کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: نبی اکرم ﷺ کی ، اپنے انسانی اور جنّ دشمنوں کے خلاف تائید ہونا
حدیث نمبر: 13873
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ أَبُو جَهْلٍ : لَئِنْ رَأَيْتُ مُحَمَّدًا يُصَلِّي عِنْدَ الْكَعْبَةِ لَآتِيَّنَهُ حَتَّى أَطَأَ عَلَى عُنُقِهِ ، قَالَ : فَقَالَ : لَوْ فَعَلَ ، لَأَخَذَتْهُ الْمَلَائِكَةُ عِيَانًا ، وَلَوْ أَنَّ الْيَهُودَ تَمَنَّوُا الْمَوْتَ لَمَاتُوا وَرَأَوْا مَقَاعِدَهُمْ مِنَ النَّارِ ، وَلَوْ خَرَجَ الَّذِينَ يُبَاهِلُونَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَرَجَعُوا لَا يَجِدُونَ أَهْلًا وَلَا مَالًا . ¤ قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ طَرَفٌ مِنْ أَوَّلِهِ ، رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُ أَبِي يَعْلَى رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ابوجہل نے کہا: اگر میں نے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کو خانہ کعبہ کے پاس نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا ، تو میں ان کے پاس جاؤں گا اور ان کی گردن پر پاؤں رکھ دوں گا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اگر اس نے ایسا کیا ، تو فرشتے کھلے عام اسے پکڑ لیں گے اور اگر یہودی موت کی آرزو کریں ، تو وہ اُسی وقت مر جائیں گے ، اور جہنم میں اپنا ٹھکانہ دیکھ لیں گے ، اور جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مباہلہ کرنے کے لئے نکلے تھے ، اگر وہ مباہلہ کر لیتے ، تو جب انہوں نے واپس جانا تھا ، تو انہیں اپنے اہل خانہ اور مال میں سے کچھ بھی نہیں ملنا تھا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” صحیح“ میں اس روایت کا ابتدائی حصہ مذکور ہے ۔
یہ روایت امام أحمد ، امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، امام ابویعلیٰ کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 13873
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 13874
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : مَرَّ أَبُو جَهْلٍ فَقَالَ : أَلَمْ أَنْهَكَ ؟ فَانْتَهَرَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : لِمَ تَنْتَهِرَنِي يَا مُحَمَّدُ ؟ فَوَاللَّهِ لَقَدْ عَلِمْتَ مَا بِهَا رَجُلٌ أَكْثَرَ نَادِيًا مِنِّي ، قَالَ : فَقَالَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ : فَلْيَدْعُ نَادِيَهُ ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : فَوَاللَّهِ لَوْ دَعَا نَادِيَهُ ، لَأَخَذَتْهُ الزَّبَانِيَةُ بِالْعَذَابِ ، قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ بَعْضُهُ ، رَوَاهُ أَحْمَدُ مِنْ طَرِيقِ ذَكْوَانَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ وَلَمْ أَعْرِفْ ذَكْوَانَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ابوجہل نے کہا: کیا میں نے آپ کو منع نہیں کیا تھا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے جھڑکا ، تو اُس نے کہا: اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! آپ مجھے کیوں جھڑک رہے ہیں ؟ اللہ کی قسم : آپ کسی ایسے شخص کو نہیں جانتے ہوں گے ، جس کے ساتھ بیٹھنے والے لوگ مجھ سے زیادہ ہوں ، راوی کہتے ہیں : سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے کہا: اُسے چاہیے کہ وہ اپنے ساتھی لوگوں کو بلا لے ۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : اللہ کی قسم ! اگر وہ شخص اپنے ساتھیوں کو بلا لیتا ، تو فرشتوں نے عذاب کے ہمراہ اسے پکڑ لینا تھا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں صحیح میں اس کا کچھ حصہ مذکور ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے ذکوان کے حوالے سے عکرمہ سے نقل کی ہے ، اور میں ذکوان سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 13874
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (256/1)»
حدیث نمبر: 13875
وَعَنْ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ قَالَ : كَانَ نَفَرٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ حَوْلَ الْكَعْبَةِ فِيهِمْ أَبُو جَهْلٍ لَعَنَهُ اللَّهُ ، فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَوَقَفَ عَلَيْهِمْ فَقَالَ : " قَبُحَتِ الْوُجُوهُ " ، فَخُرِسُوا ، فَمَا أَحَدٌ مِنْهُمْ تَكَلَّمَ بِكَلِمَةٍ ، وَلَقَدْ نَظَرْتُ إِلَى أَبِي جَهْلٍ يَعْتَذِرُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : أَمْسِكْ عَنَّا ، وَيَقُولُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا أُمْسِكُ عَنْكُمْ ، أَوْ أَقْتُلُكُمْ " ، فَقَالَ أَبُو جَهْلٍ لَعَنَهُ اللَّهُ : أَنْتَ تَقْدِرُ عَلَى ذَلِكَ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اللَّهُ يَقْتُلُكُمْ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ عَنْ شَيْخِهِ عَلِيِّ بْنِ شَبِيبٍ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : مشرکین سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد خانہ کعبہ کے اردگرد موجود تھے ، ان میں ابوجہل تھا ، اللہ تعالیٰ اس پر لعنت کرے ، اسی دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ، آپ ان لوگوں کے پاس آ کر ٹھہر گئے ، آپ نے فرمایا : یہ چہرے قبیح ہو جائیں ، تو وہ سب لوگ گونگے ہو گئے ، ان میں سے کوئی بھی کوئی بات نہیں کر رہا تھا ، راوی کہتے ہیں : میں نے ابوجہل کو دیکھا کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے معذرت پیش کرنے لگا اور بولا: ہم سے رک جائیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں تم سے نہیں رکوں گا ، بلکہ میں تمہیں قتل کر دوں گا ، تو ابوجہل نے کہا: آپ اس بات پر قدرت رکھ پائیں گے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ تعالیٰ تم لوگوں کو قتل کروائے گا ۔
یہ روایت امام بزار نے ، اپنے استاد عبداللہ بن شبیب کے حوالے سے نقل کی ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 13875
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2405)»
حدیث نمبر: 13876
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ الشَّيْطَانَ عَرَضَ لِي ، فَجَعَلَ يُلْقِي عَلَيَّ شَرَّ النَّارِ ، فَلَوْلَا دَعْوَةُ أَخِي سُلَيْمَانَ لَأَخَذْتُهُ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” بے شک شیطان میرے پاس آیا اور مجھ پر آگ کے شرارے ڈالنے لگا ، اگر میرے بھائی سیدنا سلیمان علیہ السلام کی دعا کا خیال نہ ہوتا ، تو میں نے اُسے پکڑ لینا تھا ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 13876
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2406)»
حدیث نمبر: 13877
وَعَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " دَخَلْتُ الْبَيْتَ فَإِذَا شَيْطَانٌ خَلْفَ الْبَابِ ، فَخَنَقْتُهُ حَتَّى وَجَدْتُ بَرَدَ لِسَانِهِ عَلَى يَدَيَّ ، فَلَوْلَا دَعْوَةُ الْعَبْدِ الصَّالِحِ ، لَأَصْبَحَ مَرْبُوطًا يَرَاهُ النَّاسُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” میں گھر میں داخل ہوا ، تو وہاں ایک شیطان دروازے کے پیچھے موجود تھا ، میں نے اس کا گلہ دبانا شروع کیا ، یہاں تک کہ اس کی زبان کی ٹھنڈک مجھے اپنے ہاتھ پر محسوس ہوئی ، اگر ایک نیک بندے کی دعا کا خیال نہ ہوتا ، تو اس نے صبح بندھے ہوئے ہونا تھا اور لوگ اُسے دیکھ لیتے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 13877
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
حدیث نمبر: 13878
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ سَاجِدًا بِمَكَّةَ ، فَجَاءَ إِبْلِيسُ أَنْ يَطَأَ عَلَى عُنُقِهِ فَنَفَخَهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ نَفْخَةً بِجَنَاحِهِ ، فَمَا اسْتَوَتْ قَدَمَاهُ عَلَى الْأَرْضِ حَتَّى بَلَغَ الْأُرْدُنَّ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عُثْمَانُ بْنُ مَطَرٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں سجدے کی حالت میں تھے ، اسی دوران شیطان آیا اور اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی گردن پر پاؤں دیا ، تو سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے اسے پھونک ماری ، انہوں نے اپنے پروں کے ذریعے اسے پھونک ماری تھی ، تو وہ زمین پر اپنے پاؤں نہیں جما پایا ، یہاں تک کہ اردن پہنچ گیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عثمان بن مطر ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 13878
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف