کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: جانوروں کو داغ لگانے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 13238
عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَهَى عَنِ الْوَسْمِ فِي الْوَجْهِ ، فَقَالَ الْعَبَّاسُ : لَا أَسِمُ إِلَّا فِي الْجَاعِرَتَيْنِ . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُمَا ثِقَاتٌ وَفِي بَعْضِهِمْ خِلَافٌ ، إِلَّا أَنَّ جَعْفَرَ بْنَ تَمَّامِ بْنِ الْعَبَّاسِ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ جَدِّهِ ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چہرے پر داغ لگانے سے منع کیا تو سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: اب میں صرف اس ( جانور ) کے دم کے قریب ابھرے ہوئے حصے پر ہی نشان لگاؤں گا ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور ان دونوں کے رجال ثقہ ہیں اس کے بعض راویوں کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ، البتہ جعفر بن تمام بن عباس نے اپنے دادا سے سماع نہیں کیا ہے باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 13238
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ منقطع
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (6701)»
حدیث نمبر: 13239
وَعَنْ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ قَالَ : مَرَّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِبَعِيرٍ قَدْ وُسِمَ فِي وَجْهِهِ ، فَقَالَ : " لَوْ أَنَّ أَهْلَ هَذَا الْبَعِيرِ عَزَلُوا النَّارَ عَنْ هَذِهِ الدَّابَّةِ " . فَقُلْتُ : لَأَسِمَنَّ فِي أَبْعَدِ مَكَانَ مِنْ وَجْهِهَا . قَالَ : فَوَسَمْتُ فِي عَجَبِ الذَّنَبِ . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ وَزَادَ فِي أَوَّلِهِ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَهَى عَنِ الْوَسْمِ أَنْ يُوسَمَ فِي الْوَجْهِ ، وَالْبَاقِي بِنَحْوِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک اونٹ گزرا ، جس کے چہرے پر داغ لگایا گیا تھا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اگر اس اونٹ والے لوگ اس جانور سے آگ کو الگ کر دیتے تو زیادہ مناسب تھا ، راوی کہتے ہیں : میں نے کہا: میں اس کے چہرے سے سب سے زیادہ دور حصے پر داغ لگایا کروں گا ، راوی بیان کرتے ہیں : تو میں نے دم کے قریب ابھرے ہوئے حصے پر نشان لگانا شروع کیا ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے بھی نقل کی ہے ۔ انہوں نے اس کے آغاز میں یہ الفاظ نقل کئے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نشان لگانے سے منع کیا ہے یہ کہ چہرے پر نشان لگایا جائے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ باقی روایت حسب سابق ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 13239
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2064) اخرجه ابو يعلى فى المسند (651)»
حدیث نمبر: 13240
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : رَأَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حِمَارًا مَوْسُومًا فِي وَجْهِهِ فَقَالَ : " لَعَنَ اللَّهُ مَنْ فَعَلَ هَذَا " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَرِجَالُ الْبَزَّارِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک گدھا دیکھا جس کے چہرے پر داغ لگایا گیا تھا ، تو آپ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ اس شخص پر لعنت کرے جس نے یہ داغ لگایا ہے ۔
یہ روایت امام بزار اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے امام بزار کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 13240
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2065)»
حدیث نمبر: 13241
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : وَسَمَ الْعَبَّاسُ بَعِيرًا لَهُ فِي وَجْهِهِ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " فَهَلَّا فِي غَيْرِ الْوَجْهِ ؟ " . فَقَالَ : وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَا أَسِمُ إِلَّا فِي آخِرِ عَظْمٍ مِنْهُ . فَوَسَمَ فِي الْجَاعِرَتَيْنِ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، عَنْ شَيْخِهِ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ خَالِدٍ الطَّحَّانِ وَلَمْ أَعْرِفْ إِسْمَاعِيلَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے اونٹ کے چہرے پر داغ لگایا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : آپ نے چہرے کے علاوہ کسی جگہ پر کیوں نہیں لگایا ، تو انہوں نے عرض کی : اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے ، اب میں صرف اس کی سب سے پیچھے والی ہڈی پر ہی داغ لگاؤں گا ، تو انہوں نے دم کے پاس ابھری ہوئی ہڈی پر داغ لگایا ۔
یہ روایت امام بزار نے اپنے استاد اسماعیل کے حوالے سے خالد طحان سے نقل کی ہے ، میں اسماعیل سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 13241
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2066)»
حدیث نمبر: 13242
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَعَنَ مَنْ يَسِمُ الْوَجْهُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چہرے پر داغ لگانے والے شخص پر لعنت کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 13242
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (11926)»
حدیث نمبر: 13243
وَعَنْ جُنَادَةَ بْنِ جَرَادَةَ - أَحَدُ بَنِي غَيْلَانَ بْنِ جُنَادَةَ - قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِإِبِلٍ قَدْ وَسَمْتُهَا فِي أَنْفِهَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : "يَا جُنَادَةُ ، فَمَا وَجَدْتَ عُضْوًا تَسِمُهُ إِلَّا فِي الْوَجْهِ ؟ أَمَا إِنَّ أَمَامَكَ الْقَصَاصَ " . فَقَالَ : أَمْرُهَا إِلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَقَالَ : " ائْتِنِي بِشَيْءٍ لَيْسَ عَلَيْهِ وَسْمٌ " . فَأَتَيْتُهُ بِابْنِ لَبُونٍ وَحِقَّةٍ ، فَوَضَعْتُ الْمِيسَمَ فِي الْعُنُقِ ، فَلَمْ يَزَلْ يَقُولُ : " أَخِّرْ أَخِّرْ " حَتَّى بَلَغَ الْفَخِذَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " سِمْ عَلَى بَرَكَةِ اللَّهِ " . فَوَسَمْتُهَا فِي أَفْخَاذِهَا ، وَكَانَتْ صَدَقَتُهَا حِقَّتَيْنِ ، وَكَانَتْ تِسْعِينَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جنادہ بن جرادہ رضی اللہ عنہ جن کا تعلق بنو غیلان بن جنادہ سے ہے ۔ وہ بیان کرتے ہیں : میں ایک اونٹ ساتھ لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، میں نے اس کی ناک پر داغ لگایا تھا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے جنادہ تمہیں داغ لگانے کے لئے چہرے کے علاوہ اور کوئی عضو نہیں ملا ؟ آگے چل کے تمہیں اس کا بدلہ دینا ہو گا ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس جانور کا معاملہ آپ کے سپرد ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میرے پاس کوئی ایسا جانور لے کے آؤ ، جس پر داغ نہ لگا ہوا ہو ، تو میں ایک ابن لبون اور ایک حقہ لے کر آپ کے پاس آیا ، میں نے داغ لگانے والا آلہ ( اس جانور کی ) گردن پر رکھا ، آپ مسلسل یہی فرماتے رہے ، پیچھے کرو اور پیچھے کرو ، یہاں تک کہ وہ آلہ زانوں تک پہنچ گیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ کی برکت کے ہمراہ داغ لگا دو ، تو میں نے اس کے زانوں پر داغ لگایا ، ان کا صدقہ دو حقہ بنتے تھے اور وہ نوے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 13243
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2179)»
حدیث نمبر: 13244
وَعَنْ نُقَادَةَ قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي أَسِمُ . قَالَ : " أَوَلَمَ أَرَكَ تَسِمُ فِي الْوَجْهِ ؟ لَا تَحْرِقِ اللَّحْمَ " . قُلْتُ : فَأَيْنَ أَسِمُ ؟ قَالَ : " فِي مَوْضِعِ الْجَرِيرِ مِنَ السَّالِفَةِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا نقادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں داغ لگا لوں ، آپ نے فرمایا : کیا میں نے تمہیں چہرے پر داغ لگاتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ، تم گوشت کو نہ جلاؤ ، میں نے عرض کی : پھر میں کہاں داغ لگواؤں ؟ آپ نے فرمایا : پیچھے کی طرف جو رسی کی جگہ ہوتی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 13244
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف