کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: نبی اکرم ﷺ کی زوجہ محترمہ سیدہ جویریہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کے مناقب کا بیان
عَنْ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ قَالَ : سَبَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جُوَيْرِيَةَ بِنْتَ الْحَارِثِ بْنِ أَبِي ضِرَارٍ مِنْ بَنِي الْمُصْطَلِقِ مِنْ خُزَاعَةَ ، فِي غَزْوَتِهِ الَّتِي هَدَمَ فِيهَا مَنَاةَ ، غَزْوَةِ الْمُرَيْسِيعِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ شَيْخِهِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَهْدِيٍّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ وَقَدْ وُثِّقَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ بنو مصطلق کے موقع پر خزاعہ قبیلے کی شاخ بنو مصطلق کے قیدیوں میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ جویریہ رضی اللہ عنہا بنت حارث بن ابوضرار کو قیدی بنایا تھا ، یہ وہ غزوہ ہے جس میں مناۃ کو منہدم کیا گیا تھا اور اس کو غزوہ مریسیع کہتے ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد قاسم بن عبداللہ بن مہدی کے حوالے سے نقل کی ہے اور وہ ضعیف ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد قاسم بن عبداللہ بن مہدی کے حوالے سے نقل کی ہے اور وہ ضعیف ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ : سَبَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جُوَيْرِيَةَ بِنْتَ الْحَارِثِ بْنِ أَبِي ضِرَارِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَائِذِ بْنِ مَالِكِ بْنِ الْمُصْطَلِقِ مِنْ خُزَاعَةَ - وَاسْمُ الْمُصْطَلِقِ خُزَيْمَةُ - يَوْمَ وَاقَعَ بَنِي الْمُصْطَلِقِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
زہری بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ جویریہ رضی اللہ عنہا بنت حارث بن ابوضرار بن حارث بن عائذ بن مالک بن مصطلق ، جن کا تعلق خزاعہ قبیلے سے ہے ، اور مصطلق کا نام خزیمہ تھا تو غزوہ بنو مصلطق کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ جویریہ رضی اللہ عنہا کو قیدی بنایا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
وَعَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ : كَانَتْ جُوَيْرِيَةُ مِلْكَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَعْتَقَهَا ، وَجَعَلَ عِتْقَهَا صَدَاقَهَا ، وَأَعْتَقَ كُلَّ أَسِيرٍ مَنْ بَنِي الْمُصْطَلِقِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مُرْسَلًا ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
امام شعبی بیان کرتے ہیں : سیدہ جویریہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ملکیت میں آئی تھیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں آزاد کر دیا تھا اور ان کی آزادی کو ان کا مہر قرار دیا تھا اور آپ نے بنو مصطلق کے ہر قیدی کو آزاد کر دیا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے مرسل روایت کے طور پر نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے مرسل روایت کے طور پر نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
وَعَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ : قَالَتْ جُوَيْرِيَةُ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : إِنَّ أَزْوَاجَكَ يَفْخَرْنَ عَلَيَّ ، وَيَقُلْنَ : لَمْ يَتَزَوَّجْكِ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " أَوَلَمْ أُعْظِمْ صَدَاقَكِ ؟ أَلَمْ أُعْتِقْ أَرْبَعِينَ مِنْ قَوْمِكِ ؟ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مُرْسَلًا ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
مجاہد بیان کرتے ہیں : سیدہ جویریہ رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں عرض کی : آپ کی ازواج میرے مقابلے میں فخر کا اظہار کرتی ہیں اور وہ یہ کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہارے ساتھ شادی نہیں کی ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا میں نے تمہیں بھاری مہر نہیں دیا ، کیا میں نے تمہاری قوم کے چالیس افراد کو ( مہر کے طور پر ) آزاد نہیں کیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے مرسل روایت کے طور پر نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے مرسل روایت کے طور پر نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
وَعَنْ شَبَابٍ الْعُصْفُرِيِّ قَالَ : مَاتَتْ جُوَيْرِيَةُ بِنْتُ الْحَارِثِ زَوْجُ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَنَةَ سِتٍّ وَخَمْسِينَ . ¤
محمد محی الدین
شباب عصفری بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ سیدہ جویریہ رضی اللہ عنہا کا انتقال چھپن ہجری میں ہوا تھا ۔