کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: نبی اکرم ﷺ کی زوجہ محترمہ سیدہ صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا کے مناقب کا بیان
حدیث نمبر: 15372
عَنْ أَبِي بَرْزَةَ قَالَ : لَمَّا نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَيْبَرَ وَصَفِيَّةُ عَرُوسٌ فِي مَجَاسِدِهَا ، فَرَأَتْ فِي الْمَنَامِ أَنَّ الشَّمْسَ وَقَعَتْ عَلَى صَدْرِهَا ، فَقَصَّتْهَا عَلَى زَوْجِهَا ، فَقَالَ : وَاللَّهِ مَا تَمَنَّيْنَ إِلَّا هَذَا الْمَلِكَ الَّذِي نَزَلَ بِنَا . فَافْتَتَحَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَضَرَبَ عُنُقَ زَوْجِهَا صَبْرًا ، وَتَعَرَّضَ لَهَا مَنْ هُنَالِكَ مِنْ فِتْيَانِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَتَزَوَّجَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَلْقَى لَهُمْ تَمْرًا عَلَى سَفِيفٍ ، وَقَالَ : " كُلُوا وَلِيمَةَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى صَفِيَّةَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ النَّهَّاسُ بْنُ قَهْمٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ مُجْمَعٌ عَلَيْهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوبرزہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب خیبر میں پڑاؤ کیا تو سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کی نئی نئی شادی ہوئی تھی ، انہوں نے خواب میں دیکھا کہ سورج ان کے سینے پر آ گیا ہے ، انہوں نے یہ خواب اپنے شوہر کو سنایا تو ان کے شوہر نے کہا: اللہ کی قسم تم اس بادشاہ کے ساتھ شادی کرنے کی آرزو مند ہو جو ہمارے علاقے میں آیا ہوا ہے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر فتح کیا ، تو سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کے شوہر کو باندھ کر اس کی گردن کو اڑا دیا گیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے شہسواروں نے سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کو گرفتار کر لیا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون کے ساتھ شادی کی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ولیمے میں کھجوریں دسترخوان پر رکھوائیں اور فرمایا : اللہ کے رسول کی صفیہ کے ساتھ شادی کا ولیمہ کھاؤ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی نہاس بن قہم ہے اور وہ ضعیف ہے ، جس کے ضعیف ہونے پر اتفاق ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی نہاس بن قہم ہے اور وہ ضعیف ہے ، جس کے ضعیف ہونے پر اتفاق ہے ۔
حدیث نمبر: 15373
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : كَانَ بِعَيْنَيْ صَفِيَّةَ خُضْرَةٌ ، فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا هَذِهِ الْخُضْرَةُ بِعَيْنَيْكِ ؟ " . قَالَتْ : قُلْتُ لِزَوْجِي : إِنِّي رَأَيْتُ فِيمَا يَرَى النَّائِمُ كَأَنَّ قَمَرًا وَقَعَ فِي حِجْرِي ، فَلَطَمَنِي وَقَالَ : أَتُرِيدِينَ مَلِكَ يَثْرِبَ ؟ قَالَتْ : أَتُرِيدِينَ مَلِكَ يَثْرِبَ ؟ وَمَا كَانَ أَبْغَضَ إِلَيَّ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَتَلَ أَبِي وَزَوْجِي ، فَمَا زَالَ يَعْتَذِرُ إِلَيَّ ، وَقَالَ : " يَا صَفِيَّةُ ، إِنَّ أَبَاكِ أَلَّبَ عَلَيَّ الْعَرَبَ ، وَفَعَلَ وَفَعَلَ " . حَتَّى ذَهَبَ ذَلِكَ مِنْ نَفْسِي . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کی آنکھوں کا رنگ سبز تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : یہ تمہاری آنکھوں کا رنگ سبز کس وجہ سے ہے ، تو سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا نے یہ کہا: کہ میں نے اپنے سابقہ شوہر سے یہ کہا: کہ میں نے خواب میں یہ دیکھا کہ جیسے چاند میری گود میں آ گیا ، تو اس نے مجھے تھپڑ مارا اور بولا: کیا تم یثرب کے بادشاہ سے شادی کرنا چاہتی ہو ، سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں اس وقت میرے نزدیک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ ناپسندیدہ اور کوئی نہیں تھا ، جنہوں نے میرے والد اور میرے شوہر کو قتل کروایا تھا ، لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسلسل میرے سامنے وجہ بیان کرتے رہے ، آپ نے فرمایا : اے صفیہ ! تمہارے والد نے عربوں کو میرے خلاف کرنے کی کوشش کی تھی اور یہ کیا تھا اور وہ کیا تھا ، یہاں تک کہ یہ چیز میرے دل سے رخصت ہو گئی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 15374
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : لَمَّا دَخَلَتْ صَفِيَّةُ بِنْتُ حُيَيٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فُسْطَاطَهُ ، حَضَرَ نَاسٌ وَحَضَرْتُ مَعَهُمْ لِيَكُونَ لِي فِيهَا قِسْمٌ ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " قُومُوا عَنْ أُمِّكُمْ " . فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْعَشَاءِ حَضَرْنَا ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَيْنَا فِي طَرَفِ رِدَائِهِ نَحْوُ مُدٍّ وَنِصْفٍ مِنْ تَمْرِ عَجْوَةٍ ، فَقَالَ : " كُلُوا مِنْ وَلِيمَةِ أُمِّكُمْ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب سیدہ صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آپ کے خیمے میں آئیں تو وہاں کچھ لوگ موجود تھے ان کے ساتھ میں بھی موجود تھا تاکہ اس بارے میں مجھے بھی حصہ ملے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے ، آپ نے فرمایا : اپنی ماں کے پاس سے اٹھ جاؤ ، جب رات کے کھانے کا وقت ہوا تو ہم پھر آ گئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے ، آپ نے چادر میں ڈیڑھ مد کے لگ بھگ عجوہ کھجوریں رکھی ہوئی تھیں آپ نے فرمایا : اپنی ماں کا ولیمہ کھاؤ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 15375
وَعَنْ رَزِينَةَ قَالَتْ : لَمَّا كَانَ يَوْمُ قُرَيْظَةَ وَالنَّضِيرِ ، جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِصَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيٍّ وَذِرَاعُهَا فِي يَدِهِ ، فَلَمَّا رَأَتِ السَّبْيَ قَالَتْ : أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ ، فَأَرْسَلَ ذِرَاعَهَا مِنْ يَدِهِ ، وَأَعْتَقَهَا ، وَخَطَبَهَا ، وَتَزَوَّجَهَا ، وَأَمْهَرَهَا زُرْبَيَّةَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَأَبُو يَعْلَى بِنَحْوِهِ مِنْ طَرِيقِ عَلِيلَةَ بِنْتِ الْكُمَيْتِ ، عَنْ أُمِّهَا أَمِينَةَ ، عَنْ أَمَةِ اللَّهِ بِنْتِ رَزِينَةَ ، وَهَؤُلَاءِ الثَّلَاثُ لَمْ أَعْرِفْهُنَّ . وَبَقِيَّةُ إِسْنَادِهِ ثِقَاتٌ ، وَهُوَ مُخَالِفٌ لِمَا فِي الصَّحِيحِ وَاللَّهُ أَعْلَمُ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ رزینہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : جنگ قریظہ اور جنگ نضیر کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا کو لے آئے ، ان کی کلائی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں تھی ، جب انہوں نے قیدیوں کو دیکھا تو یہ کہا: میں اس بات کی گواہی دیتی ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، اور آپ اللہ کے رسول ہیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے ان کی کلائی چھوڑ دی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں آزاد کر دیا ، انہیں شادی کا پیغام دیا اور پھر ان کے ساتھ شادی کر لی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مہر کے طور پر ( ٹیک لگانے والا ) تکیہ دیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے امام ابویعلیٰ نے اس کی مانند روایت علیلہ بنت کمیت کے حوالے سے ان کی والدہ امینہ سے نقل کی ہے ، اور ان کے حوالے سے امۃ اللہ بنت رزینہ سے نقل کی ہے ، اور ان تینوں خواتین سے میں واقف نہیں ہوں ۔ اس کی سند کے بقیہ رجال ثقہ ہیں اور
یہ روایت اس روایت کے برخلاف ہے جو صحیح میں مذکور ہے باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے امام ابویعلیٰ نے اس کی مانند روایت علیلہ بنت کمیت کے حوالے سے ان کی والدہ امینہ سے نقل کی ہے ، اور ان کے حوالے سے امۃ اللہ بنت رزینہ سے نقل کی ہے ، اور ان تینوں خواتین سے میں واقف نہیں ہوں ۔ اس کی سند کے بقیہ رجال ثقہ ہیں اور
یہ روایت اس روایت کے برخلاف ہے جو صحیح میں مذکور ہے باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔
حدیث نمبر: 15376
وَعَنْ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ قَالَ : سَبَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيَيِّ بْنِ أَخْطَبَ مِنْ بَنِي النَّضِيرِ ، وَكَانَتْ مِمَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَيْهِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ شَيْخِهِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَهْدِيٍّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَالَ ابْنُ عَدِيٍّ : لَا بَأْسَ بِهِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ صفیہ بنت حیی بن اخطب رضی اللہ عنہا ، جن کا تعلق بنو نضیر سے تھا ، انہیں قیدی بنا لیا ، یہ خاتون اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مال فے کے طور پر عطا کی تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد قاسم بن عبداللہ بن مہدی کے حوالے سے نقل کی ہے اور وہ ضعیف ہے ، ابن عدی کہتے ہیں اس میں کوئی حرج نہیں ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد قاسم بن عبداللہ بن مہدی کے حوالے سے نقل کی ہے اور وہ ضعیف ہے ، ابن عدی کہتے ہیں اس میں کوئی حرج نہیں ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 15377
وَعَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ : سَبَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيَيِّ بْنِ أَخْطَبَ مِنْ بَنِي النَّضِيرِ يَوْمَ حُنَيْنٍ ، وَهِيَ عَرُوسٌ بِكِنَانَةَ بْنِ أَبِي الْحُقَيْقِ .رَوَى الطَّبَرَانِيُّ مُرْسَلًا وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ .
محمد محی الدین
زہری بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ صفیہ بنت حیی بن اخطب رضی اللہ عنہا ، جن کا تعلق بنو نضیر سے ہے ، انہیں غزوہ حنین کے موقع پر قیدی بنایا تھا اور وہ خاتون کنانہ بن ابوحقیق کی بیوی تھیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے مرسل روایت کے طور پر نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے مرسل روایت کے طور پر نقل کی ہے ۔
حدیث نمبر: 15378
وَعَنْ وَحْشِيِّ بْنِ حَرْبٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَيْهِ صَفِيَّةَ قَالَ لِأَصْحَابِهِ : " مَا تَقُولُونَ فِي هَذِهِ الْجَارِيَةِ ؟ " . قَالُوا : نَقُولُ : إِنَّكَ أَوْلَى النَّاسِ بِهَا وَأَحَقُّهُمْ . قَالَ : " فَإِنِّي أَعْتَقْتُهَا وَاسْتَنْكَحْتُهَا ، وَجَعَلْتُ عِتْقَهَا مَهْرَهَا " . فَقَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، الْوَلِيمَةُ . قَالَ : " الْوَلِيمَةُ حَقٌّ ، وَالثَّانِيَةُ مَعْرُوفٌ ، وَالثَّالِثَةُ فَخْرٌ وَحَرَجٌ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ وَثَّقَهُمُ ابْنُ حِبَّانَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا وحشی بن حرب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا مال فے کے طور پر دے دیں تو آپ نے اپنے اصحاب سے فرمایا : تم لوگ اس کنیز کے بارے میں کیا کہتے ہو ؟ تو لوگوں نے کہا: ہم یہ سمجھتے ہیں کہ آپ اس خاتون کے بارے میں لوگوں سے زیادہ لائق ہیں اور زیادہ حق رکھتے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : پھر میں اسے آزاد کر کے اس سے شادی کر لیتا ہوں اور اس کی آزادی کو اس کا مہر بنا دیتا ہوں ، ایک صاحب نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ولیمہ ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ولیمہ حق ہے ، اور دوسرے دن ( کھانا کھلانا ) نیکی ہے اور تیسرے دن فخر ہے ، اور گناہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال کو ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال کو ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ۔
حدیث نمبر: 15379
وَعَنْ صَفِيَّةَ قَالَتْ : انْتَهَيْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَا مِنَ النَّاسِ أَحَدٌ أَكْرَهُ إِلَيَّ مِنْهُ ، فَقَالَ : " إِنَّ قَوْمَكِ صَنَعُوا كَذَا وَكَذَا " . قَالَتْ : فَمَا قُمْتُ مِنْ مَقْعَدِي وَمِنَ النَّاسِ أَحَدٌ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : جب میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی تو لوگوں میں کوئی بھی میرے نزدیک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ ناپسندیدہ نہیں تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تمہاری قوم کے افراد نے یہ کیا اور وہ کیا ۔ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : تو وہاں اس جگہ سے میرے اٹھنے سے پہلے لوگوں میں کوئی بھی میرے نزدیک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ محبوب نہیں تھا ۔
حدیث نمبر: 15380
وَفِي رِوَايَةٍ عَنْهَا قَالَتْ : مَا رَأَيْتُ قَطُّ أَحْسَنَ خُلُقًا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَقَدْ رَأَيْتُهُ رَكِبَ بِي مِنْ خَيْبَرَ عَلَى عَجْزِ نَاقَتِهِ لَيْلًا ، فَجَعَلْتُ أَنْعَسُ ، فَيَضْرِبُ رَأْسِي مُؤَخِّرَةُ الرَّحْلِ ، فَيَمَسُّ بِيَدِهِ ، وَيَقُولُ : " يَا هَذِهِ مَهْلًا ، يَا بِنْتَ حُيَيٍّ " . حَتَّى إِذَا جَاءَ الصَّهْبَاءُ قَالَ : " أَمَا إِنِّي أَعْتَذِرُ إِلَيْكِ يَا صَفِيَّةُ مِمَّا صَنَعْتُ بِقَوْمِكِ ، إِنَّهُمْ قَالُوا لِي كَذَا وَكَذَا " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى بِأَسَانِيدَ ، وَرِجَالُ الطَّرِيقِ الْأُولَى رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنَّ حُمَيْدَ بْنَ هِلَالٍ لَمْ يُدْرِكْ صَفِيَّةَ ، وَفِي رِجَالِ هَذِهِ رَبِيعُ ابْنُ أَخِي صَفِيَّةَ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
اس خاتون کے حوالے سے یہ ایک روایت منقول ہے ، وہ بیان کرتی ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ اچھے اخلاق کا مالک کبھی کوئی شخص نہیں دیکھا ، میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ نے خیبر سے مجھے رات کے وقت اپنی اونٹنی کی پشت پر سوار کروایا ، میں اونگھنے لگتی تھی اور میرا سر پالان کے پچھلے حصے سے ٹکرا جاتا تھا ، تو آپ اپنے ہاتھ کے ذریعے چھو کر یہ فرماتے تھے ، ارے آرام سے اے حیی کی بیٹی ! یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صہباء تشریف لے آئے ، تو آپ نے فرمایا : اے صفیہ ! میں تمہارے سامنے اس حوالے سے عذر بیان کرتا ہوں ، جو میں نے تمہاری قوم کے ساتھ کیا ، انہوں نے میرے بارے میں یہ یہ کچھ کہا: تھا ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ، پہلے طریق کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ، البتہ حمید بن ہلال نامی راوی نے سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کا زمانہ نہیں پایا ہے ، اور اس روایت کے رجال میں ربیع نامی راوی ہے جو سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کا بھتیجا ہے ، میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ، پہلے طریق کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ، البتہ حمید بن ہلال نامی راوی نے سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کا زمانہ نہیں پایا ہے ، اور اس روایت کے رجال میں ربیع نامی راوی ہے جو سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کا بھتیجا ہے ، میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔