حدیث نمبر: 14063
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ : جَلَسَ عُمَيْرُ بْنُ وَهْبٍ الْجُمَحِيُّ وَصَفْوَانُ بْنُ أُمَيَّةَ بَعْدَ مُصَابِ أَهْلِ بَدْرٍ مِنْ قُرَيْشٍ فِي الْحِجْرِ بِيَسِيرٍ ، وَكَانَ عُمَيْرُ بْنُ وَهْبٍ شَيْطَانًا مِنْ شَيَاطِينَ قُرَيْشٍ ، وَكَانَ مِمَّنْ يُؤْذِي رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَصْحَابَهُ وَيَلْقَوْنَ مِنْهُ عَنَاءَ أَذَاهُمْ بِمَكَّةَ ، وَكَانَ ابْنُ وَهْبِ بْنِ عُمَيْرٍ فِي أُسَارَى أَصْحَابِ بَدْرٍ . قَالَ : فَذَكَرُوا أَصْحَابَ الْقَلِيبِ بِمُصَابِهِمْ فَقَالَ : وَاللَّهِ إِنَّ فِي الْعَيْشِ خَيْرًا بَعْدَهُمْ . فَقَالَ عُمَيْرُ بْنُ وَهْبٍ : صَدَقْتَ وَاللَّهِ لَوْلَا دَيْنٌ عَلَيَّ لَيْسَ عِنْدِي قَضَاؤُهُ ، وَعِيَالِي أَخْشَى عَلَيْهِمُ الضَّيْعَةَ بَعْدِي لَرَكِبْتُ إِلَى مُحَمَّدٍ حَتَّى أَقْتُلَهُ فَإِنَّ لِي فِيهِمْ عِلَّةً ابْنِي عِنْدَهُمْ أَسِيرًا فِي أَيْدِيهِمْ . قَالَ : فَاغْتَنَمَهَا صَفْوَانُ فَقَالَ : عَلَيَّ دَيْنُكَ أَنَا أَقْضِيهِ عَنْكَ ، وَعِيَالُكَ مَعَ عِيَالِي أُسَوِّيهِمْ مَا بَقُوا لَا نَسَعُهُمْ بِعَجْزٍ عَنْهُمْ . قَالَ عُمَيْرٌ : اكْتُمْ عَنِّي شَأْنِي وَشَأْنَكَ . قَالَ : أَفْعَلُ ، ثُمَّ أَمَرَ عُمَيْرٌ بِسَيْفِهِ فَشُحِذَ وَسُمَّ ثُمَّ انْطَلَقَ إِلَى الْمَدِينَةِ . فَبَيْنَمَا عُمَرُ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - بِالْمَدِينَةِ فِي نَفَرٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ يَتَذَاكَرُونَ يَوْمَ بَدْرٍ وَمَا أَكْرَمَهُمُ اللَّهُ بِهِ وَمَا أَرَاهُمْ مِنْ عَدُوِّهِمْ ، إِذْ نَظَرَ إِلَى عُمَيْرِ بْنِ وَهْبٍ قَدْ أَنَاخَ بِبَابِ الْمَسْجِدِ مُتَوَشِّحًا السَّيْفَ فَقَالَ : هَذَا الْكَلْبُ وَاللَّهِ عُمَيْرُ بْنُ وَهْبٍ ، مَا جَاءَ إِلَّا لِشَرٍّ ، هَذَا الَّذِي حَرَّشَ بَيْنَنَا وَحَرَّزَنَا لِلْقَوْمِ يَوْمَ بَدْرٍ . ثُمَّ دَخَلَ عُمَرُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَذَا عُمَيْرُ بْنُ وَهْبٍ قَدْ جَاءَ مُتَوَشِّحًا بِالسَّيْفِ قَالَ : " فَأَدْخِلْهُ " . فَأَقْبَلَ عُمَرُ حَتَّى أَخَذَ بِحِمَالَةِ سَيْفِهِ فِي عُنُقِهِ فَلَبَّهُ بِهَا ، وَقَالَ عُمَرُ لِرِجَالٍ مِنَ الْأَنْصَارِ مِمَّنْ كَانَ مَعَهُ : ادْخُلُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَاجْلِسُوا عِنْدَهُ ، وَاحْذَرُوا هَذَا الْكَلْبَ عَلَيْهِ ; فَإِنَّهُ غَيْرُ مَأْمُونٍ . ثُمَّ دَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِهِ وَعُمَرُ آخِذٌ بِحِمَالَةِ سَيْفِهِ فَقَالَ : " أَرْسِلْهُ يَا عُمَرُ ، ادْنُ يَا عُمَيْرُ " . فَدَنَا فَقَالَ : أَنْعِمُوا صَبَاحًا . وَكَانَتْ تَحِيَّةَ أَهْلِ الْجَاهِلِيَّةِ بَيْنَهُمْ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " قَدْ أَكْرَمَنَا اللَّهُ بِتَحِيَّةٍ خَيْرٍ مِنْ تَحِيَّتِكَ يَا عُمَيْرُ ، السَّلَامُ تَحِيَّةُ أَهْلِ الْجَنَّةِ " . فَقَالَ : أَمَا وَاللَّهِ يَا مُحَمَّدُ إِنْ كُنْتُ لَحَدِيثَ عَهْدٍ بِهَا . قَالَ : " فَمَا جَاءَ بِكَ ؟ " . قَالَ : جِئْتُ لِهَذَا الْأَسِيرِ الَّذِي فِي أَيْدِيكُمْ فَأَحْسَبُهُ قَالَ : " فَمَا بَالَ السَّيْفِ فِي عُنُقِكَ ؟ " . قَالَ : قَبَّحَهَا اللَّهُ مِنْ سُيُوفٍ فَهَلْ أَغْنَتْ عَنَّا شَيْئًا ؟ قَالَ : " اصْدُقْنِي مَا الَّذِي جِئْتَ لَهُ ؟ " . قَالَ : مَا جِئْتُ إِلَّا لِهَذَا . قَالَ : " بَلَى قَعَدْتَ أَنْتَ وَصَفْوَانُ بْنُ أُمَيَّةَ فِي الْحِجْرِ فَتَذَاكَرْتُمَا أَصْحَابَ الْقَلِيبِ مِنْ قُرَيْشٍ فَقُلْتَ : لَوْلَا دَيْنٌ عَلَيَّ وَعِيَالِي لَخَرَجْتُ حَتَّى أَقْتُلَ مُحَمَّدًا . فَتَحَمَّلَ صَفْوَانُ لَكَ بِدَيْنِكَ وَعِيَالِكَ عَلَى أَنْ تَقْتُلَنِي ، وَاللَّهُ حَائِلٌ بَيْنَكَ وَبَيْنَ ذَلِكَ " . قَالَ عُمَيْرٌ : أَشْهَدُ أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ ، قَدْ كُنَّا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، نُكَذِّبُكَ بِمَا كُنْتَ تَأْتِينَا بِهِ مِنْ خَبَرِ السَّمَاءِ ، وَمَا يَنْزِلُ عَلَيْكَ مِنَ الْوَحْيِ ، وَهَذَا أَمْرٌ لَمْ يَحْضُرْهُ إِلَّا أَنَا وَصَفْوَانُ ، فَوَاللَّهِ إِنِّي لَأَعْلَمُ مَا أَنْبَأَكَ بِهِ إِلَّا اللَّهُ ، فَالْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي هَدَانِي لِلْإِسْلَامِ وَسَاقَنِي هَذَا الْمَسَاقَ . ثُمَّ شَهِدَ شَهَادَةَ الْحَقِّ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " فَقِّهُوا أَخَاكُمْ فِي دِينِهِ وَأَقْرِئُوهُ الْقُرْآنَ وَأَطْلِقُوا لَهُ أَسِيرَهُ " . ثُمَّ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي كُنْتُ جَاهِدًا عَلَى إِطْفَاءِ نُورِ اللَّهِ ، شَدِيدَ الْأَذَى لِمَنْ كَانَ عَلَى دِينِ اللَّهِ ، وَإِنِّي أُحِبُّ أَنْ تَأْذَنَ لِي فَأَقْدَمُ مَكَّةَ فَأَدْعُوهُمْ إِلَى اللَّهِ وَإِلَى الْإِسْلَامِ ، لَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يَهْدِيَهُمْ وَلَا أُؤْذِيهِمْ كَمَا كُنْتُ أُؤْذِي أَصْحَابَكَ فِي دِينِهِمْ . فَأَذِنَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَحِقَ بِمَكَّةَ . وَكَانَ صَفْوَانُ حِينَ خَرَجَ عُمَيْرُ بْنُ وَهْبٍ قَالَ لِقُرَيْشٍ : أَبْشِرُوا بِوَقْعَةٍ تُنْسِيكُمْ وَقْعَةَ بَدْرٍ . وَكَانَ صَفْوَانُ يَسْأَلُ عَنْهُ الرُّكْبَانَ ، حَتَّى قَدِمَ رَاكِبٌ فَأَخْبَرَهُ بِإِسْلَامِهِ فَحَلَفَ أَنْ لَا يُكَلِّمَهُ أَبَدًا وَلَا يَنْفَعَهُ بِنَفْعٍ أَبَدًا . فَلَمَّا قَدِمَ عُمَيْرٌ مَكَّةَ أَقَامَ بِهَا يَدْعُو إِلَى الْإِسْلَامِ ، وَيُؤْذِي مَنْ خَالَفَهُ أَذًى شَدِيدًا ، فَأَسْلَمَ عَلَى يَدَيْهِ نَاسٌ كَثِيرٌ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مُرْسَلًا وَإِسْنَادُهُ جَيِّدٌ . ¤
محمد محی الدین
محمد بن جعفر بن زبیر بیان کرتے ہیں ۔ عمیر بن وہب جمحی اور صفوان بن امیہ ، قریش کو بدر میں ہونے والے نقصان کے بعد حطیم میں بیٹھے ہوئے تھے ، عمیر بن وہب قریش کے شیاطین میں سے ایک تھا ، یہ اُن افراد میں سے تھا ، جو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کو ایذاء دیا کرتے تھے اور جب وہ لوگ مکہ میں موجود تھے تو اس شخص کی طرف سے ان حضرات کو بڑی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا ، وہب بن عمیر کا بیٹا ، بدر کے قیدیوں میں شامل تھا ، راوی بیان کرتے ہیں : ان لوگوں نے بدر میں مرنے والے مشرکین کا ذکر کیا اور پھر یہ کہا: اللہ کی قسم ! ان کے بعد زندگی میں کوئی بھلائی نہیں ہے ، تو عمیر بن وہب نے کہا: تم ٹھیک کہہ رہے ہو ، اللہ کی قسم ! اگر میرے ذمہ قرض نہ ہوتا ، جس کی ادائیگی کا میرے پاس بندوبست نہیں ہے ، اور مجھے اپنے اہل و عیال کے خرچ کا اندیشہ نہ ہوتا ، تو میں سوار ہو کر سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے پاس جاتا ، یہاں تک کہ انہیں شہید کر دیتا ، اُن لوگوں میں میری ایک مجبوری بھی ہے ، اور وہ یہ کہ میرا بیٹا ان کے پاس قید ہے ، راوی بیان کرتے ہیں تو صفوان بن امیہ نے اس معاملے کو غنیمت سمجھا اور اس نے کہا: تمہارا قرض ادا کرنا میرے ذمہ ہے ، اور میں وہ تمہاری طرف سے ادا کر دوں گا ، اور تمہارے عیال ، میرے عیال کے ساتھ رہیں گے ، میں ان کے ساتھ برابر کا سلوک کروں گا ، جب تک وہ باقی رہیں گے ، ہم ان کے حوالے سے کسی عاجزی کا اظہار نہیں کریں گے ، عمیر نے کہا: پھر تم نے میرے اور اپنے معاملے کو پوشیدہ رکھنا ہے ، اس نے کہا: ٹھیک ہے ، پھر عمیر نے اپنی تلوار کے بارے میں حکم دیا ، اس کی دھار کو تیز کیا گیا ، اور اُسے زہر میں ڈبو دیا گیا ، پھر وہ مدینہ منورہ کی طرف روانہ ہو گیا ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ میں کچھ مسلمانوں کے درمیان موجود تھے ، وہ لوگ غزوہ بدر کا ذکر کر رہے تھے کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے انہیں عزت سے نوازا ، اور کس طرح ان کے دشمن کو شکست کا سامنا کرنا پڑا ، اسی دوران سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عمیر بن وہب کو دیکھا کہ وہ مسجد کے دروازے پر اپنے جانور کو باندھ رہا تھا ، اس نے گلے میں تلوار لٹکائی ہوئی تھی ، انہوں نے کہا: یہ کتا ، یہ اللہ کا دشمن ، عمیر بن وہب ، یہ ضرور کسی بری نیت سے ہی آیا ہو گا ، یہی وہ شخص ہے ، جس نے ہمارے درمیان افراتفری پیدا کرنے کی کوشش کی تھی ، اور غزوہ بدر کے دن ہمارا شمار کر کے دشمن کو بتایا تھا ، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ عمیر بن وہب آیا ہے ، اس نے تلوار لٹکائی ہوئی ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اسے اندر لے آؤ ! سیدنا عمر رضی اللہ عنہ گئے ، انہوں نے عمیر کی گردن میں موجود تلوار کو پکڑا ، اور اُسے گردن سے دبوچ کر لے آئے ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھ موجود انصار سے تعلق رکھنے والے افراد سے کہا: تم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھ جاؤ ، اور اس بات سے بچنے کی کوشش کرنا کہ یہ کتا آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر حملہ آور ہو ، کیونکہ اس سے اندیشہ ہے ، پھر وہ اُسے لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کی تلوار کے دستے کو پکڑا ہوا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے عمر ! اسے چھوڑ دو ! اے عمیر ! تم آگے آ جاؤ ! وہ قریب آیا ، اس نے کہا: تم لوگ صبح کے وقت نعمتیں حاصل کرو ، یہ زمانہ جاہلیت میں ، آپس میں سلام کرنے کا مخصوص طریقہ تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے ہمیں تمہارے سلام کے طریقے سے بہتر طریقے کے حوالے سے عزت دی ہے ، اے عمیر ! السلام علیکم کہنا ، اہل جنت کے سلام کا طریقہ ہے ، اس نے کہا: اللہ کی قسم ! اے سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) میرا تو واسطہ اسی سے ہی پڑا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم کس لئے آئے ہو ؟ اُس نے کہا: میں اُس قیدی کے سلسلے میں آیا ہوں ، جو آپ لوگوں کے پاس موجود ہے ، راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے ، روایت میں یہ الفاظ ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ جو تمہاری گردن میں تلوار ہے ، اس کی کیا وجہ ہے ؟ اس نے کہا: اللہ تعالیٰ ان تلواروں کا بیڑہ غرق کرے ، کیا یہ ہمارے کسی کام آ سکی ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم مجھے سچ بتاؤ کہ تم کس لئے آئے ہو ؟ اس نے کہا: میں صرف اسی کام کے لئے آیا ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی نہیں ! بلکہ تم اور صفوان بن امیہ ” حطیم “ میں بیٹھے ہوئے تھے ، اور تم دونوں قریش سے تعلق رکھنے والے ، بدر میں مارے جانے والے افراد کا ذکر کر رہے تھے ، تو تم نے یہ کہا: کہ اگر میرے ذمہ قرض نہ ہوتا اور مجھے اپنے بال بچوں کا خیال نہ ہوتا ، تو میں نکل کر جاتا اور سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کو قتل کر دیتا ، تو صفوان نے تمہارا قرض اور تمہارے بال بچوں کا خرچ اپنے ذمہ لے لیا ، اس شرط پر کہ تم مجھے قتل کر دو ، حالانکہ اللہ تعالیٰ تمہارے اور اس معاملے کے درمیان رکاوٹ ہے ، عمیر نے کہا: میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ آپ واقعی اللہ کے رسول ہیں ، یا رسول اللہ ! پہلے آپ آسمان کی خبروں کے حوالے سے ، جو کچھ ہمارے پاس لے کر آتے تھے ، ہم ان کے حوالے سے آپ کی تکذیب کرتے تھے اور آپ پر جو وحی نازل ہوتی تھی ، اس کی بھی تکذیب کرتے تھے ، لیکن اس معاملے میں ، تو صرف میں اور صفوان موجود تھے ، اللہ کی قسم ! مجھے پتہ چل گیا ہے کہ آپ کو اس کے بارے میں صرف اللہ تعالیٰ نے ہی بتایا ہو گا ، تو ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے ، جس نے مجھے اسلام کی ہدایت نصیب کی اور مجھے یہاں تک لے آیا ، پھر اس نے سچی گواہی دی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم لوگ اپنے بھائی کو اس کا دین سکھاؤ ! اسے قرآن پڑھاؤ اور اس کے قیدی کو چھوڑ دو ! “ ۔ پھر عمیر نے عرض کی : یا رسول اللہ ! پہلے میں اللہ کے نور کو بجھانے کے لئے بھرپور کوشش کیا کرتا تھا ، اور جو لوگ اللہ کے دین پر گامزن تھے ، انہیں شدید تکلیف دیا کرتا تھا ، اب میری یہ خواہش ہے کہ آپ مجھے اجازت دیں ، میں مکہ جاتا ہوں اور ان لوگوں کو اللہ اور اُس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اور اسلام کی طرف دعوت دوں گا ، ہو سکتا ہے ، اللہ تعالیٰ انہیں ہدایت دیدے ، ورنہ میں انہیں بھی اسی طرح اذیت پہنچاؤں گا ، جس طرح میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں کو ان کے دین کے حوالے سے اذیت پہنچایا کرتا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اجازت دیدی ، تو وہ مکہ چلا گیا ۔ جب عمیر بن وہب مکہ سے روانہ ہوا تھا ، تو صفوان نے قریش سے کہا: تھا : تم لوگ ایک اطلاع کے حوالے سے خوشخبری حاصل کرو ، جو عنقریب تمہارے پاس آنے والی ہے ، اور وہ اطلاع تمہیں بدر کا نقصان بھلا دے گی ، صفوان ، عمیر بن وہب کے بارے میں سواروں سے دریافت کرتا رہا ، یہاں تک کہ ایک سوار آیا اور اس نے عمیر کے اسلام قبول کرنے کے بارے میں صفوان کو بتایا تو صفوان نے یہ حلف اٹھایا کہ وہ اُس کے ساتھ کبھی کلام نہیں کرے گا اور اسے کبھی کوئی نفع نہیں پہنچائے گا ، جب عمیر مکہ آیا ، تو وہاں مقیم رہ کر اسلام کی طرف دعوت دینے لگا اور جو شخص اس کی مخالفت کرتا تھا ، وہ اسے اذیت پہنچاتا تھا ، پھر عمیر کے ہاتھ پر بہت سے لوگوں نے اسلام قبول کر لیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے ” مرسل “ روایت کے طور پر نقل کی ہے ، اور اس کی سند عمدہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے ” مرسل “ روایت کے طور پر نقل کی ہے ، اور اس کی سند عمدہ ہے ۔
حدیث نمبر: 14064
عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ نَحْوَهُ مُرْسَلًا وَقَالَ فِيهِ : فَفَرِحَ الْمُسْلِمُونَ حِينَ هَدَاهُ اللَّهُ وَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ : لَخِنْزِيرٌ كَانَ أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْهُ حِينَ اطَّلَعَ ، وَهُوَ الْيَوْمَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ بَعْضِ بَنِيَّ . ¤ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
عروہ بن زبیر کے حوالے سے ، اس کی مانند روایت ” مرسل “ حدیث کے طور پر منقول ہے ، جس میں یہ الفاظ ہیں : ” تو مسلمان اس بات پر خوش ہو گئے ، جب اللہ تعالیٰ نے اُسے ہدایت نصیب کی اور سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے یہ فرمایا : کہ جب یہ آیا تھا ، تو اس وقت خنزیر میرے نزدیک اس سے زیادہ محبوب تھا ، اور اب یہ میرے نزدیک میری اپنی اولاد سے زیادہ محبوب ہے ۔ “ اس روایت کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 14065
وَعَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ - لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا عَنْ أَنَسٍ - قَالَ : كَانَ وَهْبُ بْنُ عُمَيْرٍ شَهِدَ أُحُدًا كَافِرًا فَأَصَابَتْهُ جِرَاحَةٌ فَكَانَ فِي الْقَتْلَى ، فَمَرَّ بِهِ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فَعَرَفَهُ ، فَوَضَعَ سَيْفَهُ فِي بَطْنِهِ حَتَّى خَرَجَ مِنْ ظَهْرِهِ ثُمَّ تَرَكَهُ ، فَلَمَّا دَخَلَ اللَّيْلُ وَأَصَابَهُ الْبَرْدُ لَحِقَ بِمَكَّةَ فَبَرَأَ ، فَاجْتَمَعَ هُوَ وَصَفْوَانُ بْنُ أُمَيَّةَ فِي الْحِجْرِ ، فَقَالَ لِصَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ : لَوْلَا عِيَالِي وَدَيْنٌ عَلَيَّ لَأَحْبَبْتُ أَنْ أَكُونَ أَنَا الَّذِي أَقْتُلُ مُحَمَّدًا بِنَفْسِي . فَقَالَ صَفْوَانُ : فَكَيْفَ تَصْنَعُ ؟ فَقَالَ : أَنَا رَجْلٌ جَوَادٌ لَا أُلْحَقُ ، آتِيهِ فَأَغْتَرُّهُ ثُمَّ أَضْرِبُهُ بِالسَّيْفِ ، ثُمَّ أَلْحَقُ بِالْجَبَلِ وَلَا يَلْحَقُنِي أَحَدٌ . فَقَالَ لَهُ صَفْوَانُ : فَعِيَالُكَ وَدَيْنُكَ عَلَيَّ . فَخَرَجَ فَشَحَذَ سَيْفَهُ وَسَمَّهُ ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الْمَدِينَةِ لَا يُرِيدُ إِلَّا قَتْلَ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . فَلَمَّا قَدِمَ الْمَدِينَةَ رَآهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَهَالَهُ ذَلِكَ وَشَقَّ عَلَيْهِ وَقَالَ لِأَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : إِنِّي رَأَيْتُ وَهْبًا قَدِمَ فَرَابَنِي قُدُومُهُ ، وَهُوَ رَجُلٌ غَادِرٌ فَأَطِيفُوا بِنَبِيِّكُمْ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . فَأَطَافَ الْمُسْلِمُونَ بِالنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجَاءَ وَهْبٌ فَوَقَفَ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : أَنْعِمْ صَبَاحًا يَا مُحَمَّدُ . فَقَالَ : " قَدْ أَبْدَلَنَا اللَّهُ خَيْرًا مِنْهَا " . فَقَالَ : عَهْدِي بِكَ تُحَدَّثُ بِهَا وَأَنْتَ مُعْجَبٌ . فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا أَقْدَمَكَ ؟ " . قَالَ : جِئْتُ أَفْدِي أَسَارَاكُمْ . قَالَ : " مَا بَالُ السَّيْفِ ؟ " . قَالَ : أَمَا إِنَّا قَدْ حَمَلْنَاهَا يَوْمَ بَدْرٍ فَلَمْ نَفْلَحْ وَلَمْ نَنْجَحْ . قَالَ : " فَمَا شَيْءٌ قُلْتَ لِصَفْوَانَ وَأَنْتُمَا فِي الْحِجْرِ : لَوْلَا عِيَالِي وَدَيْنِي لَكُنْتُ أَنَا الَّذِي أَقْتُلُ مُحَمَّدًا بِنَفْسِي ؟ " . فَأَخْبَرَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْخَبَرَ فَقَالَ وَهْبٌ : هَاهْ كَيْفَ قُلْتَ ؟ فَأَعَادَ عَلَيْهِ . قَالَ وَهْبٌ : قَدْ كُنْتَ تُخْبِرُنَا خَبَرَ أَهْلِ الْأَرْضِ فَنُكَذِّبُكَ ، فَأَرَاكَ تُخْبِرُ خَبَرَ أَهْلِ السَّمَاءِ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ . فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَعْطِنِي عِمَامَتَكَ . فَأَعْطَاهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عِمَامَتَهُ ثُمَّ رَجَعَ رَاجِعًا إِلَى مَكَّةَ . فَقَالَ عُمَرُ : لَقَدْ قَدِمَ وَإِنَّهُ لَأَبْغَضُ إِلَيَّ مِنَ الْخِنْزِيرِ ، ثُمَّ رَجَعَ وَهُوَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ وَلَدِي . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ابوعمران جونی بیان کرتے ہیں : راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے انہوں نے اسے سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نقل کیا ہے ، وہ بیان کرتے ہیں : وہب بن عمیر ، غزوہ اُحد میں کافر ہونے کے طور پر شریک ہوا تھا ، اُسے زخم لاحق ہوئے ، وہ مقتولین میں پڑا ہوا تھا ، انصار سے تعلق رکھنے والا ایک شخص اس کے پاس سے گزرا ، اس نے اسے پہچان لیا ، اس نے اپنی تلوار اس کے پیٹ پر رکھی اور وہ اس کی پشت سے پار ہو گئی ، پھر اس نے اسے اس کے حال پر چھوڑ دیا ، جب رات آئی اور اسے ٹھنڈک لاحق ہوئی ، تو وہ وہاں سے بھاگ کر مکہ چلا گیا اور پھر بعد میں تندرست ہو گیا ، ایک مرتبہ وہ اور صفوان بن امیہ ” حطیم “ میں بیٹھے ہوئے تھے ، اُس نے صفوان بن امیہ سے کہا: اگر میرے بال بچوں کا مسئلہ نہ ہوتا اور میرے ذمہ لازم قرض کا مسئلہ نہ ہوتا ، تو میری یہ خواہش تھی کہ میں وہ فرد بنتا ، جو بذات خود سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کو قتل کر دیتا ، صفوان نے کہا: تم نے یہ کیسے کرنا تھا ؟ اس نے کہا: میں ایک ایسا شخص ہوں ، جو شہسوار ہے ، جس تک پہنچا نہیں جا سکتا ، میں اُن کے پاس جاتا اور دھوکے سے اُن پر تلوار کا وار کر دیتا ، پھر میں پہاڑ پر چلا جاتا ، کوئی شخص مجھ تک نہیں پہنچ سکتا تھا ، تو صفوان نے کہا: پھر تمہارے بال بچے اور تمہارا قرض میرے ذمہ ہے ۔ وہب بن عمیر وہاں سے نکلا ، اُس نے اپنی تلوار کو تیار کیا ، اُس کو زہر میں ڈبویا اور پھر مدینہ منورہ کی طرف نکل کھڑا ہوا ، اُس کا ارادہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو شہید کرنے کا تھا ، جب وہ مدینہ منورہ آیا ، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسے دیکھ لیا ، وہ اس کے حوالے سے پریشان ہو گئے اور یہ بات ان پر گراں گزری ، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب سے کہا: میں نے وہب کو دیکھا ہے کہ وہ آیا ہے ، تو اس کا آنا مجھے شک میں مبتلا کر رہا ہے ، وہ عہد شکن شخص ہے ، تو تم لوگ اپنے نبی کے گرد گھیرا بنا لو ، مسلمانوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد گھیرا بنا لیا ، جب وہب آیا ، تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر ٹھہرا ، اُس نے کہا: اے سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! صبح کے وقت نعمتیں نصیب ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس کے بدلے میں زیادہ بہتر سلام عطا کر دیا ہے ، اس نے کہا: آپ کے ساتھ میرا جب آخری سامنا ہوا تھا ، تو آپ اُس وقت میری ہی طرح سلام کیا کرتے تھے ، اور آپ پر حیرانگی ہوتی تھی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے دریافت کیا : تم کیوں آئے ہو ؟ اس نے کہا: میں آپ کے قیدیوں کا فدیہ دینے کے لئے آیا ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ تلوار کس لئے ہے ؟ اس نے کہا: یہ تلواریں تو ہم نے غزوہ بدر کے دن بھی اُٹھائی ہوئی تھیں ، لیکن نہ ہم کامیاب ہوئے اور نہ ہی ہمیں کامیابی نصیب ہوئی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تو وہ کیا بات تھی ؟ جو تم نے صفوان سے کہی تھی ، جب تم دونوں ” حطیم “ میں موجود تھے کہ اگر میرے بال بچوں کا اور میرے قرض کا معاملہ نہ ہوتا ، تو میں بذات خود سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کو قتل کر دیتا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ساری بات بتائی ، تو وہب نے کہا: ارے یہ آپ کیسے بیان کر رہے ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سامنے بات دہرا دی ، تو اس نے کہا: پہلے آپ ہمیں اہل زمین کی خبریں دیا کرتے تھے ، تو ہم آپ کی بات کو جھٹلاتے تھے ، اور آپ کے بارے میں میری یہ رائے ہے کہ آپ اہل آسمان کے بارے خبریں دے رہے ہیں ، تو میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور آپ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ اپنا عمامہ مجھے دیجئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا عمامہ اُسے دیا اور پھر وہ مکہ واپس چلا گیا ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : جب وہ آیا تھا ، تو وہ میرے نزدیک خنزیر سے زیادہ ناپسندیدہ تھا ، جب وہ واپس گیا تو وہ میرے نزدیک میری اولاد سے زیادہ محبوب تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 14066
وَعَنْ أَبَانَ بْنِ سَلْمَانَ ، عَنْ أَبِيهِ سَلْمَانَ قَالَ : كَانَ إِسْلَامُ قُبَاثِ بْنِ أَشْيَمَ اللَّيْثِيِّ أَنَّ رِجَالًا مِنَ الْعَرَبِ وَغَيْرِهِمْ أَتَوْهُ فَقَالُوا : إِنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ خَرَجَ يَدْعُو إِلَى غَيْرِ دِينِنَا . فَقَامَ قُبَاثُ حَتَّى أَتَى رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيْهِ قَالَ لَهُ : " اجْلِسْ يَا قُبَاثُ " . فَأَوْجَمَ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : أَنْتَ الْقَائِلُ : " لَوْ خَرَجَتْ نِسَاءُ قُرَيْشٍ بِأَجْمَعِهَا رَدَّتْ مُحَمَّدًا وَأَصْحَابَهُ " . فَقَالَ قُبَاثُ : وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا تَحَرَّكَ بِهِ لِسَانِي وَلَا تَرَمْرَمَتْ بِهِ شَفَتَايَ وَلَا سَمِعَهُ مِنِّي أَحَدٌ ، وَمَا هُوَ إِلَّا شَيْءٌ هَجَسَ فِي نَفْسِي ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ، وَأَنَّ مَا جِئْتَ بِهِ الْحَقُّ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤ قُلْتُ : وَقَدْ تَقَدَّمَتْ قِصَّةُ الْعَبَّاسِ فِي غَزْوَةِ بَدْرٍ . وَقِصَّةُ ذِي الْجَوْشَنِ فِي غَزْوَةِ الْفَتْحِ . ¤ وَحَدِيثُ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ فِي قِصَّةِ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ الَّذِي كَانَ فِي عِيرِ خَدِيجَةَ فِي عَجَائِبِ الْمَخْلُوقَاتِ . وَحَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ فِي مَنَاقِبِهِ . وَغَيْرُ ذَلِكَ . ¤
محمد محی الدین
ابان بن سلمان اپنے والد سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : سیدنا قباث بن اشیم لیثی رضی اللہ عنہ کے اسلام قبول کرنے کا واقعہ یہ ہے کہ عربوں اور دیگر علاقوں سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد ان کے پاس آئے اور بولے : سیدنا محمد بن عبدالمطلب صلی اللہ علیہ وسلم نکلے ہیں اور وہ ہمارے دین کے علاوہ ، دین کی طرف دعوت دیتے ہیں ، تو قباث اُٹھے اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، جب وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : اے قباث ! بیٹھ جاؤ ! تو وہ غصے کے عالم میں خاموش رہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : تم نے ہی یہ بات کہی ہے کہ اگر قریش کی ساری عورتیں نکل آئیں تو وہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اور اُن کے ساتھیوں کو واپس کر دیں گی ، قباث نے کہا: اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے ، اس بارے میں میری زبان نے حرکت نہیں کی ، میرے ہونٹوں نے یہ لفظ ادا نہیں کیے ، اور یہ بات کسی نے مجھ سے نہیں سنی ، یہ تو صرف ایک ایسی بات ہے جو میں نے دل میں سوچی تھی ، میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، وہی ایک معبود ہے ، اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں ، اور آپ جو لے کر آئے ہیں ، وہ حق ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس سے پہلے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کا واقعہ غزوہ بدر سے متعلق باب میں گزر چکا ہے ، اور ” غزوہ فتح “ سے متعلق باب میں ذوالجوشن کا واقعہ گزر چکا ہے ۔ اس کے علاوہ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ حدیث ہے ، جو سیدنا خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ کے بارے میں ہے ، جو سیدنا خدیجہ رضی اللہ عنہا کے قافلے میں شامل تھے ، یہ مخلوقات کے عجائب سے متعلق باب میں گزرا ہے ۔ سیدنا عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ حدیث ان کے مناقب سے متعلق باب میں آئے گی اور دیگر روایات بھی آئیں گی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس سے پہلے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کا واقعہ غزوہ بدر سے متعلق باب میں گزر چکا ہے ، اور ” غزوہ فتح “ سے متعلق باب میں ذوالجوشن کا واقعہ گزر چکا ہے ۔ اس کے علاوہ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ حدیث ہے ، جو سیدنا خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ کے بارے میں ہے ، جو سیدنا خدیجہ رضی اللہ عنہا کے قافلے میں شامل تھے ، یہ مخلوقات کے عجائب سے متعلق باب میں گزرا ہے ۔ سیدنا عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ حدیث ان کے مناقب سے متعلق باب میں آئے گی اور دیگر روایات بھی آئیں گی ۔
حدیث نمبر: 14067
وَعَنْ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ رَفَعَ لِيَ الدُّنْيَا فَأَنَا أَنْظُرُ إِلَيْهَا وَإِلَى مَا هُوَ كَائِنٌ فِيهَا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ، كَأَنَّمَا أَنْظُرُ إِلَى كَفِّي هَذِهِ جَلِيَّانِ جَلَاهُ اللَّهُ لِنَبِيِّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَمَا جَلَاهُ لِلنَّبِيِّينَ مِنْ قَبْلِهِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا عَلَى ضَعْفٍ كَثِيرٍ فِي سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ الرَّهَاوِيِّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک اللہ تعالیٰ نے میرے سامنے دنیا کو بلند کیا ، تو میں نے اس کی طرف دیکھ لیا اور قیامت تک جو کچھ اس میں ہو گا ، وہ بھی دیکھ لیا ، یوں جیسے میں اپنی ہتھیلی کو دیکھ رہا ہوں ، یہ وہ ظاہر کرنا ہے ، جو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کے لئے ظاہر کیا ، جس طرح اُس نے اس چیز کو اس سے پہلے کے انبیاء کے لئے ظاہر کیا تھا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ، اگرچہ سعید بن سنان رہادی میں بہت زیادہ ضعف پایا جاتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ، اگرچہ سعید بن سنان رہادی میں بہت زیادہ ضعف پایا جاتا ہے ۔
حدیث نمبر: 14068
وَعَنْ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ : لَمَّا بُعِثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعَثَ كِسْرَى إِلَى عَامِلِهِ عَلَى أَرْضِ الْيَمَنِ وَمَنْ يَلِيهِ مِنَ الْعَرَبِ وَكَانَ يُقَالُ لَهُ : بَاذَامُ أَنَّهُ بَلَغَنِي أَنَّهُ خَرَجَ رَجُلٌ قِبَلَكَ يَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ فَقُلْ لَهُ فَلْيَكُفَّ عَنْ ذَلِكَ أَوْ لَأَبْعَثَنَّ إِلَيْهِ مَنْ يَقْتُلُهُ أَوْ يَقْتُلُ قَوْمَهُ . قَالَ : فَجَاءَ رَسُولُ بَاذَامَ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ لَهُ هَذَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَوْ كَانَ شَيْءٌ فَعَلْتُهُ مِنْ قِبَلِي كَفَفْتُ وَلَكِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ بَعَثَنِي " . فَأَقَامَ الرَّسُولُ عِنْدَهُ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ رَبِّي قَتَلَ كِسْرَى وَلَا كِسْرَى بَعْدَ الْيَوْمِ ، وَقَتَلَ قَيْصَرَ وَلَا قَيْصَرَ بَعْدَ الْيَوْمِ " . قَالَ : فَكَتَبَ قَوْلَهُ فِي السَّاعَةِ الَّتِي حَدَّثَهُ وَالْيَوْمِ الَّذِي حَدَّثَهُ وَالشَّهْرِ الَّذِي حَدَّثَهُ فِيهِ ثُمَّ رَجَعَ إِلَى بَاذَامَ فَإِذَا كِسْرَى قَدْ مَاتَ وَإِذَا قَيْصَرُ قَدْ قُتِلَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ كَثِيرِ بْنِ زِيَادٍ وَهُوَ ثِقَةٌ وَعِنْدَ أَحْمَدَ طَرَفٌ مِنْهُ وَكَذَلِكَ الْبَزَّارُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث کیا گیا ، تو کسریٰ نے یمن اور اس کے آس پاس کے عرب علاقوں میں ، اپنے مقرر کردہ گورنر کی طرف پیغام بھیجا ، اس گورنر کا نام ” باذام “ تھا کہ مجھے یہ اطلاع ملی ہے کہ تمہاری طرف ایک صاحب کا ظہور ہوا ہے ، جو یہ کہتے ہیں : کہ وہ نبی ہیں ، تو تم ان سے کہو کہ یا تو وہ اس بات سے باز آ جائیں یا پھر میں ان کی طرف ایسے افراد کو بھیجوں گا ، جو انہیں اور ان کے ساتھیوں کو قتل کر دیں گے ، راوی بیان کرتے ہیں : ” باذام “ کا قاصد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس نے یہ بات کی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اگر یہ کوئی ایسی چیز ہوتی ، جو میں اپنی طرف سے کر رہا ہوتا ، تو میں نے اس سے باز آ جانا تھا ، لیکن اللہ تعالیٰ نے مجھے مبعوث کیا ہے ، وہ قاصد کچھ عرصہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مقیم رہا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس سے فرمایا : ” میرے پروردگار نے کسریٰ کو قتل کروا دیا ہے ، اور آج کے بعد کوئی کسریٰ نہیں رہے گا اور قیصر کو قتل کروا دیا ہے ، اور آج کے بعد کوئی قیصر نہیں رہے گا ۔ “ راوی بیان کرتے ہیں : اُس نے وہ وقت نوٹ کر لیا ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی تھی اور وہ دن نوٹ کر لیا ، جس دن میں یہ بات ارشاد فرمائی تھی ، اور وہ مہینہ نوٹ کر لیا ، جس میں یہ بات ارشاد فرمائی تھی ، وہ بادام کی طرف واپس گیا تو کسریٰ مر چکا تھا اور قیصر قتل ہو چکا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، البتہ کثیر بن زیاد کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ، امام أحمد نے اس کا ایک حصہ نقل کیا ہے ، اور امام بزار نے بھی اسے اسی طرح نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، البتہ کثیر بن زیاد کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ، امام أحمد نے اس کا ایک حصہ نقل کیا ہے ، اور امام بزار نے بھی اسے اسی طرح نقل کیا ہے ۔
حدیث نمبر: 14069
وَعَنْ خُرَيْمِ بْنِ أَوْسٍ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " هَذِهِ الْحِيرَةُ الْبَيْضَاءُ قَدْ رُفِعَتْ لِي ، وَهَذِهِ الشَّمَّاءُ بَنْتُ بُقَيْلَةَ الْأَزْدِيَّةُ عَلَى بَغْلَةٍ شَهْبَاءَ مُعْتَجَرِةً بِخِمَارٍ أَسْوَدَ " . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنْ دَخَلْنَا الْحِيرَةَ وَوَجَدْتُهَا عَلَى هَذِهِ الصِّفَةِ فَهِيَ لِي ؟ قَالَ : " هِيَ لَكَ " . ثُمَّ ارْتَدَّتِ الْعَرَبُ فَلَمْ يَرْتَدَّ أَحَدٌ مِنْ طَيِّئٍ فَكُنَّا نُقَاتِلُ قَيْسًا عَلَى الْإِسْلَامِ وَمِنْهُمْ عُتْبَةُ بْنُ حِصْنٍ وَكُنَّا نُقَاتِلُ طُلَيْحَةَ بْنَ خُوَيْلِدٍ الْفَقْعَسِيَّ فَامْتَدَحَنَا خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ وَكَانَ فِيمَا قَالَ فِينَا : جَزَى اللَّهُ عَنَّا طَيِّئًا فِي دِيَارِهَا بِمُعْتَرَكِ الْأَبْطَالِ خَيْرَ جَزَاءِ هُمُ أَهْلُ رَايَاتِ السَّمَاحَةُ وَالنَّدَى إِذَا مَا الصَّبَا أَلْوَتْ بِكُلِّ خِبَاءِ هُمُ ضَرَبُوا قَيْسًا عَلَى الدِّينِ بَعْدَ مَا أَجَابُوا مُنَادِيَ ظُلْمَةٍ وَعَمَاءِ ثُمَّ سَارَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ إِلَى مُسَيْلِمَةَ فَسِرْنَا مَعَهُ ، فَلَمَّا فَرَغْنَا مِنْ مُسَيْلِمَةَ وَأَصْحَابِهِ أَقْبَلْنَا إِلَى نَاحِيَةِ الْبَصْرَةِ ، فَلَقِينَا هُرْمُزَ بِكَاظِمَةَ فِي جَمْعٍ عَظِيمٍ وَلَمْ يَكُنْ أَحَدٌ أَعْدَى لِلْعَرَبِ مِنْ هُرْمُزَ . فَبَرَزَ لَهُ ابْنُ الْوَلِيدِ وَدَعَا إِلَى الْبِرَازِ ، فَبَرَزَ لَهُ هُرْمُزُ ، فَقَتَلَهُ خَالِدٌ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - وَكَتَبَ بِذَلِكَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَنَفَّلَهُ سَلَبَهُ ، فَبَلَغَتْ قَلَنْسُوَةُ هُرْمُزَ بِمِئَةِ أَلْفِ دِرْهَمٍ وَكَانَتْ الْفُرْسُ إِذَا أَشْرَفَ فِيهَا رَجُلٌ جَعَلُوا قَلَنْسُوَتَهُ مِائَةَ أَلْفِ دِرْهَمٍ ، ثُمَّ سِرْنَا عَلَى طَرِيقٍ حَتَّى دَخَلْنَا الْحِيرَةَ ، فَكَانَ أَوَّلُ مَنْ تَلَقَّانَا فِيهَا شَيْمَاءَ بِنْتَ بُقَيْلَةَ عَلَى بَغْلَةٍ لَهَا شَهْبَاءَ بِخِمَارٍ أَسْوَدَ كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَعَلَّقْتُ بِهَا وَقُلْتُ : هَذِهِ وَهَبَهَا لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَدَعَانِي خَالِدٌ عَلَيْهَا الْبَيِّنَةَ ، فَأَتَيْتُهُ بِهَا ، فَسَلَّمَهَا إِلَيَّ وَنَزَلَ إِلَيْنَا أَخُوهَا عَبْدُ الْمَسِيحِ فَقَالَ لِي : بِعْنِيهَا ، فَقُلْتُ لَهُ : لَا أَنْقُصُهَا وَاللَّهِ مِنْ عَشْرِ مِائَةٍ شَيْئًا ، فَدَفَعَ إِلَيَّ أَلْفَ دِرْهَمٍ فَقِيلَ لِي : لَوْ قُلْتَ : مِائَةَ أَلْفٍ ، دَفَعَهَا إِلَيْكَ . فَقُلْتُ : لَا أَحْسَبُ أَنَّ مَالًا أَكْثَرَ مِنْ عَشْرِ مِائَةٍ . وَبَلَغَنِي فِي غَيْرِ هَذَا الْحَدِيثِ أَنَّ الشَّاهِدَيْنِ كَانَا مُحَمَّدَ بْنَ مَسْلَمَةَ وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا خریم بن اوس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” یہ حیرہ ، میرے سامنے بلند ہوا ، اور یہ شیماء بنت بقیلہ ازدیہ ہے ، جو ایک سفید خچر پر سوار ہے ، اور اس نے سیاہ رنگ کی پٹی سر پر باندھی ہوئی ہے ۔ “ راوی کہتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اگر ہم حیرہ میں داخل ہوئے اور میں نے اس خاتون کو ایسی حالت میں پایا ، تو وہ میری ہو گی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ تمہاری ہو گی ، راوی بیان کرتے ہیں : پھر عرب مرتد ہو گئے ، لیکن طائی قبیلے کا کوئی فرد مرتد نہیں ہوا ، ہم نے قیس کے ساتھ اسلام کی بنیاد پر جنگ کی ، ان میں ایک عتبہ بن حصن تھا ، ہم نے طلیحہ بن خویلد فقعسی سے جنگ کی ، ہم نے اس حوالے سے سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی تعریف کی اور جو کچھ انہوں نے ہمارے بارے میں کہا: تھا ، اس میں یہ الفاظ بھی ہیں : ” اللہ تعالیٰ ہماری طرف سے طے قبیلے کو جزائے خیر عطا کرے ، جنہوں نے جنگجو افراد کے میدان میں ، اپنے علاقے میں بھرپور لڑائی کی تھی ، وہ مہربانی کے جھنڈے اٹھانے والے تھے اور آوازیں نکالنے والے تھے ، جب بھی تیز ہوا ، ہر خیمے کو الٹ دیتی تھی ، انہوں نے دین کی وجہ سے قیس قبیلے کے لوگوں پر ضرب لگائی ، اس کے بعد کہ جب اُن ( قیس قبیلے کے ) لوگوں نے ظلمت اور اندھے پن کی دعوت دینے والوں کی بات کو قبول کیا تھا ۔ “ پھر سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ مسیلمہ کی طرف روانہ ہوئے ، ہم بھی ان کے ساتھ روانہ ہو گئے ، جب ہم مسیلمہ اور اس کے ساتھیوں سے فارغ ہوئے ، تو ہم بصرہ کے کنارے کی طرف آئے ، وہاں ایک بڑے گروہ میں ہمارا سامنا کا ظمہ کے مقام پر ہرمز سے ہوا ، عربوں کا ہرمز سے بڑا دشمن اور کوئی نہیں تھا ۔ ابوسکین نامی راوی کہتے ہیں : یہ چیز ضرب المثل کی حیثیت رکھتی ہے لوگ کہتے ہیں : یہ ہرمز سے بڑا کافر ہے ۔ سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ اس کے سامنے آئے ، انہوں نے اسے مقابلے کی دعوت دی ، ہرمز ان کے سامنے آیا ، سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے اسے قتل کر دیا ، انہوں نے اس بارے میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو خط لکھا ، تو ہرمز کا ساز و سامان سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کو انعام کے طور پر دیا ، ہرمز کی ٹوپی کی قیمت ایک لاکھ درہم تھی ، ایرانیوں کا یہ معمول تھا ، جب کوئی شخص ان کا سردار بنتا تھا ، تو اُسے ایک لاکھ درہم کی ٹوپی بنا دیتے تھے ۔ پھر ہم ” طف“ کے راستے پر چلتے ہوئے حیرہ کے مقام پر پہنچ گئے ، وہاں ہمارے سامنے سب سے پہلے شیماء بنت بقیلہ نامی خاتون آئی ، جو اپنے سفید خچر پر سوار تھی ، اس نے سیاہ چادر اوڑھی ہوئی تھی ، جس طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کیا تھا ، تو میں نے اس عورت کے بارے میں کہا: یہ عورت اللہ کے رسول نے مجھے ہبہ کی تھی ، سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے اس بارے میں مجھ سے ثبوت مانگا ، میں نے انہیں ثبوت پیش کیا ، تو انہوں نے وہ خاتون میرے حوالے کر دی ، اُس خاتون کا بھائی عبدالمسیح ہمارے پاس آیا ، اس نے مجھ سے کہا: تم اس کا میرے ساتھ سودا کر لو ، میں نے کہا: اللہ کی قسم ! میں ایک ہزار سے کم نہیں کروں گا ، تو اس نے مجھے ایک ہزار دیدیے ، مجھ سے کہا: گیا : اگر تم ایک لاکھ مانگتے تو اُس نے تمہیں وہ بھی دے دینے تھے ، میں نے کہا: مجھے نہیں پتا تھا کہ ایک ہزار سے زیادہ بھی مال ہوتا ہے ۔ اس روایت کے علاوہ ایک روایت میں یہ بات نقل ہوئی ہے : وہ دو گواہ سیدنا محمد بن مسلمہ بن اور سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔
حدیث نمبر: 14070
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : كَانَ يَوْمٌ مِنَ السَّنَةِ تَجْتَمِعُ فِيهِ نِسَاءُ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عِنْدَهُ يَوْمًا إِلَى اللَّيْلِ قَالَتْ : وَفِي ذَلِكَ الْيَوْمِ قَالَ : " أَسْرَعُكُنَّ لُحُوقًا أَطْوَلُكُنَّ يَدًا " . قَالَتْ : فَجَعَلْنَا نَتَذَارَعُ بَيْنَنَا أَيُّنَا أَطْوَلُ يَدَيْنِ . قَالَتْ : وَكَانَتْ سَوْدَةُ أَطْوَلُهُنَّ يَدًا ، فَلَمَّا تُوُفِّيَتْ سَوْدَةُ عَلِمْنَا أَنَّهَا كَانَتْ أَطْوَلَهُنَّ يَدًا فِي الْخَيْرِ وَالصَّدَقَةِ . قَالَتْ : وَكَانَتْ زَيْنَبُ تَغْزِلُ الْغَزْلَ وَتُعْطِيهِ سَرَايَا النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَخِيطُونَ بِهِ وَيَسْتَعِينُونَ بِهِ فِي مَغَازِيهِمْ . قَالَتْ : وَفِي ذَلِكَ الْيَوْمِ قَالَ : " كَيْفَ بِإِحْدَاكُنَّ يَنْبَحُ عَلَيْهَا كِلَابُ الْحَوْأَبِ " . قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ بَعْضُهُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا وَفِي بَعْضِهِمْ ضَعْفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام ازواج سال میں ایک دن پورا دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہا کرتی تھیں ، اسی طرح کے ایک دن میں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم میں سے سب سے زیادہ لیے ہاتھ والی ، مجھ سے سب سے پہلے آ کے ملے گی ۔ “ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : ہم نے اپنے ہاتھ ناپنا شروع کیے ، تو سیدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا کا ہاتھ سب سے زیادہ لمبا تھا ، لیکن جب سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا کا ( متن میں اسی طرح مذر ہے ، تاہم لفظ یہ ہے : سیدہ زینب رضی اللہ عنہا ) کا انتقال ہوا ، تو ہمیں یہ پتہ چلا کہ اُن کا ہاتھ بھلائی اور صدقہ کرنے کے حوالے سے سب سے زیادہ طویل تھا ( اور یہی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد تھی ) ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : سیدہ زینب رضی اللہ عنہا سوت کاتا کرتی تھیں اور اس کا معاوضہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی جنگی مہمات کو دیا کرتی تھیں ، وہ کپڑے سیتی تھیں ، اور اس کے ذریعے غزوات میں مدد فراہم کرتی تھیں ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : اس دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی ارشاد فرمایا : ” اس وقت تم میں سے کسی ایک کا کیا عالم ہو گا ؟ جب ” حواب“ کے کتے اُس پر بھونکیں گے ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” صحیح “ میں اس روایت کا کچھ حصہ مذکور ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ، اس کے بعض راویوں میں ضعف پایا جاتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ، اس کے بعض راویوں میں ضعف پایا جاتا ہے ۔
حدیث نمبر: 14071
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ : لَمَّا دَخَلَ بِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " يَا أُمَّ سَلَمَةَ إِنِّي أَهْدَيْتُ لِلنَّجَاشِيِّ مِسْكًا وَحُلَّةً ، وَلَا أَرَاهُ إِلَّا قَدْ مَاتَ وَلَا أَرَى هَدِيَّتِي إِلَّا سَتُرَدُّ إِلَيَّ " . قَالَتْ : وَكَانَ كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَعْطَى نِسَاءَهُ أُوقِيَّةً أُوقِيَّةً وَأَعْطَانِي سَائِرَ الْمِسْكِ وَالْحُلَّةَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ . وَأُمُّ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ لَا أَعْرِفُهَا . وَمُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ الزِّنْجِيُّ وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . قُلْتُ : وَقَدْ تَقَدَّمَ حَدِيثُ أُمِّ كُلْثُومٍ بِهَذِهِ الْقِصَّةِ فِي الْهَدِيَّةِ فِي الْبَيْعِ مِنْ مُسْنَدِ الْإِمَامِ أَحْمَدَ وَغَيْرِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب میری رخصتی کروائی ، تو آپ نے فرمایا : اے ام سلمہ ! میں نے نجاشی کو مشک اور ایک حلہ تحفے کے طور پر بھجوایا تھا ، لیکن میرا خیال ہے ، وہ فوت ہو چکا ہے ، اور میں نے جو تحفہ بھیجا تھا ، اس کے بارے میں ، میرا یہ خیال ہے کہ وہ میرے پاس واپس آ جائے گا ۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : پھر اسی طرح ہوا ، جس طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کیا تھا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایک اوقیہ دیگر ازواج کو دیا ، اور باقی سارا مشک اور حلہ مجھے دے دیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، موسیٰ بن عقبہ کی والدہ سے میں واقف نہیں ہوں ، اور ایک راوی مسلم بن خالد زنگی ہے ، جسے یحیی بن معین اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس سے پہلے اس واقعہ کے بارے میں اُم کلثوم کی نقل کردہ روایت گزر چکی ہے جو تحفہ دینے سے متعلق باب میں کتاب خرید و فروخت کے بیان میں ہے ، یہ امام أحمد بن حنبل کی ” مسند “ کے حوالے سے اور دیگر حوالوں سے منقول ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، موسیٰ بن عقبہ کی والدہ سے میں واقف نہیں ہوں ، اور ایک راوی مسلم بن خالد زنگی ہے ، جسے یحیی بن معین اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس سے پہلے اس واقعہ کے بارے میں اُم کلثوم کی نقل کردہ روایت گزر چکی ہے جو تحفہ دینے سے متعلق باب میں کتاب خرید و فروخت کے بیان میں ہے ، یہ امام أحمد بن حنبل کی ” مسند “ کے حوالے سے اور دیگر حوالوں سے منقول ہے ۔
حدیث نمبر: 14072
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَهْلِكُ كِسْرَى فَلَا يَكُونُ كِسْرَى بَعْدَهُ فَإِنَّهُ يَقُولُ : أَنَا مَلِكُ الْأَمْلَاكِ ، وَيَهْلِكُ قَيْصَرُ فَلَا يَكُونُ قَيْصَرُ بَعْدَهُ فَإِنَّهُ يَقُولُ : أَنَا مَلِكُ الْأَمْلَاكِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” کسریٰ بلاک ہو جائے گا ، تو اُس کے بعد کوئی کسریٰ نہیں ہو گا ، کیونکہ وہ یہ کہتا تھا کہ میں ” شہنشاہ “ ہوں ، قیصر ہلاک ہو جائے گا ، تو اس کے بعد کوئی قیصر نہیں ہو گا ، کیونکہ وہ یہ کہتا ہے : کہ میں ” شہنشاہ “ ہوں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 14073
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِذَا هَلَكَ كِسْرَى فَلَا كِسْرَى بَعْدَهُ ، وَإِذَا هَلَكَ قَيْصَرُ فَلَا قَيْصَرَ بَعْدَهُ ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَتُنْفَقَنَّ كُنُوزُهُمَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ عَنْ شَيْخِهِ عُبَيْدِ بْنِ كَثِيرٍ التَّمَّارِ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب کسریٰ ہلاک ہو جائے گا ، تو اس کے بعد کوئی کسریٰ نہیں ہو گا ، جب قیصر ہلاک ہو جائے گا ، تو اس کے بعد کوئی قیصر نہیں ہو گا ، اُس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، اُن دونوں کے خزانے ضرور اللہ کی راہ میں خرچ کیے جائیں گے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں اپنے استاد کثیر تمار کے حوالے سے نقل کی ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں اپنے استاد کثیر تمار کے حوالے سے نقل کی ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 14074
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَدْ أَظَلَّتْنَا سَحَابَةٌ نَحْنُ نَطْمَعُ فِيهَا فَقَالَ : " إِنَّ الْمَلَكَ الَّذِي يَسُوقُهَا أَوْ يَسُوقُ هَذِهِ السَّحَابَةَ دَخَلَ عَلَيَّ فَسَلَّمَ فَأَخْبَرَنِي أَنَّهُ يَسُوقُهَا إِلَى وَادِي كَذَا " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے ، اس وقت ہم پر بادل بنا ہوا تھا ، اور ہمیں اس سے توقع تھی ( کہ اس سے بارش ہو گی ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ فرشتہ جو اسے ہانک کر لے جا رہا ہے ، ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) جو اس بادل کو ہانک کر لے جا رہا ہے ، وہ میرے پاس آیا ، اُس نے سلام کیا اور اس نے مجھے یہ بتایا کہ وہ اسے ہانک کر فلاں وادی کی طرف لے جائے گا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 14075
وَعَنْ رَافِعٍ قَالَ : كَانَ بِالرَّحَّالِ ابْنِ غَنْمُوَيْهِ مِنَ الْخُشُوعِ وَاللُّزُومِ لِقِرَاءَةِ الْقُرْآنِ وَالْخَيْرِ فِيمَا يَرَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - شَيْءٌ عَجِيبٌ ، فَخَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمًا وَالرَّحَّالُ مَعَنَا جَالِسٌ مَعَ نَفَرٍ فَقَالَ : " أَحَدُ هَؤُلَاءِ النَّفَرِ فِي النَّارِ " . قَالَ رَافِعٌ : فَنَظَرْتُ فِي الْقَوْمِ فَإِذَا أَبُو هُرَيْرَةَ الدَّوْسِيُّ وَأَبُو أَرْوَى الدَّوْسِيُّ وَالطُّفَيْلُ بْنُ عَمْرٍو الدَّوْسِيُّ وَرَحَّالُ بْنُ غَنْمُوَيْهِ ، فَجَعَلْتُ أَنْظُرُ وَأَتَعَجَّبُ وَأَقُولُ : مَنْ هَذَا الشَّقِيُّ ؟ فَلَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَجَعَتْ بَنُو حَنِيفَةَ ، فَسَأَلْتُ : مَا فَعَلَ الرَّحَّالُ بْنُ غَنْمُوَيْهِ ؟ فَقَالُوا : افْتُتِنَ هُوَ الَّذِي شَهِدَ لِمُسَيْلِمَةَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ أَشْرَكَهُ فِي الْأَمْرِ بَعْدَهُ . فَقُلْتُ : مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَهُوَ حَقٌّ وَسَمِعَ الرَّحَّالَ وَهُوَ يَقُولُ : كَبْشَانِ انْتَطَحَا فَأَحَبُّهُمَا إِلَيْنَا كَبْشُنَا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَقَالَ فِيهِ : الرَّحَّالُ بِالْحَاءِ الْمُهْمَلَةِ الْمُشَدَّدَةِ وَهَكَذَا قَالَهُ الْوَاقِدِيُّ وَالْمَدَائِنِيُّ وَتَبِعَهُمَا عَبْدُ الْغَنِيِّ بْنُ سَعِيدٍ وَوَهِمَ فِي ذَلِكَ . وَالْأَكْثَرُونَ قَالُوا : إِنَّهُ بِالْجِيمِ الدَّارَقُطْنِيُّ وَابْنُ مَاكُولَا ، وَفِي إِسْنَادِ هَذَا الْحَدِيثِ الْوَاقِدِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا رافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : رحال بن غنمویہ ( نامی فرد ) میں ، بہت خشوع و خضوع پایا جاتا تھا ، وہ قرآن کریم کی تلاوت باقاعدگی سے کرتا تھا ، وہ بھلائی کے کام باقاعدگی سے کرتا تھا ، ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے ، اس وقت رحال بھی ہمارے ساتھ کچھ دیگر افراد سمیت بیٹھا ہوا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ان لوگوں میں سے ایک شخص جہنم میں جائے گا ۔ سیدنا رافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے ان لوگوں کا جائزہ لیا ، تو ان میں سیدنا ابوہریرہ دوسی رضی اللہ عنہ تھے ، سیدنا ابوارویٰ دوسی رضی اللہ عنہ تھے ، سیدنا طفیل بن عمرو دوسی رضی اللہ عنہ تھے ، رحال بن غنمویہ تھا ، میں اُن کا جائزہ لیتا رہا اور حیران ہوتا رہا ، میں نے سوچا کہ وہ بدنصیب کون ہو گا ؟ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا ، تو بنو حنیفہ مرتد ہو گئے میں نے دریافت کیا : رحال بن غنمویہ کا کیا بنا ؟ تو لوگوں نے بتایا کہ وہ اس حوالے سے آزمائش کا شکار ہو گیا ، جو اُس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف مسیلمہ کے حق میں یہ گواہی دی تھی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے بعد حکومت کا نگران مقرر کیا تھا ، میں نے کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے جو بات ارشاد فرمائی تھی ، وہ بات حق ہے ۔ ( راوی بیان کرتے ہیں : ) انہوں نے رحال کو یہ کہتے ہوئے سنا : دو مینڈھے ایک دوسرے کے ساتھ سینگ لڑا رہے ہیں ، تو ان دونوں میں سے ہمارے نزدیک ہمارا مینڈھا زیادہ محبوب ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، انہوں نے اس روایت میں اس شخص کا نام ” رحال “ نقل کیا ہے ، واقدی اور مدائنی نے بھی اسی طرح بیان کیا ہے ، عبدالغنی بن سعید نے ان دونوں کی متابعت کی ہے ، لیکن انہیں اس بارے میں وہم ہوا ہے ، زیادہ تر لوگوں نے یہ کہا: ہے کہ اس کا نام ” ج“ کے ساتھ ہے ، امام دارقطنی رحمہ اللہ اور ابن ماکولا نے یہی بات بیان کی ہے ، اس روایت کی سند میں ایک راوی واقدی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، انہوں نے اس روایت میں اس شخص کا نام ” رحال “ نقل کیا ہے ، واقدی اور مدائنی نے بھی اسی طرح بیان کیا ہے ، عبدالغنی بن سعید نے ان دونوں کی متابعت کی ہے ، لیکن انہیں اس بارے میں وہم ہوا ہے ، زیادہ تر لوگوں نے یہ کہا: ہے کہ اس کا نام ” ج“ کے ساتھ ہے ، امام دارقطنی رحمہ اللہ اور ابن ماکولا نے یہی بات بیان کی ہے ، اس روایت کی سند میں ایک راوی واقدی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 14076
وَعَنْ أَوْسِ بْنِ خَالِدٍ قَالَ : كُنْتُ إِذَا قَدِمْتُ عَلَى أَبِي مَحْذُورَةَ سَأَلَنِي عَنْ رَجُلٍ ، وَإِذَا قَدِمْتُ عَلَى الرَّجُلِ سَأَلَنِي عَنْ أَبِي مَحْذُورَةَ فَقُلْتُ : لِأَبِي مَحْذُورَةَ إِذَا قَدِمْتُ عَلَيْكَ سَأَلْتَنِي ، عَنْ فُلَانٍ وَإِذَا قَدِمْتُ عَلَى فُلَانٍ سَأَلَنِي عَنْكَ قَالَ : كُنْتُ أَنَا وَأَبُو هُرَيْرَةَ وَفُلَانٌ فِي بَيْتٍ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " آخِرُكُمْ مَوْتًا فِي النَّارِ " . فَمَاتَ أَبُو هُرَيْرَةَ ثُمَّ مَاتَ أَبُو مَحْذُورَةَ ثُمَّ مَاتَ الرَّجُلُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَأَوْسُ بْنُ خَالِدٍ لَمْ يَرْوِ عَنْهُ غَيْرُ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ وَفِيهِمَا كَلَامٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
اوس بن خالد بیان کرتے ہیں : جب میں سیدنا ابومحذورہ رضی اللہ عنہ کے پاس آتا ، تو وہ مجھ سے ایک شخص کے بارے میں دریافت کرتے تھے ، اور جب میں اس شخص کے پاس جاتا تھا ، تو وہ مجھ سے سیدنا ابومحذورہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں دریافت کرتے تھے ، میں نے سیدنا ابومحذورہ رضی اللہ عنہ سے کہا: جب میں آپ کے پاس آتا ہوں ، تو آپ مجھ سے فلاں صاحب کے بارے میں دریافت کرتے ہیں اور جب میں فلاں صاحب کے پاس جاتا ہوں ، تو وہ مجھ سے آپ کے بارے میں دریافت کرتے ہیں ، تو سیدنا ابومحذورہ رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ ایک مرتبہ میں ، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور فلاں شخص ایک گھر میں موجود تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں سے جو آخر میں مرے گا ، وہ جہنم میں جائے گا ۔ “ راوی کہتے ہیں : تو پہلے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا ، پھر سیدنا ابومحذوره رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا ، اور پھر اُس شخص کا انتقال ہوا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اوس بن خالد نامی راوی کے حوالے سے علی بن زید کے علاوہ اور کسی نے روایت نقل نہیں کی ہے ، ان دونوں راویوں کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اوس بن خالد نامی راوی کے حوالے سے علی بن زید کے علاوہ اور کسی نے روایت نقل نہیں کی ہے ، ان دونوں راویوں کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 14077
وَعَنْ أَبِي يُونُسَ قَالَ : كُنْتُ تَاجِرًا بِالْمَدِينَةِ فَإِذَا قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ سَأَلَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ وَإِذَا قَدِمْتُ الْبَصْرَةَ سَأَلَنِي سَمُرَةُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : كُنَّا سَبْعَةً فِي بَيْتٍ فَدَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " آخِرُكُمْ مَوْتًا فِي النَّارِ " . فَلَمْ يَبْقَ إِلَّا أَنَا وَسَمُرَةَ . قُلْتُ : لَعَلَّهُ أَرَادَ نَارَ الدُّنْيَا فَإِنَّ سَمُرَةَ مَاتَ كَذَلِكَ ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ وَقَدْ وُثِّقَ وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ابویونس بیان کرتے ہیں : میں مدینہ منورہ میں تاجر تھا ، جب میں مدینہ منورہ آیا ، تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے مجھ سے سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کے بارے میں دریافت کیا ، جب میں بصرہ آیا ، تو سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ نے مجھ سے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں دریافت کیا ، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بتایا : ہم سات افراد ایک گھر میں موجود تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا : ” تم میں سے آخر میں مرنے والا ، آگ میں جائے گا ۔ “ ( پھر سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بتایا : ) اب اُن افراد میں سے ، صرف میں اور سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ باقی رہ گئے ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : شاید اس سے مراد دنیاوی آگ تھی ، کیونکہ سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ کا انتقال آگ کی وجہ سے ہی ہوا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی علی بن زید بن جدعان ہے ، جس کی توثیق کی گئی ہے ، اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی علی بن زید بن جدعان ہے ، جس کی توثیق کی گئی ہے ، اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 14078
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " لَتَخْرُجَنَّ الظَّعِينَةُ مِنَ الْمَدِينَةِ حَتَّى يَدْخُلَ الْحِيرَةَ لَا يَخَافُ أَحَدًا إِلَّا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَالْبَزَّارُ وَرِجَالُ الْبَزَّارِ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ أَحْمَدَ بْنِ يَحْيَى الْأَوْدِيِّ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” عنقریب کوئی عورت ” مدینہ “ سے نکلے گی ، اور ” حیرہ “ میں داخل ہو گی ، اُسے اس دوران اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کسی سے خوف نہیں ہو گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے اور امام بزار نے نقل کی ہے ، امام بزار کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف أحمد بن یحییٰ اودی کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اور امام بزار نے نقل کی ہے ، امام بزار کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف أحمد بن یحییٰ اودی کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔
حدیث نمبر: 14079
وَعَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ - فِيمَا يَعْلَمُ بَعْضُ الرُّوَاةِ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " سَتُفْتَحُ عَلَيْكُمُ الدُّنْيَا حَتَّى تُنَجَّدَ بُيُوتُكُمْ كَمَا تُنَجَّدُ الْكَعْبَةُ " . قُلْنَا : وَنَحْنُ عَلَى دِينِنَا ؟ قَالَ : " نَعَمْ " . قُلْنَا : يَوْمَئِذٍ خَيْرٌ مِنَ الْيَوْمِ ؟ قَالَ : " بَلْ أَنْتُمُ الْيَوْمَ خَيْرٌ مِنْ يَوْمَئِذٍ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
بعض راویوں کے بیان کے مطابق ، سیدنا ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” عنقریب تمہارے لئے دنیا کو فتح کر دیا جائے گا ، یہاں تک کہ تم اپنے گھروں پر یوں غلاف چڑھاؤ گے ، جس طرح خانہ کعبہ غلاف چڑھایا جاتا ہے ، ہم نے عرض کی : کیا ہم اپنے اس دین پر گامزن ہوں گے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی ہاں ! ہم نے عرض پر کی : اُس وقت ہم آج کے مقابلے میں زیادہ بہتر ہوں گے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جی نہیں ! بلکہ آج تم اُس وقت کے مقابلے میں زیادہ بہتر ہو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 14080
وَعَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " يَكُونُ فِي أُمَّتِي رَجُلٌ يَتَكَلَّمُ بَعْدَ الْمَوْتِ " . قُلْتُ : وَقَدْ تَقَدَّمَ حَدِيثُ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ فِيمَنْ تَكَلَّمَ بَعْدَ الْمَوْتِ فِي الْخِلَافَةِ فِي الْخُلَفَاءِ الْأَرْبَعَةِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” میری امت میں ایک شخص ہو گا ، جو مرنے کے بعد کلام کرے گا ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس سے پہلے سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ حدیث گزر چکی ہے ، جو خلفاء اربعہ کی خلافت کے بارے میں ہے ، اور مرنے کے بعد کام کرنے والے شخص کے بارے میں ہے ۔