کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: نبی اکرم ﷺ کے اسماء کا بیان
عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ : بَيْنَا أَنَا أَمْشِي فِي طَرِيقِ الْمَدِينَةِ إِذَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ : " أَنَا مُحَمَّدٌ وَأَحْمَدُ وَنَبِيُّ الرَّحْمَةِ وَنَبِيُّ التَّوْبَةِ وَالْحَاشِرُ وَالْمُقَفِّي وَنَبِيُّ الْمَلَاحِمِ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ وَهُوَ ثِقَةٌ وَفِيهِ سُوءُ حِفْظٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ میں مدینہ منورہ کے راستے پر چلتا ہوا جا رہا تھا ، اسی دوران میں نے نبي اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ” میں محمد ہوں ، أحمد ہوں اور نبی رحمت ہوں ، اور نبی توبہ ہوں ، اور حاشر ہوں ، اور مقفی ہوں ، اور نبی ملاحم ہوں ۔ “
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ، امام أحمد کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف عاصم بن بہدلہ کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ، اس میں حافظے کی خرابی پائی جاتی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14060
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2378) اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (405/5)»
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَنَا أَحْمَدُ وَأَنَا مُحَمَّدُ وَأَنَا الْحَاشِرُ الَّذِي أَحْشُرُ النَّاسَ عَلَى قَدَمِي ، وَأَنَا الْمَاحِي الَّذِي يَمْحُو اللَّهُ بِهِ الْكُفْرَ ، فَإِذَا كَانَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَانَ لِوَاءُ الْحَمْدِ مَعِي وَكُنْتُ إِمَامَ الْمُرْسَلِينَ وَصَاحِبَ شَفَاعَتِهِمْ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عُرْوَةُ بْنُ مَرْوَانَ قِيلَ فِيهِ : لَيْسَ بِالْقَوِيِّ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میں أحمد ہوں ، اور میں محمد ہوں ، اور میں وہ حاشر ہوں کہ لوگوں کا حشر ، میرے قدموں میں کیا جائے گا ، اور میں مٹانے والا ہوں اللہ تعالیٰ میرے ذریعے کفر کو مٹا دے گا ، جب قیامت کا دن آئے گا ، تو ” لواء الحمد “ میرے پاس ہو گا اور میں ” مرسلین “ کا پیشوا ہوؤں گا اور ان کا شفاعت کرنے والا ہوؤں گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عروہ بن مروان ہے ، اس کے بارے میں کہا: گیا ہے : وہ قوی نہیں ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14061
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (1750)»
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " أَنَا أَحْمَدُ وَمُحَمَّدٌ وَالْحَاشِرُ وَالْمُقَفِّي وَالْخَاتَمُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” میں أحمد ہوں ، اور محمد ہوں ، اور حاشر ہوں ، اور مقفی ہوں اور خاتم ہوں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14062
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (156)»