حدیث نمبر: 16732
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ السُّلَمِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " شَرُّ قَبِيلَتَيْنِ فِي الْعَرَبِ : نَجْرَانُ ، وَبَنُو تَغْلِبَ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمرو بن عبسہ سلمی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” عربوں میں دو سب سے برے قبیلے نجران اور بنو تغلب ہیں ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حدیث نمبر: 16733
وَعَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ : قَدِمَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وُفُودُ الْعَرَبِ ، فَلَمْ يَقْدَمْ عَلَيْنَا وَفْدٌ أَقْسَى قُلُوبًا ، وَلَا أَحْرَى أَنْ يَكُونَ الْإِسْلَامُ لَمْ يَقَرَّ فِي قُلُوبِهِمْ مِنْ بَنِي حَنِيفَةَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ الْوَاقِدِيِّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : عربوں کے وفود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتے تھے ہمارے پاس کوئی ایسا وفد نہیں آیا جو بنو حنیفہ سے زیادہ سخت دل والا ہو اور جو اُن سے زیادہ اس لائق ہو کہ اسلام نے ان کے دل میں گھر نہ کیا ہو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عمر واقدی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عمر واقدی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 16734
وَعَنْ أَبِي بَرْزَةَ قَالَ : كَانَ أَبْغَضَ النَّاسِ أَوْ أَبْغَضَ الْأَحْيَاءِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثَقِيفٌ ، وَبَنُو حَنِيفَةَ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَزَادَ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : بَنُو أُمَيَّةَ ، وَثَقِيفٌ ، وَبَنُو حَنِيفَةَ ، وَكَذَلِكَ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُمْ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُطَرِّفِ بْنِ الشِّخِّيرِ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوبرزہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک لوگوں میں سب سے زیادہ ناپسندیدہ ۔ ( راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں ) ۔ قبائل میں سب سے زیادہ ناپسندیدہ ثقیف اور بنو حنیفہ تھے ۔
یہ روایت امام أحمد بن حنبل نے نقل کی ہے ، اسے امام ابویعلیٰ نے بھی نقل کیا ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” بنو امیہ ، ثقیف اور بنو حنیفہ ( سب سے زیادہ ناپسندیدہ ) تھے ۔ “ امام طبرانی نے بھی اسی طرح نقل کیا ہے ، ان روایات کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف عبداللہ بن مطرف بن شخیر کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
یہ روایت امام أحمد بن حنبل نے نقل کی ہے ، اسے امام ابویعلیٰ نے بھی نقل کیا ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” بنو امیہ ، ثقیف اور بنو حنیفہ ( سب سے زیادہ ناپسندیدہ ) تھے ۔ “ امام طبرانی نے بھی اسی طرح نقل کیا ہے ، ان روایات کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف عبداللہ بن مطرف بن شخیر کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حدیث نمبر: 16735
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَخْرُجَ ثَلَاثُونَ كَذَّابًا ، مِنْهُمْ : مُسَلِيمَةُ ، وَالْعَنْسِيُّ ، وَالْمُخْتَارُ ، وَشَرُّ قَبَائِلِ الْعَرَبِ بَنُو أُمَيَّةَ ، وَبَنُو حَنِيفَةَ ، وَثَقِيفٌ " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ زُبَالَةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک تیس کذاب ( یعنی نبوت کے جھوٹے دعویدار ) نہیں نکلیں گے ، اُن میں سے ایک مسیلمہ ہے ، ایک عنسی ہے ، ایک مختار ہے اور عربوں کے قبائل میں سب سے برے بنو امیہ اور بنو حنیفہ اور ثقیف ہیں ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن حسن بن زبالہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن حسن بن زبالہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 16736
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ : أَنَّهُ قَامَ فِي بَابٍ دَاخِلٍ فِيهِ إِلَى الْمَسْجِدِ - مَسْجِدِ مِنًى - ، فَحَمِدَ اللَّهَ ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ : إِنَّ هَؤُلَاءِ الْأَعْبُدِ الْكُفَّارِ الْفُسَّاقِ قَدْ عَمَدُوا عَلَيَّ ، قَالَ : وَذَكَرَ الْحَدِيثَ . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ فُرَاتُ بْنُ الْأَحْنَفِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤ وَقَدْ تَقَدَّمَ فِي أَوَّلِ كِتَابِ الْعِتْقِ مَنْ أَخْرَجَ صَدَقَتَهُ ، فَلَمْ يَجِدْ إِلَّا بَرْبَرِيًّا فَلْيَرُدَّهَا ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤ وَحَدِيثُ : " إِنَّ الْإِيمَانَ لَا يُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ " . وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤ وَفِي كِتَابِ الْخِلَافَةِ وَكِتَابِ الْفِتَنِ فِي بَنِي الْحَكَمِ وَغَيْرِهِمْ مَا يُغْنِي عَنْ إِعَادَتِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کے بارے میں یہ بات منقول ہے : وہ اُس دروازے پر کھڑے ہوئے تھے جس میں سے مسجد میں ۔ یعنی منیٰ کی مسجد میں ۔ داخل ہوا جاتا ہے ، انہوں نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی اور پھر یہ فرمایا : ” بے شک ان غلاموں ، کافروں اور فاسقوں نے مجھ پر حملہ کرنے کا ارادہ کیا ہے ۔ “ راوی کہتے ہیں : اس کے بعد انہوں نے پوری روایت ذکر کی ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی فرات بن احنف ہے اور وہ ضعیف ہے ۔ اس سے پہلے غلام آزاد کرنے سے متعلق کتاب کے آغاز میں یہ بات گزر چکی ہے کہ جو شخص صدقہ کرنے کے لئے کوئی چیز نکالے اور پھر اسے صدقہ لینے والا شخص ، صرف کوئی بربری ملے تو وہ اس صدقے کو واپس لے جائے ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ، اس روایت کے رجال ” ثقہ “ ہیں ، اسی طرح ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ایمان اُن کے حلق سے نیچے نہیں جائے گا ۔ “ اور
یہ روایت ضعیف ہے ، اسی طرح کتاب الخلافۃ اور کتاب الفتن میں بنو حکم اور دوسرے لوگوں کے بارے میں ایسی روایات مذکور ہیں ، جنہیں دہرانے کی ضرورت نہیں ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی فرات بن احنف ہے اور وہ ضعیف ہے ۔ اس سے پہلے غلام آزاد کرنے سے متعلق کتاب کے آغاز میں یہ بات گزر چکی ہے کہ جو شخص صدقہ کرنے کے لئے کوئی چیز نکالے اور پھر اسے صدقہ لینے والا شخص ، صرف کوئی بربری ملے تو وہ اس صدقے کو واپس لے جائے ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ، اس روایت کے رجال ” ثقہ “ ہیں ، اسی طرح ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ایمان اُن کے حلق سے نیچے نہیں جائے گا ۔ “ اور
یہ روایت ضعیف ہے ، اسی طرح کتاب الخلافۃ اور کتاب الفتن میں بنو حکم اور دوسرے لوگوں کے بارے میں ایسی روایات مذکور ہیں ، جنہیں دہرانے کی ضرورت نہیں ہے ۔
حدیث نمبر: 16737
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَا يُبْغِضُ الْأَنْصَارَ رَجُلٌ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ، وَلَا يُحِبُّ ثَقِيفًا رَجُلٌ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ " . قُلْتُ : رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ ، غَيْرَ ذِكْرِ ثَقِيفٍ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ شَيْخِ الطَّبَرَانِيِّ : يَحْيَى بْنِ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ السَّهْمِيِّ ، وَهُوَ صَدُوقٌ ، وَفِيهِ خِلَافٌ لَا يَضُرُّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” ایسا شخص انصار سے بغض نہیں رکھے گا ، جو اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اور ایسا شخص ثقیف سے محبت نہیں رکھے گا ، جو اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت امام ترمذی نے نقل کی ہے تاہم انہوں نے ثقیف کا ذکر نہیں کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں صرف امام طبرانی کے استاد یحیی بن عثمان بن صالح سہمی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ صدوق ہے ، اس کے بارے میں ایسا اختلاف پایا جاتا ہے جو نقصان دہ نہیں ہے ۔
یہ روایت امام ترمذی نے نقل کی ہے تاہم انہوں نے ثقیف کا ذکر نہیں کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں صرف امام طبرانی کے استاد یحیی بن عثمان بن صالح سہمی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ صدوق ہے ، اس کے بارے میں ایسا اختلاف پایا جاتا ہے جو نقصان دہ نہیں ہے ۔
حدیث نمبر: 16738
وَعَنْ أَبِي الْقَيْنِ : أَنَّهُ مَرَّ بِالنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَعَهُ شَيْءٌ مِنْ تَمْرٍ ، فَأَهْوَى النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِيَأْخُذَ مِنْهُ قَبْضَةً لِيَنْشُرَهَا بَيْنَ يَدَيْ أَصْحَابِهِ ، فَضَمَّ طَرَفَ رِدَائِهِ إِلَى بَطْنِهِ وَإِلَى صَدْرِهِ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " زَادَكَ اللَّهُ شُحًّا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ سَعِيدُ بْنُ جَمْهَانَ ، وَثَّقَهُ جَمَاعَةٌ ، وَفِيهِ خِلَافٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ابوالقین کے بارے میں یہ بات منقول ہے : ایک مرتبہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرا ، اس وقت اُس کے پاس کچھ کھجوریں موجود تھیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ بڑھایا تاکہ اُس سے مٹھی بھر کھجوریں لے کر اپنے اصحاب کے سامنے پھیلا دیں ، تو اس نے اپنی چادر کا کنارہ اپنے پیٹ اور اپنے سینے کے ساتھ لگا لیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن سے فرمایا : اللہ تعالی تمہارے بخل میں اضافہ کرے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی سعید بن جمہان ہے ، ایک جماعت نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ، اس کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی سعید بن جمہان ہے ، ایک جماعت نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ، اس کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 16739
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِذَا سَرَّكُمْ أَنْ تَنْظُرُوا إِلَى الرَّجُلِ الضَّغِيطِ ، الْمُطَاعِ فِي قَوْمِهِ ، فَانْظُرُوا إِلَى هَذَا " . يَعْنِي عُيَيْنَةَ بْنَ حِصْنٍ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اگر تم یہ چاہو کہ تم کسی ایسے شخص کو دیکھو جو کمزور ہو “ اور اپنی قوم کا پیشوا ہو ، تو تم اس کو دیکھ لو “ ( شاید یہاں لفظ ” کمزور “ بیوقوف ہونے کے معنیٰ میں استعمال ہوا ہے ، کیونکہ دیگر روایات میں یہ بات مذکور ہے کہ آپ نے اس شخص کو ” احمق مطاع “ قرار دیا ہے ) ۔ “ راوی کہتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد ، عیینہ بن حصن تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حدیث نمبر: 16740
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ الْأَصَمِّ قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - وَهُوَ فِي دَارِ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ فَقُلْنَا : إِنَّ نَاسًا يَزْعُمُونَ أَنَّ عَلِيًّا يَرْجِعُ قَبْلَ يَوْمِ الْقِيَامَةِ ، فَضَحِكَ وَقَالَ : سُبْحَانَ اللَّهِ ! لَوْعَلِمْنَا ذَلِكَ مَا زَوَّجْنَا نِسَاءَهُ ، وَلَا تَسَاهَمْنَا مِيرَاثَهُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَعَمْرٌو لَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
عمرو بن اصم بیان کرتے ہیں : وہ سیدنا امام حسن بن علی رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوئے وہ اُس وقت عمرو بن حریث کے گھر میں موجود تھے ، ہم نے کہا: کچھ لوگوں کا یہ کہنا ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ قیامت کے دن سے پہلے دنیا میں واپس تشریف لائیں گے ، تو سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ ہنس پڑے اور انہوں نے فرمایا : سبحان اللہ ! اگر ہمیں اس بات کا علم ہوتا تو ہم نے ان کی ازواج کو دوسری شادی نہیں کرنے دینی تھی اور نہ ہی ان کی وراثت آپس میں تقسیم کرنی تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، عمرو نامی راوی سے میں واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، عمرو نامی راوی سے میں واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 16741
وَعَنْ أَبِي يَحْيَى قَالَ : كُنْتُ بَيْنَ الْحَسَنِ وَالْحُسَيْنُ وَمَرْوَانُ يَتَسَابَّانِ ، فَجَعَلَ الْحَسَنُ يُسْكِتُ الْحُسَيْنَ ، فَقَالَ مَرْوَانُ : أَهْلُ بَيْتٍ مَلْعُونُونَ . فَغَضِبَ الْحَسَنُ وَقَالَ : قُلْتَ أَهْلُ بَيْتٍ مَلْعُونُونَ ! فَوَاللَّهِ ، لَقَدْ لَعَنَكَ اللَّهُ ، وَأَنْتَ فِي صُلْبِ أَبِيكَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، وَقَدِ اخْتَلَطَ . ¤ قُلْتُ : وَقَدْ تَقَدَّمَتْ أَحَادِيثُ فِي النِّفَاقِ وَالْمُنَافِقِينَ وَأَسْمَائِهِمْ فِي أَوَاخِرِ كِتَابِ الْإِيمَانِ . ¤
محمد محی الدین
ابویحیی بیان کرتے ہیں : میں اُس وقت وہاں موجود تھا ، سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ اور سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ اور مروان موجود تھے ، سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ اور مروان کے درمیان تلخ کلامی ہوئی ، سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کو خاموش کروا رہے تھے ، اسی دوران مروان نے کہا: اہل بیت ملعون ہیں ( نعوذ باللہ من ذلک ) تو سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ غصے میں آ گئے اور انہوں نے فرمایا : تم یہ کہ رہے ہو کہ اہل بیت ملعون ہیں ؟ اللہ کی قسم ! اللہ تعالیٰ نے اُس وقت تم پر لعنت کی تھی ، جب تم اپنے باپ کی پشت میں تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس سے پہلے کتاب الایمان کے آخر میں منافقت اور منافقین اور ان کے ناموں کے بارے میں کچھ احادیث گزر چکی ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس سے پہلے کتاب الایمان کے آخر میں منافقت اور منافقین اور ان کے ناموں کے بارے میں کچھ احادیث گزر چکی ہیں ۔
حدیث نمبر: 16742
وَعَنْ سَعْدٍ - يَعْنِي ابْنَ أَبِي وَقَّاصٍ - عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " شَيْطَانُ الرَّدْهَةِ يَحْتَدِرُهُ " . يَعْنِي رَجُلًا مِنْ بَجِيلَةَ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ ، وَفِي بَكْرِ بْنِ قِرْوَاشٍ خِلَافٌ لَا يَضُرُّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” پہاڑ کے شگاف کے شیطان نے اس کو نیچے گرایا ہے ۔ “ راوی کہتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد بجیلہ قبیلے سے تعلق رکھنے والا ایک شخص تھا ( جو نیچے گر گیا تھا ) ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، امام أحمد کے رجال ” ثقہ “ ہیں ، بکر بن قرواش کے بارے میں ایسا اختلاف پایا جاتا ہے جو نقصان دہ نہیں ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، امام أحمد کے رجال ” ثقہ “ ہیں ، بکر بن قرواش کے بارے میں ایسا اختلاف پایا جاتا ہے جو نقصان دہ نہیں ہے ۔