مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البر والصلة— اچھائی اور صلہ رحمی کے بارے میں روایات
بَابُ مَا يَفْعَلُ طَالِبُ الْحَاجَةِ وَمِمَّنْ يَطْلُبُهَا . باب: ضرورت مند کو کیا کرنا چاہیے ؟ اور کس سے ضرورت پوری کرنے کا مطالبہ کرنا چاہیے ؟
حدیث نمبر: 13729
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : لَا تَطْلُبْنَ حَاجَةً إِلَى أَعْمَى ، وَلَا تَطْلُبْهَا لَيْلًا ، وَإِذَا طَلَبْتَ الْحَاجَةَ فَاسْتَقْبِلِ الرَّجُلَ بِوَجْهِكَ فَإِنَّ الْحَيَاءَ فِي الْعَيْنَيْنِ ، وَبَاكِرْ حَاجَتَكَ فَإِنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " اللَّهُمَّ بَارِكْ لِأُمَّتِي فِي بُكُورِهَا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ مَسَاوِرٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : تم کسی نابینا شخص سے حاجت طلب نہ کرو ! ( یعنی اس کے سامنے اپنی ضرورت پیش نہ کرو ) اور تم رات کے وقت ضرورت پیش نہ کرو ! جب تم نے ضرورت پیش کرنی ہو ، تو سامنے والے شخص کی طرف منہ کرو ، کیونکہ حیاء آنکھوں میں ہوتی ہے ، اور دن کے ابتدائی حصے میں حاجت پیش کرو ، کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” اے اللہ ! میری امت کے صبح کے کاموں میں برکت رکھ دے ! “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن مساور ہے اور وہ ضعیف ہے ۔