حدیث نمبر: 13776
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ نَاجَى مُوسَى بِمِائَةِ أَلْفٍ وَأَرْبَعِينَ أَلْفَ كَلِمَةٍ فِي ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ ، فَلَمَّا سَمِعَ مُوسَى كَلَامَ الْآدَمِيِّينَ مَقَتَهُمْ ; لِمَا وَقَعَ فِي مَسَامِعِهِ مِنْ كَلَامِ الرَّبِّ جَلَّ وَعَزَّ ، وَكَانَ فِيمَا نَاجَى بِهِ أَنْ قَالَ : يَا مُوسَى ، إِنَّهُ لَمْ يَتَصَنَّعْ لِي الْمُتَصَنِّعُونَ بِمِثْلِ الزُّهْدِ فِي الدُّنْيَا ، وَلَمْ يَتَقَرَّبْ إِلَيَّ الْمُتَقَرِّبُونَ بِمِثْلِ الْوَرَعِ عَمَّا حَرَّمَتْ عَلَيْهِمْ ، وَلَمْ يَتَعَبَّدِ الْمُتَعَبِّدُونَ بِمِثْلِ الْبُكَاءِ مِنْ خَشْيَتِي . قَالَ مُوسَى : يَا رَبَّ الْبَرِيَّةِ كُلِّهَا ، وَيَا مَالِكَ يَوْمِ الدِّينِ ، وَيَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ ، مَاذَا أَعْدَدْتَ لَهُمْ ، وَمَاذَا جَزَيْتَهُمْ ؟ قَالَ : أَمَّا الزُّهَّادُ فِي الدُّنْيَا ، فَإِنِّي أَبَحْتَهُمْ جَنَّتِي يَتَبَوَّءُونَ مِنْهَا حَيْثُ شَاءُوا ، وَأَمَّا الْوَرِعُونَ عَمَّا حَرَّمْتُ عَلَيْهِمْ ، فَإِنَّهُ إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ لَمْ يَبْقَ عَبْدٌ إِلَّا نَاقَشْتُهُ وَحَاسَبْتُهُ إِلَّا الْوَرِعُونَ ، فَإِنِّي أَسَتَحْيِيهِمْ وَأُجِلُّهُمْ وَأُكْرِمُهُمْ ، فَأُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ ، وَأَمَّا الْبَكَّاءُونَ مِنْ خَشْيَتِي ، فَأُولَئِكَ لَهُمُ الرَّفِيقُ الْأَعْلَى لَا يُشَارَكُونَ فِيهِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ جُوَيْبِرٌ وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اللہ تعالیٰ نے سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ جو کلام کیا تھا ، وہ تین دن میں ، ایک لاکھ چالیس ہزار کلمات پر مشتمل تھا ، جب سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے انسانوں کا کلام سنا ، تو انہیں اس پر غصہ آیا ، کیونکہ ان کی سماعتوں میں پروردگار کا کلام پہنچ چکا تھا ، پروردگار نے ان کے ساتھ جو کلام کیا تھا ، اُس میں یہ بھی ارشاد فرمایا تھا : ” میری خاطر کام کرنے والوں نے ، دنیا سے بے رغبتی اختیار کرنے کی مانند کوئی کام نہیں کیا ہو گا ، اور میرا قرب حاصل کرنے والوں نے پرہیزگاری کی طرح کی کسی چیز کے ذریعے میرا قرب حاصل نہیں کیا ہو گا ، جو ان چیزوں سے پرہیز ہو ، جو میں نے ان پر حرام قرار دی ہیں ، اور عبادت گزاروں نے میرے خوف کی وجہ سے رونے جیسی کسی چیز کے ذریعے عبادت نہیں کی ہو گی ۔ “ سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے عرض کی : اے تمام مخلوق کے پروردگار ! اے قیامت کے دن مالک ! اے جلال اور اکرام والے ! تو نے ان کے لئے کیا تیار کیا ہے ؟ اور تو انہیں کیا جزا دے گا ؟ تو پروردگار نے فرمایا : ” جہاں تک دنیا سے بے رغبتی اختیار کرنے والوں کا تعلق ہے ، تو میں نے ان کے لئے جنت کو مباح قرار دے دیا ہے ، وہ اس میں جہاں چاہیں گے رہائش اختیار کریں گے جہاں تک پرہیزگار لوگوں کا تعلق ہے ، جو اُس چیز سے بچتے ہیں جو میں نے ان پر حرام قرار دی ہے ، تو جب قیامت کا دن ہو گا ، تو ہر بندے سے میں حساب لوں گا ، البتہ پرہیزگار لوگوں کا معاملہ مختلف ہے ، کیونکہ مجھے اُن سے حیاء آئے گی ، میں اُن کی عزت افزائی کروں گا اور میں انہیں حساب کے بغیر جنت میں داخل کر دوں گا ، جہاں تک میرے خوف کی وجہ سے رونے والے لوگوں کا تعلق ہے ، تو ان لوگوں کے لئے رفیق اعلیٰ ہو گا ، اس بارے میں دوسرے لوگ اُن کے شراکت دار نہیں ہوں گے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی جویبر ہے ، اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی جویبر ہے ، اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 13777
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَمَّا كَلَّمَ اللَّهُ مُوسَى ، كَانَ يُبْصِرُ دَبِيبَ النَّمْلِ عَلَى الصَّفَا فِي اللَّيْلَةِ الْمُظْلِمَةِ مِنْ مَسِيرَةِ عَشَرَةِ فَرَاسِخَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ ، وَفِيهِ الْحُسَيْنُ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ الْجُفَرِيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب اللہ تعالیٰ نے سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ کلام کیا ، تو وہ دس فرسخ کے فاصلے سے تاریک رات میں چٹان پر چلتی ہوئی چیونٹیوں کو بھی دیکھ سکتے تھے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حسن بن ابوجعفر جفری ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حسن بن ابوجعفر جفری ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 13778
وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِذَا سُئِلْتَ : أَيُّ الْأَجَلَيْنِ قَضَى مُوسَى ؟ فَقُلْ : خَيْرَهُمَا وَأَتَمَّهُمَا وَأَبَرَّهُمَا ، وَإِنْ سُئِلْتَ : أَيُّ الْمَرْأَتَيْنِ تَزَوَّجَ ؟ فَقُلِ : الصُّغْرَى مِنْهُمَا وَهِيَ الَّتِي جَاءَتْ فَقَالَتْ : يَا أَبَتِ اسْتَأْجِرْهُ ، إِنَّ خَيْرَ مَنِ اسْتَأْجَرْتَ الْقَوِيُّ الْأَمِينُ . قَالَ : مَا رَأَيْتِ مِنْ قُوَّتِهِ ؟ قَالَتْ : أَخَذَ حَجَرًا ثَقِيلًا فَأَلْقَاهُ عَنِ الْبِئْرِ . قَالَ : وَمَا الَّذِي رَأَيْتِ مِنْ أَمَانَتِهِ ؟ قَالَتْ : قَالَ : امْشِي خَلْفِي وَلَا تَمْشِي أَمَامِي " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَالْبَزَّارُ بِاخْتِصَارٍ ، وَفِي إِسْنَادِ الطَّبَرَانِيِّ عُوَيْدُ بْنُ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ ، ضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُ وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ الطَّبَرَانِيِّ ثِقَاتٌ . وَقَدْ تَقَدَّمَتْ أَحَادِيثُ هَذَا الْبَابِ فِي سُورَةِ الْقَصَصِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب تم سے یہ سوال کیا جائے کہ سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے دو قسم کی مدتوں میں سے کون سی پوری کی تھی ؟ تو تم یہ کہو : کہ جو ان دونوں میں زیادہ بہتر تھی اور زیادہ مکمل تھی اور زیادہ نیکی والی تھی ، اور اگر تم سے یہ سوال کیا جائے : کہ دونوں خواتین میں سے کس کے ساتھ انہوں نے شادی کی تھی ؟ تو تم یہ کہو : کہ جو ان دونوں میں سے چھوٹی تھیں ، یہ وہی خاتون ہیں ، جو آئی تھیں اور انہوں نے یہ کہا: تھا : اے ابا جان ! آپ انہیں ملازم رکھ لیں ، کیونکہ یہ بہتر ملازم ثابت ہوں گے ، یہ طاقتور اور امین ہیں ، تو سیدنا شعیب علیہ السلام نے دریافت کیا تھا : تم نے اس کی قوت کہاں دیکھی ہے ؟ تو اس خاتون نے بتایا : انہوں نے ایک وزنی پتھر پکڑ کر اسے کنویں سے ہٹا دیا تھا ، سیدنا شعیب علیہ السلام نے دریافت کیا : تم نے اس کی امانت کہاں دیکھی ہے ؟ تو اس نے بتایا : انہوں نے یہ کہا: کہ تم میرے پیچھے چلتی ہوئی آؤ ! تم میرے آگے نہ چلنا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، امام بزار نے اسے اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے ، امام طبرانی کی سند میں ایک راوی عوید بن ابوعمران جونی ہے ، جسے یحیی بن معین اور دیگر حضرات نے ضعیف قرار دیا ہے ، ابن حبان نے اسے ثقہ کہا: ہے ، طبرانی کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔ اس موضوع سے متعلق کچھ احادیث سورہ قصص سے متعلق باب میں گزر چکی ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، امام بزار نے اسے اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے ، امام طبرانی کی سند میں ایک راوی عوید بن ابوعمران جونی ہے ، جسے یحیی بن معین اور دیگر حضرات نے ضعیف قرار دیا ہے ، ابن حبان نے اسے ثقہ کہا: ہے ، طبرانی کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔ اس موضوع سے متعلق کچھ احادیث سورہ قصص سے متعلق باب میں گزر چکی ہیں ۔
حدیث نمبر: 13779
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : أَيُّ الْأَجَلَيْنِ قَضَى مُوسَى ؟ قَالَ : " أَوْفَاهُمَا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ عَنْ شَيْخِهِ مُوسَى بْنِ سَهْلٍ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ وَفِي بَعْضِهِمْ ضَعْفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا : سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے دو قسم کی مدتوں میں سے کون سی مکمل کی تھی ؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو زیادہ تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں ، اپنے استاد موسیٰ بن سہل کے حوالے سے نقل کی ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ، اس کے بعض راویوں میں ضعف پایا جاتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں ، اپنے استاد موسیٰ بن سہل کے حوالے سے نقل کی ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ، اس کے بعض راویوں میں ضعف پایا جاتا ہے ۔
حدیث نمبر: 13780
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى مُوسَى فِي هَذَا الْوَادِي مُحْرِمًا بَيْنَ قَطَوَانِيَّتَيْنِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ الرَّهَاوِيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میں گویا اس وقت بھی ، سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی طرف دیکھ رہا ہوں کہ وہ دو قطوانی چادروں میں احرام باندھے ہوئے اس وادی میں موجود ہیں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یزید بن سنان رہاوی ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یزید بن سنان رہاوی ہے اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 13781
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : كَانَ طُولُ مُوسَى - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - اثْنَيْ عَشَرَ ذِرَاعًا ، وَعَصَاهُ اثْنَيْ عَشَرَ ذِرَاعًا ، وَوَثَبَتُهُ اثْنَيْ عَشَرَ ذِرَاعًا ، فَضَرَبَ عَوْجُ بْنُ عَنَاقٍ فَمَا أَصَابَ مَنْهُ إِلَّا كَعْبَهُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ الْمَسْعُودِيُّ وَقَدِ اخْتَلَطَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا موسیٰ علیہ السلام کا قد بارہ گز تھا اور ان کا عصاء بارہ گز لمبا تھا اور وہ بارہ گز اچھلے تھے اور انہوں نے عوج بن عناق پر ضرب لگائی تھی اور وہ ضرب اس کے ٹخنے پر لگی تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی مسعودی ہے جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی مسعودی ہے جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 13782
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ : لَمَّا كَلَّمَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى مُوسَى - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ الطُّورِ ، كَلَّمَهُ بِغَيْرِ الْكَلَامِ الَّذِي كَلَّمَهُ بِهِ يَوْمَ نَادَاهُ ، فَقَالَ لَهُ مُوسَى : يَا رَبِّ ، هَذَا كَلَامُكَ الَّذِي كَلَّمْتَنِي بِهِ ؟ قَالَ : يَا مُوسَى ، إِنَّمَا كَلَّمْتُكَ بِقُوَّةِ عَشَرَةِ آلَافِ لِسَانٍ ، وَلِي قُوَّةُ الْأَلْسُنِ كُلِّهَا وَأَقْوَى مِنْ ذَلِكَ . فَلَمَّا رَجَعَ مُوسَى إِلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ قَالُوا : يَا مُوسَى ، صِفْ لَنَا كَلَامَ الرَّحْمَنِ عَزَّ وَجَلَّ . قَالَ : لَا تَسْتَطِيعُونَهُ ، أَلَمْ تَرَوْا إِلَى أَصْوَاتِ الصَّوَاعِقِ الَّتِي تُقْبِلُ فِي أَجْلَى جَلَاوَةٍ سَمِعْتُمُوهُ ؟ فَذَاكَ قَرِيبٌ مِنْهُ وَلَيْسَ بِهِ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ الْفَضْلُ بْنُ عِيسَى الرَّقَاشِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب اللہ تعالیٰ نے طور کے دن ، سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ کلام کیا تو یہ اس کلام سے مختلف تھا ، جس کلام کو اس نے اُس دن کیا تھا ، جب انہیں پکارا تھا ، تو سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے کہا: اے میرے پروردگار ! یہ تیرا وہی کلام ہے ؟ جس کے ساتھ تو نے میرے ساتھ کلام کیا تھا ، تو اس نے فرمایا : اے موسیٰ ! میں نے دس ہزار زبانوں کی قوت کے ہمراہ ، تمہارے ساتھ کلام کیا ہے ، اور مجھے تمام زبانوں کی قوت حاصل ہے ، بلکہ اس سے بھی زیادہ قوت حاصل ہے ، جب سیدنا موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کی طرف واپس تشریف لائے ، تو بنی اسرائیل نے کہا: اے موسیٰ ! آپ رحمان کے کلام کی صفت ہمارے سامنے بیان کیجئے ، تو سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے کہا: تم اس کی استطاعت نہیں رکھتے ، کیا تم نے بجلی چمکنے کی آواز سنی ہے ؟ جب وہ آتی ہے ، جب بجلی زور سے چکی ہو ، کیا تم اسے سن پاتے ہو ؟ تو وہ آواز اس کے قریب تھی ، لیکن ویسی نہیں تھی ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی فضل بن عیسیٰ رقاشی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی فضل بن عیسیٰ رقاشی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 13783
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " كَانَ مَلَكُ الْمَوْتِ يَأْتِي النَّاسَ عِيَانًا ، قَالَ : فَأَتَى مُوسَى فَلَطَمَهُ ، فَفَقَأَ عَيْنَيْهِ ، فَأَتَى رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَقَالَ : يَا رَبِّ ، عَبْدُكَ مُوسَى فَقَأَ عَيْنِي ، وَلَوْلَا كَرَامَتُهُ عَلَيْكَ لَعَتَبْتُ بِهِ - قَالَ يُونُسُ : لَشَقَقْتُ عَلَيْهِ - قَالَ لَهُ : اذْهَبْ إِلَى عَبْدِي فَقُلْ لَهُ : لِيَضَعَ يَدَهُ عَلَى جِلْدٍ أَوْ مَسْكِ ثَوْرٍ ، فَلَهُ بِكُلِّ شَعْرَةٍ وَارَتْ يَدُهُ سَنَةٌ . فَأَتَاهُ فَقَالَ : مَا بَعْدَ هَذَا ؟ قَالَ : الْمَوْتُ . قَالَ : فَالْآنَ . قَالَ : فَشَمَّهُ شَمَّةً فَقَبَضَ رُوحَهُ - قَالَ يُونُسُ : فَرَدَّ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَيْهِ عَيْنَهُ ، فَكَانَ يَأْتِي النَّاسَ خُفْيَةً - " . قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ طَرَفٌ مِنْهُ . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” پہلے ملک الموت علیہ السلام لوگوں کے پاس عیاں طور پر آ جایا کرتا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : وہ سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے پاس آئے سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے انہیں طمانچہ رسید کیا اور ان کی آنکھیں پھوڑ دیں ، وہ پروردگار کے پاس آئے اور بولے : اے میرے پروردگار ! تیرے بندے موسیٰ نے میری آنکھ پھوڑ دی ہے ، اگر تو نے اسے عزت عطا نہ کی ہوئی ہوتی ، تو میں اسے سزا دیتا ، یہاں ایک راوی نے ایک لفظ مختلف نقل کیا ہے ، پروردگار نے ان سے فرمایا : تم میرے بندے کے پاس جاؤ ! اور اس سے کہو کہ وہ اپنا ہاتھ کسی چمڑے پر رکھے ، یا کسی بیل کی کھال پر رکھے ، تو ہر ایک بال جو اس کے ہاتھ کے نیچے آئے گا ، اس کے بدلے میں اسے جائے گا ، ملک الموت سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے پاس آئے ( اور یہ بات بیان کی ) تو سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے دریافت کیا : پھر اس کے بعد کیا ہو گا ؟ انہوں نے جواب دیا : موت ہو گی ، تو سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے کہا: پھر ابھی ( تم میری روح قبض ) کر لو ! تو انہوں نے سیدنا موسیٰ علیہ السلام کو ایک چیز سونگھائی اور ان کی روح قبض کر لی ۔ “ یہاں یونس نامی راوی نے یہ لفظ نقل کیے ہیں : ” اللہ تعالیٰ نے ملک الموت کی آنکھ اُسے واپس کر دی تھی اور اس کے بعد وہ لوگوں کے پاس پوشیدہ طور پر آنے لگا ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” صحیح “ میں اس روایت کا ایک حصہ مذکور ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 13784
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " رَأَيْتُ مُوسَى - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عِنْدَ الْكَثِيبِ الْأَحْمَرِ يُصَلِّي فِي قَبْرِهِ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ صِلَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میں نے سیدنا موسیٰ علیہ السلام کو سرخ ٹیلے کے پاس ، اپنی قبر میں نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا ۔ “
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس روایت کی سند میں ایک راوی صلہ بن سلیمان ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس روایت کی سند میں ایک راوی صلہ بن سلیمان ہے اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 13785
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَرَّ عَلَى مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ وَهُوَ قَائِمٌ يُصَلِّي فِي قَبْرِهِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ فَيَّاضُ بْنُ مُحَمَّدٍ وَجَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ ، وَقَدْ رَوَى عَنْ فَيَّاضٍ ثَلَاثَةٌ : مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ النَّجَّارُ الرَّقِّيُّ ، وَأَبُو يُوسُفَ الصَّيْدَلَانِيُّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر سیدنا موسیٰ علیہ السلام ( کی قبر ) کے پاس سے ہوا ، وہ اپنی قبر میں کھڑے ہوئے نماز ادا کر رہے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی فیاض بن محمد ہے اور راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ، فیاض سے
یہ روایت تین افراد نے نقل کی ہے : موسیٰ بن اسماعیل ۔ محمد عبداللہ نجار رقی ۔ اور ابویوسف صیدلانی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی فیاض بن محمد ہے اور راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ، فیاض سے
یہ روایت تین افراد نے نقل کی ہے : موسیٰ بن اسماعیل ۔ محمد عبداللہ نجار رقی ۔ اور ابویوسف صیدلانی ۔
حدیث نمبر: 13786
وَعَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَوْ غَيْرِهِ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَنَا أَوَّلُ إِفَاقَةً ، فَأَرْفَعُ رَأْسِي ، فَإِذَا بِرَجُلٍ بَيْنِي وَبَيْنَ الْعَرْشِ ، فَقِيلَ : هَذَا مُوسَى - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَإِنْ كَانَ فِي الْأَرْضِ فَقَدْ أَفَاقَ قَبْلِي " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ مُجَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ وَهُوَ مُخْتَلَفٌ فِيهِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
امام شعبی سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ اور دیگر صحابہ کرام کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ( قیامت کے دن ) مجھے سب سے پہلے ہوش آئے گا ، میں اپنا سر اٹھاؤں گا ، تو ایک شخص میرے اور عرش کے درمیان ہو گا ، تو بتایا جائے گا : یہ سیدنا موسیٰ علیہ السلام ہیں ، اگر تو وہ زمین میں تھے ، تو انہیں مجھ سے پہلے ہوش آ گیا ہو گا ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مجالد بن سعید ہے ، اور اس کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مجالد بن سعید ہے ، اور اس کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔