مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البر والصلة— اچھائی اور صلہ رحمی کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ رَحِمَ طَالِبَ حَاجَةٍ . باب: اس شخص کا بیان ، جو کسی ضرورت مند پر رحم کرے
عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ أَنَّ امْرَأَةً جَاءَتْ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعِنْدَهُ أَصْحَابُهُ ، فَأَطَافَتْ بِهِمْ فَلَمْ تَجِدْ مَكَانًا ، فَفَطِنَ لَهَا رَجُلٌ فَقَامَ ، وَجَلَسَتْ فَقَضَتْ حَاجَتَهَا ثُمَّ قَامَتْ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِلرَّجُلِ : " أَتَعْرِفُهَا ؟ " . قَالَ : لَا . قَالَ : " فَرَحِمْتَهَا رَحِمَكَ اللَّهُ " ثَلَاثًا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ سُلَيْمَانَ ، وَثَّقَهُ أَبُو دَاوُدَ وَغَيْرُهُ وَضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک خاتون نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس صحابہ کرام موجود تھے ، اس خاتون نے ان کا چکر لگایا ، لیکن اسے کوئی جگہ نہیں ملی ، ایک شخص کو اس کی ضرورت کا اندازہ ہو گیا ، وہ اُٹھا تو وہ خاتون وہاں بیٹھ گئنی ، اس کی حاجت پوری ہوئی تو وہ اٹھ گئی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص سے فرمایا : کیا تم اس عورت کو جانتے ہو ؟ اس نے جواب دیا : جی نہیں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تو تم نے اس پر رحم کیا ، اللہ تعالیٰ تم پر رحم کرے ۔ “ یہ کلمات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ ارشاد فرمائے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالحمید بن سلیمان ہے ، جسے امام ابوداؤ داور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ، جبکہ یحیی بن معین اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔