مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البر والصلة— اچھائی اور صلہ رحمی کے بارے میں روایات
بَابُ مَا يَفْعَلُ طَالِبُ الْحَاجَةِ وَمِمَّنْ يَطْلُبُهَا . باب: ضرورت مند کو کیا کرنا چاہیے ؟ اور کس سے ضرورت پوری کرنے کا مطالبہ کرنا چاہیے ؟
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ آتَاهُ اللَّهُ وَجْهًا حَسَنًا وَاسْمًا حَسَنًا وَجَعَلَهُ فِي مَوْضِعٍ غَيْرَ شَائِنٍ ، فَهُوَ صَفْوَةُ اللَّهِ مِنْ خَلْقِهِ " . وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : قَالَ الشَّاعِرُ : ¤ أَنْتَ شَرْطَ النَّبِيِّ إِذْ قَالَ يَوْمًا فَابْتَغُوا الْخَيْرَ فِي صِبَاحِ الْوُجُوهِ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ خَلَفُ بْنُ خَالِدٍ الْبَصْرِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جس شخص کو اللہ تعالیٰ نے خوبصورت چہرہ عطا کیا ہو ، خوبصورت نام دیا ہو ، اور اُسے ایسی جگہ پر رکھا ہو ، جہاں رُسوائی نہ ہو ، تو وہ شخص اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں اُس کا منتخب بندہ ہو گا ۔ “ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : شاعر نے کہا: ہے : ” آپ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیان کردہ شرط کے مطابق ہیں جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا : ” بھلائی خوبصورت چہرے والوں کے پاس تلاش کرو ! “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی خلف بن خالد بصری ہے اور وہ ضعیف ہے ۔