کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: سیدہ اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہا کا تذکرہ
قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمَدِينِيِّ " فُسْتُقَةُ " : مَاتَتْ أَسْمَاءُ بِنْتُ أَبِي بَكْرٍ الصَّدِّيقِ [سَنَةَ ثَلَاثٍ وَسَبْعِينَ] بَعْدَ ابْنِهَا عَبْدِ اللَّهِ بِلَيَالٍ ، وَكَانَتْ أُخْتَ عَائِشَةَ لِأَبِيهَا ، وَأُمُّ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ : قُتَيْلَةُ بِنْتُ عَبْدِ الْعُزَّى بْنِ عَبْدِ أَسْعَدَ مِنْ بَنِي مَالِكِ بْنِ حِسْلٍ . ¤ وَكَانَتْ لِأَسْمَاءَ يَوْمَ مَاتَتْ مِائَةُ سَنَةٍ ، وُلِدَتْ قَبْلَ التَّارِيخِ بِسَبْعٍ وَعِشْرِينَ سَنَةً [وَقَبْلَ مَبْعَثِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَبْعَ عَشْرَةَ سَنَةً ]. وَوُلِدَتْ أَسْمَاءُ لِأَبِي بَكْرٍ وَسِنُّهُ إِحْدَى وَعِشْرُونَ سَنَةً . ¤
محمد محی الدین
محمد بن علی مدینی کہتے ہیں ۔ سیدہ اسماء بنت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہما کا انتقال تہتر ہجری میں ہوا تھا ، ان کا انتقال ان کے صاحبزادے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کی شہادت کے کچھ دن بعد ہوا تھا ، سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی باپ کی طرف سے شریک بہن تھیں ، سیدہ اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہما کی والدہ کا نام قتیلہ بنت عبدالعزیٰ بن عبداسعد تھا اور ان کا تعلق بنو مالک بن حسل سے تھا ۔ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا کا جب انتقال ہوا اس وقت ان کی عمر ایک سو سال تھی ، سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا سن ہجری کے آغاز سے ستائیس سال پہلے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے سترہ سال پہلے پیدا ہوئی تھیں ۔ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا کی پیدائش کے وقت سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی عمر اکیس سال تھی ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15416
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
وَعَنْ يَعْلَى بْنِ حَرْمَلَةَ قَالَ : دَخَلْتُ مَكَّةَ بَعْدَمَا قُتِلَ ابْنُ الزُّبَيْرِ ، فَجَاءَتْ أُمُّهُ أَسْمَاءُ بِنْتُ أَبِي بَكْرٍ عَجُوزٌ كَبِيرَةٌ ، طَوِيلَةٌ ، مَكْفُوفَةُ الْبَصَرِ ، فَقَالَتْ لِلْحَجَّاجِ : أَمَا آنَ لِهَذَا الرَّاكِبِ أَنْ يَنْزِلَ ؟ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ يَعْلَى ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
یعلیٰ بن حرملہ بیان کرتے ہیں : میں سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد مکہ میں داخل ہوا تو ان کی والدہ سیدہ اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہما آئیں ، جو بوڑھی عمر رسیدہ خاتون تھیں ان کا قد طویل تھا اور بینائی ختم ہو چکی تھی ، انہوں نے حجاج سے کہا: کیا ابھی اس سوار کے لئے وہ وقت نہیں آیا کہ وہ نیچے اتر آئے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن یعلیٰ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15417
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف