کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: بعثت سے پہلے نبی اکرم ﷺ کو کس نام سے بلایا جاتا تھا ؟
عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ مَوْلَاهُ أَنَّهُ حَدَّثَهُ أَنَّهُ كَانَ فِيمَنْ يَبْنِي الْكَعْبَةَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، فَذَكَرَ اخْتِلَافَهُمْ فِي وَضْعِ الْحَجَرِ الْأَسْوَدِ ، قَالَ : اجْعَلُوا بَيْنَكُمْ حَكَمًا ، قَالُوا : أَوَّلُ رَجُلٍ يَطْلُعُ مِنَ الْفَجِّ ، فَجَاءَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالُوا : أَتَاكُمُ الْأَمِينُ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . ¤ وَقَدْ تَقَدَّمَ فِي الْحَجِّ فِي شَأْنِ الْكَعْبَةِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ هِلَالِ بْنِ خَبَّابٍ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
مجاہد نے اپنے مالک کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے : ان کے مالک نے انہیں یہ بات بتائی ہے : جب وہ لوگ زمانہ جاہلیت میں خانہ کعبہ کی تعمیر کر رہے تھے ، تو حجر اسود رکھنے کے حوالے سے ان لوگوں کے درمیان اختلاف ہو گیا ، تو انہوں نے کہا: تم اپنے درمیان کسی کو ثالث بنا لو ، انہوں نے کہا: اس راستے سے جو شخص سب سے پہلے آئے گا ( وہ ہمارا ثالث ہو گا ) راوی بیان کرتے ہیں : تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے ، تو انہوں نے کہا: ” امین “ فرد تمہارے پاس آ گئے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔ اس سے پہلے خانہ کعبہ سے متعلق روایت گزر چکی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف ہلال بن خباب کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 13879
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ فِي بِنَاءِ الْكَعْبَةِ قَالَ : لَمَّا رَأَوُا النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدْ دَخَلَ قَالُوا : قَدْ جَاءَ الْأَمِينُ ، رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ حَفْصِ بْنِ عُمَرَ الضَّرِيرِ وَخَالِدِ بْنِ عَرْعَرَةَ وَكِلَاهُمَا ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ خانہ کعبہ کی تعمیر کے بارے میں بیان کرتے ہیں : جب ان لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اندر آتے ہوئے دیکھا ، تو بولے : ” امین “ فرد تشریف لے آئے ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ، صرف حفص بن عمر ضریر اور خالد بن عرعرہ کا معاملہ مختلف ہے ، اور یہ دونوں ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 13880
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح