرَ بِالشَّيْءِ ، وَاسْتَهْتَرَ بِهِ إِذَا وَلِعَ بِهِ ، وَلَمْ يَتَحَدَّثْ بِغَيْرِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کر رہے تھے ، اسی دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : سبقت لے جانے والے لوگ کہاں ہیں ؟ لوگوں نے عرض کی : کچھ لوگ آگے چلے گئے ہیں اور کچھ پیچھے آ رہے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : سبقت لے جانے والے لوگ کہاں ہیں ؟ وہ لوگ جو ہمیشہ اللہ کے ذکر میں منہمک رہتے ہیں ، جو شخص یہ چاہتا ہو کہ وہ جنت کے باغات کے پھل حاصل کرے ، اُسے کثرت کے ساتھ اللہ کا ذکر کرنا چاہیے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
ابن اثیر بیان کرتے ہیں : یہ بات کہی جاتی ہے : «هَتَرَ بالشَّنِي ، وَاسْتَهْتَر به» - جب آدمی کسی چیز سے متعلق رہے اور اس کے علاوہ اور کچھ نہ کرے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 16758
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (157/20)»
حدیث نمبر: 16759
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي سَفَرٍ فَقَالَ : " سَبَقَ الْمُفْرِدُونَ " . قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَمَا الْمُفْرِدُونَ ؟ قَالَ : " الْمُفْرِدُونَ بِذِكْرِ اللَّهِ ، وَضَعَ الذِّكْرُ عَنْهُمْ أَثْقَالَهُمْ ، فَيَأْتُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ خِفَافًا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ شَيْخِهِ : عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کر رہے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” مفردون “ سبقت لے گئے ہیں ، لوگوں نے دریافت کیا : ” مفردون “ سے مراد کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ لوگ جو اللہ کا ذکر کرتے رہتے ہیں اور وہ ذکر اُن سے اُن کے بوجھ کو اُٹھا دیتا ہے ( یعنی اس ذکر کی برکت سے ، اُن کی پریشانیاں ختم ہو جاتی ہیں ، یا ان کے گناہ معاف ہو جاتے ہیں ) اور جب وہ قیامت کے دن آئیں گے تو وہ ہلکے پھلکے ہوں گے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد عبداللہ بن محمد بن سعید بن ابومریم کے حوالے سے نقل کی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 16759
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 16760
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " سَبَقَ الْمُفْرِدُونَ " . قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَمَا الْمُفْرِدُونَ ؟ قَالَ : " الَّذِينَ يُهْتِرُونَ فِي ذِكْرِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - " . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ غَيْرُ مِنْ قَوْلِهِ : " الَّذِينَ يُهْتِرُونَ " إِلَى آخِرِهِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ أَبُو يَعْقُوبَ صَاحِبُ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” مفردون “ سبقت لے گئے ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ” مفردون “ سے مراد کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جو اللہ کے ذکر میں منہمک رہتے ہیں ۔ “
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت صحیح میں مذکور ہے ، تاہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں : ” جو اللہ کے ذکر میں منہمک رہتے ہیں ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابویعقوب ہے جو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا شاگرد ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 16760
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (323/2)»
حدیث نمبر: 16761
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " أَكْثِرُوا ذِكْرَ اللَّهِ حَتَّى يَقُولُوا : مَجْنُونٌ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ دَرَّاجٌ ، وَقَدْ ضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ ، وَوَثَّقَهُ غَيْرُ وَاحِدٍ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ أَحَدِ إِسْنَادَيْ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” تم ( اس قدر کثرت کے ساتھ ) اللہ کا ذکر کرو ، کہ لوگ کہیں : یہ مجنوں ہے ۔ “
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی دراج ہے جسے ایک جماعت نے ضعیف قرار دیا ہے اور ایک سے زیادہ افراد نے اس کی توثیق کی ہے ، امام أحمد کی دو اسناد میں سے ایک کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 16761
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (1376) اخرجه احمد فى المسند (68/3)»
حدیث نمبر: 16762
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اذْكُرُوا اللَّهَ ذِكْرًا حَتَّى يَقُولَ الْمُنَافِقُونَ : إِنَّكُمْ مُرَاءُونَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ الْحَسَنُ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ [ الْجُفْرِيُّ ] ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم اللہ کا ذکر اس طرح کرو ! کہ منافقین یہ کہیں : تم لوگ دکھاوا کر رہے ہو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حسن بن ابوجعفر جفری ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 16762
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (12786)»