حدیث نمبر: 13245
عَنْ خَالِدِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ حَرْمَلَةَ الْمُدْلِجِيِّ قَالَ : وَقَفَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِعَسْفَانَ ، فَقَالَ رَجُلٌ : هَلْ لَكَ فِي عَقَائِلِ النِّسَاءِ وَأُدْمِ الْإِبِلِ مِنْ بَنِي مُدْلِجٍ ؟ وَفِي الْقَوْمِ رَجُلٌ مِنْ بَنِي مُدْلِجٍ ، نَعْرِفُ ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " خَيْرُ الْقَوْمِ الْمُدَافِعُ عَنْ قَوْمِهِ مَا لَمْ يَأْثَمْ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا خالد بن عبیداللہ بن حرملہ مدلجی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عسفان کے مقام پر ٹھہرے تو ایک شخص نے عرض کی : کیا آپ بنو مدلج کی خواتین کی رسیوں اور اونٹوں کے چمڑوں میں دلچسپی رکھتے ہیں ، حاضرین میں بنو مدلج سے تعلق رکھنے والا ایک شخص موجود تھا ، ہمیں اس کے چہرے سے ناگواری کا اندازہ ہوا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” لوگوں میں سب سے بہتر وہ ہے ، جو اپنی قوم کی طرف سے دفاع کرے جبکہ وہ کوئی گناہ کا کام نہ ہو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔