کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: شعر اور شاعروں کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 13297
عَنْ أَبِي نَوْفَلِ بْنِ أَبِي لَا عَقْرَبٍ قَالَ : سُئِلَتْ عَائِشَةُ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - : هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُتَسَامَعُ عِنْدَهُ الشِّعْرُ ؟ قَالَتْ : كَانَ أَبْغَضَ الْحَدِيثِ إِلَيْهِ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ابونوفل بن ابوعقرب بیان کرتے ہیں : سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا گیا : کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے شعر سنے جاتے تھے ؟ تو انہوں نے جواب دیا : وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک سب سے زیادہ ناپسندیدہ کلام ہوتے تھے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 13297
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (134/6)»
حدیث نمبر: 13298
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ إِبْلِيسَ لَمَّا أُنْزِلَ إِلَى الْأَرْضِ قَالَ : يَا رَبِّ أَنْزَلْتَنِي إِلَى الْأَرْضِ وَجَعَلْتَنِي رَجِيمًا - أَوْ كَمَا ذَكَرَ - فَاجْعَلْ لِي بَيْتًا . قَالَ : بَيْتُكَ الْحَمَّامُ . قَالَ : فَاجْعَلْ لِي مَجْلِسًا . قَالَ : الْأَسْوَاقُ وَمَجَامِعُ الطُّرُقِ . قَالَ : اجْعَلْ لِي طَعَامًا . قَالَ : طَعَامُكَ مَا لَمْ يُذْكَرِ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ . قَالَ : اجْعَلْ لِي شَرَابًا . قَالَ : كُلُّ مُسْكِرٍ . قَالَ : اجْعَلْ لِي مُؤَذِّنًا . قَالَ : الْمَزَامِيرُ . قَالَ : اجْعَلْ لِي قُرْآنًا . قَالَ : الشِّعْرُ . قَالَ : اجْعَلْ لِي كِتَابًا . قَالَ : الْوَسْمُ . قَالَ : اجْعَلْ لِي حَدِيثًا . قَالَ : الْكَذِبُ . قَالَ : اجْعَلْ لِي مَصَايِدَ . قَالَ : النِّسَاءُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ الْأَلْهَانِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . وَقَدْ تَقَدَّمَ لِهَذَا طُرُقٌ فِي كِتَابِ الْإِيمَانِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جب ابلیس کو زمین کی طرف اتارا گیا تو اس نے عرض کی : اے میرے پروردگار تو نے مجھے زمین کی طرف اتار دیا ہے ، اور تو نے مجھے مردود بنا دیا ہے ، تو میرے لئے کوئی گھر بنا دے ! پرودگار نے فرمایا : تمہارا گھر حمام ہو گا ، اس نے کہا: تو میرے لئے کوئی مجلس بنا دے ، پروردگار نے فرمایا : وہ بازار اور راستے ہوں گے ، اس نے کہا: تو میرے لئے کھانا مقرر کر دے ، پروردگار نے فرمایا : تمہارا کھانا وہ ہو گا جس پر اللہ کا نام ذکر نہیں کیا گیا ہو گا ، اس نے کہا: تو میرے لئے مشروب مقرر کر دے ، پروردگار نے فرمایا : ہر نشہ آور چیز اس نے کہا: تو میرے لئے اعلان کرنے والا مقرر کر دے ، پروردگار نے فرمایا : آلات موسیقی ، اس نے کہا: تو میرے لئے پڑھی جانے والی چیز مقرر کر دے ، پروردگار نے فرمایا : شاعری ، اس نے کہا: تو میرے لے تحریر مقرر کر دے ، پروردگار نے فرمایا : داغ لگانا ، اس نے کہا: تو میرے لئے بات مقرر کر دے ، پروردگار نے فرمایا : جھوٹ ، اس نے کہا: تو میرے لے پھانسنے کے آلات مقرر کر دے ، پروردگار نے فرمایا : عورتیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن یزید الہانی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔ اس سے پہلے کتاب الایمان میں اس کے مختلف طرق گزر چکے ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 13298
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7837)»
حدیث نمبر: 13299
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " امْرُؤُ الْقَيْسِ صَاحِبُ لِوَاءِ الشُّعَرَاءِ إِلَى النَّارِ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ ، وَفِي إِسْنَادِهِ أَبُو الْجُهَيْمِ شَيْخُ هُشَيْمِ بْنِ بَشِيرٍ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” امرءالقیس جہنم کی طرف جانے والوں شاعروں کا علم بردار ہو گا ۔ “
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوجہیم ہے جو ہشیم بن بشیر کا استاد ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 13299
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2091) اخرجه احمد فى المسند (7127)»
حدیث نمبر: 13300
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَا رَفَعَ رَجُلٌ صَوْتَهُ بِعَقِيرَةِ غِنَاءٍ إِلَّا بَعَثَ اللَّهُ شَيْطَانَيْنِ يَجْلِسَانِ عَلَى مَنْكِبَيْهِ ، يَضْرِبَانِ بِأَعْقَابِهِمَا عَلَى صَدْرِهِ حَتَّى يَسْكُتَ مَتَى سَكَتَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِأَسَانِيدَ وَرِجَالُ أَحَدِهَا وُثِّقُوا وَضُعِّفُوا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جب بھی کوئی شخص گانے کے لیے آواز بلند کرتا ہے ، تو اللہ تعالیٰ دو شیطانوں کو بھیجتا ہے ، جو اس کے دونوں کندھوں پر بیٹھ جاتے ہیں اور اپنی ایڑیوں کے ذریعے اس کے سینے پر ضرب لگاتے رہتے ہیں ، اور اس وقت تک لگاتے رہتے ہیں جب تک وہ خاموش نہیں ہو جاتا خواہ وہ جب بھی خاموش ہو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ، جن میں سے ایک کے رجال کی توثیق کی گئی ہے اور بعض کو ضعیف قرار دیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 13300
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «أخرجه الطبراني فى المعجم الكبير “ (7825 و 7749)»
حدیث نمبر: 13301
وَعَنْ كَيْسَانَ مَوْلَى مُعَاوِيَةَ قَالَ : خَطَبَنَا مُعَاوِيَةُ فَقَالَ : " إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَهَى عَنْ سَبْعٍ ، وَأَنَا أَنْهَاكُمْ عَنْهُنَّ أَلَا إِنَّ مِنْهُنَّ : النَّوْحُ ، وَالْغِنَاءُ ، وَالتَّصَاوِيرُ ، وَالشِّعْرُ ، وَالذَّهَبُ ، وَالْخَزُّ ، وَالسُّرُوجُ ، وَالْحَرِيرُ " . قُلْتُ : رَوَاهُ النَّسَائِيُّ بِاخْتِصَارٍ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ رِجَالُ أَحَدِهِمَا ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے غلام کیسان بیان کرتے ہیں : سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے فرمایا : ” بے شک اللہ کے رسول نے سات چیزوں سے منع فرمایا ہے اور میں بھی تمہیں ان چیزوں سے منع کرتا ہوں ، خبردار ! ان چیزوں میں نوحہ ، گانا بجانا ، تصویر بنانا ، شاعری کرنا ، سونا ، خز ، زین اور ریشم شامل ہیں ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں
یہ روایت امام نسائی رحمہ اللہ نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے جن میں سے ایک کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 13301
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه أبو يعلى فى المسند (7374) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (373/19) اخرجه احمد فى المسند (101/4)»
حدیث نمبر: 13302
وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَأَنْ يَمْتَلِئَ جَوْفُ أَحَدِكُمْ قَيْحًا ، خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَمْتَلِئَ شِعْرًا " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَقَالَ : لَا نَعْلَمُ أَحَدًا أَسْنَدَهُ إِلَّا خَلَّادَ بْنَ يَحْيَى . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” تم میں سے کسی ایک شخص کا پیٹ پیپ سے بھر جائے ، یہ اس کے لئے اس سے زیادہ بہتر ہے کہ وہ شاعری سے بھرے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، وہ فرماتے ہیں : ہمارے علم کے مطابق خلاد بن یحیی کے علاوہ اور کسی نے اس کو مسند روایت کے طور پر نقل نہیں کیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 13302
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2090)»
حدیث نمبر: 13303
وَعَنْ مَالِكِ بْنِ عُمَيْرٍ أَنَّهُ شَهِدَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ الْفَتْحِ وَحُنَيْنَ وَالطَّائِفَ ، وَكَانَ رَجُلًا شَاعِرًا فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَفْتِنِي فِي الشِّعْرِ . فَقَالَ : " لَأَنْ يَمْتَلِئَ مَا بَيْنَ لُبَّتِكَ إِلَى عَانَتِكَ قَيْحًا ، خَيْرٌ مِنْ أَنْ يَمْتَلِئَ شِعْرًا " . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، امْسَحْ عَلَى رَأْسِي . فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى رَأْسِي ، فَمَا قُلْتُ بَعْدَ ذَلِكَ بَيْتَ شِعْرٍ . وَلَقَدْ عُمِّرَ مَالِكٌ حَتَّى شَابَ رَأْسُهُ وَلِحْيَتُهُ ، وَمَا شَابَ مَوْضِعُ يَدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ بِاخْتِصَارٍ وَقَالَ : " قَيْحًا وَصَدِيدًا " . وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا مالک بن عمیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ فتح مکہ ، غزوہ حنین اور غزوہ طائف میں شرکت کی ہے ۔ وہ ایک شاعر شخص تھے ، وہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے شعر کے بارے میں حکم بیان کیجئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تمہاری گردن سے لے کے تمہاری ناف کے نچلے حصے تک کی جگہ پیپ سے بھر جائے ، یہ اس سے زیادہ بہتر ہے کہ وہ شاعری سے بھری ہو ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ میرے سر پر ہاتھ پھیریے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک میرے سر پر رکھا ، راوی کہتے ہیں : اس کے بعد میں نے کبھی شعر کا ایک مصرعہ بھی نہیں کہا: ، راوی بیان کرتے ہیں : سیدنا مالک بن عمیر رضی اللہ عنہ کی عمر طویل ہوئی تھی ، یہاں تک کہ ان کے سر کے اور داڑھی کے تمام بال سفید ہو گئے تھے ، لیکن وہ مقام سفید نہیں ہوا تھا جہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک رکھا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور معجم اوسط میں اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، اور انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” پیپ اور خون آلود پیپ ۔ “ اس روایت کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 13303
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 13304
وَعَنْ سَلْمَانَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَأَنْ يَمْتَلِئَ جَوْفُ أَحَدِكُمْ قَيْحًا حَتَّى يُرِيَهُ ، خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَمْتَلِئَ شِعْرًا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ سُفْيَانَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم میں سے کسی ایک شخص کا پیٹ پیپ سے بھر جائے ، یہاں تک کہ اسے سیر کر دے وہ اس کے لئے اس سے زیادہ بہتر ہو گا کہ وہ شاعری سے بھر جائے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یزید بن سفیان ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 13304
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (6132)»
حدیث نمبر: 13305
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَأَنْ يَمْتَلِئَ جَوْفُ أَحَدِكُمْ قَيْحًا أَوْ دَمًا ، خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَمْتَلِئَ شِعْرًا هُجِيتُ بِهِ " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم میں سے کسی ایک شخص کا پیٹ پیپ یا خون سے بھر جائے ، یہ اس کے لئے اس سے زیادہ بہتر ہو گا کہ وہ ایسے اشعار سے بھرا ہو جن کے ذریعے ہجو کی گئی ہو ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس روایت کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 13305
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (2056)»
حدیث نمبر: 13306
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَأَنْ يَمْتَلِئَ جَوْفُ أَحَدِكُمْ قَيْحًا حَتَّى يَرَاهُ ، خَيْرًا مِنْ أَنْ يَمْتَلِئَ شِعْرًا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” تم میں سے کسی ایک شخص کا پیٹ پیپ سے بھر جائے ، یہاں تک کہ وہ مکمل بھر جائے ، یہ اس سے زیادہ بہتر ہے کہ وہ شاعری سے بھرے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوعبیدہ بن عبداللہ بن عبیداللہ بن عمرو ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 13306
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (13229)»
حدیث نمبر: 13307
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ وَعُتَبَةَ بْنِ عَبْدٍ قَالَا : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَأَنْ يَمْتَلِئَ جَوْفُ أَحَدِكُمْ قَيْحًا ، خَيْرٌ مِنْ أَنْ يَمْتَلِئَ شِعْرًا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ بِشْرُ بْنُ عُمَارَةَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ اور سیدنا عتبہ بن عبد رضی اللہ عنہ یہ دونوں بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم میں سے کسی ایک شخص کے پیٹ کا پیپ سے بھر جانا ، اس سے زیادہ بہتر ہے کہ وہ شاعری سے بھر جائے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی بشر بن عمارہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 13307
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 13308
وَعَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " لَأَنْ يَمْتَلِئَ جَوْفُ أَحَدِكُمْ مِنْ عَانَتِهِ إِلَى لِهَاتِهِ قَيْحًا يَتَخَضْخَضُ ، خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَمْتَلِئَ شِعْرًا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” تم میں سے کسی ایک شخص کے پیٹ کا ، پیٹ کے زیریں حصے سے لے کر گردن تک پیپ سے بھر جانا ، جو اچھی طرح سے بھرا ہوا ہو ، یہ اس کے حق میں اس سے زیادہ بہتر ہے کہ وہ شاعری سے بھر جائے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 13308
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
حدیث نمبر: 13309
وَعَنْ أَبِي الزَّعْرَاءِ قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - : لَأَنْ يَمْتَلِئَ جَوْفُ الرَّجُلِ قَيْحًا ، خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَمْتَلِئَ شِعْرًا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ أَبِي الزَّعْرَاءِ وَاسْمُهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَانِئٍ وَثَّقَهُ الْعِجْلِيُّ وَابْنُ حِبَّانَ وَفِيهِ ضَعْفٌ . ¤
محمد محی الدین
ابوزعراء بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا : آدمی کے پیٹ کا پیپ سے بھر جانا اس کے لئے اس سے زیادہ بہتر ہے کہ وہ شاعری سے بھر جائے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف ابوزعراء کا معاملہ مختلف ہے ۔ اس کا نام عبداللہ بن ہانی ہے ، عجلی اور ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 13309
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (9752)»
حدیث نمبر: 13310
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ مَثَّلَ بِالشِّعْرِ فَلَيْسَ لَهُ عِنْدَ اللَّهِ خَلَاقٌ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ حَجَّاجُ بْنُ نُصَيْرٍ وَقَدْ ضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَقَالَ : يُخْطِئُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص شعر موزوں کرتا ہے ، تو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اس کا کوئی حصہ نہیں ہو گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن نصیر ہے ، جسے جمہور نے ضعیف قرار دیا ہے ، اور ابن حبان نے اسے ثقہ کہا: ہے ، وہ کہتے ہیں : یہ غلطی کر جاتا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 13310
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (10977)»
حدیث نمبر: 13311
وَعَنْ أَبِي بَرْزَةَ قَالَ : كُنَّا قَالَ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي سَفَرٍ ، فَسَمِعَ رَجُلَيْنِ وَهُمَا يَتَغَنَّيَانِ ، وَأَحَدُهُمَا يُجِيبُ الْآخَرَ وَهُوَ يَقُولُ : ¤ لَا يَزَالُ حَوَارِيَّ تَلُوحُ عِظَامُهُ زَوَى الْحَرْبَ عَنْهُ أَنْ يُجَنَّ فَيُقْبَرَا فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " انْظُرُوا مَنْ هُمَا " . قَالَ : فَقَالُوا : فُلَانٌ وَفُلَانٌ . قَالَ : فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اللَّهُمَّ أَرْكِسْهُمَا رَكْسًا ، وَدُعَّهُمَا إِلَى النَّارِ دَعًّا " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ( وَالْبَزَّارُ وَقَالَ : نَظَرَ إِلَى رَجُلَيْنِ يَوْمَ أُحُدٍ يَتَمَثَّلَانِ بِهَذَا الشِّعْرِ فِي حُجْرَةٍ . وَأَبُو يَعْلَى بِنَحْوِهِ ) ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ وَالْأَكْثَرُ عَلَى تَضْعِيفِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوبرزہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کر رہے تھے آپ نے دو افراد کو سنا وہ دونوں گنگنا رہے تھے ، ان میں سے ایک دوسرے کو جواب دے رہا تھا اور یہ کہہ رہا تھا : ” میرا ساتھی ایسا رہا ، کہ اس کی ہڈیاں چمک رہی تھیں ، جب جنگ اُس سے ہٹی ، تو اس کا یہ عالم ہوا کہ اس کو قبر میں چھپا دیا گیا ۔ “ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تم لوگ جائزہ لو ! کہ یہ دونوں کون ہیں ؟ لوگوں نے بتایا : یہ فلاں ہے اور فلاں ہے ، راوی بیان کرتے ہیں : تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے اللہ ! تو ان دونوں کو اوندھا کر دے اور انہیں جہنم کی طرف لے جا ۔ “
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ احد کے دن دو افراد کی طرف دیکھا جو ایک حجرے میں یہ شعر ایک دوسرے کو سنا رہے تھے ۔ امام ابویعلیٰ نے بھی اس کی مانند روایت نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یزید بن ابوزیاد ہے ، زیادہ تر حضرات نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 13311
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2093) اخرجه احمد فى المسند (421/4)»
حدیث نمبر: 13312
وَعَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ رَبِيعَةَ قَالَ : بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ ، إِذْ سَمِعَ صَوْتَ غِنَاءٍ فَقَالَ : " مَا هَذَا ؟ " . فَنَظَرُوا فَإِذَا رَجُلٌ يُطَارِحُ رَجُلًا الْغِنَاءَ : ¤ لَا يَزَالُ حَوَارِيَّ تَلُوحُ عِظَامُهُ زَوَى الْحَرْبَ عَنْهُ أَنْ يُجَنَّ فَيُقْبَرَا فَقَالَ : " اللَّهُمَّ أَرْكِسْهُمَا فِي النَّارِ فِي الْفِتْنَةِ رَكْسًا ، وَدُعَّهُمَا إِلَى نَارِ جَهَنَّمَ دَعًّا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا مطلب بن ربیعہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سفر کر رہے تھے اسی دوران آپ نے کسی کے گانے کی آواز سنی ، آپ نے دریافت کیا : یہ کیا ہے ؟ لوگوں نے دیکھا تو ایک شخص دوسرے شخص کو گا کر یہ سنا رہا تھا : ” میرا ساتھی ایسا رہا ، کہ اس کی ہڈیاں چمک رہی تھیں ، جب جنگ اُس سے ہٹی ، تو اس کا یہ عالم ہوا کہ اس کو قبر میں چھپا دیا گیا ۔ “ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے اللہ ! تو ان دونوں کو آگ میں ، فتنے میں اوندھا کر دے ، اور انہیں جہنم کی آگ کی طرف لے جا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 13312
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 13313
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : سَمِعَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَوْتَ رَجُلَيْنِ وَهُمَا يَتَغَنَّيَانِ ، وَهُمَا يَقُولَانِ : ¤ لَا يَزَالُ حَوَارِيَّ تَزُولُ عِظَامُهُ زَوَى الْحَرْبُ عَنْهُ أَنْ يُجَنَّ فَيُقْبَرَا فَسَأَلَ عَنْهُمَا ، فَقِيلَ لَهُ : مُعَاوِيَةٌ وَعَمْرُو بْنُ أَبِي الْعَاصِ فَقَالَ : " اللَّهُمَّ أَرْكِسْهُمَا فِي الْفِتْنَةِ رَكْسًا ، وَدُعَّهُمَا إِلَى النَّارِ دَعًّا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عِيسَى بْنُ سَوَادَةَ النَّخَعِيُّ وَهُوَ كَذَّابٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو افرد کی آواز سنی وہ دونوں گا رہے تھے اور وہ دونوں یہ گا رہے تھے : ” میرا ساتھی ایسا رہا ، کہ اس کی ہڈیاں چمک رہی تھیں ، جب جنگ اُس سے ہٹی ، تو اس کا یہ عالم ہوا کہ اس کو قبر میں چھپا دیا گیا ۔ “ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کے بارے میں دریافت کیا ، تو بتایا گیا : معاویہ اور عمرو بن ابوالعاص ہیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے اللہ ! تو ان دونوں کو اوندھا کر دے اور انہیں جہنم کی طرف لے جا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عیسیٰ بن سوادہ نخعی ہے اور وہ کذاب ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 13313
درجۂ حدیث محدثین: موضوع
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (10970)»
حدیث نمبر: 13314
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَا يَحِلُّ بَيْعُ الْمُغَنِّيَاتِ وَلَا شِرَاؤُهُنَّ وَلَا التِّجَارَةُ فِيهِنَّ ، وَأَثْمَانُهُنَّ حَرَامٌ وَالِاسْتِمَاعُ إِلَيْهِنَّ فِتْنَةٌ " . قُلْتُ : رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ غَيْرَ قَوْلِهِ : " وَالِاسْتِمَاعُ إِلَيْهِنَّ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ الْأَلْهَانِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” گانے والی عورتوں کو فروخت کرنا اور انہیں خریدنا حلال نہیں ہے ، ان کی تجارت حلال نہیں ہے ، ان کی قیمت حرام ہے ، اور ان کو سننا فتنہ ہے ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں
یہ روایت امام ترمذی نے نقل کی ہے ، تاہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں : ان کو سننا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن یزید الہانی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 13314
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني 7805 و 7855 و 7861 و 7862»
حدیث نمبر: 13315
وَعَنْ سِبَاعِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ : سَمِعْتُ أَهْلَ الْجَاهِلِيَّةِ يَطُوفُونَ وَهُمْ يَقُولُونَ : ¤ الْيَوْمَ فَرَّ عَيْنًا تَقْرَعُ الْمَرْوَتَيْنَا رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سباع بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے زمانہ جاہلیت میں لوگوں کو سنا ہے کہ وہ طواف کرتے ہوئے یہ شعر پڑھ رہے ہوتے تھے : آج کے دن وہ کھلے عام فرار ہو جائے گا اور ہمارے مروہ کو کھٹکھٹائے گا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 13315
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (381/6)»