مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابٌ الْحَقُّ مَعَ عَلِيٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - . باب: حق ، حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ ہو گا
وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ قَالَ : سَمِعْتُ عَلِيًّا وَأَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، مَا لِي أَرَاكَ تَسْتَحِيلُ النَّاسَ اسْتِحَالَةَ الرَّجُلِ إِبِلَهُ ؟ أَبِعَهْدٍ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَمْ شَيْءٍ رَأَيْتَهُ ؟ قَالَ : وَاللَّهِ مَا كَذَبْتُ وَلَا كُذِبْتُ ، وَلَا ضَلَلْتُ وَلَا ضُلَّ بِي ، بَلْ عَهْدٌ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَدْ خَابَ مَنِ افْتَرَى . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ الرَّبِيعُ بْنُ سَهْلٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤علی بن ربیعہ بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو سنا ، ایک شخص ان کے پاس آیا اور بولا: اے امیر المؤمنین ! کیا وجہ ہے میں آپ کو دیکھ رہا ہوں کہ آپ لوگوں کو اس طرح پرے کر رہے ہیں ، جس طرح کوئی شخص اپنے اونٹ کو پرے کرتا ہے ، کیا یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ملنے والا کوئی عہد ہے ، یا یہ آپ کی ذاتی رائے ہے ، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اللہ کی قسم ! نہ تو میرے ساتھ جھوٹی بات بیان کی گئی اور نہ ہی میں نے جھوٹ بولا: ، نہ میں گمراہ ہوا ہوں اور نہ ہی مجھے گمراہ کیا گیا ، بلکہ یہ اللہ کے رسول کی طرف سے عہد ہے ، اور وہ شخص رسوا ہو جائے جو جھوٹا الزام لگائے ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ربیع بن سہل ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔