کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: حمد کرنے ، تعریف کرنے اور تعریف کرنے والوں کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 13289
عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ قَالَ : كَانَ رَجُلٌ يَمْدَحُ ابْنَ عُمَرَ يَقُولُ : هَكَذَا يَحْثُو فِي وَجْهِهِ التُّرَابَ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِذَا رَأَيْتُمُ الْمَدَّاحِينَ فَاحْثُوا فِي وُجُوهِهِمُ التُّرَابَ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
عطاء بن ابی رباح بیان کرتے ہیں : ایک شخص سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی مدح کرنے لگا ، تو انہوں نے فرمایا : اس کے چہرے پر مٹی ڈالو کیونکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جب تم لوگ مدح کرنے والوں کو دیکھو تو ان کے چہروں پر مٹی ڈال دو ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 13290
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِذَا رَأَيْتُمُ الْمَدَّاحِينَ فَاحْثُوا فِي وُجُوهِهِمُ التُّرَابَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْقَاسِمِ بْنِ أَبِي بَزَّةَ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَهُوَ حَسَنُ الْإِسْنَادِ لَوْ سَلِمَ مِنْ هَذَا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جب تم لوگ مدح کرنے والوں کو دیکھو تو ان کے چہروں پر مٹی ڈال دو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی أحمد بن محمد بن قاسم بن ابوبزہ ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، یہ سند کے اعتبار سے حسن ہے اگر اس سے سلامت ہو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی أحمد بن محمد بن قاسم بن ابوبزہ ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، یہ سند کے اعتبار سے حسن ہے اگر اس سے سلامت ہو ۔
حدیث نمبر: 13291
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِذَا رَأَيْتُمُ الْمَدَّاحِينَ فَاحْثُوا فِي وُجُوهِهِمُ التُّرَابَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَأَحَدُ إِسْنَادَيْهِ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جب تم مدح کرنے والوں کو دیکھو تو ان کے چہروں پر مٹی ڈال دو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی دو اسناد میں سے ایک حسن ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی دو اسناد میں سے ایک حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 13292
وَعَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : إِنَّ الرَّجُلَ لَيَخْرُجُ وَمَعَهُ دِينُهُ ، فَيَرْجِعُ وَمَا مَعَهُ شَيْءٌ مِنْهُ ، يَأْتِي الرَّجُلُ لَا يَمْلِكُ لَهُ وَلَا لِنَفْسِهِ ضَرًّا وَلَا نَفْعًا ، فَيُقْسِمُ لَهُ بِاللَّهِ : لَأَنْتَ وَأَنْتَ . فَيَرْجِعُ مَا حَلَّ مِنْ حَاجَتِهِ بِشَيْءٍ ، وَقَدْ أَسْخَطَ اللَّهَ عَلَيْهِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِأَسَانِيدَ وَرِجَالُ أَحَدِهَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
طارق بن شہاب بیان کرتے ہیں سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ایک شخص باہر نکلتا ہے ۔ اس کے ساتھ اس کا دین ہوتا ہے ، جب وہ واپس آتا ہے تو اس کے ساتھ دین میں سے کوئی چیز ( ساتھ ) نہیں ہوتی ، وہ کسی شخص کے پاس جاتا ہے ، جو اس کے لئے یا خود اپنے لئے کسی نقصان یا نفع کا مالک نہیں ہوتا ، لیکن وہ اس شخص کے سامنے اللہ کے نام کی قسم اٹھا کے کہتا ہے کہ تم ہی تو ہو ، تم ہی ہو ، اور پھر وہ اپنی ضرورت پوری کروا کے واپس آتا ہے ، ایسی حالت میں کہ اللہ تعالیٰ اس پر ناراض ہوتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے جن میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے جن میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 13293
وَعَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ سَرِيعٍ قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي حَمَدْتُ رَبِّي تَبَارَكَ وَتَعَالَى بِمَحَامِدَ وَمَدْحٍ وَإِيَّاكَ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَمَا إِنَّ رَبَّكَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يُحِبُّ الْمَدْحَ ، هَاتِ مَا امْتَدَحْتَ بِهِ رَبَّكَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى " . قَالَ : فَجَعَلْتُ أُنْشِدُهُ ، فَجَاءَ رَجُلٌ فَاسْتَأْذَنَ آدَمَ ، طُوَالًا ، أَصْلَعَ ، أَيْسَرَ أَعْسَرَ ، قَالَ : فَاسْتَنْصَتَنِي لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَوَصَفَ لَنَا أَبُو سَلَمَةَ كَيْفَ اسْتَنْصَتَهُ لَهُ ، قَالَ : كَمَا صَنَعَ بِالْهِرِّ ، فَدَخَلَ الرَّجُلُ فَتَكَلَّمَ سَاعَةً ثُمَّ خَرَجَ ، ثُمَّ أَخَذْتُ أُنْشِدُهُ أَيْضًا ، ثُمَّ رَجَعَ بَعْدُ ، فَاسْتَنْصَتَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَوَصَفَهُ أَيْضًا ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَنْ هَذَا الَّذِي تَسْتَنْصِتُنِي لَهُ ؟ فَقَالَ : " هَذَا رَجُلٌ لَا يُحِبُّ الْبَاطِلَ ، هَذَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ بِنَحْوِهِ بِأَسَانِيدَ وَرِجَالُ أَحَدِهَا عِنْدَ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا اسود بن سریع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، میں نے عرض کی : میں نے اپنے پروردگار کی مختلف کلمات کے ذریعے حمد بیان کی ہے اور آپ کی مدح بیان کی ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جہاں تک تمہارے پروردگار کی مدح کا تعلق ہے ، تو وہ مدح کو پسند کرتا ہے ، تم نے جن کلمات کے ذریعے اپنے پروردگار کی مدح بیان کی ہے ۔ وہ پیش کرو ۔ راوی کہتے ہیں : میں نے آپ کو اشعار سنانا شروع کیے ، ایک اور شخص آیا اس نے اندر آنے کی اجازت مانگی ، وہ گندمی رنگت کا طویل القامت شخص تھا ، جس کے آگے سے بال اڑے ہوئے تھے اور وہ لمبا تڑنگا اور مضبوط جسم کا مالک تھا ، راوی کہتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی وجہ سے مجھے خاموش کروا دیا ، یہاں ابوسلمہ نامی راوی نے یہ بات کر کے دکھائی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کس طرح خاموش کروایا تھا ، یوں جس طرح بلی کے ساتھ کیا جاتا ہے ، راوی بیان کرتے ہیں : وہ شخص اندر آیا ، تھوڑی دیر بات چیت کرتا رہا پھر چلا گیا ، پھر میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اشعار سنانے شروع کیے ، پھر تھوڑی دیر بعد وہ شخص دوبارہ واپس آیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس کے لئے خاموش کروا دیا ، اس کا طریقہ بھی راوی نے بیان کیا کہ پھر کس طرح خاموش کروایا ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ شخص کون ہے جس کی وجہ سے آپ نے مجھے خاموش کروایا ہے ، تو آپ نے فرمایا : یہ وہ شخص ہے جو باطل کو پسند نہیں کرتا ، یہ عمر بن خطاب ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور امام طبرانی نے اس کی مانند مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ، امام أحمد کی نقل کردہ حدیث کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور امام طبرانی نے اس کی مانند مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ، امام أحمد کی نقل کردہ حدیث کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 13294
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَا أَحَدٌ أَغْيَرُ مِنَ اللَّهِ; وَذَلِكَ أَنَّهُ حَرَّمَ الْفَوَاحِشَ ، وَمَا أَحَدٌ أَحَبُّ إِلَيْهِ الْمِدْحَةُ مِنَ اللَّهِ ; وَذَلِكَ لِأَنَّهُ مَدَحَ نَفْسَهُ ، وَلَا أَحَدَ أَحَبُّ إِلَيْهِ الْعُذْرُ مِنَ اللَّهِ وَذَلِكَ أَنَّهُ اعْتَذَرَ إِلَى خَلْقِهِ ، وَلَا أَحَدَ أَحَبُّ إِلَيْهِ الْحَمْدُ مِنَ اللَّهِ ، وَذَلِكَ أَنَّهُ حَمِدَ نَفْسَهُ " . قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ : " لَا أَغْيَرُ وَلَا أَحَبُّ إِلَيْهِ الْمَدْحُ " . فَقَطْ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حَمَّادِ بْنِ نُمَيْرٍ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” اللہ تعالیٰ سے زیادہ غصے والا اور کوئی نہیں ہے اسی وجہ سے اس نے فحش چیزوں کو حرام قرار دیا ہے ، اور اللہ تعالیٰ سے زیادہ تعریف کسی اور کے نزدیک زیادہ پسندیدہ نہیں ہے ، اسی لئے اس نے اپنی مدح بیان کی ہے اور کسی کے نزدیک عذر قبول کرنا ، اللہ تعالیٰ سے زیادہ پسندیدہ نہیں ہے ، اسی وجہ سے وہ اپنی مخلوق کی طرف سے عذر قبول کرتا ہے ، اور کسی کے نزدیک حمد اللہ تعالیٰ سے زیادہ محبوب نہیں ہے ، اسی وجہ سے اس نے اپنی حمد خود بیان کی ہے ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ” صحیح “ میں صرف یہ کلمات مذکور ہیں : ” کہ اللہ تعالیٰ سے زیادہ غصے والا اور کوئی نہیں ہے اور اللہ تعالیٰ سے زیادہ مدح اور کسی کو پسند نہیں ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن حماد بن نمیر ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن حماد بن نمیر ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 13295
وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي لَيْثٍ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أُنْشِدُكَ ؟ قَالَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، فَأَنْشَدَهُ الرَّابِعَةَ مَدِيحَهُ لَهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنْ كَانَ أَحَدٌ مِنَ الشُّعَرَاءِ يُحْسِنُ فَقَدْ أَحْسَنْتَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ وَعَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ اخْتَلَطَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : بنولیث سے تعلق رکھنے والا ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں آپ کو شعر سناؤں ، اس نے تین مرتبہ آپ کو اشعار سنائے ۔ یہ بات کہی ، جب چوتھی مرتبہ اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مدح بیان کی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اگر شاعروں میں سے کوئی اچھی بات کرتا ہے ، تو تم نے اچھی بات کی ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا اور ایک راوی عطاء بن سائب ہے ، جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا اور ایک راوی عطاء بن سائب ہے ، جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔
حدیث نمبر: 13296
وَعَنْ خَلَّادِ بْنِ السَّائِبِ قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ فَمَدَحَنِي فِي وَجْهِي وَقَالَ : إِنَّهُ حَمَلَنِي عَلَى أَنْ أَمْدَحَكَ فِي وَجْهِكَ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِذَا مُدِحَ الْمُؤْمِنُ فِي وَجْهِهِ رَبَا الْإِيمَانُ فِي قَلْبِهِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا . ¤
محمد محی الدین
خلاد بن سائب بیان کرتے ہیں : میں سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوا ، انہوں نے میرے سامنے میری تعریف بیان کی اور بولے : میں نے تمہارے سامنے تعریف اس لئے بیان کی ہے کیونکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جب مومن کے سامنے اس کی تعریف بیان کی جائے تو اس کے دل میں ایمان بڑھ جاتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔