حدیث نمبر: 13794
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَوَّلُ مَنْ جَحَدَ آدَمُ عَلَيْهِ السَّلَامُ - قَالَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ - إِنِ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَمَّا خَلَقَهُ مَسَحَ ظَهْرَهُ ، وَأَخْرَجَ ذُرِّيَّتَهُ ، فَعَرَضَهُمْ عَلَيْهِ ، فَرَأَى فِيهِمْ رَجُلًا يَزْهَرُ ، فَقَالَ : أَيْ رَبِّ ، مَنْ هَذَا ؟ قَالَ : هَذَا ابْنُكَ دَاوُدُ . قَالَ : كَمْ عُمْرُهُ ؟ قَالَ : سِتُّونَ . قَالَ : أَيْ رَبِّ ، زِدْ فِي عُمْرِهِ قَالَ : لَا ، إِلَّا أَنْ تَزِيدَهُ أَنْتَ مِنْ عُمْرِكَ . فَزَادَهُ أَرْبَعِينَ سَنَةً مِنْ عُمْرِهِ ، فَكَتَبَ اللَّهُ عَلَيْهِ كِتَابًا وَأَشْهَدَ عَلَيْهِ الْمَلَائِكَةَ ، فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يَقْبِضَ رُوحَهُ قَالَ : قَدْ بَقِيَ مِنْ أَجْلِي أَرْبَعُونَ . فَقِيلَ لَهُ : إِنَّكَ قَدْ جَعَلْتَهُ لِابْنِكَ دَاوُدَ . قَالَ : فَجَحَدَ ، فَأَخْرَجَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْكِتَابَ وَأَقَامَ عَلَيْهِ الْبَيِّنَةَ ، فَأَتَمَّهَا لِدَاوُدَ مِائَةَ سَنَةٍ ، وَأَتَمَّهَا لِآدَمَ عُمْرَهُ أَلْفَ سَنَةٍ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَقَالَ فِي أَوَّلِهِ : لَمَّا نَزَلَتْ آيَةُ الدَّيْنِ وَقَالَ : كَمْ عُمْرُهُ ؟ قَالَ : سِتُّونَ سَنَةً ، وَالْبَاقِي بِمَعْنَاهُ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” سب سے پہلے اپنی بات کا انکار سیدنا آدم علیہ السلام نے کیا تھا ، یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی ، اور یہ فرمایا : کہ جب اللہ تعالیٰ نے سیدنا آدم علیہ السلام کو پیدا کیا ، تو اُن کی پشت پر ہاتھ پھیرا اور ان کی ذریت کو نکال دیا اور ان کی ذریت کو ان کے سامنے پیش کیا ، تو سیدنا آدم علیہ السلام نے ان میں ایک شخص کو دیکھا جو چمک رہا تھا ( یا خوبصورت تھا ) تو دریافت کیا : اے میرے پروردگار ! یہ کون ہے ؟ پروردگار نے بتایا : یہ تمہاری اولاد میں سے ایک شخص داؤد ہے ، سیدنا آدم علیہ السلام نے دریافت کیا : اس کی عمر کتنی ہو گی ؟ پروردگار نے فرمایا : ساٹھ سال ، تو سیدنا آدم علیہ السلام نے عرض کی : اے میرے پروردگار ! اس کی عمر میں اضافہ کر دے ! پروردگار نے فرمایا : جی نہیں ! البتہ اگر تم اپنی عمر میں سے ( کچھ سال ) اس کو دے دیتے ہو ، تو یہ ہو سکتا ہے ، تو سیدنا آدم علیہ السلام نے اپنی عمر میں سے ، اُن کی عمر میں چالیس سال زیادہ کروا دیے ، اللہ تعالیٰ نے اس پر تحریر نوٹ کر لی اور اس پر فرشتوں کو گواہ بنا دیا ، جب سیدنا آدم علیہ السلام کی روح قبض کرنے کے لئے فرشتہ آیا ، تو انہوں نے کہا: میری عمر کے چالیس سال ابھی باقی ہیں ، ان سے کہا: گیا : وہ تو آپ نے اپنے صاحبزادے سیدنا داؤد علیہ السلام کو دیدیے تھے ، تو سیدنا آدم علیہ السلام نے انکار کر دیا ، اللہ تعالیٰ نے وہ تحریر نکلوائی اور اس کے ثبوت نکلوائے ، یوں اللہ تعالیٰ نے سیدنا داؤد کی عمر سو سال کی اور سیدنا آدم علیہ السلام کی عمر بھی پورے ایک ہزار سال ہوئی ۔ “
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، انہوں نے اس کے آغاز میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” جب قرض کے حکم سے متعلق آیت نازل ہوئی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ اور اس میں یہ الفاظ ہیں : ” ان کی عمر کتنی تھی ؟ تو انہوں نے جواب دیا : ساٹھ سال ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ باقی روایت حسب سابق مفہوم کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی علی بن زید ہے جسے جمہور نے ضعیف قرار دیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، انہوں نے اس کے آغاز میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” جب قرض کے حکم سے متعلق آیت نازل ہوئی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ اور اس میں یہ الفاظ ہیں : ” ان کی عمر کتنی تھی ؟ تو انہوں نے جواب دیا : ساٹھ سال ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ باقی روایت حسب سابق مفہوم کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی علی بن زید ہے جسے جمہور نے ضعیف قرار دیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 13795
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ : وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا ذَكَرَ دَاوُدَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " كَانَ أَعْبَدَ الْبَشَرِ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَفِيهِ حَدِيثٌ طَوِيلٌ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سیدنا داؤد علیہ السلام کا ذکر کرتے تھے تو یہ فرماتے تھے : ” وہ سب سے زیادہ عبادت گزار بشر تھے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس بارے میں ایک طویل حدیث ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس بارے میں ایک طویل حدیث ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 13796
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " كَانَ دَاوُدُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِيهِ غَيْرَةٌ شَدِيدَةٌ ، فَكَانَ إِذَا خَرَجَ أُغْلِقَتِ الْأَبْوَابُ فَلَمْ يَدْخُلْ عَلَى أَهْلِهِ أَحَدٌ حَتَّى يَرْجِعَ ، قَالَ : فَخَرَجَ ذَاتَ يَوْمٍ وَغُلِّقَتِ الْأَبْوَابُ ، فَأَقْبَلَتِ امْرَأَتُهُ تَطَّلِعُ إِلَى الدَّارِ ، فَإِذَا رَجُلٌ قَائِمٌ وَسَطَ الدَّارِ ، فَقَالَتْ لِمَنْ فِي الْبَيْتِ : مِنْ أَيْنَ دَخَلَ هَذَا الرَّجُلُ الدَّارَ ، وَالدَّارُ مُغْلَقَةٌ ؟ وَاللَّهِ لَيُفْتَضَحَنَّ بِدَاوُدَ . فَجَاءَ دَاوُدُ ، فَإِذَا الرَّجُلُ قَائِمٌ وَسَطَ الدَّارِ فَقَالَ لَهُ دَاوُدُ : مَنْ أَنْتَ ؟ قَالَ : أَنَا الَّذِي لَا أَهَابُ الْمُلُوكَ وَلَا يَمْتَنِعُ مِنِّي الْحُجَّابُ . قَالَ لَهُ دَاوُدُ : أَنْتَ إِذًا وَاللَّهِ مَلَكُ الْمَوْتِ ، مَرْحَبًا بِأَمْرِ اللَّهِ . فَزَمَلَ دَاوُدُ مَكَانَهُ حَيْثُ قُبِضَتْ نَفْسُهُ ، حَتَّى فَرَغَ مِنْ شَأْنِهِ وَطَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ ، قَالَ سُلَيْمَانُ لِلطَّيْرِ : أَظِلِّي عَلَى دَاوُدَ . فَأَظَلَّتْ عَلَيْهِ الطَّيْرُ حَتَّى أَظْلَمَتْ عَلَيْهِمُ الْأَرْضُ ، قَالَ لَهَا سُلَيْمَانُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : اقْبِضِي جَنَاحًا " . فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : يُرِينَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَيْفَ فَعَلَتِ الطَّيْرُ ، وَقَبَضَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَدَهُ ، وَصَلَّتْ عَلَيْهِ يَوْمَئِذٍ الْمَصْرَخِيَّةُ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ الْمُطَّلِبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْطَبٍ ، وَثَّقَهُ أَبُو زُرْعَةَ وَغَيْرُهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” سیدنا داؤد نبی علیہ السلام کے مزاج میں سختی زیادہ تھی ، جب وہ گھر سے نکلتے تھے تو دروازے بند کر دیے جاتے تھے اور پھر ان کے واپس آنے تک کوئی ان کی اہلیہ کے پاس نہیں آ سکتا تھا ، ایک دن وہ تشریف لے گئے ، دروازے بند کر دیے گئے ، ان کی اہلیہ آئیں اور انہوں نے صحن میں جھانکا ، تو صحن کے درمیان ایک شخص کھڑا ہوا تھا ، انہوں نے گھر میں موجود خادمہ سے دریافت کیا : یہ شخص گھر میں کہاں سے آ گیا ہے ؟ جبکہ دروازے بند ہیں ، اللہ کی قسم ! یہ سیدنا داؤد علیہ السلام کے ہاتھوں ضرور شرمندہ ہو گا ، جب سیدنا داؤد علیہ السلام آئے ، تو وہ شخص گھر کے درمیان میں کھڑا ہوا تھا ، سیدنا داؤد علیہ السلام نے دریافت کیا : تم کون ہو ؟ اس نے جواب دیا : میں وہ ہوں کہ میں نہ بادشاہوں سے ڈرتا ہوں ، اور نہ ہی کوئی رکاوٹ میرے لئے رکاوٹ بن سکتی ہے ، سیدنا داؤد علیہ السلام نے کہا: پھر تو تم اللہ کی قسم ! ملک الموت ہو گے ، اللہ کے حکم کو خوش آمدید ہے ، پھر سیدنا داؤد نے اسی جگہ پر چادر اوڑھی ، جہاں ان کی جان قبض ہونی تھی ، یہاں تک کہ ان کا وصال ہو گیا ، جب اُن پر سورج طلوع ہوا ، تو سیدنا سلیمان علیہ السلام نے پرندوں سے کہا: تم سیدنا داؤد علیہ السلام پر سایہ کر دو ! تو پرندوں نے سیدنا داؤد علیہ السلام پر سایہ کر دیا ، اور وہ اتنے پرندے تھے کہ پوری زمین پر سایہ ہو گیا ، تو سیدنا سلیمان علیہ السلام نے پرندوں سے کہا: تم اپنے پر سمیٹ لو ! سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں کر کے دکھایا کہ پرندوں نے کیسے کیا تھا ؟ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھوں کو بند کر لیا ( اور ارشاد فرمایا : ) اُس دن پرندوں نے بھی ان کے لیے دعائے رحمت کی تھی ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مطلب بن عبداللہ بن حنطب ہے ، جسے ابوزرعہ اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مطلب بن عبداللہ بن حنطب ہے ، جسے ابوزرعہ اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 13797
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِأَصْحَابِهِ : " لَقَدْ قَبَضَ اللَّهُ رُوحَ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَامُ مِنْ بَيْنِ أَصْحَابِهِ ، فَمَا فُتِنُوا وَلَا بَدَّلُوا ، وَلَقَدْ مَكَثَ أَصْحَابُ الْمَسِيحِ عَلَى سُنَنِهِ وَهَدْيِهِ مِائَتَيْ سَنَةٍ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ ، وَفِي بَعْضِهِمْ خِلَافٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب سے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ نے سیدنا داؤد علیہ السلام کی روح کو اُن کے اصحاب کے درمیان قبض کیا تھا ، تو نہ وہ لوگ آزمائش کا شکار ہوئے ، اور نہ انہوں نے کوئی تبدیلی کی ، اور سیدنا مسیح علیہ السلام کے ساتھی دو سو سال تک اُن کے طریقے اور ہدایت پر عمل پیرا رہے تھے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، اس کے بعض راویوں کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، اس کے بعض راویوں کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔