کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: بیان ( یعنی کلام کرنا ) اور کلام کو بنا سنوار کر کرنا
حدیث نمبر: 13280
عَنْ مُعَاوِيَةَ قَالَ : لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الَّذِينَ يُشَقِّقُونَ الْكَلَامَ تَشْقِيقَ الشِّعْرِ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ جَابِرُ الْجُعْفِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں پر لعنت کی ہے ، جو اپنے کلام کو یوں بنا سنوار کے کرتے ہیں جس طرح شعر کو بنایا سنوارا جاتا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 13281
وَعَنْ عُمَرَ بْنِ سَعْدٍ - يَعْنِي ابْنَ أَبِي وَقَّاصٍ - قَالَ : كَانَ لِي إِلَى أَبِي سَعْدٍ . وَعَنْ مُجَمِّعٍ قَالَ : كَانَ لِعُمَرَ بْنِ سَعْدٍ إِلَى أَبِيهِ حَاجَةٌ ، فَقَدَّمَ بَيْنَ يَدَيْ حَاجَتِهِ كَلَامًا مِمَّا يُحَدِّثُ النَّاسُ ، يَتَوَصَّلُونَ بِهِ ، لَمْ يَكُنْ سَعْدٌ يَسْمَعُهُ ، فَلَمَّا فَرَغَ قَالَ : يَا بُنَيَّ ، قَدْ فَرَغْتَ مِنْ كَلَامِكَ ؟ قَالَ : نَعَمْ . قَالَ : مَا كُنْتُ مِنْ حَاجَتِكَ أَبْعَدُ ، وَلَا كُنْتُ فِيكَ أَزْهَدُ مِنِّي مُنْذُ سَمِعْتُ كَلَامَكَ ( هَذَا ) سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " سَيَكُونُ قَوْمٌ يَأْكُلُونَ بِأَلْسِنَتِهِمْ كَمَا تَأْكُلُ الْبَقَرُ مِنَ الْأَرْضِ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ مِنْ طُرُقٍ وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ ، وَأَحْسَنُهَا مَا رَوَاهُ أَحْمَدُ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ سَعْدٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَخْرُجَ قَوْمٌ يَأْكُلُونَ بِأَلْسِنَتِهِمْ كَمَا تَأْكُلُ الْبَقَرُ بِأَلْسِنَتِهَا " . وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، إِلَّا أَنَّ زَيْدَ بْنَ أَسْلَمَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ سَعِدٍ ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ . ¤
محمد محی الدین
عمر بن سعد بن ابی وقاص بیان کرتے ہیں : مجھے اپنے والد سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے ایک کام تھا ، مجمع نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے کہ عمر بن سعد کو اپنے والد سے ایک کام تھا ۔ انہوں نے اپنے والد کے سامنے اپنے کام کا ذکر کرتے ہوئے ایسا کلام ذکر کیا کہ جو لوگوں میں ان دنوں بعد میں رواج پذیر ہوا تھا جو مقفع و مسجع ہوتا تھا ۔ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے وہ کلام پہلے نہیں سنا تھا ، جب وہ صاحب کلام کر کے فارغ ہوئے ، تو سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے میرے بیٹے تم اپنے کلام سے فارغ ہو گئے ہو ؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ۔ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں تمہاری ضرورت سے زیادہ دور نہیں تھا ، اور نہ ہی تم اپنی ذات کے بارے میں مجھ سے زیادہ بے رغبت ہو ، جب میں نے تمہارا یہ کلام سنا ( تو مجھے اس پر یاد آیا ) کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوے سنا ہے : ” عنقریب ایسے لوگ آئیں گے جو اپنی زبانوں کے ذریعے یوں کھائیں گے جس طرح زمین سے گائے کھاتی ہے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے اور امام بزار نے مختلف طرق کے حوالوں سے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ، اس میں سب سے زیادہ عمدہ روایت وہ ہے ، جسے امام أحمد نے زید بن اسلم کے حوالے سے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے ، وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک ایسی قوم نہیں آ جائے گی جو اپنی زبانوں کے حوالے سے یوں کھائیں گے جس طرح گائے اپنی زبان کے حوالے سے کھاتی ہے ۔ “ اس روایت کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف یہ ہے کہ زید بن اسلم نامی راوی نے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام بزار نے مختلف طرق کے حوالوں سے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ، اس میں سب سے زیادہ عمدہ روایت وہ ہے ، جسے امام أحمد نے زید بن اسلم کے حوالے سے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے ، وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک ایسی قوم نہیں آ جائے گی جو اپنی زبانوں کے حوالے سے یوں کھائیں گے جس طرح گائے اپنی زبان کے حوالے سے کھاتی ہے ۔ “ اس روایت کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف یہ ہے کہ زید بن اسلم نامی راوی نے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔
حدیث نمبر: 13282
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ اللَّهَ يُبْغِضُ الْبَلِيغَ مِنَ الرِّجَالِ ، الَّذِي يَتَخَلَّلُ بِلِسَانِهِ كَمَا تَخَلَّلُ الْبَاقِرَةُ بِلِسَانِهَا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ عَنْ شَيْخِهِ مِقْدَامِ بْنِ دَاوُدَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک اللہ تعالیٰ ایسے بلیغ شخص کو ناپسند کرتا ہے ، جو اپنی زبان موڑ کر یوں ، کلام کرتا ہے جس طرح گائے اپنی زبان موڑتی ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں اپنے استاد مقدام بن داؤد کے حوالے سے نقل کی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں اپنے استاد مقدام بن داؤد کے حوالے سے نقل کی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 13283
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنَّ الْبَيَانَ كُلُّ الْبَيَانِ شُعْبَةٌ مِنَ الشَّيْطَانِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ عَنْ شَيْخِهِ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَمْزَةَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” بے شک بیان سارے کا سارا شیطان کا شعبہ ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں اپنے استاد أحمد بن محمد بن یحیی بن حمزہ سے نقل کی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں اپنے استاد أحمد بن محمد بن یحیی بن حمزہ سے نقل کی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 13284
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ اللَّهَ كَرِهَ لَكُمُ الْبَيَانَ كُلَّ الْبَيَانِ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے بیان کو ، جو عمل بیان ہو ، اس کو ناپسندیدہ قرار دیا ہے ۔ “
حدیث نمبر: 13285
وَبِسَنَدِهِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ الْمُتَشَدِّقِينَ فِي النَّارِ " . رَوَاهُمَا الطَّبَرَانِيُّ وَفِي إِسْنَادِهِمَا عُفَيْرُ بْنُ مَعْدَانَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
اسی سند کے ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان منقول ہے : ” بے شک باچھیں پھیلا کر بات کرنے والے لوگ جہنم میں جائیں گے ۔ “ یہ دونوں روایات امام طبرانی نے نقل کی ہیں اور ان دونوں کی سند میں ایک راوی عفیر بن معدان ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 13286
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ مِنَ الْبَيَانِ سِحْرًا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَأَحَدُ إِسْنَادَيْهِ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
اسی سند کے ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان منقول ہے : ” بے شک باچھیں پھیلا کر بات کرنے والے لوگ جہنم میں جائیں گے ۔ “ یہ دونوں روایات امام طبرانی نے نقل کی ہیں اور ان دونوں کی سند میں ایک راوی عفیر بن معدان ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 13287
وَعَنْ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ : كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَدِمَ عَلَيْهِ وَفْدُ بَنِي تَمِيمٍ ، عَلَيْهِمْ قَيْسُ بْنُ عَاصِمٍ وَعَمْرُو بْنُ الْأَهْتَمِ ، وَالزِّبْرِقَانُ بْنُ بَدْرٍ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِعَمْرِو بْنِ الْأَهْتَمِ : " مَا تَقُولُ فِي الزِّبْرِقَانِ بْنِ بَدْرٍ ؟ " فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مُطَاعٌ فِي أَنْدِيَتِهِ ، شَدِيدُ الْعَارِضَةِ ، مَانِعٌ لِمَا وَرَاءَ ظَهْرِهِ . فَقَالَ الزِّبْرِقَانُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّهُ لَيَعْلَمُ مِنِّي أَكْثَرَ مِمَّا وَصَفَنِي بِهِ ، وَلَكِنَّهُ حَسَدَنِي . فَقَالَ عَمْرٌو : وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّهُ لَزَمِنُ الْمُرُوءَةِ ، ضَيِّقُ الْعَطَنِ ، لَئِيمُ الْخَالِ ، أَحْمَقُ الْوَلَدِ ، وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا كَذَبْتُ أَوَّلًا وَلَقَدْ صَدَقْتُ آخِرًا ، وَلَكِنِّي رَضِيتُ فَقُلْتُ أَحْسَنَ مَا عَلِمْتُ ، وَغَضِبْتُ فَقُلْتُ أَقْبَحَ مَا عَلِمْتُ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ مِنَ الْبَيَانِ لَسِحْرًا ، وَإِنَّ مِنَ الشِّعْرِ لَحِكَمًا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُوسَى الْإِصْطَخْرِيِّ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، وَلَمْ أَعْرِفْهُمَا وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے بنو تمیم کا وفد آپ کی خدمت میں آیا ، جن کے سربراہ سیدنا قیس بن عاصم ، سیدنا عمرو بن اہتم اور سیدنا زبرقان بن بدر رضی اللہ عنہم تھے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمرو بن اہتم رضی اللہ عنہ سے کہا: تم زبرقان بن بدر کے بارے میں کیا کہتے ہو ؟ انہوں نے کہا: یا رسول اللہ ! یہ اپنی محفل میں پیشوا ہے ، شدید مقابلہ کرنے والا ہے اور اپنی پشت کے پیچھے رکاوٹ بننے والا ہے ، تو زبرقان نے کہا: یا رسول اللہ ! اس نے جو میری صفت بیان کی ہے ، یہ میرے بارے میں مجھ سے زیادہ بہتر جانتا ہے لیکن یہ مجھ سے حسد کرتا ہے ، تو عمرو نے کہا: اللہ کی قسم یا رسول اللہ ! یہ مروت کے حوالے سے لنجا ہے ، مہمان نوازی کے حوالے سے تنگ ہے ، ننھیال کے حوالے سے کمینہ ہے ، اولاد ہونے کے اعتبار سے احمق ہے ، اللہ کی قسم ! یا رسول اللہ ! میں نے پہلے بھی غلط بات نہیں کی تھی اور بعد میں بھی سچ ہی بولا: ہے ، میں جب راضی ہوا تو میں نے اس کے بارے میں جو زیادہ سے زیادہ بہتر بات جانتا تھا ، وہ بیان کر دی اور جب میں غصے میں آیا ، تو میں نے اس کے بارے میں جو زیادہ بری باتیں جانتا تھا ، وہ بیان کر دیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک بعض بیان جادو ہوتے ہیں ، اور بعض اشعار حکمت والے ہوتے ہیں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں محمد بن موسیٰ اصطخری کے حوالے سے حسن بن کثیر بن یحیی بن ابوکثیر سے نقل کی ہے ، اور میں ان دونوں سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں محمد بن موسیٰ اصطخری کے حوالے سے حسن بن کثیر بن یحیی بن ابوکثیر سے نقل کی ہے ، اور میں ان دونوں سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 13288
وَعَنْ مَعْنِ بْنِ يَزِيدَ أَوْ أَبِي مَعْنٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اجْتَمِعُوا فِي مَسَاجِدِكُمْ فَإِذَا اجْتَمَعَ كُلُّ قَوْمٍ فَلْيُؤْذِنُونِي " . قَالَ : فَاجْتَمَعْنَا أَوَّلَ النَّاسِ فَأَتَيْنَاهُ ، فَجَاءَ يَمْشِي مَعَنَا حَتَّى جَلَسَ إِلَيْنَا ، فَتَكَلَّمَ مُتَكَلِّمٌ مِنَّا فَقَالَ : الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي لَيْسَ لِلْحَمْدِ دُونَهُ مُقْتَصِرٌ ، وَلَيْسَ وَرَاءَهُ مَنْفَذٌ ، وَنَحْوَ هَذَا . فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَامَ ، فَتَلَاوَمْنَا وَلَامَ بَعْضُنَا بَعْضًا فَقُلْنَا : خَصَّنَا اللَّهُ ( بِهِ ) أَنْ أَتَانَا أَوَّلَ النَّاسِ وَإِنْ فَعَلَ وَفَعَلَ . قَالَ : فَأَتَيْنَاهُ فَوَجَدْنَاهُ فِي مَسْجِدِ بَنِي فُلَانٍ فَكَلَّمْنَاهُ ، فَأَقْبَلَ يَمْشِي مَعَنَا حَتَّى جَلَسَ فِي مَجْلِسِهِ الَّذِي كَانَ فِيهِ أَوْ قَرِيبًا مِنْهُ فَقَالَ : " الْحَمْدُ لِلَّهِ مَا شَاءَ جَعَلَ بَيْنَ يَدَيْهِ ، وَمَا شَاءَ جَعَلَ خَلْفَهُ ، وَإِنَّ مِنَ الْبَيَانِ سِحْرًا " . ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا فَأَمَرَنَا وَكَلَّمَنَا وَعَلَّمَنَا . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، غَيْرَ سُهَيْلِ بْنِ ذِرَاعٍ وَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ . ¤ قُلْتُ : وَتَأْتِي أَحَادِيثٌ فِي قَوْلِهِ : " إِنَّ مِنَ الشِّعْرِ حِكَمًا ، وَإِنَّ مِنَ الْبَيَانِ سِحْرًا " . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معن بن یزید یا شاید سیدنا ابومعن رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم اپنی مساجد میں اکٹھے ہو جاؤ ، جب سب لوگ جمع ہو جائیں تو مجھے اطلاع دینا ، راوی کہتے ہیں : ہم سب لوگ اکٹھے ہوئے پھر ہم آپ کے پاس آئے ، تو آپ ہمارے ساتھ چلتے ہوئے تشریف لائے اور ہمارے پاس تشریف فرما ہوئے ، ہم میں سے کسی نے گفتگو کرتے ہوئے یہ کہا: ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے ، جس سے پہلے حمد پر اکتفاء کرنے والا کوئی نہیں ہے ، اور اس سے آگے کوئی راستہ نہیں ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غصے میں آ گئے اور کھڑے ہو گئے ، ہم نے ایک دوسرے کو ملامت کی ، ہم نے کہا: اللہ تعالیٰ نے ہمیں آپ کے حوالے سے خصوصیت عطا کی ہے کہ آپ لوگوں میں سب سے پہلے ہمارے پاس تشریف لائے تھے ، لیکن پھر یہ ہو گیا اور وہ ہو گیا ۔ راوی کہتے ہیں : پھر ہم آپ کے پاس آئے ، ہم نے آپ کو بنو فلاں کی مسجد میں پایا ، ہم نے آپ کے ساتھ بات چیت کی تو آپ چلتے ہوئے ہمارے ساتھ تشریف لے آئے ، یہاں تک کہ آپ اسی محفل میں تشریف فرما ہوئے جہاں آپ پہلے تشریف فرما تھے ، یا اس جگہ کے قریب تشریف فرما ہوئے ، آپ نے فرمایا : ” ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے ۔ اس نے جو چاہا وہ اپنے آگے رکھا اور جو چاہا اپنے پیچھے کیا اور بعض بیان جادو ہوتے ہیں ۔ “ راوی بیان کرتے ہیں : پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف متوجہ ہوئے ، آپ نے ہمیں احکام بیان کئے ، آپ نے ہمارے ساتھ بات چیت کی ، ہمیں تعلیمات دیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف سہیل بن ذراع کا معاملہ مختلف ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ” بعض اشعار حکمت ہوتے ہیں ، اور بعض بیان جادو ہوتے ہیں ) “ یہ حدیث آگے چل کے آئیں گی ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف سہیل بن ذراع کا معاملہ مختلف ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ” بعض اشعار حکمت ہوتے ہیں ، اور بعض بیان جادو ہوتے ہیں ) “ یہ حدیث آگے چل کے آئیں گی ۔