کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: حضرت ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ کے بارے میں ، جو منقول ہے
حدیث نمبر: 15782
عَنْ ثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَاللَّهِ لَقَدْ خَشِيتُ أَنْ أَكُونَ هَلَكْتُ قَالَ : " لِمَ ؟ " قُلْتُ : نَهَى اللَّهُ الْمَرْءَ أَنْ يُحْمَدَ بِمَا لَمْ يَفْعَلْ ، وَأَجِدُنِي أُحِبُّ الْحَمْدَ . وَنَهَى اللَّهُ عَنِ الْخُيَلَاءِ ، وَأَجِدُنِي أُحِبُ الْجَمَالَ . وَنَهَى أَنْ نَرْفَعَ أَصْوَاتَنَا فَوْقَ صَوْتِكَ ، وَأَنَا امْرُؤٌ جَهِيرُ الصَّوْتِ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَلَا تَرْضَى أَنْ تَعِيشَ حَمِيدًا ، وَتُقْتَلَ شَهِيدًا ، وَتَدْخُلَ الْجَنَّةَ ؟ " . قَالَ : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَعَاشَ حَمِيدًا ، وَقُتِلَ شَهِيدًا يَوْمَ مُسَيْلِمَةَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ مُطَوَّلًا هَكَذَا وَمُخْتَصَرًا ، وَرِجَالُ الْمُخْتَصَرِ ثِقَاتٌ ، وَفِي رِجَالِ الْمُطَوَّلِ شَيْخُ الطَّبَرَانِيِّ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَمْزَةَ الْحَضْرَمِيُّ ، ضَعَّفَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي تَرْجَمَةِ أَبِيهِ فِي الثِّقَاتِ هُوَ وَأَخُوهُ عُبَيْدُ اللَّهِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ ، وَيَعْتَضِدُ بِثِقَةِ رِجَالِ الْمُخْتَصَرِ ، وَرَوَاهُ مِنْ طَرِيقِ إِسْمَاعِيلِ بْنِ ثَابِتٍ : أَنْ ثَابِتًا قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَإِسْنَادُهُ مُتَّصِلٌ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ إِسْمَاعِيلَ ، وَهُوَ ثِقَةٌ تَابِعِيٌّ سَمِعَ مِنْ أَبِيهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ثابت بن قیس بن شماس انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اللہ کی قسم ! مجھے یہ اندیشہ ہے کہ میں ہلاکت کا شکار ہو جاؤں گا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : وہ کیوں ؟ میں نے عرض کی : اللہ تعالیٰ نے آدمی کو اس بات سے منع کیا ہے کہ اس نے جو کام نہ کیا ، ہو اُس کے حوالے سے وہ تعریف کا طلب گار ہو ، اور مجھے اپنے اندر یہ بات محسوس ہوتی ہے کہ میں تعریف کو پسند کرتا ہوں ، اور اللہ تعالیٰ نے تکبر سے منع کیا ہے اور مجھے اپنے اندر یہ بات محسوس ہوتی ہے کہ میں خوبصورت چیزوں کو پسند کرتا ہوں ، اللہ تعالیٰ نے اس بات سے منع کیا ہے کہ ہم آپ کی آواز سے اپنی آواز بلند کریں ، اور میں ایک ایسا فرد ہوں جس کی آواز بلند ہوتی ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا تم اس بات سے راضی نہیں ہو ؟ کہ تم قابل تعریف زندگی بسر کرو اور شہید ہونے کے طور پر مر جاؤ ، اور جنت میں داخل ہو جاؤ ، انہوں نے عرض کی : جی ہاں ! یا رسول اللہ ! راوی بیان کرتے ہیں : تو انہوں نے قابل تعریف زندگی بسر کی ، اور مسیلمہ کذاب کے خلاف جنگ کے موقع پر شہید ہونے کے طور پر قتل ہوئے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں اسی طرح طویل اور مختصر روایت کے طور پر نقل کی ہے ، مختصر روایت کے رجال ثقہ ہیں اور طویل روایت میں امام طبرانی کے استاد أحمد بن محمد بن یحیی بن حمزہ خزرمی ہیں اور وہ ضعیف ہیں ، ابن حبان نے کتاب الثقات میں ان کے والد کے حالات میں انہیں ضعیف قرار دیا ہے ، وہ ہیں اور ان کے بھائی عبیداللہ ہیں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں اور مختصر کے رجال اس کے ثقہ ہونے کو مضبوط کر دیتے ہیں ، انہوں نے
یہ روایت اسماعیل بن ثابت کے حوالے سے نقل کی ہے کہ سیدنا ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس روایت کی سند متصل ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف اسماعیل کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے اور تابعی ہیں ، اور انہوں نے اپنے والد ( سیدنا ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ ) سے سماع کیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15782
درجۂ حدیث محدثین: إسناد المطول ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (42) أخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (1311 و 1310)»
حدیث نمبر: 15783
وَعَنْ ثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ : لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ قَعَدَ ثَابِتٌ فِي الطَّرِيقِ يَبْكِي ، فَمَرَّ بِهِ عَاصِمُ بْنُ عَدِيٍّ ، فَقَالَ : مَا يُبْكِيكَ يَا ثَابِتُ ؟ قَالَ : أَنَا رَفِيعُ الصَّوْتِ ، وَأَنَا أَخَافُ أَنْ تَكُونَ هَذِهِ الْآيَةُ نَزَلَتْ فِيَّ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَا بُنَيَّ ، أَمَا تَرْضَى أَنْ تَعِيشَ حَمِيدًا ، وَتُقْتَلَ شَهِيدًا ، وَتَدْخُلَ الْجَنَّةَ ؟ " قَالَ : رَضِيَتُ بِبُشْرَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ ، لَا أَرْفَعُ صَوْتِي أَبَدًا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . فَنَزَلَتْ : إِنَّ الَّذِينَ يَغُضُّونَ أَصْوَاتَهُمْ . الْآيَةَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَأَبُو ثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ لَمْ أَعْرِفْهُ ، وَلَكِنَّهُ قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ثَابِتُ بْنُ قَيْسٍ ، فَالظَّاهِرُ أَنَّهُ صَحَابِيٌّ ، وَلَكِنَّ زَيْدَ بْنَ الْحُبَابِ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَحَدٍ مِنَ الصَّحَابَةِ . وَاللَّهُ أَعْلَمُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب یہ آیت نازل ہوئی : ” تم لوگ اپنی آوازوں کو ، نبی کی آواز سے بلند نہ کرو ۔ “ تو سیدنا ثابت رضی اللہ عنہ راستے میں بیٹھ گئے اور رونے لگے ، عاصم بن عدی ان کے پاس سے گزرے ، انہوں نے فرمایا : اے ثابت ! اتم کیوں رو رہے ہو ؟ ثابت نے جواب دیا : میری آواز بلند ہے اور مجھے یہ اندیشہ ہے کہ یہ آیت میرے بارے میں نازل ہوئی ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے میرے بیٹے ! کیا تم اس بات سے راضی نہیں ہو ؟ کہ تم قابل تعریف زندگی بسر کرو گے ، شہید ہونے کے طور پر مرو گے اور جنت میں داخل ہو گے ، تو انہوں نے عرض کی : میں اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے ملنے والی اس خوشخبری سے راضی ہوں ، اب میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اپنی آواز کبھی بلند نہیں کروں گا ، تو اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئی : ” بے شک وہ لوگ جو اپنی آوازیں پست رکھتے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، سیدنا ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ کے بیٹے سے میں واقف نہیں ہوں ، لیکن انہوں نے یہ کہا: ہے : میرے والد سیدنا ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ نے مجھے یہ حدیث بیان کی ہے ، تو اس سے بظاہر یہ لگتا ہے کہ وہ بھی صحابی ہیں ، لیکن ایک مسئلہ یہ بھی ہے ، زید بن حباب نامی راوی نے صحابہ میں سے کسی سے سماع نہیں کیا ہے ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15783
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (1316)»
حدیث نمبر: 15784
وَعَنْ عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيِّ قَالَ : قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَسَأَلْتُ عَمَّنْ يُحَدِّثُنِي عَنْ حَدِيثِ ثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ ، فَأَرْشَدُونِي إِلَى ابْنَتِهِ ، فَسَأَلْتُهَا فَقَالَتْ : سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ : لَمَّا أُنْزِلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُورٍ " ، اشْتَدَّ عَلَى ثَابِتٍ ، وَأَغْلَقَ بَابَهُ عَلَيْهِ وَطَفِقَ يَبْكِي ، فَأُخْبِرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ فَسَأَلَهُ ، فَأَخْبَرَهُ بِمَا كَبُرَ عَلَيْهِ مِنْهَا ، وَقَالَ : أَنَا رَجُلٌ أُحِبُّ الْجَمَالَ وَأَنْ أَسُودَ قَوْمِي ، فَقَالَ : " إِنَّكَ لَسْتَ مِنْهُمْ ، بَلْ تَعِيشُ بِخَيْرٍ ، وَتَمُوتُ بِخَيْرٍ ، وَيُدْخِلُكَ اللَّهُ الْجَنَّةَ " . ¤ قَالَ : فَلَمَّا أَنْزَلَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ وَلَا تَجْهَرُوا لَهُ بِالْقَوْلِ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ ، فَأُخْبِرُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ ، فَأَخْبَرَهُ بِمَا كَبُرَ عَلَيْهِ ، وَأَنَّهُ جَهِيرُ الصَّوْتِ ، وَأَنَّهُ يَتَخَوَّفُ أَنْ يَكُونَ مِمَّنْ حَبِطَ عَمَلُهُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " بَلْ تَعِيشُ حَمِيدًا ، وَتُقْتَلُ شَهِيدًا ، وَيُدْخِلُكَ اللَّهُ الْجَنَّةَ " . ¤ فَلَمَّا اسْتَنْفَرَ أَبُو بَكْرٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - الْمُسْلِمِينَ إِلَى قِتَالِ أَهْلِ الرِّدَّةِ ، وَالْيَمَامَةِ ، وَمُسَيْلِمَةَ الْكَذَّابِ ، سَارَ ثَابِتُ بْنُ قَيْسٍ فِيمَنْ سَارَ ، فَلَمَّا لَقُوا مُسَيْلِمَةَ وَبَنِي حَنِيفَةَ هَزَمُوا الْمُسْلِمِينَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، فَقَالَ ثَابِتٌ وَسَالِمٌ - مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ - : مَا هَكَذَا كُنَّا نُقَاتِلُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجَعَلَا لِأَنْفُسِهِمَا حُفْرَةً فَدَخَلَا فِيهَا ، فَقَاتَلَا حَتَّى قُتِلَا . ¤ قَالَ : وَأُرِيَ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ ثَابِتَ بْنِ قَيْسٍ فِي مَنَامِهِ ، فَقَالَ : إِنِّي لَمَّا قُتِلْتُ بِالْأَمْسِ مَرَّ بِي رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ فَانْتَزَعَ مِنِّي دِرْعًا نَفِيسَةً ، وَمَنْزِلُهُ فِي أَقْصَى الْعَسْكَرِ ، وَعِنْدَ مَنْزِلِهِ فُرْسٌ يَسْتَنُّ فِي طُولِهِ ، وَقَدْ أَكْفَأَ عَلَى الدِّرْعِ بُرْمَةً ، وَجَعَلَ فَوْقَ الْبُرْمَةِ رَجُلًا ، فَأْتِ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ فَلْيَبْعَثْ إِلَى دِرْعِي فَلْيَأْخُذْهَا ، فَإِذَا قَدِمْتَ عَلَى خَلِيفَةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَعْلِمْهُ : أَنَّ عَلَيَّ مِنَ الدَّيْنِ كَذَا وَكَذَا ، وَفُلَانٌ مِنْ رَقِيقِي عَتِيقٌ ، وَإِيَّاكَ أَنْ تَقُولَ هَذَا حُلْمٌ تُضَيِّعَهُ . ¤ قَالَ : فَأَتَى خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ فَوَجَّهَ إِلَى الدِّرْعِ فَوَجَدَهَا كَمَا ذَكَرَ ، وَقَدِمَ عَلَى أَبِي بَكْرٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - فَأَخْبَرَهُ ، فَأَنْفَذَ أَبُو بَكْرٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - وَصِيَّتَهُ بَعْدَ مَوْتِهِ ، فَلَا نَعْلَمُ أَنَّ أَحَدًا جَازَتْ وَصِيَّتُهُ بَعْدَ مَوْتِهِ إِلَّا ثَابِتَ بْنَ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَبِنْتُ ثَابِتِ بْنِ قَيْسٍ لَمْ أَعْرِفْهَا ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَالظَّاهِرُ أَنَّ بِنْتَ ثَابِتِ بْنِ قَيْسٍ صَحَابِيَّةٌ ; فَإِنَّهَا قَالَتْ : سَمِعْتُ أَبِي ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ . ¤
محمد محی الدین
عطاء خراسانی بیان کرتے ہیں : میں مدینہ منورہ آیا ، میں نے دریافت کیا : کون شخص مجھے سیدنا ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ کی حدیث بیان کرے گا ؟ تو لوگوں نے میری رہنمائی اُن کی صاحبزادی کی طرف کی ، میں نے اس خاتون سے سوال کیا ، تو اس نے بتایا : میں نے اپنے والد کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے : جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ آیت نازل ہوئی : ” بے شک اللہ تعالیٰ کسی بھی اترانے والے فخر کرنے والے کو پسند نہیں کرتا ہے ۔ “ تو یہ بات سیدنا ثابت رضی اللہ عنہ پر گراں گزری ، انہوں نے اپنا دروازہ بند کر لیا اور رونا شروع کر دیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں بتایا گیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پیغام بھیج کر بلوایا اور ان سے اس بارے میں دریافت کیا ، تو انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا کہ انہیں کیا چیز گراں گزری ہے ؟ انہوں نے بتایا : میں ایک ایسا شخص ہوں ، جو جمال کو پسند کرتا ہے اور میں اپنی قوم کا سردار بھی ہوں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اُن افراد میں سے میں ایک نہیں ہو ، بلکہ تم بھلائی والی زندگی بسر کرو گے اور بھلائی والی موت مرو گے اور اللہ تعالیٰ تمہیں جنت میں داخل کر دے گا ۔ راوی بیان کرتے ہیں : جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ آیت نازل کی : ” اے ایمان والو ! تم اپنی آوازوں کو نبی کی آواز سے بلند نہ کرو اور تم ان کے سامنے بلند آواز میں بات نہ کرو ۔ “ تو پھر سیدنا ثابت رضی اللہ عنہ نے اُسی طرح کیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں پتہ چلا تو آپ نے انہیں پیغام بھیج کر بلوایا ۔ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا کہ جو چیز ان کے لئے مشکل کا باعث بنی ہے کہ ان کی آواز بلند ہے اور انہیں یہ اندیشہ ہے کہ کہیں وہ ان افراد میں شامل نہ ہوں ، جن کے عمل ضائع ہو جائیں گے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بلکہ تم قابل تعریف زندگی بسر کرو گے اور شہید ہونے کے طور پر قتل ہو گے ، اور اللہ تعالیٰ تمہیں جنت میں داخل کر دے گا ۔ جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مرتد ہونے والے افراد ، یمامہ کے افراد اور مسیلمہ کذاب کے خلاف جنگ کرنے کے لئے مسلمانوں کو روانہ ہونے کے لئے کہا: ، تو سیدنا ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ بھی جانے والوں میں شامل تھے ، جب مسلمانوں کا مقابلہ مسیلمہ اور بنوحنیفہ سے ہوا ، تو تین مرتبہ انہوں نے مسلمانوں کو پسپا کر دیا ، اس وقت سیدنا ثابت رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کے غلام سیدنا سالم رضی اللہ عنہ ، انہوں نے کہا: ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس طرح جنگ میں حصہ نہیں لیتے تھے ، انہوں نے اپنے لئے ایک گڑھا بنایا اور اس میں داخل ہو گئے اور لڑائی کرتے رہے ، یہاں تک کہ وہ دونوں شہید ہو گئے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : مسلمانوں سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کو خواب میں سیدنا ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ نظر آئے ، انہوں نے فرمایا : گزشتہ شام جب ہم قتل ہو گئے تھے ، تو مسلمانوں سے تعلق والا ایک فرد میرے پاس سے گزرا ، اور اس نے میری عمدہ زرہ مجھ سے اتار لی ، اس شخص کی رہائش لشکر کے دور دراز کے حصے میں ہے ، اور اس کی رہائشی جگہ کے پاس ایک گھوڑا ہو گا جو ادھر اُدھر بھاگا پھر رہا ہو گا ، اور اس نے اس زرہ کے اوپر ایک ہنڈیا الٹی کر کے رکھی ہوئی ہو گی ، اور اس ہنڈیا کے اوپر پاؤں دیا ہوا ہو گا ، تم سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے پاس جاؤ ! اور انہیں کہو کہ وہ کسی شخص کو بھیجیں ، وہ میری زرہ جا کر لے آئے اور جب وہ خلیفہ کے پاس جائیں ، تو انہیں یہ بتا دیں کہ میرے ذمہ اتنا اتنا قرض ہے اور میرا فلاں غلام آزاد شمار ہو گا اور خیال رکھنا اور تم یہ نہ سمجھو کہ یہ کوئی پریشان خواب ہے ، اور تم اسے ضائع کر دو ۔ راوی کہتے ہیں : وہ شخص سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے پاس آیا ، انہوں نے اس زرہ کی تلاش میں کسی شخص کو بھیجا ، تو وہ زرہ اسی حالت میں مل گئی ، جس طرح سیدنا ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ نے ذکر کیا تھا ، پھر جب سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور انہیں اس بارے میں بتایا ، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے سیدنا ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کے انتقال ہو جانے کے بعد ، ان کی ، کی ہوئی وصیت کو نافذ کیا ، ہمیں یہ علم نہیں ہے کہ کسی شخص کے مرنے کے بعد اس کی وصیت کو درست قرار دیا گیا ہو ، صرف سیدنا ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ کا معاملہ مختلف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، سیدنا ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی سے میں واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ، بظاہر یہ لگتا ہے کہ سیدنا ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی بھی صحابیہ ہوں گی ، کیونکہ انہوں نے یہ بات بیان کی ہے : میں نے اپنے والد کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے ۔ باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15784
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (1320)»
حدیث نمبر: 15785
وَعَنْ أَنَسٍ : أَنَّ ثَابِتَ بْنَ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ جَاءَ يَوْمَ الْيَمَامَةِ وَقَدْ نُشِرَ أَكْفَانُهُ وَتَحَنَّطَ قَالَ : اللَّهُمَّ إِنِّي أَبْرَأُ إِلَيْكَ مِمَّا جَاءَ بِهِ هَؤُلَاءِ ، وَأَعْتَذِرُ مِمَّا صَنَعَ هَؤُلَاءِ . فَقُتِلَ ، وَكَانَتْ لَهُ دِرْعٌ فَسُرِقَتْ ، فَرَآهُ رَجُلٌ فِيمَا يَرَى النَّائِمُ ، فَقَالَ : إِنَّ دِرْعِي فِي قِدْرٍ تَحْتَ الْكَانُونِ فِي مَكَانِ كَذَا وَكَذَا ، وَوَصَّاهُ بِوَصَايَا ، فَطَلَبُوا الدِّرْعَ فَوَجَدُوهَا وَأَنْفَذُوا الْوَصَايَا . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ غَيْرَ قِصَّةِ الدِّرْعِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ جنگ یمامہ کے دن تشریف لائے ، انہوں نے اپنا کفن کھولا ، خوشبو لگائی اور پھر فرمایا : اے اللہ ! اُن لوگوں نے جو کچھ کیا ہے ، میں اس کے حوالے سے تیرے سامنے بری ذمہ ہونے کا اعلان کرتا ہوں ، اور ان لوگوں نے جو کچھ کیا ہے ، اس کے حوالے سے میں تیرے سامنے معذرت پیش کرتا ہوں ، تو وہ شہید ہو گئے ، ان کی جو زرہ تھی ، وہ چوری ہو گئی ، ایک شخص نے انہیں خواب میں دیکھا ، انہوں نے فرمایا : میری زرہ فلاں فلاں جگہ پر فلاں چیز کے نیچے ہے اور پھر انہوں نے اس شخص کو خواب میں کچھ وصیتیں کیں ، ان لوگوں نے اس زرہ کو تلاش کیا ، تو وہ زرہ مل گئی اور ان لوگوں نے ان کی وصیتوں کو نافذ کیا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ واقعہ ” صحیح “ میں مذکور ہے ، تاہم اس میں زرہ والا واقعہ نہیں ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15785
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (1307)»
حدیث نمبر: 15786
وَعَنْ عُرْوَةَ : فِي تَسْمِيَةِ مَنْ قُتِلَ يَوْمَ الْيَمَامَةِ مِنَ الْأَنْصَارِ ، ثُمَّ مِنْ بَنِي الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ : ثَابِتُ بْنُ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ سَنَةَ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَهُوَ مُرْسَلٌ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
عروہ نے جنگ یمامہ میں شہید ہونے والوں کے ناموں میں ، انصار کی شاخ ، بنو حارث بن خزرج سے تعلق رکھنے والے ، سیدنا ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ کا ذکر کیا ہے ، جو بارہ ہجری میں شہید ہوئے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ،
یہ روایت ” مرسل “ ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15786
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (1305)»