حدیث نمبر: 14772
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَا عَلِيُّ ، مَعَكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَصًا مِنْ عِصِيِّ الْجَنَّةِ ، تَذُودُ بِهَا الْمُنَافِقِينَ عَنْ حَوْضِي " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ سَلَّامُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمَدَائِنِيُّ وَزَيْدٌ الْعَمِّيُّ ، وَهُمَا ضَعِيفَانِ وَقَدْ وُثِّقَا ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِمَا ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے علی ! قیامت کے دن تمہارے پاس جنت کے عصاؤں میں سے ایک عصا ہو گا ، جس کے ذریعے تم منافق لوگوں کو میرے حوض سے پرے کرو گے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سلام بن سلیمان مدائنی ہے اور ایک راوی زید عمی ہے ، اور یہ دونوں ضعیف ہیں ویسے ان دونوں کی توثیق کی گئی ہے ان دونوں کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سلام بن سلیمان مدائنی ہے اور ایک راوی زید عمی ہے ، اور یہ دونوں ضعیف ہیں ویسے ان دونوں کی توثیق کی گئی ہے ان دونوں کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 14773
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ إِجَارَةَ بْنِ قَيْسٍ قَالَ : سَمِعْتُ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ ، وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَقُولُ : أَنَا أَذُودُ عَنْ حَوْضِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِيَدَيَّ هَاتَيْنِ الْقَصِيرَتَيْنِ الْكُفَّارَ وَالْمُنَافِقِينَ كَمَا تَذُودُ السُّقَاةُ غَرِيبَةَ الْإِبِلِ عَنْ حِيَاضِهِمْ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ الْجَوْهَرِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
عبداللہ بن اجارہ بن قیس بیان کرتے ہیں : میں نے امیر المؤمنین سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کو منبر پر یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ” میں اپنے ان دونوں چھوٹے ہاتھوں کے ذریعے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوض سے کافروں اور منافقین کو یوں پرے کروں گا ، جس طرح پانی پلانے والے اجنبی اونٹوں کو اپنے حوض سے پرے کرتے ہیں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن قدامہ جوہری ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن قدامہ جوہری ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 14774
وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَلَا تَرْضَى يَا عَلِيُّ إِذَا جَمَعَ اللَّهُ النَّبِيِّينَ فِي صَعِيدٍ وَاحِدٍ حُفَاةً عُرَاةً مُشَاةً قَدْ قَطَعَ أَعْنَاقَهُمُ الْعَطَشُ فَكَانَ أَوَّلَ مَنْ يُدْعَى إِبْرَاهِيمُ فَيُكْسَى ثَوْبَيْنِ أَبْيَضَيْنِ ، ثُمَّ يَقُومُ عَنْ يَمِينِ الْعَرْشِ ، ثُمَّ يُفَجَّرُ مَثْعَبٌ مِنَ الْجَنَّةِ إِلَى حَوْضِي ، وَحَوْضِي أَبْعَدُ مِمَّا بَيْنَ بُصَرَى وَصَنْعَاءَ ، فِيهِ عَدَدُ نُجُومِ السَّمَاءِ قِدْحَانٌ مِنْ فِضَّةٍ ، فَأَشْرَبُ وَأَتَوَضَّأُ وَأُكْسَى ثَوْبَيْنِ أَبْيَضَيْنِ ، ثُمَّ أَقُومُ عَنْ يَمِينِ الْعَرْشِ ، ثُمَّ تُدْعَى فَتَشْرَبُ ، وَتَتَوَضَّأُ ، وَتُكْسَى ثَوْبَيْنِ أَبْيَضَيْنِ ، فَتَقُومُ مَعِي وَلَا أُدْعَى إِلَى خَيْرٍ إِلَّا دُعِيتَ لَهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عِمْرَانُ بْنُ مِيثَمٍ ، وَهُوَ كَذَّابٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ارشاد فرمایا : ” اے علی ! کیا تم اس بات سے راضی نہیں ہو ؟ کہ جب اللہ تعالیٰ تمام انبیاء کرام کو ایک میدان میں اکٹھا کرے گا یوں کہ ان کے پاؤں میں جوتے نہیں ہوں گے جسم پر لباس نہیں ہوں گے وہ پیدل ہوں گے ، اور پیاس نے ان کی بری حالت کی ہوئی ہو گی سب سے پہلے سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو بلایا جائے گا اور انہیں دو سفید کپڑے پہنائے جائیں گے پھر وہ عرش کے دائیں طرف کھڑے ہو جائیں گے پھر جنت میں سے ایک پرنالہ پھوٹے گا جو میرے حوض کی طرف آئے گا ، اور میرا حوض اس سے زیادہ بڑا ہے جتنا بصریٰ اور صنعاء کے درمیان فاصلہ ہے اس کے کنارے پر آسمان کے ستاروں کی تعداد میں چاندی کے بنے ہوئے پیالے ہوں گے میں اس میں سے پیوں گا اور وضو کروں گا ، مجھے دو سفید کپڑے پہنائے جائیں گے پھر میں عرش کے دائیں طرف کھڑا ہو جاؤں گا پھر تمہیں بلایا جائے گا ، اور تم پیو گے اور تم وضو کرو گے ، اور تمہیں دو سفید کپڑے پہنائے جائیں گے تم میرے ساتھ کھڑے ہو جاؤ گے مجھے جس بھی بھلائی کی طرف بلایا جائے گا تمہیں بھی اس بھلائی کی طرف بلایا جائے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی عمران بن میثم ہے اور وہ کذاب ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی عمران بن میثم ہے اور وہ کذاب ہے ۔