کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: حضرت عروہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے بارے میں ، جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 16052
عَنْ عُرْوَةَ - يَعْنِي ابْنَ الزُّبَيْرِ - قَالَ : لَمَّا أَنْشَأَ النَّاسُ الْحَجَّ سَنَةَ تِسْعٍ ، قَدِمَ عُرْوَةُ بْنُ مَسْعُودٍ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مُسْلِمًا ، فَاسْتَأْذَنَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يَرْجِعَ إِلَى قَوْمِهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنِّي أَخَافُ أَنْ يَقْتُلُوكَ " . قَالَ : لَوْ وَجَدُونِي نَائِمًا أَيْقَظُونِي ، فَأَذِنَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَرَجَعَ إِلَى قَوْمِهِ مُسْلِمًا ، فَرَجَعَ عِشَاءً ، فَجَاءَ ثَقِيفٌ يُحْيُونَهُ ، فَدَعَاهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ فَاتَّهَمُوهُ وَأَغْضَبُوهُ ، وَأَسْمَعُوهُ مَا لَمْ يَكُنْ يَحْتَسِبُ ثُمَّ خَرَجُوا مِنْ عِنْدِهِ ، فَلَمَّا أَسْحَرُوا وَاطَّلَعَ الْفَجْرُ قَامَ عُرْوَةُ عَلَى غُرْفَةٍ فِي دَارِهِ فَأَذَّنَ لِلصَّلَاةِ وَتَشَهَّدَ فَرَمَاهُ رَجُلٌ مِنْ ثَقِيفٍ بِسَهْمٍ فَقَتَلَهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَثَلُ عُرْوَةَ مِثْلُ صَاحِبِ يَاسِينَ ؛ دَعَا قَوْمَهُ إِلَى اللَّهِ فَقَتَلُوهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرَوَى عَنِ الزُّهْرِيِّ نَحْوَهُ ، وَكِلَاهُمَا مُرْسَلٌ ، وَإِسْنَادُهُمَا حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
عروہ بن زبیر بیان کرتے ہیں : سن 9 ہجری میں ، جب لوگ حج کے لئے گئے ، تو سیدنا عروہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں مسلمان ہو کر حاضر ہوئے ، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ اجازت مانگی کہ وہ اپنی قوم کی طرف واپس چلے جائیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : مجھے یہ اندیشہ ہے کہ وہ لوگ تمہیں قتل کر دیں گے ، انہوں نے عرض کی : اگر وہ لوگ مجھے سویا ہوا پائیں ، تو مجھے بیدار کر دیتے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دیدی ، وہ مسلمان ہو کر اپنی قوم کی طرف واپس چلے گئے ، وہ رات کے وقت واپس پہنچے ، ثقیف قبیلے کے لوگ آئے اور انہیں سلام کرنے لگے ، انہوں نے ان لوگوں کو اسلام کی طرف دعوت دی ، تو ان لوگوں نے ان پر تہمت لگائی اور ان کے خلاف غصے کا اظہار کیا اور انہیں ایسی باتیں سنائیں کہ جن کے بارے میں وہ توقع نہیں کر رہے تھے ، پھر وہ لوگ سیدنا عروہ رضی اللہ عنہ کے پاس سے اُٹھ کر چلے گئے ، جب سحری کا وقت ہوا اور صبح صادق طلوع ہونے لگی ، تو سیدنا عروہ رضی اللہ عنہ اپنے گھر کے بالاخانے پر کھڑے ہوئے ، انہوں نے نماز کے لئے اذان دی اور شہادت کے کلمات پڑھے ، تو ثقیف قبیلے کے ایک شخص نے انہیں تیر مار کر انہیں شہید کر دیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” عروہ کی مثال یٰسین کے ساتھی کی مانند ہے کہ جس نے اپنی قوم کو اللہ کی طرف دعوت دی تھی ، تو اُن لوگوں نے اسے قتل کر دیا تھا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے زہری کے حوالے سے
یہ روایت اس کی مانند نقل کی گئی ہے ، یہ دونوں روایات ” مرسل “ ہیں اور ان دونوں کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے زہری کے حوالے سے
یہ روایت اس کی مانند نقل کی گئی ہے ، یہ دونوں روایات ” مرسل “ ہیں اور ان دونوں کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 16053
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عُرْوَةَ بْنَ مَسْعُودٍ إِلَى الطَّائِفِ ، فَرَمَاهُ رَجُلٌ بِسَهْمٍ فَقَتَلَهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا أَشْبَهَ هَذَا بِصَاحِبِ يَاسِينَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْفَضْلِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عروہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو طائف بھیجا تھا ، ایک شخص نے انہیں تیر مار کر انہیں قتل کر دیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” یہ ( یعنی عروہ بن مسعود ) یٰسین کے ساتھی سے کتنی مشابہت رکھتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابوعبیدہ بن فضل ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابوعبیدہ بن فضل ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 16054
وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ : أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ مَسْعُودٍ قَالَ لِقَوْمِهِ زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ : أَيْ قَوْمِ ، إِنِّي قَدْ رَأَيْتُ الْمُلُوكَ وَكَلَّمْتُهُمْ ، فَابْعَثُونِي إِلَى مُحَمَّدٍ فَأُكَلِّمَهُ ، فَأَتَاهُ بِالْحُدَيْبِيَةِ ، فَجَعَلَ عُرْوَةُ يُكَلِّمُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَيَتَنَاوَلُ لِحْيَةَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَالْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ شَاكٍ فِي السِّلَاحِ عَلَى رَأْسِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ لَهُ الْمُغِيرَةُ : كُفَّ يَدَكَ قَبْلَ أَنْ لَا تَصِلَ إِلَيْكَ ، فَرَفَعَ عُرْوَةُ رَأْسَهُ فَقَالَ : أَنْتَ هُوَ وَاللَّهِ ، إِنِّي لَفِي غَدْرَتِكَ ، مَا أُخْرِجْتُ مِنْهَا بَعْدُ . فَرَجَعَ عُرْوَةُ إِلَى قَوْمِهِ ، فَقَالَ : أَيْ قَوْمِ ، إِنِّي قَدْ رَأَيْتُ الْمُلُوكَ وَكَلَّمْتُهُمْ ، وَاللَّهِ مَا رَأَيْتُ مِثْلَ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَطُّ وَمَا هُوَ بِمَلِكٍ ، وَلَقَدْ رَأَيْتُ الْهَدْيَ مَعْكُوفًا يَأْكُلُ وَبَرَهُ ، وَمَا أَرَاكُمْ إِلَّا سَيُصِيبُكُمْ قَارِعَةٌ . فَانْصَرَفَ وَمَنْ مَعَهُ مِنْ قَوْمِهِ ، فَصَعِدَ سُورَ الطَّائِفِ فَشَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ، فَرَمَاهُ رَجُلٌ مِنْ قَوْمِهِ بِسَهْمٍ فَقَتَلَهُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ فِي أُمَّتِي مِثْلَ صَاحِبِ يَاسِينَ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى مُرْسَلًا ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
علی بن زید بن جدعان بیان کرتے ہیں : سیدنا عروہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے حدیبیہ کے زمانے میں اپنی قوم سے کہا: اے میری قوم ! میں نے بادشاہوں کو دیکھا ہوا ہے اور ان کے ساتھ بات چیت کی ہوئی ہے ، تم مجھے اُن ( یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ) کی طرف جانے دو ، تاکہ میں ان کے ساتھ بات چیت کروں ، پھر وہ حدیبیہ کے مقام پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، عروہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بات کرنے لگے ، اس دوران وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی داڑھی کو بھی ہاتھ لگا لیتے تھے ، سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سرہانے ہتھیار لہرا کر کھڑے ہوئے تھے ، سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ نے عروہ سے کہا: اپنا ہاتھ پیچھے رکھو ! اس سے پہلے کہ وہ تمہارے پاس نہ آئے ، عروہ نے سر اٹھا کر دیکھا اور بولا: اللہ کی قسم ! تم وہی فرد ہو کہ میں تمہاری عہد شکنیوں کا جرمانہ بھگت رہا ہوں اور وہ ابھی تک پورا نہیں ہو پایا ، پھر عروہ اپنی قوم کے پاس واپس گئے اور بولے : اے میری قوم ! میں نے بادشاہوں کو دیکھا ہے اور ان کے ساتھ بات چیت کی ہے ، اللہ کی قسم ! میں نے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم جیسا فرد کوئی نہیں دیکھا ، وہ بادشاہ نہیں ہیں ، میں نے قربانی کے جانوروں کو دیکھا ہے ، اور تم لوگوں کے بارے میں میری یہ رائے ہے کہ عنقریب تمہیں بھی نقصان لاحق ہو گا ، پھر وہ اور ان کی قوم کے کچھ افراد ان کے ساتھ واپس آئے ، وہ لوگ طائف کی ایک قلعے کی دیوار پر چڑھے اور انہوں نے اس بات کی گواہی دی کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں ، تو اُن کی قوم کے ایک فرد نے انہیں تیر مار کر انہیں قتل کر دیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے جس نے میری امت میں یٰسین کے ساتھی جیسا فرد بنایا ہے ۔ “ یہ امام ابویعلیٰ ” مرسل “ روایت کے طور پر نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔