کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: مشکیزوں کا منہ باندھ دو اور روازے بند کر دو
حدیث نمبر: 13246
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَجِيفُوا أَبْوَابَكُمْ ، وَاكْفِئُوا آنِيَتَكُمْ ، وَأَوْكُوا أَسْقِيَتَكُمْ ، وَأَطْفِئُوا سُرُجَكُمْ ، فَإِنَّهُ لَمْ يُؤْذَنْ لَهُمْ بِالتَّسَوُّرِ عَلَيْكُمْ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ غَيْرَ الْفَرَجِ بْنِ فَضَالَةَ وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ( رات کو ہونے سے پہلے ) اپنے دروازے بند کر دو ، اپنے برتن ڈھانپ دو ، اپنے مشکیزوں کے منہ بند کر دو ، اپنے چراغوں کو بجھا دو ، کیونکہ ان کو یہ اجازت نہیں دی گئی کہ وہ ( ایسی صورت میں ) تم پر حملہ آور ہوں ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، صرف فرج بن فضالہ کا معاملہ مختلف ہے ، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 13246
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (262/5)»
حدیث نمبر: 13247
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَرْجِسٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَا يَبُولَنَّ أَحَدُكُمْ فِي الْحِجْرِ ، وَإِذَا نِمْتُمْ فَأَطْفِئُوا السِّرَاجَ ، فَإِنَّ الْفَأْرَةَ تَأْخُذُ الْفَتِيلَ فَتَحْرِقُ أَهْلَ الْبَيْتِ ، وَأَوْكُوا الْأَسْقِيَةَ ، وَخَمِّرُوا الشَّرَابَ ، وَغَلِّقُوا الْأَبْوَابَ بِاللَّيْلِ " . قَالُوا لِقَتَادَةَ : مَا يُكَرِّهُ مِنَ الْبَوْلِ فِي الْحِجْرِ ؟ قَالَ : يُقَالُ : إِنَّهَا مَسَاكِنُ الْجِنِّ . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن سرجس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” کوئی شخص بل میں ہرگز پیشاب نہ کرے اور جب تم سونے لگو تو چراغ بجھا دو کیونکہ کوئی چوہا بعض اوقات ( چراغ کی ) بھی پکڑ لیتا ہے اور اس کے ذریعے گھر کو جلا دیتا ہے ، تم لوگ مشکیزوں کے منہ بند کر دو اور مشروبات کو ڈھانپ دو اور دروازے رات کے وقت بند کر دو ۔ “ لوگوں نے قتادہ سے دریافت کیا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بل میں پیشاب کرنے کو کیوں مکروہ قرار دیا ہے ، تو انہوں نے جواب دیا : بات کہی جاتی ہے کہ یہ بل جنات کا مسکن ہوتے ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 13247
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (82/5)»
حدیث نمبر: 13248
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَجُلًا يُقَالُ لَهُ : أَبُو حُمَيْدٍ ، أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِإِنَاءٍ فِيهِ لَبَنٌ مِنَ الْبَقِيعِ نَهَارًا ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَلَا خَمَّرْتَ ، وَلَوْ أَنْ تَعْرِضَ عَلَيْهِ بِعُودٍ " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سُلَيْمَانَ الدَّبَّاسِ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک صاحب جن کا نام ابوحمید تھا وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دن کے وقت بقیع سے ایک برتن لے کے آئے ، جس میں دودھ موجود تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم نے اسے ڈھانپ کیوں نہیں لیا ، خواہ اس پر کوئی لکڑی ہی رکھ دیتے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف ابراہیم بن سلیمان دباس کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 13248
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (1774)»
حدیث نمبر: 13249
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اتَّقُوا فَوْرَةَ الْعَشَاءِ " . كَأَنَّهُ لِمَا يُخَافُ مِنَ الِاخْتِصَارِ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ يُسَمَّ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبدالله رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” عشاء کے ابتدائی وقت کے حوالے سے بچ کے رہو ۔ “ راوی بیان کرتے ہیں : گویا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ اندیشہ تھا کہ اس وقت جنات ( یا شیاطین وغیرہ ) حاضر ہوتے ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک ایسا راوی ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 13249
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (360/3)»
حدیث نمبر: 13250
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ خَلْقًا يَبُثُّهُمْ تَحْتَ اللَّيْلِ كَيْفَ شَاءَ ، فَأَوْكِئُوا السِّقَاءَ ، وَأَغْلِقُوا الْأَبْوَابَ ، وَغَطُّوا الْإِنَاءَ ، فَإِنَّهُ لَا يَفْتَحُ بَابًا وَلَا يَكْشِفُ غِطَاءً وَلَا يَحُلُّ وِكَاءً " . قُلْتُ : رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ بِاخْتِصَارٍ . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اللہ تعالیٰ کی ایک مخلوق ہے جسے وہ رات ہونے پر پھیلا دیتا ہے جیسے وہ چاہتا ہے ، تو تم مشکیزوں کے منہ بند کر دو ، دروازے بند کرو ، برتنوں کو ڈھانپ دو کیونکہ وہ ( مخلوق میں سے کوئی فرد ) کوئی دروازہ کھول نہیں سکتا ، کسی ڈھانپی ہوئی چیز پر سے ہٹا نہیں سکتا اور کسی بند مشکیزے کا منہ کھول نہیں سکتا ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں
یہ روایت امام ابن ماجہ نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن سعید مقبری ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 13250
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (6575)»
حدیث نمبر: 13251
وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ : أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِإِرْتَاجِ الْبَابِ ، وَأَنْ نُخَمِّرَ الْآنِيَةَ ، وَأَنْ نُوكِيَ السِّقَاءَ ، وَأَنْ نُطْفِئَ السِّرَاجَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ عَنْ شَيْخِهِ مُحَمَّدِ بْنِ الْعَبَّاسِ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ ، إِلَّا أَنَّ كُهَيْلًا أَبَا سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ حکم دیا ہے کہ ( ہم رات کو سونے سے پہلے ) دروازے بند کر دیں ، برتن ڈھانپ دیں ، مشکیزوں کے منہ بند کر دیں اور چراغ بجھا دیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں اپنے استاد محمد بن عباس کے حوالے سے نقل کی ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ، البتہ کہیل ابوسلمہ بن کہیل کا معاملہ مختلف ہے ، اس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 13251
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 13252
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - أَحْسَبُهُ رَفَعَهُ - قَالَ : " إِذَا غَرَبَتِ الشَّمْسُ فَكُفُّوا صِبْيَانَكُمْ ، فَإِنَّهَا سَاعَةٌ تَنْتَشِرُ فِيهَا الشَّيَاطِينُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ وَهُوَ مُدَلِّسٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے شاید مرفوع حدیث کے طور پر یہ بات نقل کی ہے ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ) ” جب سورج غروب ہو جائے تو اپنے بچوں کو ( گھروں میں ) روک لو کیونکہ وہ ایک ایسی گھڑی ہوتی ہے ، جس میں شیاطین پھیل جاتے ہیں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے اور وہ مدلس ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 13252
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (11094)»
حدیث نمبر: 13253
وَعَنْ وَحْشِيِّ بْنِ حَرْبٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَرَجَ لِحَاجَتِهِ مِنَ اللَّيْلِ وَتَرَكَ الْبَابَ مَفْتُوحًا ، ثُمَّ رَجَعَ فَوَجَدَ إِبْلِيسَ قَائِمًا فِي وَسَطِ الْبَيْتِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اخْسَأْ يَا خَبِيثُ مِنْ بَيْتِي " . ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِذَا خَرَجْتُمْ مِنْ بُيُوتِكُمْ بِاللَّيْلِ فَأَغْلِقُوا أَبْوَابَهَا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا وحشی بن حرب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ( ایک مرتبہ ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت کسی کام کے سلسلے میں باہر تشریف لے گئے ، آپ دروازے کو کھلا ہوا چھوڑ گئے ، جب آپ واپس تشریف لائے تو آپ نے ابلیس کو پایا کہ وہ گھر کے درمیان میں کھڑا ہوا تھا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے خبیث میرے گھر سے دور ہو جاؤ ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب تم لوگ رات کے وقت اپنے گھروں سے نکلو تو ان کے دروازے بند کر دیا کرو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 13253
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (137/22)»