حدیث نمبر: 15417
وَعَنْ يَعْلَى بْنِ حَرْمَلَةَ قَالَ : دَخَلْتُ مَكَّةَ بَعْدَمَا قُتِلَ ابْنُ الزُّبَيْرِ ، فَجَاءَتْ أُمُّهُ أَسْمَاءُ بِنْتُ أَبِي بَكْرٍ عَجُوزٌ كَبِيرَةٌ ، طَوِيلَةٌ ، مَكْفُوفَةُ الْبَصَرِ ، فَقَالَتْ لِلْحَجَّاجِ : أَمَا آنَ لِهَذَا الرَّاكِبِ أَنْ يَنْزِلَ ؟ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ يَعْلَى ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

یعلیٰ بن حرملہ بیان کرتے ہیں : میں سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد مکہ میں داخل ہوا تو ان کی والدہ سیدہ اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہما آئیں ، جو بوڑھی عمر رسیدہ خاتون تھیں ان کا قد طویل تھا اور بینائی ختم ہو چکی تھی ، انہوں نے حجاج سے کہا: کیا ابھی اس سوار کے لئے وہ وقت نہیں آیا کہ وہ نیچے اتر آئے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن یعلیٰ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15417
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف