مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
( كتاب فيه ذكر الأنبياء ) صلوات الله تعالى وسلامه على نبينا محمد وعليهم أجمعين— انبیاء علیہم السلام کے تذکرے سے متعلق روایات
بَابُ ذِكْرِ الْمَسِيحِ عِيسَى بْنِ مَرْيَمَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . باب: حضرت مسیح عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کا تذکرہ
وَعَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ : قَالَ رَجُلٌ عِنْدَ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ صَلَّى اللَّهُ عَلَى مُحَمَّدٍ خَاتَمِ الْأَنْبِيَاءِ لَا نَبِيَّ بَعْدَهُ . فَقَالَ الْمُغِيرَةُ : حَسْبُكَ أَنْ تَقُولَ خَاتَمَ الْأَنْبِيَاءِ ، فَإِنَّا كُنَّا نُحَدَّثُ أَنَّ عِيسَى بْنَ مَرْيَمَ خَارِجٌ ، فَإِنْ كَانَ خَارِجًا فَقَدْ كَانَ قَبْلَهُ وَبَعْدَهُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُجَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ ضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ وَوُثِّقَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤امام شعبی بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے سامنے یہ بات کہی : اللہ تعالیٰ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر درود نازل کرے ، جو انبیاء کے سلسلے کو ختم کرنے والے ہیں ، اور ان کے بعد کوئی نبی نہیں ہو گا ، تو سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تمہارا یہ کہہ دینا کافی تھا کہ وہ انبیاء کے سلسلے کو ختم کرنے والے ہیں ، ہم لوگ یہ بات چیت کیا کرتے تھے کہ سیدنا عیسیٰ بن مریم علیہ السلام ظہور کریں گے اور اگر وہ ظہور کریں گے تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے بھی ہو جائیں گے ، اور بعد میں بھی ہوں گے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مجالد بن سعید ہے ، اور وہ ضعیف ہے ، ایک جماعت نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ، ویسے اس کی توثیق بھی کی گئی ہے اور اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔