کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: حضرت علی رضی اللہ عنہ کے حلیہ کا بیان
حدیث نمبر: 14586
عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ : خَرَجْتُ مَعَ أَبِي إِلَى الْجُمُعَةِ وَأَنَا غُلَامٌ ، فَلَمَّا خَرَجَ عَلِيٌّ فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ قَالَ لِي أَبِي : قُمْ أَيْ عَمْرُو فَانْظُرْ إِلَى أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ قَالَ : فَقُمْتُ فَإِذَا هُوَ قَائِمٌ عَلَى الْمِنْبَرِ ، فَإِذَا هُوَ أَبْيَضُ اللِّحْيَةِ وَالرَّأْسِ ، عَلَيْهِ إِزَارٌ وَرِدَاءٌ ، لَيْسَ عَلَيْهِ قَمِيصٌ . قَالَ : فَمَا رَأَيْتُهُ جَلَسَ عَلَى الْمِنْبَرِ حَتَّى نَزَلَ عَنْهُ . قُلْتُ لِأَبِي إِسْحَاقَ : هَلْ قَنَتَ ؟ قَالَ : لَا . ¤
محمد محی الدین
ابواسحاق بیان کرتے ہیں : میں اپنے والد کے ساتھ جمعہ کی نماز کے لئے گیا ، میں لڑکا تھا ، جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ نکلے اور منبر پر چڑھے تو میرے والد نے مجھ سے کہا: اے عمرو ! تم اٹھو اور امیرالمؤمنین کی زیارت کر لو ۔ راوی کہتے ہیں : میں اٹھا تو میں نے دیکھا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ منبر پر کھڑے ہوئے تھے ۔ ان کی داڑھی اور سر کے بال سفید تھے ۔ انہوں نے ایک تہبند اور ایک چادر پہنے ہوئے تھے ، ان کے جسم پر قمیص نہیں تھی ۔ راوی کہتے ہیں : پھر میں نے انہیں منبر پر بیٹھے ہوئے نہیں دیکھا ، یہاں تک کہ وہ نیچے اتر آئے ، میں نے ابواسحاق سے دریافت کیا : کیا انہوں نے قنوت کیا تھا ، انہوں نے جواب دیا : جی نہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14586
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (155)»
حدیث نمبر: 14587
وَفِي رِوَايَةٍ : لَمْ أَرَهُ خَضَّبَ لِحْيَتَهُ ، ضَخْمُ الرَّأْسِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِأَسَانِيدَ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : میں نے انہیں نہیں دیکھا کہ انہوں نے داڑھی پر خضاب لگایا ہو ، ان کا سر بڑا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14587
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (152)»
حدیث نمبر: 14588
وَعَنْ شُعْبَةَ قَالَ : سَأَلْتُ أَبَا إِسْحَاقَ : أَنْتَ أَكْبَرُ مِنَ الشَّعْبِيِّ ؟ قَالَ : الشَّعْبِيُّ أَكْبَرُ مِنِّي بِسَنَةٍ أَوْ سَنَتَيْنِ . ¤ قَالَ : وَرَأَى أَبُو إِسْحَاقَ عَلِيًّا ، وَكَانَ يَصِفُهُ لَنَا : عَظِيمَ الْبَطْنِ ، أَجْلَحَ . ¤ قَالَ شُعْبَةُ : وَكَانَ أَبُو إِسْحَاقَ أَكْبَرَ مِنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ ، وَلَمْ يُدْرِكْ أَبُو الْبَخْتَرِيِّ عَلِيًّا وَلَمْ يَرَهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
شعبہ بیان کرتے ہیں : میں نے ابواسحاق سے دریافت کیا : آپ شعبی سے بڑے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا : شعبی مجھ سے ایک یا دو سال بڑے ہیں ۔ راوی کہتے ہیں : ابواسحاق نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی زیارت کی تھی ، وہ ہمارے سامنے ان کا حلیہ یہ بیان کرتے تھے کہ ان کا پیٹ بڑا تھا اور ان کے سر کے اطراف کے بال اڑ گئے تھے ۔ شعبہ بیان کرتے ہیں : ابواسحاق ابوبختری سے بڑے تھے ، ابوسختری نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا اور ان کی زیارت نہیں کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14588
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (159)»
حدیث نمبر: 14589
وَعَنْ أَبِي رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيِّ قَالَ : رَأَيْتُ عَلِيًّا سَمْتًا أَصْلَعَ الشَّعْرِ ، كَأَنَّ بِجَانِبِهِ إِهَابَ شَاةٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ابورجاء عطاردی بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا وہ باوقار تھے ، اور ان کے آگے کے بال نہیں تھے ، یوں لگتا تھا جیسے ان کے پہلو پر بکری کی کھال ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14589
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (161)»
حدیث نمبر: 14590
وَعَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ : رَأَيْتُ عَلِيًّا عَلَى الْمِنْبَرِ ، أَبْيَضَ اللِّحْيَةِ ، قَدْ مَلَأَتْ مَا بَيْنَ مَنْكِبَيْهِ . ¤ زَادَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ فِي حَدِيثِهِ : عَلَى رَأْسِهِ زُغَيْبَاتٌ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
امام شعبی بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو منبر پر دیکھا ان کی داڑھی سفید تھی اور اس نے ان کے سینے کو بھرا ہوا تھا ۔ یحیی بن سعید نے اپنی روایت میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ان کے سر پر تھوڑے سے بال تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14590
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (157)»
حدیث نمبر: 14591
عَنِ الْوَاقِدِيِّ قَالَ : يُقَالُ : كَانَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ آدَمَ ، رَبْعَةً ، مُسَمَّنًا ، ضَخْمَ الْمَنْكِبَيْنِ ، طَوِيلَ اللِّحْيَةِ ، أَصْلَعَ ، عَظِيمَ الْبَطْنِ ، غَلِيظَ الْعَيْنَيْنِ ، أَبْيَضَ الرَّأْسِ وَاللِّحْيَةِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ إِلَى الْوَاقِدِيِّ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
واقدی بیان کرتے ہیں : یہ بات کہی جاتی ہے : سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ گندمی رنگت کے درمیانے قد کے آدمی تھے وہ بھاری بھرکم شخص تھے ۔ ان کے کندھے چوڑے تھے ، داڑھی لمبی تھی ، سر کے اگلے حصے پر بال نہیں تھے ، پیٹ بڑھا ہوا تھا ، آنکھیں موٹی تھیں ، سر اور داڑھی کے بال سفید تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور واقدی تک اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14591
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (158)»
حدیث نمبر: 14592
وَعَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ قَالَ : ذُكِرَ لِأَبِي مَسْعُودٍ قَوْلُ عَلِيٍّ ، فَقَالَ : أَلَمْ تَرَ إِلَى رَأْسِهِ كَالطَّسْتِ ، وَإِنَّمَا حَوْلَهُ كَالْخِفَافِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ابوطفیل بیان کرتے ہیں : سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ کے سامنے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا قول بیان کیا گیا ، تو انہوں نے فرمایا : کیا تم نے ان کے سر کی طرف نہیں دیکھا جو طشت کی مانند تھا اور اس کے اردگرد کا حصہ خفاف کی مانند تھا ( یعنی سر کے درمیانی حصے میں بال نہیں تھے اور اطراف میں بال تھے ) ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14592
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (160)»