عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنِّي لَأَرْجُو إِنْ طَالَ بِي عُمْرٌ أَنْ أَلْقَى عِيسَى بْنَ مَرْيَمَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَإِنْ عَجَّلَ بِي مَوْتٌ فَمَنْ لَقِيَهُ مِنْكُمْ فَلْيُقْرِئْهُ مِنِّي السَّلَامَ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ مَرْفُوعًا وَمَوْقُوفًا وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” مجھے یہ امید ہے کہ اگر میری زندگی طویل ہوئی ، تو میں سیدنا عیسیٰ بن مریم علیہ السلام سے ملاقات کر لوں گا ، اور اگر مجھے جلدی موت آ گئی ، تو تم میں سے جو شخص اُن سے ملے ، تو وہ میری طرف سے انہیں سلام کہہ دے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے مرفوع اور موقوف ( دونوں طرح سے ) نقل کی ہے ، اور ان دونوں کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے مرفوع اور موقوف ( دونوں طرح سے ) نقل کی ہے ، اور ان دونوں کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَلَا إِنَّ عِيسَى بْنَ مَرْيَمَ لَيْسَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ نَبِيٌّ وَلَا رَسُولٌ ، إِلَّا أَنَّهُ خَلِيفَتِي فِي أُمَّتِي مِنْ بَعْدِي ، أَلَا إِنَّهُ يَقْتُلُ الدَّجَّالَ ، وَيَكْسِرُ الصَّلِيبَ ، وَيَضَعُ الْجِزْيَةَ ، وَتَضَعُ الْحَرْبُ أَوْزَارَهَا ، أَلَا فَمَنْ أَدْرَكَهُ مِنْكُمْ فَلْيَقْرَأْ عَلَيْهِ السَّلَامَ " . قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ بَعْضُهُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عُقْبَةَ السَّدُوسِيُّ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَضَعَّفَهُ أَبُو حَاتِمٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” خبردار ! سیدنا عیسیٰ بن مریم علیہ السلام وہ ہیں ، کہ اُن کے اور میرے درمیان نہ کوئی نبی ہے اور نہ ہی کوئی رسول ہے ، البتہ میرے بعد وہ میری امت میں میرے خلیفہ ہوں گے ، خبردار ! وہ دجال کو قتل کر دیں گے ، صلیب کو توڑ دیں گے ، جزیہ کو ختم کر دیں گے اور اس وقت جنگ ختم ہو جائے گی ، خبردار ! تم میں سے جو ان کا زمانہ پائے ، تو وہ انہیں سلام کہہ دے ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں صحیح میں اس روایت کا کچھ حصہ مذکور ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عقبہ سدوسی ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور ابوحاتم نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عقبہ سدوسی ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور ابوحاتم نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " يَنْزِلُ عِيسَى بْنُ مَرْيَمَ فَيَمْكُثُ فِي النَّاسِ أَرْبَعِينَ سَنَةً " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابویرہرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” سیدنا عیسیٰ بن مریم علیہ السلام نزول کریں گے اور لوگوں کے درمیان چالیس سال رہیں گے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنْ أَوْسِ بْنِ أَوْسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " يَنْزِلُ عِيسَى بْنُ مَرْيَمَ عِنْدَ الْمَنَارَةِ الْبَيْضَاءِ شَرْقِيَّ دِمَشْقَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا اوس بن اوس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” سیدنا عیسیٰ بن مریم علیہ السلام دمشق کے مشرقی حصے میں موجود سفید منارے پر نزول کریں گے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ : قَالَ رَجُلٌ عِنْدَ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ صَلَّى اللَّهُ عَلَى مُحَمَّدٍ خَاتَمِ الْأَنْبِيَاءِ لَا نَبِيَّ بَعْدَهُ . فَقَالَ الْمُغِيرَةُ : حَسْبُكَ أَنْ تَقُولَ خَاتَمَ الْأَنْبِيَاءِ ، فَإِنَّا كُنَّا نُحَدَّثُ أَنَّ عِيسَى بْنَ مَرْيَمَ خَارِجٌ ، فَإِنْ كَانَ خَارِجًا فَقَدْ كَانَ قَبْلَهُ وَبَعْدَهُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُجَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ ضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ وَوُثِّقَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
امام شعبی بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے سامنے یہ بات کہی : اللہ تعالیٰ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر درود نازل کرے ، جو انبیاء کے سلسلے کو ختم کرنے والے ہیں ، اور ان کے بعد کوئی نبی نہیں ہو گا ، تو سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تمہارا یہ کہہ دینا کافی تھا کہ وہ انبیاء کے سلسلے کو ختم کرنے والے ہیں ، ہم لوگ یہ بات چیت کیا کرتے تھے کہ سیدنا عیسیٰ بن مریم علیہ السلام ظہور کریں گے اور اگر وہ ظہور کریں گے تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے بھی ہو جائیں گے ، اور بعد میں بھی ہوں گے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مجالد بن سعید ہے ، اور وہ ضعیف ہے ، ایک جماعت نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ، ویسے اس کی توثیق بھی کی گئی ہے اور اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مجالد بن سعید ہے ، اور وہ ضعیف ہے ، ایک جماعت نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ، ویسے اس کی توثیق بھی کی گئی ہے اور اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ قَالَ : يُدْفَنُ عِيسَى بْنُ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَصَاحِبَيْهِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - فَيَكُونُ قَبْرُهُ رَابِعًا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عُثْمَانُ بْنُ الضَّحَّاكِ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَضَعَّفَهُ أَبُو دَاوُدَ ، وَقَدْ ذَكَرَ الْمِزِّيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ هَذَا فِي تَرْجَمَتِهِ ، وَعَزَاهُ إِلَى التِّرْمِذِيِّ وَقَالَ : حَسَنٌ ، وَلَمْ أَجِدْهُ فِي الْأَطْرَافِ ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں ساتھیوں ( یعنی سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ) کے درمیان دفن کیا جائے گا ، تو چوتھی قبر ان کی ہو گی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عثمان بن ضحاک ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور ابوداؤد نے اسے ضعیف کہا: ہے ، امام مزی نے
یہ روایت ان کے حالات میں نقل کی ہے ، اور اس کی نسبت امام ترمذی کی طرف کی ہے اور وہ یہ کہتے ہیں : یہ حسن ہے ، تاہم ” اطراف “ میں مجھے
یہ روایت نہیں ملی ہے ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عثمان بن ضحاک ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور ابوداؤد نے اسے ضعیف کہا: ہے ، امام مزی نے
یہ روایت ان کے حالات میں نقل کی ہے ، اور اس کی نسبت امام ترمذی کی طرف کی ہے اور وہ یہ کہتے ہیں : یہ حسن ہے ، تاہم ” اطراف “ میں مجھے
یہ روایت نہیں ملی ہے ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔
وَعَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَتْ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ عِيسَى بْنَ مَرْيَمَ مَكَثَ فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ أَرْبَعِينَ سَنَةً " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ الْأَسْوَدِ ، ضَعَّفَهُ الْأَزْدِيُّ ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَيَحْيَى بْنُ جَعْدَةَ لَمْ يُدْرِكْ فَاطِمَةَ . ¤
محمد محی الدین
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : ” بے شک عیسیٰ بن مریم ، بنی اسرائیل میں چالیس سال رہے تھے ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے حسین بن علی بن اسود کے حوالے سے نقل کی ہے ، جسے ازدی نے ضعیف قرار دیا ہے ، ابن حبان نے اسے ثقہ کہا: ہے ، اور یحیی بن جعدہ نامی راوی نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے حسین بن علی بن اسود کے حوالے سے نقل کی ہے ، جسے ازدی نے ضعیف قرار دیا ہے ، ابن حبان نے اسے ثقہ کہا: ہے ، اور یحیی بن جعدہ نامی راوی نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔