کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: حضرت علی رضی اللہ عنہ کا جنگ کرنا اور اس شخص کا بیان ، جو ان کے ساتھ جنگ کرے گا
حدیث نمبر: 14763
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ : كُنَّا جُلُوسًا نَنْتَظِرُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَخَرَجَ عَلَيْنَا مِنْ بَعْضِ بُيُوتِ نِسَائِهِ قَالَ : فَقُمْنَا مَعَهُ فَانْقَطَعَتْ نَعْلُهُ ، فَتَخَلَّفَ عَلَيْهَا عَلِيٌّ يَخْصِفُهَا ، وَمَضَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَضَيْنَا مَعَهُ ، ثُمَّ قَامَ يَنْتَظِرُهُ وَقُمْنَا مَعَهُ ، فَقَالَ : " إِنَّ مِنْكُمْ مَنْ يُقَاتِلُ عَلَى تَأْوِيلِ هَذَا الْقُرْآنِ كَمَا قَاتَلْتُ عَلَى تَنْزِيلِهِ " . فَاسْتَشْرَفْنَا وَفِينَا أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ ، فَقَالَ : " لَا . وَلَكِنَّهُ خَاصِفُ النَّعْلِ " . قَالَ : فَجِئْنَا نُبَشِّرُهُ قَالَ : فَكَأَنَّهُ قَدْ سَمِعَهُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ فِطْرِ بْنِ خَلِيفَةَ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ بیٹھے ہوئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظار کر رہے تھے ، آپ اپنی ایک زوجہ محترمہ کے گھر سے نکل کر ہمارے پاس تشریف لائے ، ہم آپ کے ساتھ کھڑے ہو گئے ، آپ کا جوتا ٹوٹ گیا تھا ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ اس کی خاطر پیچھے رہ گئے تھے ، وہ اسے مرمت کر رہے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے ، آپ کے ساتھ ہم بھی گئے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا انتظار کرنے لگے ، آپ کے ساتھ ہم بھی کھڑے رہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم میں سے بعض ایسے لوگ بھی ہوں گے جو اس قرآن کی تفسیر کے حوالے سے ( بدمذہبوں کے ساتھ ) جنگ کریں گے ، جس طرح میں نے اس کے نزول کے حوالے سے جنگ کی ہے ۔ “ راوی کہتے ہیں : ہم نے تمام افراد کو دیکھنا شروع کیا ، ہمارے درمیان سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما بھی موجود تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی نہیں ! بلکہ یہ کام وہ شخص کرے گا جو جوتوں کو مرمت کر رہا ہے ۔ راوی کہتے ہیں : ہم آئے اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو خوشخبری دی تو یوں لگا جیسے وہ یہ بات سن چکے ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف فطر بن خلیفہ کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف فطر بن خلیفہ کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔
حدیث نمبر: 14764
وَعَنْ أَبِي رَافِعٍ قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ نَائِمٌ أَوْ يُوحَى إِلَيْهِ ، وَإِذَا حَيَّةٌ فِي جَانِبِ الْبَيْتِ ، فَكَرِهْتُ أَنْ أَقْتُلَهَا فَأُوقِظَهُ ، فَاضْطَجَعْتُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْحَيَّةِ ، فَإِنْ كَانَ شَيْءٌ كَانَ بِي دُونَهُ ، فَاسْتَيْقَظَ ، وَهُوَ يَتْلُو هَذِهِ الْآيَةَ : إِنَّمَا وَلِيُّكُمُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ وَالَّذِينَ آمَنُوا الْآيَةَ . قَالَ : " الْحَمْدُ لِلَّهِ " . فَرَآنِي إِلَى جَانِبِهِ قَالَ : " مَا أَضْجَعَكَ هَهُنَا ؟ " . قُلْتُ : لِمَكَانِ هَذِهِ الْحَيَّةِ قَالَ : " قُمْ إِلَيْهَا فَاقْتُلْهَا " . فَقَتَلْتُهَا ، فَحَمِدَ اللَّهَ ، ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِي فَقَالَ : " يَا أَبَا رَافِعٍ ، سَيَكُونُ بَعْدِي قَوْمٌ يُقَاتِلُونَ عَلِيًّا ، حَقٌّ عَلَى اللَّهِ تَعَالَى جِهَادُهُمْ ، فَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ جِهَادَهُمْ بِيَدِهِ فَبِلِسَانِهِ ، فَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ بِلِسَانِهِ فَبِقَلْبِهِ لَيْسَ وَرَاءَ ذَلِكَ شَيْءٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَيَحْيَى بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ الْفُرَاتِ لَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، آپ اس وقت سو رہے تھے یا شاید آپ پر وحی نازل ہو رہی تھی ، گھر کے کونے میں ایک سانپ موجود تھا ، مجھے یہ اچھا نہیں لگا کہ میں اسے قتل کر کے آپ کو بیدار کر دوں ، تو میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور سانپ کے درمیان لیٹ گیا کہ اگر کچھ ہوا بھی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں ہو گا ، مجھے ہو گا ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے تو آپ یہ آیت تلاوت کر رہے تھے : ” بے شک تمہارا ولی اللہ ہے ، اور اس کا رسول ہے ، اور ایمان والے ہیں ۔ “ راوی کہتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے الحمدللہ کہا: اور پھر جب آپ نے مجھے اپنے پہلو کی طرف دیکھا ، تو فرمایا : تم یہاں کیوں لیٹے ہوئے ہو ؟ میں نے عرض کی : اس سانپ کی وجہ سے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اٹھ کر اس کے پاس جاؤ اور اسے قتل کر دو ! میں نے اس سانپ کو قتل کر دیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کی ، پھر آپ نے میرا ہاتھ پکڑا اور ارشاد فرمایا : ” اے ابورافع ! میرے بعد کچھ لوگ آئیں گے جو علی کے ساتھ جنگ کریں گے ، اللہ تعالیٰ کی طرف سے ( لوگوں پر ) یہ لازم ہے کہ وہ ان کے ساتھ جہاد کریں ، جو شخص ان کے ساتھ اپنے ہاتھ کے ذریعے جہاد کرنے کی استطاعت نہ رکھتا ہو وہ اپنی زبان کے ذریعے ایسا کرے ، جو اپنی زبان کے ذریعے ایسا نہ کر سکتا ہو ، وہ اپنے دل کے حوالے سے ایسا کرے ، اس کے علاوہ اور کوئی چیز نہیں ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبیداللہ بن ابورافع ہے ، جسے جمہور نے ضعیف قرار دیا ہے ، اور ابن حبان نے اسے ثقہ کہا: ہے ، اور ایک راوی یحیی بن حسین فرات ہے ، میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبیداللہ بن ابورافع ہے ، جسے جمہور نے ضعیف قرار دیا ہے ، اور ابن حبان نے اسے ثقہ کہا: ہے ، اور ایک راوی یحیی بن حسین فرات ہے ، میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔
حدیث نمبر: 14765
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ عَلِيًّا كَانَ يَقُولُ فِي حَيَاةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - يَقُولُ : ( أَفَإِنْ مَاتَ أَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلَى أَعْقَابِكُمْ ) وَاللَّهِ لَا نَنْقَلِبُ عَلَى أَعْقَابِنَا بَعْدَ إِذْ هَدَانَا اللَّهُ تَعَالَى ، وَاللَّهِ لَئِنْ مَاتَ أَوْ قُتِلَ لَأُقَاتِلَنَّ عَلَى مَا قَاتَلَ عَلَيْهِ حَتَّى أَمُوتَ ، وَاللَّهِ إِنِّي لَأَخُوهُ وَوَلِيُّهُ وَابْنُ عَمِّهِ وَوَارِثُهُ ، فَمَنْ أَحَقُّ بِهِ مِنِّي . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ یہ فرمایا کرتے تھے : اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے : ” اگر وہ مر جائے یا قتل ہو جائے تو کیا تم ایڑیوں کے بل پلٹ جاؤ گے ۔ “ ( سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے : ) اللہ کی قسم ! ہم ایڑیوں کے بل نہیں پلٹیں گے ، اس کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں ہدایت عطا کر دی ہے ، اگر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو جائے یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم شہید ہو جائیں تو میں اس چیز کی بنیاد پر جہاد کروں گا ، جس کی بنیاد پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لڑائی کیا کرتے تھے ، اور مرتے دم تک ایسا کرتا رہوں گا ، اللہ کی قسم ! میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا بھائی ہوں ، آپ کا ولی ہوں ، آپ کا چچازاد ہوں اور آپ کا وارث ہوں ۔ اس حوالے سے کون مجھ سے زیادہ حق رکھتا ہے ؟
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 14766
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ : لَمَّا افْتَتَحَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَكَّةَ انْصَرَفَ إِلَى الطَّائِفِ فَحَاصَرَهَا سَبْعَ عَشْرَةَ أَوْ ثَمَانِ عَشْرَةَ فَلَمْ يَفْتَتِحْهَا ، ثُمَّ أَوْغَلَ رَوْحَةً أَوْ غَدْوَةً ، ثُمَّ نَزَلَ ، ثُمَّ هَجَرَ ، فَقَالَ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنِّي فَرَطٌ لَكُمْ ، وَأُوصِيكُمْ بِعِتْرَتِي خَيْرًا ، وَإِنَّ مَوْعِدَكُمُ الْحَوْضُ ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَيُقِيمُوا الصَّلَاةَ ، وَلَيُؤْتُوا الزَّكَاةَ ، أَوْ لَأَبْعَثَنَّ إِلَيْهِمْ رَجُلًا مِنِّي أَوْ لِنَفْسِي فَلَيَضْرِبَنَّ أَعْنَاقَ مُقَاتِلِيهِمْ وَلَيَسْبِيَنَّ ذَرَارِيَّهُمْ " . ¤ قَالَ : فَرَأَى النَّاسُ أَنَّهُ أَبُو بَكْرٍ أَوْ عُمَرُ ، وَأَخَذَ بِيَدِ عَلِيٍّ فَقَالَ : " هَذَا هُوَ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ طَلْحَةُ بْنُ جَبْرٍ وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ فِي رِوَايَةٍ وَضَعَّفَهُ الْجُوزَجَانِيُّ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ فتح کیا ، تو اس کے بعد آپ طائف کی طرف چلے گئے ، وہاں آپ نے سترہ دن یا شاید اٹھارہ دن تک محاصرہ کیے رکھا ، لیکن وہ شہر فتح نہیں ہوا ، پھر آپ صبح کے وقت یا شاید شام کے وقت تیزی سے روانہ ہوئے ، پھر آپ نے پڑاؤ کیا ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے لوگو ! بے شک میں تم لوگوں کا پیشرو ہوؤں گا ، اور بے شک میں تمہیں اپنی عترت کے بارے میں بھلائی کی تلقین کرتا ہوں ، تم سے ملنے کی جگہ حوض ہے ، اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، وہ لوگ ( یعنی دشمن ) نماز قائم کریں گے اور زکوۃ ادا کریں گے ، یا پھر میں ان کی طرف اپنے میں سے ایک شخص کو بھیجوں گا جو ان کے جنگجو لوگوں کی گردنیں اڑا دے گا ، اور ان کے بال بچوں کو قیدی بنا لے گا ۔ “ راوی کہتے ہیں : لوگ یہ سمجھے کہ شاید سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ یا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ہوں گے ، لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑا اور ارشاد فرمایا : وہ یہ ہو گا ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی طلحہ بن جبر ہے ، جسے ایک روایت کے مطابق یحیی بن معین نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور جرجانی نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی طلحہ بن جبر ہے ، جسے ایک روایت کے مطابق یحیی بن معین نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور جرجانی نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔