کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: حضرت خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ کے بارے میں ، جو منقول ہے
عَنْ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - اشْتَرَى فَرَسًا مِنْ سَوَاءِ بْنِ الْحَارِثِ فَجَحَدَهُ ، فَشَهِدَ لَهُ خُزَيْمَةُ بْنُ ثَابِتٍ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا حَمَلَكَ عَلَى الشَّهَادَةِ وَلَمْ تَكُنْ مَعَنَا حَاضِرًا " . فَقَالَ : صِدْقُكَ بِمَا جِئْتَ بِهِ ، وَعَلِمْتُ أَنَّكَ لَا تَقُولُ إِلَّا حَقًّا . فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ شَهِدَ لَهُ خُزَيْمَةُ أَوْ شَهِدَ عَلَيْهِ فَحَسْبُهُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ كُلُّهُمْ ثِقَاتٌ .
محمد محی الدین
سیدنا خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ کا بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سواء بن حارث نامی شخص سے ایک گھوڑا خریدا ، اس شخص نے سودے کا انکار کر دیا ، سیدنا خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں گواہی دے دی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تم نے ہمارے حق میں گواہی کیوں دی ہے ؟ جبکہ تم ہمارے ساتھ موجود نہیں تھے ؟ انہوں نے عرض کی : اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ ان چیزوں کے بارے میں سچ بیان کرتے ہیں ، جو آپ لے کے آئے ، اور مجھے یہ بات پتہ ہے کہ آپ صرف سچی بات کہتے ہیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : ” خزیمہ جس شخص کے حق میں گواہی دے ، یا جس کے خلاف گواہی دے ، تو صرف اس کی گواہی کافی ہو گی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے تمام رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے تمام رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيِّ ، وَخُزَيْمَةُ - الَّذِي جَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهَادَتَهُ شَهَادَةَ رَجُلَيْنِ - قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : فَأَخْبَرَنِي عُمَارَةُ بْنُ خُزَيْمَةَ ، عَنْ عَمِّهِ - وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : أَنَّ خُزَيْمَةَ بْنَ ثَابِتٍ رَأَى فِي النَّوْمِ أَنَّهُ يَسْجُدُ عَلَى جَبْهَةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجَاءَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَذَكَرَ ذَلِكَ ، فَاضْطَجَعَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَسَجَدَ عَلَى جَبْهَتِهِ . رَوَاهُ أَحْمَدُ عَنْ شَيْخِهِ : عَامِرِ بْنِ صَالِحٍ الزُّبَيْرِيِّ ، وَثَّقَهُ أَحْمَدُ وَغَيْرُهُ وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . وَقَدْ تَقَدَّمَتْ لَهُ طُرُقٌ فِي التَّعْبِيرِ .
محمد محی الدین
ابن شہاب نے عمارہ بن خزیمہ بن ثابت انصاری کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے : سیدنا خزیمہ رضی اللہ عنہ وہ فرد ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کی گواہی دو افراد کی گواہی کے برابر قرار دی تھی ۔ ابن شہاب بیان کرتے ہیں : عمارہ بن خزیمہ نے اپنے چچا ، جو ایک صحابی ہیں ، ان کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے کہ سیدنا خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ نے خواب میں دیکھا کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشانی پر سجدہ کر رہے ہیں ، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ کے سامنے یہ بات ذکر کی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اُن کے لئے لیٹ گئے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشانی پر سجدہ کیا ۔
یہ روایت امام أحمد نے اپنے استاد عامر بن صالح زبیری کے حوالے سے نقل کی ہے ، جسے امام أحمد اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ، روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔ اس سے پہلے اس روایت کے مختلف طرق کتاب التعبیر میں گزر چکے ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے اپنے استاد عامر بن صالح زبیری کے حوالے سے نقل کی ہے ، جسے امام أحمد اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ، روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔ اس سے پہلے اس روایت کے مختلف طرق کتاب التعبیر میں گزر چکے ہیں ۔