کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: اچھائی اور والدین کے حق کے بارے میں ، جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 13389
عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " رِضَا الرَّبِّ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فِي رِضَا الْوَالِدِ ، وَسُخْطُ الرَّبِّ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فِي سُخْطِ الْوَالِدِ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عِصْمَةُ بْنُ مُحَمَّدٍ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” پروردگار کی رضامندی ، والد کی رضامندی میں ، اور پروردگار کی ناراضگی ، والد کی ناراضگی میں ہے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عصمہ بن محمد ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عصمہ بن محمد ہے اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 13390
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ سَرَّهُ أَنْ يُمَدَّ لَهُ فِي عُمْرِهِ وَيُزَادَ فِي رِزْقِهِ فَلْيَبَرَّ وَالِدَيْهِ وَلِيَصِلْ رَحِمَهُ " . قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ خَلَا بِرَّ الْوَالِدَيْنِ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص یہ چاہتا ہو کہ اس کی عمر میں اضافہ ہو جائے اس کے رزق میں اضافہ ہو جائے ، اس کو والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرنا چاہیے اور رشتے داروں کے ساتھ اچھا سلوک کرنا چاہیے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں یہ روایت صحیح میں مذکور ہے تاہم اس میں والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کا ذکر نہیں ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 13391
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " طَاعَةُ اللَّهِ طَاعَةُ الْوَالِدِ ، وَمَعْصِيَةُ اللَّهِ مَعْصِيَةُ الْوَالِدِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ عَنْ شَيْخِهِ أَحْمَدَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَيْسَانَ وَهُوَ لَيِّنٌ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَمْرٍو الْبَجَلِيِّ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَغَيْرُهُ وَضَعَّفَهُ أَبُو حَاتِمٍ وَغَيْرُهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اللہ تعالیٰ کی اطاعت ، والد کی اطاعت میں ہے اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی والد کی نافرمانی میں ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں ، اپنے استاد ابراہیم بن عبداللہ بن کیسان کے حوالے سے نقل کی ہے اور وہ کمزور ہے ، اس کے حوالے سے انہوں نے اسے اسماعیل بن عمرو بجلی سے نقل کیا ہے ، جسے ابن حبان اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ، جبکہ ابوحاتم اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں ، اپنے استاد ابراہیم بن عبداللہ بن کیسان کے حوالے سے نقل کی ہے اور وہ کمزور ہے ، اس کے حوالے سے انہوں نے اسے اسماعیل بن عمرو بجلی سے نقل کیا ہے ، جسے ابن حبان اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ، جبکہ ابوحاتم اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 13392
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ بَرَّ وَالِدَيْهِ طُوبَى لَهُ زَادَ اللَّهُ فِي عُمْرِهِ " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ زَبَّانُ بْنُ فَائِدٍ ، وَثَّقَهُ أَبُو حَاتِمٍ وَضَعَّفَهُ غَيْرُهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ أَبِي يَعْلَى ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاذ بن انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص اپنے والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرتا ہے ، اس کے لئے مبارک باد ہے ، اللہ تعالیٰ اس کی عمر میں اضافہ کر دیتا ہے ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی زبان بن فائد ہے جسے ابوحاتم نے ثقہ قرار دیا ہے اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ، امام ابویعلیٰ کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی زبان بن فائد ہے جسے ابوحاتم نے ثقہ قرار دیا ہے اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ، امام ابویعلیٰ کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 13393
وَعَنْ رَافِعِ بْنِ مَكِيثٍ - وَكَانَ مِمَّنْ شَهِدَ الْحُدَيْبِيَةَ - أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " وَالْبِرُّ زِيَادَةٌ فِي الْعُمْرِ ، وَالصَّدَقَةُ تَمْنَعُ مِيتَةَ السُّوءِ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ ، عَنْ بَعْضِ بَنِي رَافِعٍ ، وَقَدْ سَمَّاهُ غَيْرُهُ : مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ رَافِعٍ ، فَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ بِاعْتِبَارِ الَّذِي سَمَّاهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا رافع بن مکیث رضی اللہ عنہ ، جنہیں غزوہ حدیبیہ میں شرکت کا شرف حاصل ہے ، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : والدین کے ساتھ اچھا سلوک ، عمر میں اضافہ کرتا ہے اور صدقہ ، بری موت کو روک دیتا ہے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے ایک طویل حدیث میں ، سیدنا رافع رضی اللہ عنہ کی اولاد میں سے کسی سے نقل کی ہے ، ان کے علاوہ دیگر نے ان کا نام محمد بن خالد بن رافع بیان کیا ہے ، تو اس روایت کے رجال اُس اعتبار سے ثقہ ہوں گے ، جس نے اُس کا نام بیان کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے ایک طویل حدیث میں ، سیدنا رافع رضی اللہ عنہ کی اولاد میں سے کسی سے نقل کی ہے ، ان کے علاوہ دیگر نے ان کا نام محمد بن خالد بن رافع بیان کیا ہے ، تو اس روایت کے رجال اُس اعتبار سے ثقہ ہوں گے ، جس نے اُس کا نام بیان کیا ہے ۔
حدیث نمبر: 13394
وَعَنْ بُرَيْدَةَ أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي حَمَلْتُ أُمِّي عَلَى عُنُقِي فَرْسَخَيْنِ فِي رَمْضَاءَ شَدِيدَةٍ ، لَوْ أُلْقِيَتْ فِيهَا بُضْعَةٌ مِنْ لَحْمٍ لَنَضِجَتْ ، فَهَلْ أَدَّيْتُ شُكْرَهَا ؟ فَقَالَ : " لَعَلَّهُ أَنْ يَكُونَ لِطَلْقَةٍ وَاحِدَةٍ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ ، وَفِيهِ الْحَسَنُ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ مِنْ غَيْرِ كَذِبٍ ، وَلَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ مُدَلِّسٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، اس نے عرض کی یا رسول اللہ ! میں شدید گرمی کے موسم میں اپنی والدہ کو اپنی گردن پر بٹھا کر دو فرسخ تک چلا ہوں ، ایسی گرمی تھی کہ اگر وہاں گوشت کا ٹکڑا ڈالا جاتا تو وہ پک جاتا ، تو کیا میں نے اپنی والدہ کا شکر ادا کر دیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” شاید یہ ، کسی ایک تکلیف کا بدل بنتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حسن بن ابوجعفر ہے اور وہ ضعیف ہے لیکن جھوٹا نہیں ہے اور ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے اور وہ مدلس ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حسن بن ابوجعفر ہے اور وہ ضعیف ہے لیکن جھوٹا نہیں ہے اور ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے اور وہ مدلس ہے ۔
حدیث نمبر: 13395
وَعَنْهُ أَنَّ رَجُلًا كَانَ فِي الطَّوَافِ حَامِلًا أُمَّهُ فَسَأَلَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : هَلْ أَدَّيْتُ حَقَّهَا ؟ قَالَ : " لَا ، وَلَا بِرَكْزَةٍ وَاحِدَةٍ " . أَوْ كَمَا قَالَ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ بِإِسْنَادِ الَّذِي قَبْلَهُ . ¤
محمد محی الدین
اسی صحابی کے حوالے سے یہ بات منقول ہے : ایک شخص نے اپنی والدہ کو اٹھا کر انہیں طواف کروایا ، اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا : کیا میں نے ان کا حق ادا کر دیا ہے ؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی نہیں ! یہ ایک تکلیف کا بھی حق نہیں بنتا ہے ، یا جس طرح بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ۔
یہ روایت امام بزار نے اس سے پہلے والی روایت کی سند کے ساتھ نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے اس سے پہلے والی روایت کی سند کے ساتھ نقل کی ہے ۔
حدیث نمبر: 13396
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : أَتَى رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَجُلٌ وَمَعَهُ شَيْخٌ فَقَالَ لَهُ : " يَا فُلَانُ مَنْ هَذَا مَعَكَ ؟ " . قَالَ : أَبِي . قَالَ : فَلَا تَمْشِ أَمَامَهُ ، وَلَا تَجْلِسْ قَبْلَهُ ، وَلَا تَدْعُهُ بِاسْمِهِ ، وَلَا تَسْتَسِبَّ لَهُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَقَالَ : لَا يُرْوَى عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، عَنْ شَيْخِهِ عَلِيِّ بْنِ سَعِيدِ بْنِ بَشِيرٍ وَهُوَ لَيِّنٌ ، وَقَدْ نَقَلَ ابْنُ دَقِيقِ الْعِيدِ أَنَّهُ وُثِّقَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَرْعَرَةَ بْنِ يَزِيدَ لَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، اس کے ساتھ ایک بوڑھا بھی تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے دریافت کیا : اے فلاں شخص ! تمہارے ساتھ کون ہے ؟ اس نے جواب دیا : میرے والد ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم ان کے آگے نہ چلنا اور ان سے پہلے نہ بیٹھنا اور انہیں ان کے نام سے نہ بلانا اور ان کے ساتھ سختی سے بات نہ کرنا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، وہ کہتے ہیں : یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے صرف اسی سند کے ساتھ منقول ہے ، جو انہوں نے اپنے استاد علی بن سعید بن بشیر کے حوالے سے نقل کی ہے اور وہ کمزور ہے ، ابن دقیق العید نے یہ بات نقل کی ہے کہ اس کی توثیق کی گی ہے ، اس روایت کی سند میں ایک راوی محمد بن عرعرہ بن یزید ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، وہ کہتے ہیں : یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے صرف اسی سند کے ساتھ منقول ہے ، جو انہوں نے اپنے استاد علی بن سعید بن بشیر کے حوالے سے نقل کی ہے اور وہ کمزور ہے ، ابن دقیق العید نے یہ بات نقل کی ہے کہ اس کی توثیق کی گی ہے ، اس روایت کی سند میں ایک راوی محمد بن عرعرہ بن یزید ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 13397
وَعَنْ أَبِي غَسَّانَ الضَّبِّيِّ قَالَ : خَرَجْتُ أَمْشِي مَعَ أَبِي بِظَهْرِ الْحَرَّةِ ، فَلَقِيَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ فَقَالَ لِي : مَنْ هَذَا ؟ قُلْتُ : أَبِي . قَالَ : لَا تَمْشِ بَيْنَ يَدَيْ أَبِيكَ ، وَلَكِنِ امْشِ خَلْفَهُ أَوْ إِلَى جَانِبِهِ ، وَلَا تَدَعْ أَحَدًا يَحُولُ بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ ، وَلَا تَمْشِ فَوْقَ إِجَّارٍ أَبُوكَ تَحْتَهُ ، وَلَا تَأْكُلْ عِرْقًا قَدْ نَظَرَ أَبُوكَ إِلَيْهِ لَعَلَّهُ قَدِ اشْتَهَاهُ . قُلْتُ : وَيَأْتِي بِتَمَامِهِ فِي الْعُقُوقِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَأَبُو غَسَّانَ وَأَبُو غَنْمٍ الرَّاوِي عَنْهُ لَمْ أَعْرِفْهُمَا ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ابوغسان ضبی بیان کرتے ہیں : میں اپنے والد کے ساتھ پتھریلی سرزمین پر چلتا ہوا جا رہا تھا ، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی مجھ سے ملاقات ہوئی ، انہوں نے مجھ سے دریافت کیا : یہ کون ہے ؟ میں نے جواب دیا : یہ میرے والد ہیں ، انہوں نے فرمایا : تم اپنے والد کے آگے نہ چلنا ، بلکہ اُن کے پیچھے چلنا ، یا اُن کے ایک طرف چلنا اور تم کسی شخص کو یہ موقع نہ دینا کہ وہ تمہارے اور ان کے درمیان حائل ہو جائے اور تم کسی ایسی بلند جگہ پر نہ چلنا کہ تمہارے والد نیچے ہو رہے ہوں ، اور تم کوئی ایسی گوشت والی ہڈی نہ کھانا ، جس کی طرف تمہارے والد دیکھ رہے ہوں ، ہو سکتا ہے ، انہیں اس کی خواہش ہو ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ مکمل روایت ، والدین کی نافرمانی سے متعلق باب میں آئے گی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ابوغسان نامی راوی اور اس سے روایت نقل کرنے والا شخص ابوغنم ، میں ان دونوں سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ابوغسان نامی راوی اور اس سے روایت نقل کرنے والا شخص ابوغنم ، میں ان دونوں سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 13398
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ : هَاجَرَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَجُلٌ مِنَ الْيَمَنِ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " هَجَرْتَ الشِّرْكَ ، وَلَكِنَّهُ الْجِهَادُ ، هَلْ بِالْيَمَنِ أَبَوَاكَ ؟ " . قَالَ : نَعَمْ . قَالَ : " أَذِنَا لَكَ ؟ " . قَالَ : لَا . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " ارْجِعْ إِلَى أَبَوَيْكَ [فَاسْتَأْذِنْهُمَا] ، فَإِنْ فَعَلَا ، وَإِلَّا فَبِرَّهُمَا " . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : یمن سے تعلق رکھنے والا ایک شخص ، ہجرت کر کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے دریافت کیا : تم نے شرک سے لاتعلقی اختیار کر لی ہے ؟ لیکن جہاد باقی ہے ، کیا یمن میں تمہارے ماں باپ موجود ہیں ؟ اس نے جواب دیا : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : اُن دونوں نے تمہیں اجازت دی تھی ؟ اس نے جواب دیا : جی نہیں ! تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اپنے ماں باپ کی طرف واپس چلے جاؤ اور ان دونوں سے اجازت مانگو ، اگر وہ اجازت دیدیتے ہیں تو ٹھیک ہے ، ورنہ ان کے ساتھ اچھا سلوک کرتے رہنا ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 13399
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : أَتَى رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : إِنِّي أَشْتَهِي الْجِهَادَ وَلَا أَقْدِرُ عَلَيْهِ . قَالَ : " هَلْ بَقِيَ مِنْ وَالِدَيْكَ أَحَدٌ ؟ " . قَالَ : أُمِّي . قَالَ : " فَأَبْلِ اللَّهَ فِي بِرِّهَا ، فَإِذَا فَعَلْتَ ذَلِكَ كَانَ لَكَ أَجْرُ حَاجٍّ وَمُعْتَمِرٍ وَمُجَاهِدٍ ، فَإِذَا رَضِيَتْ عَنْكَ أُمُّكَ ، فَاتَّقِ اللَّهَ وَبِرَّهَا " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مَيْمُونِ بْنِ نَجِيحٍ وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، اُس نے عرض کی : مجھے جہاد میں حصہ لینے کا شوق ہے اور میں اس کی قدرت نہیں رکھتا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تمہارے ماں باپ میں سے کوئی باقی ہے ؟ اس نے جواب دیا : میری والدہ ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تو تم اس خاتون کے ساتھ اچھا سلوک کر کے ، اللہ تعالیٰ کو راضی کرو ! جب تم ایسا کر لو گے ، تو تمہیں حج کرنے والے ، عمرہ کرنے والے اور جہاد کرنے والے شخص کی مانند اجر ملے گا ، جب تمہاری والدہ تم سے راضی ہوں گی ( تو یہ اجر ملے گا ) تو تم اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو اور ( اس ) خاتون کے ساتھ اچھا سلوک کرو ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے ، امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، ان دونوں کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف میمون بن نجیح کا معاملہ مختلف ہے اور ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے ، امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، ان دونوں کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف میمون بن نجیح کا معاملہ مختلف ہے اور ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔
حدیث نمبر: 13400
وَعَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ جَاهِمَةَ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ : أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَسْتَشِيرُهُ فِي الْجِهَادِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَلَكَ وَالِدَانِ ؟ " . قُلْتُ : نَعَمْ . قَالَ : " الْزَمْهُمَا ، فَإِنَّ الْجَنَّةَ تَحْتَ أَقْدَامِهِمَا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
معاویہ بن جاہمہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : میں جہاد میں حصہ لینے کے لئے مشورہ لینے کی غرض سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تمہارے ماں باپ ہیں ؟ میں نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اُن دونوں کے ساتھ رہو ! کیونکہ جنت اُن دونوں کے پاؤں کے نیچے ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 13401
وَعَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُعَاوِيَةَ السُّلَمِيِّ قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي أُرِيدُ الْجِهَادَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ . قَالَ : " أُمُّكَ حَيَّةٌ ؟ " . قُلْتُ : نَعَمْ . قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الْزَمْ رِجْلَهَا فَثَمَّ الْجَنَّةُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ وَهُوَ مُدَلِّسٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ طَلْحَةَ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا طلحہ بن معاویہ سلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں اللہ کی راہ میں جہاد میں حصہ لینا چاہتا ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تمہاری والدہ زندہ ہیں ؟ میں نے جواب دیا : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اُن کے پاؤں کے پاس رہو ! وہیں جنت ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے ابن اسحاق کے حوالے سے نقل کی ہے اور وہ مدلس ہے ، اس کے حوالے سے یہ محمد بن طلحہ سے منقول ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے ابن اسحاق کے حوالے سے نقل کی ہے اور وہ مدلس ہے ، اس کے حوالے سے یہ محمد بن طلحہ سے منقول ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 13402
وَعَنْ نُعَيْمٍ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ قَالَ : خَرَجَ ابْنُ عُمَرَ حَاجًّا ، حَتَّى كَانَ بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ ، أَتَى شَجَرَةً فَعَرَفَهَا ، فَجَلَسَ تَحْتَهَا ثُمَّ قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَحْتَ هَذِهِ الشَّجَرَةِ إِذْ أَقْبَلَ رَجُلٌ شَابٌّ مِنْ هَذِهِ الشُّعْبَةِ ، حَتَّى وَقَفَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي جِئْتُ لِأُجَاهِدَ مَعَكَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، أَبْتَغِي بِذَلِكَ وَجْهَ اللَّهِ وَالدَّارَ الْآخِرَةَ . فَقَالَ : " أَبَوَاكَ حَيَّانِ كِلَاهُمَا ؟ " . قَالَ : نَعَمْ . قَالَ : " فَارْجِعْ فَبِرَّهُمَا " . فَانْفَتَلَ رَاجِعًا مِنْ حَيْثُ جَاءَ . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ ابْنُ إِسْحَاقَ وَهُوَ مُدَلِّسٌ ثِقَةٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِنْ كَانَ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ نَاعِمًا وَهُوَ الصَّحِيحُ ، وَإِنْ كَانَ نُعَيْمًا فَلَمْ أَعْرِفْهُ . قُلْتُ : وَقَدْ تَقَدَّمَتْ أَحَادِيثُ فِي الْجِهَادِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے غلام ، نعیم بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما حج کے لئے روانہ ہوئے ، مکہ اور مدینہ منورہ کے درمیان وہ کسی درخت کے پاس آئے ، انہوں نے اس درخت کو پہچان لیا اور پھر اس کے نیچے بیٹھ گئے ، پھر انہوں نے یہ بات بیان کی کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس درخت کے نیچے بیٹھے ہوئے دیکھا ، اس دوران ایک گھاٹی میں سے ایک نوجوان شخص سامنے آیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر ٹھہر گیا اور عرض کی : یا رسول اللہ ! میں اس لئے آیا ہوں ، تاکہ آپ کے ساتھ اللہ کی راہ میں جہاد میں حصہ لوں اور میں اس کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول اور آخرت کے اجر و ثواب کا حصول چاہتا ہوں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا تمہارے ماں باپ دونوں زندہ ہیں ؟ اس نے جواب دیا : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم واپس چلے جاؤ اور ان دونوں کے ساتھ اچھا سلوک کرو ، تو وہ شخص واپس اسی طرف چلا گیا جہاں سے وہ آیا تھا ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن اسحاق ہے اور وہ مدلس اور ثقہ ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ، اگر ناعم نامی شخص سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کا غلام ہو اور یہ روایت صحیح ہو گی اور اگر وہ نعیم ہو ، تو پھر میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس نوعیت کی کچھ احادیث ، جہاد سے متعلق باب میں گزر چکی ہیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن اسحاق ہے اور وہ مدلس اور ثقہ ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ، اگر ناعم نامی شخص سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کا غلام ہو اور یہ روایت صحیح ہو گی اور اگر وہ نعیم ہو ، تو پھر میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس نوعیت کی کچھ احادیث ، جہاد سے متعلق باب میں گزر چکی ہیں ۔
حدیث نمبر: 13403
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " بِرُّوا آبَاءَكُمْ تَبَرُّكُمْ أَبْنَاؤُكُمْ ، وَعِفُّوا تَعِفَّ نِسَاؤُكُمْ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ شَيْخِ الطَّبَرَانِيِّ أَحْمَدَ غَيْرَ مَنْسُوبٍ ، وَالظَّاهِرُ أَنَّهُ مِنَ الْمُكْثِرِينَ مِنْ شُيُوخِهِ فَلِذَلِكَ لَمَّ يَنْسُبْهُ ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اپنے ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرو ! تمہاری اولاد تمہارے ساتھ اچھا سلوک کرے گی ، تم لوگ پاکدامن رہو ، تمہاری عورتیں پاکدامن رہیں گی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف امام طبرانی کے استاد أحمد کا معاملہ مختلف ہے ، جس کا اسم منسوب بیان نہیں کیا گیا ہے بظاہر یہ لگتا ہے ، یہ ان افراد میں سے ایک ہے جن سے امام طبرانی نے بکثرت روایات نقل کی ہیں اور شاید اسی وجہ سے انہوں نے اس کا اسم منسوب بیان نہیں کیا ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف امام طبرانی کے استاد أحمد کا معاملہ مختلف ہے ، جس کا اسم منسوب بیان نہیں کیا گیا ہے بظاہر یہ لگتا ہے ، یہ ان افراد میں سے ایک ہے جن سے امام طبرانی نے بکثرت روایات نقل کی ہیں اور شاید اسی وجہ سے انہوں نے اس کا اسم منسوب بیان نہیں کیا ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔
حدیث نمبر: 13404
وَعَنْ عَائِشَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " عِفُّوا تَعِفَّ نِسَاؤُكُمْ ، وَبِرُّوا آبَاءَكُمْ تَبَرُّكُمْ أَبْنَاؤُكُمْ " . فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، وَهُوَ بِتَمَامِهِ فِي بَابِ الِاعْتِذَارِ فِي الْأَدَبِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ الْعُمَرِيُّ ، وَهُوَ كَذَّابٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں : ” تم لوگ پاک دامن رہو ! تمہاری عورتیں پاک دامن رہیں گی ، تم اپنے آباء و اجداد کے ساتھ اچھا سلوک کرو ، تمہاری اولاد تمہارے ساتھ اچھا سلوک کرے گی ۔ “ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ، مکمل روایت ” کتاب الادب“ میں عذر پیش کرنے سے متعلق باب میں گزر چکی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی خالد بن یزید عمری ہے اور وہ کذاب ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی خالد بن یزید عمری ہے اور وہ کذاب ہے ۔
حدیث نمبر: 13405
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ أَنَّهُ شَهِدَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حِجَّةَ الْوَدَاعِ ، فَكَانَ أَوَّلَ مَا تَفَوَّهَ بِهِ أَنْ قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُوصِيكُمْ بِأُمَّهَاتِكُمْ " . فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَيَّاشٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : وہ حجۃ الوداع کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ موجود تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سب سے پہلے یہ بات ارشاد فرمائی : ” بے شک اللہ تعالیٰ تمہیں تمہاری ماؤں کے بارے میں تلقین کرتا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن اسماعیل بن عیاش ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن اسماعیل بن عیاش ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 13406
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَنْ أَبِرُّ ؟ قَالَ : " أُمَّكِ " . قَالَتْ : ثُمَّ مَنْ ؟ قَالَ : " أُمَّكِ " . قَالَتْ : ثُمَّ مَنْ ؟ قَالَ : " أُمَّكِ " . قَالَتْ : ثُمَّ مَنْ ؟ قَالَ : " وَالِدَكِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْيَمَامِيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک خاتون نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کی : یا رسول اللہ ! میں کس کے ساتھ سب سے زیادہ اچھا سلوک کروں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اپنی ماں کے ساتھ ، اس نے دریافت کیا : پھر کس کے ساتھ ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اپنی ماں کے ساتھ ، اس نے دریافت کیا : پھر کس کے ساتھ ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اپنی ماں کے ساتھ اس نے دریافت کیا : پھر کس کے ساتھ ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اپنے باپ کے ساتھ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن داؤد یمامی ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن داؤد یمامی ہے اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 13407
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدٍ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ لِي أَهْلًا وَأُمًّا وَأَبًا ، فَأَيُّهُمْ أَحَقُّ بِصِلَتِي ؟ قَالَ : أُمَّكَ وَأَبَاكَ ، وَأُخْتَكَ وَأَخَاكَ ، ثُمَّ أَدْنَاكَ أَدْنَاكَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْبَزَّارُ ، وَفِيهِ السَّرِيُّ بْنُ إِسْمَاعِيلَ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ بِإِسْنَادٍ حَسَنٍ غَيْرِ إِسْنَادِ الَّذِي قَبْلَهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن سعید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ میری بیوی بھی ہے ، ماں بھی ہے اور باپ بھی ہے ، اُن میں سے کون میرے اچھے سلوک کا سب سے زیادہ حق دار ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تمہاری ماں ، تمہارا باپ ، تمہاری بہن ، تمہارا بھائی اور پھر درجہ بدرجہ قریبی عزیز ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سری بن اسماعیل ہے اور وہ متروک ہے ۔ یہ روایت امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے ، جو حسن سند کے ساتھ منقول ہے اور اس سند کے علاوہ ہے ، جو اس سے پہلے گزری ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سری بن اسماعیل ہے اور وہ متروک ہے ۔ یہ روایت امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے ، جو حسن سند کے ساتھ منقول ہے اور اس سند کے علاوہ ہے ، جو اس سے پہلے گزری ہے ۔
حدیث نمبر: 13408
وَعَنْ أُسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍ قَالَ : شَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي حِجَّةِ الْوَدَاعِ وَهُوَ يَقُولُ : " أُمَّكَ وَأَبَاكَ وَأُخْتَكَ وَأَخَاكَ ثُمَّ أَدْنَاكَ أَدْنَاكَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ وَهُوَ ثِقَةٌ ثَبْتٌ . ¤ قُلْتُ : وَقَدْ تَقَدَّمَ فِي الزَّكَاةِ فِي بَابِ الْيَدِ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى أَحَادِيثٌ نَحْوَ هَذَا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا اسامہ بن شریک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حجۃ الوداع کے موقع پر موجود تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تمہاری ماں ، تمہارا باپ ، تمہاری بہن ، تمہارا بھائی ، پھر درجہ بدرجہ قریبی رشتے دار ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں البتہ عبداللہ بن أحمد بن حنبل کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ اور ثبت ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس سے پہلے زکوۃ سے متعلق باب میں ، اوپر والے ہاتھ کے ، نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہونے سے متعلق باب میں ، اس نوعیت کی کچھ احادیث گزر چکی ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں البتہ عبداللہ بن أحمد بن حنبل کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ اور ثبت ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس سے پہلے زکوۃ سے متعلق باب میں ، اوپر والے ہاتھ کے ، نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہونے سے متعلق باب میں ، اس نوعیت کی کچھ احادیث گزر چکی ہیں ۔
حدیث نمبر: 13409
وَعَنْ جَابِرٍ - يَعْنِي ابْنَ سَمُرَةَ - قَالَ : صَعِدَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْمِنْبَرَ فَقَالَ : " آمِينَ آمِينَ آمِينَ " . قَالَ : " أَتَانِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ مَنْ أَدْرَكَ أَحَدَ وَالِدَيْهِ فَمَاتَ ، فَدَخَلَ النَّارَ فَأَبْعَدَهُ اللَّهُ ، فَقُلْ : آمِينَ . قُلْتُ : آمِينَ . قَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، مَنْ أَدْرَكَ شَهْرَ رَمَضَانَ فَمَاتَ ، فَلَمْ يُغْفَرْ لَهُ فَأُدْخِلَ النَّارَ فَأَبْعَدَهُ اللَّهُ ، قُلْ : آمِينَ فَقُلْتُ : آمِينَ . قَالَ : وَمَنْ ذُكِرْتَ عِنْدَهُ فَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْكَ ، فَمَاتَ فَدَخَلَ النَّارَ فَأَبْعَدَهُ اللَّهُ . قُلْ : آمِينَ فَقُلْتُ : آمِينَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِأَسَانِيدَ وَأَحَدُهَا حَسَنٌ ، وَلِهَذَا الْحَدِيثِ طُرُقٌ فِي الْأَدْعِيَةِ فِي الصَّلَاةِ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر چڑھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : آمین ، آمین ، آمین ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا : ” سیدنا جبرائیل علیہ السلام میرے پاس آئے اور بولے : اے سیدنا محمد ! جو اپنے ماں باپ میں سے کسی ایک کو پائے اور وہ ایسی حالت میں مر جائے کہ وہ جہنم میں چلا جائے ، تو اللہ تعالیٰ اسے ( اپنی رحمت سے ) دور کر دے ، آپ آمین کہیں ! تو میں نے آمین کہا: ، جبرائیل نے کہا: اے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم جو شخص رمضان کا مہینہ پائے اور پھر اس کی مغفرت نہ ہوئی ہو ، اور اسے جہنم میں داخل کر دیا جائے ، تو اللہ تعالیٰ اسے ( اپنی رحمت سے ) دور کر دے ، آپ آمین کہیں ، تو میں نے آمین کہا: ، پھر جبرائیل نے کہا: جس شخص کے پاس آپ کا ذکر ہو اور وہ آپ پر درود نہ بھیجے اور پھر مر جائے اور جہنم میں داخل ہو جائے ، تو اللہ تعالیٰ اسے ( اپنی رحمت سے ) دور کر دے ! آپ آمین کہیں ، تو میں نے آمین کہا: ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ، جن میں سے ایک حسن ہے ، اس حدیث کے مختلف طرق ہیں جو دعاؤں سے متعلق کتاب میں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنے سے متعلق باب میں مذکور ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ، جن میں سے ایک حسن ہے ، اس حدیث کے مختلف طرق ہیں جو دعاؤں سے متعلق کتاب میں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنے سے متعلق باب میں مذکور ہیں ۔
حدیث نمبر: 13410
وَعَنْ مَالِكِ بْنِ عَمْرٍو الْقُشَيْرِيِّ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنْ أَعْتَقَ رَقَبَةً مُسْلِمَةً فَهِيَ فِدَاؤُهُ مِنَ النَّارِ ، وَمَنْ أَدْرَكَ أَحَدَ وَالِدَيْهِ ثُمَّ لَمْ يُغْفَرْ لَهُ فَأَبْعَدَهُ اللَّهُ " . وَفِي رِوَايَةٍ : " وَأَسْحَقَهُ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَفِي بَعْضِ طُرُقِهِ : " أَيُّمَا مُسْلِمٍ ضَمَّ يَتِيمًا بَيْنَ أَبَوَيْنِ مُسْلِمَيْنِ إِلَى طَعَامِهِ وَشَرَابِهِ ، حَتَّى يَسْتَغْنِيَ وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ الْبَتَّةَ " . فَذَكَرَ نَحْوَهُ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا مالک بن عمرو قشیری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص کسی مسلمان کو آزاد کرے گا ، تو وہ ( آزاد ہونے والا ) جہنم سے بچاؤ کے لئے اس کا فدیہ بن جائے گا اور جو شخص اپنے ماں باپ میں سے کسی ایک کا زمانہ پائے اور پھر اس کی مغفرت نہ ہو ، تو اللہ تعالیٰ اسے ( اپنی رحمت سے ) دور کر دے ۔ “ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” وہ اس کو پرے کر دے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اس کے بعض طرق میں یہ الفاظ ہیں : ” جو مسلمان کسی مسلمان ماں باپ کے یتیم بچے کو اپنے کھانے پینے میں شریک کرتا ہے ، یہاں تک کہ وہ بچہ بڑا ہو جائے ، تو اس شخص کے لیے لازمی طور پر جنت واجب ہو جاتی ہے ۔ “ اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث ذکر کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اس کے بعض طرق میں یہ الفاظ ہیں : ” جو مسلمان کسی مسلمان ماں باپ کے یتیم بچے کو اپنے کھانے پینے میں شریک کرتا ہے ، یہاں تک کہ وہ بچہ بڑا ہو جائے ، تو اس شخص کے لیے لازمی طور پر جنت واجب ہو جاتی ہے ۔ “ اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث ذکر کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔