کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: ضرورت مند کو کیا کرنا چاہیے ؟ اور کس سے ضرورت پوری کرنے کا مطالبہ کرنا چاہیے ؟
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : لَا تَطْلُبْنَ حَاجَةً إِلَى أَعْمَى ، وَلَا تَطْلُبْهَا لَيْلًا ، وَإِذَا طَلَبْتَ الْحَاجَةَ فَاسْتَقْبِلِ الرَّجُلَ بِوَجْهِكَ فَإِنَّ الْحَيَاءَ فِي الْعَيْنَيْنِ ، وَبَاكِرْ حَاجَتَكَ فَإِنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " اللَّهُمَّ بَارِكْ لِأُمَّتِي فِي بُكُورِهَا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ مَسَاوِرٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : تم کسی نابینا شخص سے حاجت طلب نہ کرو ! ( یعنی اس کے سامنے اپنی ضرورت پیش نہ کرو ) اور تم رات کے وقت ضرورت پیش نہ کرو ! جب تم نے ضرورت پیش کرنی ہو ، تو سامنے والے شخص کی طرف منہ کرو ، کیونکہ حیاء آنکھوں میں ہوتی ہے ، اور دن کے ابتدائی حصے میں حاجت پیش کرو ، کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” اے اللہ ! میری امت کے صبح کے کاموں میں برکت رکھ دے ! “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن مساور ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن مساور ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اطْلُبُوا الْخَيْرَ عِنْدَ حِسَانِ الْوُجُوهِ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ صُهْبَانَ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” خوبصورت چہرے والوں کے پاس بھلائی تلاش کرو ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمر بن صہبان ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمر بن صہبان ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ آتَاهُ اللَّهُ وَجْهًا حَسَنًا وَاسْمًا حَسَنًا وَجَعَلَهُ فِي مَوْضِعٍ غَيْرَ شَائِنٍ ، فَهُوَ صَفْوَةُ اللَّهِ مِنْ خَلْقِهِ " . وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : قَالَ الشَّاعِرُ : ¤ أَنْتَ شَرْطَ النَّبِيِّ إِذْ قَالَ يَوْمًا فَابْتَغُوا الْخَيْرَ فِي صِبَاحِ الْوُجُوهِ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ خَلَفُ بْنُ خَالِدٍ الْبَصْرِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جس شخص کو اللہ تعالیٰ نے خوبصورت چہرہ عطا کیا ہو ، خوبصورت نام دیا ہو ، اور اُسے ایسی جگہ پر رکھا ہو ، جہاں رُسوائی نہ ہو ، تو وہ شخص اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں اُس کا منتخب بندہ ہو گا ۔ “ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : شاعر نے کہا: ہے : ” آپ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیان کردہ شرط کے مطابق ہیں جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا : ” بھلائی خوبصورت چہرے والوں کے پاس تلاش کرو ! “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی خلف بن خالد بصری ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی خلف بن خالد بصری ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
وَعَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - أَرَاهُ رَفَعَهُ - قَالَ : " اطْلُبُوا الْخَيْرَ إِلَى حِسَانِ الْوُجُوهِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ خِرَاشِ بْنِ حَوْشَبٍ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَقَالَ : رُبَّمَا أَخْطَأَ ، وَضَعَّفَهُ غَيْرُهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
مجاہد نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالے سے
یہ روایت نقل کی ہے ، میرا خیال ہے انہوں نے اسے ” مرفوع “ حدیث کے طور پر نقل کیا ہے : ” خوبصورت چہرے والوں کے پاس بھلائی تلاش کرو !“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن خراش بن حوشب ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، وہ کہتے ہیں : یہ بعض اوقات غلطی کر جاتا ہے ، دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت نقل کی ہے ، میرا خیال ہے انہوں نے اسے ” مرفوع “ حدیث کے طور پر نقل کیا ہے : ” خوبصورت چہرے والوں کے پاس بھلائی تلاش کرو !“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن خراش بن حوشب ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، وہ کہتے ہیں : یہ بعض اوقات غلطی کر جاتا ہے ، دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اطْلُبُوا الْحَوَائِجَ إِلَى حِسَانِ الْوُجُوهِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ طَلْحَةُ بْنُ عَمْرٍو ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” خوبصورت چہروں کے پاس ضروریات تلاش کرو ( یعنی اُن ضروریات کی تکمیل کا ذریعہ تلاش کرو ) ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی طلحہ بن عمرو ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی طلحہ بن عمرو ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
وَعَنْ يَزِيدَ بْنِ خُصَيْفَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " الْتَمِسُوا الْخَيْرَ عِنْدَ حِسَانِ الْوُجُوهِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مِنْ طَرِيقِ يَحْيَى بْنِ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ النَّوْفَلِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، وَكِلَاهُمَا ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
یزید بن خصیفہ اپنے والد کے حوالے سے ، اپنے دادا کے حوالے سے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” خوبصورت چہرے والے لوگوں کے پاس بھلائی تلاش کرو !“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے یحیی بن یزید بن عبدالملک نوفلی کی ، اس کے والد کے حوالے سے نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے ، اور یہ دونوں ضعیف ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے یحیی بن یزید بن عبدالملک نوفلی کی ، اس کے والد کے حوالے سے نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے ، اور یہ دونوں ضعیف ہیں ۔
وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " الْتَمِسُوا الْخَيْرَ عِنْدَ حِسَانِ الْوُجُوهِ " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” خوبصورت چہرے والے لوگوں کے پاس بھلائی تلاش کرو !“ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الْتَمِسُوا الْخَيْرَ إِلَى الرُّحَمَاءِ مِنْ أُمَّتِي تَعِيشُوا فِي أَكْنَافِهِمْ ، وَلَا تَطْلُبُوهَا مِنَ الْقَاسِيَةِ قُلُوبُهُمْ فَإِنَّهُمْ يَنْتَظِرُونَ سُخْطِي " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ مَرْوَانَ السُّدِّيُّ الصَّغِيرُ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میری اُمت کے رحم کرنے والے لوگوں کے پاس بھلائی تلاش کرو ! تم ان کے زیر سایہ رہو ! تم وہ بھلائی ، سخت دل لوگوں کے پاس تلاش نہ کرو ، کیونکہ وہ لوگ میری ناراضگی کے منتظر ہوں گے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن مروان سدی صغیر ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن مروان سدی صغیر ہے ، اور وہ متروک ہے ۔