کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: حق ، حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ ہو گا
عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " عَلِيٌّ مَعَ الْقُرْآنِ وَالْقُرْآنُ مَعَ عَلِيٍّ لَا يَفْتَرِقَانِ حَتَّى يَرِدَا عَلَيَّ الْحَوْضَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ صَالِحُ بْنُ أَبِي الْأَسْوَدِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیده ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں ، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ” علی قرآن کے ساتھ ہو گا ، اور قرآن علی کے ساتھ ہو گا ، اور یہ دونوں ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوں گے ، یہاں تک کہ یہ دونوں حوض پر میرے پاس آ جائیں گے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی صالح بن ابواسود ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14767
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (720)»
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ : أَنَّهَا كَانَتْ تَقُولُ : كَانَ عَلِيٌّ عَلَى الْحَقِّ مَنِ اتَّبَعَهُ اتَّبَعَ الْحَقَّ ، وَمَنْ تَرَكَهُ تَرَكَ الْحَقَّ ، عَهْدٌ مَعْهُودٌ قَبْلَ يَوْمِهِ هَذَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَالِكُ بْنُ جَعُونَةَ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ أَحَدِ الْإِسْنَادَيْنِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرمایا کرتی تھیں : سیدنا علی رضی اللہ عنہ حق پر ہیں ، جو ان کی پیروی کرے گا ، وہ حق کی پیروی کرے گا ، جو انہیں چھوڑ دے گا ، وہ حق کو چھوڑ دے گا ، اور یہ ایک ایسا عہد ہے ، جو اس دن سے پہلے لیا جا چکا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مالک بن جعونہ ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، دو اسناد میں سے ایک کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14768
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (329/23)»
وَعَنْ جُرَيِّ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ : لَمَّا كَانَ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ الَّذِي كَانَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ انْطَلَقْتُ حَتَّى أَتَيْتُ الْمَدِينَةَ ، فَأَتَيْتُ مَيْمُونَةَ بِنْتَ الْحَارِثِ - وَهِيَ مِنْ بَنِي هِلَالٍ - فَسَلَّمْتُ عَلَيْهَا ، فَقَالَتْ : مِمَّنِ الرَّجُلُ ؟ قُلْتُ : مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ قَالَتْ : مِنْ أَيِّ الْعِرَاقِ ؟ قُلْتُ : مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ قَالَتْ : مِنْ أَيِّ أَهْلِ الْكُوفَةِ ؟ قُلْتُ : مِنْ بَنِي عَامِرٍ قَالَتْ : مَرْحَبًا قُرْبًا عَلَى قُرْبٍ ، وَرُحْبًا عَلَى رُحْبٍ ، فَمَجِيءُ مَا جَاءَ بِكَ ؟ قُلْتُ : كَانَ بَيْنَ عَلِيٍّ وَطَلْحَةَ [ وَالزُّبَيْرِ ] الَّذِي كَانَ ، فَأَقْبَلْتُ فَبَايَعْتُ عَلِيًّا . قَالَتْ : فَالْحَقْ بِهِ فَوَاللَّهِ مَا ضَلَّ وَلَا ضُلَّ بِهِ . حَتَّى قَالَتْهَا ثَلَاثًا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ جُرَيِّ بْنِ سَمُرَةَ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
جری بن سمرہ بیان کرتے ہیں : جب اہل بصرہ اور سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کے درمیان اختلافات ہوئے ، تو میں روانہ ہوا اور میں مدینہ منورہ آ گیا ، میں سیدہ میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا ، ان کا تعلق بنو ہلال سے تھا ، میں نے انہیں سلام کیا ، انہوں نے دریافت کیا : تمہارا تعلق کہاں سے ہے ؟ میں نے بتایا : اہل عراق سے ہے ۔ انہوں نے دریافت کیا : اہل عراق میں سے کن سے ہے ؟ میں نے جواب دیا : اہل کوفہ سے ہے ۔ انہوں نے دریافت کیا : اہل کوفہ میں سے کن سے ہے ؟ میں نے جواب دیا : بنو عامر سے ہے ۔ انہوں نے فرمایا : خوش آمدید ! تم قریبی ہو اور تمہیں خوش آمدید ! تم کس سلسلے میں آئے ہو ؟ میں نے کہا: سیدنا علی رضی اللہ عنہ سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کے درمیان اختلافات پائے جاتے ہیں ، تو میں نے جا کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی بیعت کر لی ، سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : تم ان کے ساتھ رہو ! اللہ کی قسم ! نہ تو وہ گمراہ ہوں گے اور نہ ہی گمراہ کریں گے ۔ یہ بات سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف جری بن سمرہ کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14769
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (9/24)»
وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ قَالَ : سَمِعْتُ عَلِيًّا وَأَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، مَا لِي أَرَاكَ تَسْتَحِيلُ النَّاسَ اسْتِحَالَةَ الرَّجُلِ إِبِلَهُ ؟ أَبِعَهْدٍ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَمْ شَيْءٍ رَأَيْتَهُ ؟ قَالَ : وَاللَّهِ مَا كَذَبْتُ وَلَا كُذِبْتُ ، وَلَا ضَلَلْتُ وَلَا ضُلَّ بِي ، بَلْ عَهْدٌ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَدْ خَابَ مَنِ افْتَرَى . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ الرَّبِيعُ بْنُ سَهْلٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
علی بن ربیعہ بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو سنا ، ایک شخص ان کے پاس آیا اور بولا: اے امیر المؤمنین ! کیا وجہ ہے میں آپ کو دیکھ رہا ہوں کہ آپ لوگوں کو اس طرح پرے کر رہے ہیں ، جس طرح کوئی شخص اپنے اونٹ کو پرے کرتا ہے ، کیا یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ملنے والا کوئی عہد ہے ، یا یہ آپ کی ذاتی رائے ہے ، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اللہ کی قسم ! نہ تو میرے ساتھ جھوٹی بات بیان کی گئی اور نہ ہی میں نے جھوٹ بولا: ، نہ میں گمراہ ہوا ہوں اور نہ ہی مجھے گمراہ کیا گیا ، بلکہ یہ اللہ کے رسول کی طرف سے عہد ہے ، اور وہ شخص رسوا ہو جائے جو جھوٹا الزام لگائے ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ربیع بن سہل ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14770
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (518)»
وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِعَلِيٍّ : " يَا عَلِيُّ ، مَنْ فَارَقَنِي فَارَقَ اللَّهَ ، وَمَنْ فَارَقَكَ يَا عَلِيُّ فَارَقَنِي " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا : ” اے علی ! جو شخص مجھ سے جدا ہو گا ، وہ اللہ تعالیٰ سے جدا ہو گا ۔ اے علی ! جو شخص تم سے جدا ہو گا ، وہ مجھ سے جدا ہو گا ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14771
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2565)»