کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: جانور کا مالک ، اس کے اگلے حصے کا زیادہ حق دار ہوتا ہے
حدیث نمبر: 13226
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ أَنَّ حَبِيبَ بْنَ مَسْلَمَةَ أَتَى قَيْسَ بْنَ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ فِي الْفِتْنَةِ الْأُولَى وَهُوَ عَلَى فَرَسٍ ، فَأَخَّرَ عَنِ السَّرْجِ وَقَالَ : ارْكَبْ . فَأَبَى ، فَقَالَ لَهُ قَيْسُ بْنُ سَعْدٍ : إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " صَاحِبُ الدَّابَّةِ أَوْلَى بِصَدْرِهَا " . فَقَالَ حَبِيبٌ : إِنِّي لَسْتُ أَجْهَلُ مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَلَكِنِّي أَخْشَى عَلَيْكَ . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
عبدالرحمن بن ابوامیہ بیان کرتے ہیں : حبیب بن مسلمہ ، سیدنا قیس بن سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کے پاس پہلے فتنے کے زمانے میں آئے ، وہ اپنے گھوڑے پر سوار تھے ۔ وہ زین سے پیچھے ہوئے اور بولے : آپ سوار ہو جائیں ، تو انہوں نے انکار کر دیا ، سیدنا قیس بن سعد رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جانور کا مالک اس کے اگلے حصے کا زیادہ حق دار ہوتا ہے ۔ “ تو حبیب نے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو بات ارشاد فرمائی ہے م میں اس سے ناواقف نہیں ہوں لیکن مجھے آپ کے بارے میں اندیشہ ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے امام أحمد کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے امام أحمد کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 13227
وَعَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ : أَتَانَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَوَضَعْنَا لَهُ غُسْلًا فَاغْتَسَلَ ، فَأَتَيْنَاهُ بِمِلْحَفَةٍ وَرْسِيَّةٍ ، فَاشْتَمَلَ بِهَا ، فَكَأَنِّي أَنْظُرُ أَثَرَ الْوَرْسِ عَلَى حِكْثِهِ ، ثُمَّ أَتَيْنَاهُ بِحِمَارٍ لِيَرْكَبَ ، فَقَالَ : " صَاحِبُ الْحِمَارِ أَحَقُّ بِصَدْرِ حِمَارِهِ " . فَقُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَالْحِمَارُ لَكَ . قُلْتُ : رَوَى ابْنُ مَاجَهْ مِنْهُ إِلَى : عُكُنِهِ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ ابْنُ أَبِي لَيْلَى وَهُوَ سَيِّئُ الْحِفْظِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا قیس بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے ہم نے آپ کے لئے پانی رکھا ، آپ نے غسل کیا ، ہم آپ کے پاس ورس لگا ہوا لحاف لے کر آئے ، وہ آپ نے اوڑھ لیا ، میں گویا اس وقت بھی آپ کے پیٹ پر ورس کا نشان دیکھ رہا ہوں ، پھر ہم آپ کے پاس گدھا لے کر آئے تاکہ آپ اس پر سوار ہوں ، تو آپ نے فرمایا : گدھے کا مالک اس کے اگلے حصے کا زیادہ حق رکھتا ہے ، تو ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ گدھا آپ کا ہوا ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں امام ابن ماجہ نے اس روایت میں سے صرف «عُكنِه» تک کا حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن ابولیلی ہے اور وہ خراب حافظے کا مالک ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں امام ابن ماجہ نے اس روایت میں سے صرف «عُكنِه» تک کا حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن ابولیلی ہے اور وہ خراب حافظے کا مالک ہے ۔
حدیث نمبر: 13228
وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ : قَضَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّ صَاحِبَ الدَّابَّةِ أَوْلَى بِصَدْرِهَا . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ دیا ہے کہ جانور کا مالک اس کے اگلے حصے کا زیادہ حق دار ہوتا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 13229
وَعَنْ عُرْوَةَ بْنِ مُعْتِبٍ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ : قَضَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّ صَاحِبَ الدَّابَّةِ أَحَقُّ بِصَدْرِهَا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عروہ بن معتب انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ دیا ہے کہ جانور کا مالک اس کے اگلے حصے کا زیادہ حق دار ہو گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 13230
وَعَنْ عِصْمَةَ بْنِ مَالِكٍ الْخَطْمِيِّ قَالَ : زَارَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى قُبَاءَ ، فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يَرْجِعَ جِئْنَاهُ بِحِمَارٍ يَتَخَالَى قَطُوفٍ ، فَرَكِبَ ، قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَذَا الْغُلَامُ يَأْتِي مَعَكَ يَرُدُّ الدَّابَّةَ . قَالَ : " صَاحِبُ الدَّابَّةِ أَحَقُّ بِصَدْرِهَا " . قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ارْكَبْهُ وَرُدَّهُ عَلَيْنَا . فَذَهَبَ بِهِ وَرَدَّهُ عَلَيْنَا وَهُوَ هِمْلَاجٌ مَا يُسَايَرُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ الْفَضْلُ بْنُ الْمُخْتَارِ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عصمہ بن مالک خطمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے ملنے کے لئے قباء تشریف لائے ، جب آپ واپس جانے لگے ، تو ہم آپ کی خدمت میں ایک گدھا لے کے آئے جو چھوٹے قدم اٹھاتا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس پر سوار ہوئے ، ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ لڑکا آپ کے ساتھ جائے گا ، اور جانور کو واپس لے آئے گا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جانور کا مالک اس کے اگلے حصے کا زیادہ حق دار ہوتا ہے ، ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ ہی اس پر سوار ہو جائیں اور آپ ہی ہمیں واپس بھجوا دیجئے گا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس پر تشریف لے گئے اور پھر آپ نے وہ ہمیں واپس بھجوا دیا ، جب وہ آیا تو وہ تیز تیز قدم اٹھا رہا تھا ، یہاں تک کہ اس کا مقابلہ نہیں کیا جا سکتا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی فضل بن مختار ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی فضل بن مختار ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 13231
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ قَالَ : خَرَجَ الْحُسَيْنُ وَهُوَ يُرِيدُ أَرْضَهُ الَّتِي بِظَاهِرِ الْحَرَّةِ ، وَنَحْنُ نَمْشِي إِذْ أَدْرَكَنَا النُّعْمَانُ بْنُ بَشِيرٍ عَلَى بَغْلَةٍ ، فَنَزَلَ ، فَقَرَّبَهَا إِلَى الْحُسَيْنِ ، فَقَالَ : ارْكَبْ يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ . فَكَرِهَ ذَلِكَ ، فَلَمْ يَزَلْ كَذَلِكَ حَتَّى أَقْسَمَ النُّعْمَانُ عَلَيْهِ ، حَتَّى أَطَاعَ الْحُسَيْنُ بِالرُّكُوبِ ، قَالَ : إِذْ أَقْسَمْتَ ، فَقَدْ كَلَّفْتَنِي مَا أَكْرَهُ ، فَارْكَبْ عَلَى صَدْرِ دَابَّتِكَ ، فَأُرْدِفُكَ فَإِنِّي سَمِعْتُ فَاطِمَةَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الرَّجُلُ أَحَقُّ بِصَدْرِ دَابَّتِهِ ، وَصَدْرِ فِرَاشِهِ ، وَالصَّلَاةِ فِي مَنْزِلِهِ إِلَّا مَا يُجْمَعُ النَّاسُ عَلَيْهِ " . فَقَالَ النُّعْمَانُ : صَدَقَتْ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَمِعْتُ أَبِي بَشِيرٍ يَقُولُ كَمَا قَالَتْ فَاطِمَةُ ، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِلَّا مِنْ إِذْنٍ " . فَرَكِبَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ الْحَكَمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَيْلِيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
امام محمد بن علی بن حسین بیان کرتے ہیں : سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ حرہ کے ظاہری حصے پر موجود اپنی زمین کی طرف جانے کے لئے نکلے ، راوی بیان کرتے ہیں : ہم پیدل چلتے ہوئے جا رہے تھے ، راستے میں ہماری ملاقات سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے ہوئی جو ایک خچر پر سوار تھے ، وہ اس خچر سے نیچے اتر آئے ۔ انہوں نے وہ خچر امام حسین رضی اللہ عنہ کے قریب کیا اور بولے : ابوعبداللہ آپ اس پر سوار ہو جائیں ، امام حسین نے اس بات کو ناپسند کیا ، یہ تکرار چلتی رہی ، یہاں تک کہ سیدنا نعمان رضی اللہ عنہ نے سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کو قسم دی تو امام حسین نے سوار ہونے کے بارے میں ان کی بات مان لی اور بولے : تم نے قسم دے کر مجھے ایک ایسی چیز کا پابند کر دیا ہے ، جسے میں ناپسند کرتا ہوں ، اب تم جانور کے اگلے حصے پر سوار ہو جاؤ ، میں تمہارے پیچھے بیٹھ جاؤں گا ، کیونکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” آدمی اپنے جانور کے اگلے حصے اور اپنے بچھونے کے نمایاں حصے کا زیادہ حق رکھتا ہے ، اور اپنے گھر میں نماز ( پڑھانے کا ) زیادہ حق رکھتا ہے البتہ اس صورت میں حکم مختلف ہو گا ، جبکہ وہ ایسا امام ہو گا کہ لوگ اس پر اکٹھے ہوں ۔ “ تو سیدنا نعمان رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول کی صاحبزادی نے ٹھیک بیان کیا ہے ، میں نے اپنے والد سیدنا بشیر رضی اللہ عنہ کو وہی بات بیان کرتے ہوئے سنا ہے ، جو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے بیان کی ہے ، تاہم میرے والد نے ( یہ الفاظ نقل کے ہیں : ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” البتہ اجازت کے ساتھ ایسا کیا جا سکتا ہے ۔ “ تو سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ سوار ہو گئے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حکم بن عبداللہ ایلی ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حکم بن عبداللہ ایلی ہے اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 13232
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ قَالَ : خَرَجْتُ مَعَ جَدِّي حُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ إِلَى أَرْضٍ لَهُ بِالزَّارْنِيقِ بِظَهْرِ الْبَيْدَاءِ ، فَأَدْرَكَنَا ابْنُ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ عَلَى بَغْلَةٍ ، فَنَزَلَ عَنْهَا ، وَقَالَ لِلْحُسَيْنِ : ارْكَبْ ( يَا ) أَبَا عَبْدِ اللَّهِ . فَأَبَى ، فَلَمْ يَزَلْ يُقْسِمُ عَلَيْهِ حَتَّى قَالَ : إِنَّكَ قَدْ كَلَّفْتَنِي مَا أَكْرَهُ ، وَلَكِنْ سَأُحَدِّثُكَ حَدِيثًا حَدَّثَتْنِيهِ فَاطِمَةُ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " الرَّجُلُ أَحَقُّ بِصَدْرِ دَابَّتِهِ ، وَصَدْرِ فِرَاشِهِ ، وَالصَّلَاةِ فِي بَيْتِهِ " . قَالَ ابْنُ النُّعْمَانِ : صَدَقَتْ فَاطِمَةُ ، حَدَّثَنِي أَبِي وَهُوَ دَاحٍ بِالْمَدِينَةِ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِثْلَ حَدِيثِكَ وَزَادَ فِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ فِيهِ : " إِلَّا أَنْ يَأْذَنَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
امام محمد بن علی بن حسین بیان کرتے ہیں : میں اپنے دادا سیدنا امام حسین بن علی رضی اللہ عنہما کے ساتھ زرانیق میں موجود ان کی زمین کی طرف جانے کے لیے نکلا جو بیداء میں تھی ، سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے ہمیں ملے ، جو ایک خچر پر سوار تھے ، وہ اپنے خچر سے نیچے اترے اور انہوں نے امام حسین رضی اللہ عنہ سے کہا: اے ابوعبداللہ آپ سوار ہو جائیے ۔ امام حسین نے یہ بات نہیں مانی ، وہ صاحب امام حسین کو مسلسل قسم دیتے رہے ، یہاں تک کہ امام حسین نے فرمایا : تم نے مجھے ایک ایسی بات کا پابند کیا ہے جسے میں ناپسند کرتا ہوں ، میں تمہیں ایک حدیث بیان کرتا ہوں جو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے مجھے بیان کی تھی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” آدمی اپنے جانور کے اگلے حصے ، اپنے بچھونے کے نمایاں حصے اور اپنے گھر میں نماز ( پڑھانے ) کا زیادہ حق رکھتا ہے ۔ “ تو سیدنا نعمان رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے نے کہا: سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے سچ کہا: ہے ، میرے والد نے مجھے یہ بات بیان کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث ذکر کی ہے ، جس میں یہ الفاظ ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا تھا : ” البتہ اگر وہ ( مالک ) اجازت دیدے تو حکم مختلف ہو گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حدیث نمبر: 13233
وَعَنْ أَبِي تَمِيمَةَ الْهُجَيْمِيِّ قَالَ : بَيْنَا أَنَا عَلَى حِمَارٍ لِي ، فَلَقِيتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَتَأَخَّرْتُ عَلَى عَجُزِ الْحِمَارِ ، فَقُلْتُ : بِأَبِي وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ارْكَبْ . قَالَ : " أَنْتَ أَحَقُّ بِصَدْرِ حِمَارِكَ " . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، الْحِمَارُ لَكَ . فَرَكِبَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى مُقَدِّمِهِ ، وَرَكِبْتُ أَنَا عَلَى عَجُزِهِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ هِشَامُ بْنُ لَاحِقٍ تَرَكَهُ أَحْمَدُ وَضَعَّفَهُ غَيْرُهُ أَيْضًا وَقَوَّاهُ النَّسَائِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوتمیمہ ہجیمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ میں اپنے گدھے پر موجود تھا میری نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات ہوئی ، میں پیچھے ہٹ کر گدھے کی دم والے حصے پر آ گیا ، میں نے کہا: یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں آپ سوار ہو جائیے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اپنے گدھے کے اگلے حصے کے زیادہ حق دار ہو ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ گدھا آپ کا ہوا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے اگلے حصے پر سوار ہوئے اور میں گدھے کے پچھلے حصے پر سوار ہو گیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ہشام بن لاحق ہے ، جسے امام أحمد نے متروک قرار دیا ہے اور دیگر حضرات نے بھی اسے ضعیف کہا: ہے ، امام نسائی رحمہ اللہ نے اسے قوی کہا: ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ہشام بن لاحق ہے ، جسے امام أحمد نے متروک قرار دیا ہے اور دیگر حضرات نے بھی اسے ضعیف کہا: ہے ، جبکہ امام نسائی رحمہ اللہ نے اسے قوی قرار دیا ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ہشام بن لاحق ہے ، جسے امام أحمد نے متروک قرار دیا ہے اور دیگر حضرات نے بھی اسے ضعیف کہا: ہے ، امام نسائی رحمہ اللہ نے اسے قوی کہا: ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ہشام بن لاحق ہے ، جسے امام أحمد نے متروک قرار دیا ہے اور دیگر حضرات نے بھی اسے ضعیف کہا: ہے ، جبکہ امام نسائی رحمہ اللہ نے اسے قوی قرار دیا ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حدیث نمبر: 13234
وَعَنْ الْمُهَاجِرِ ، مَوْلَى آلِ زِيَادٍ قَالَ : بَيْنَا أَنَا عَلَى حِمَارٍ لِي ، تَكَادُ تُصِيبُ رِجْلِي الْأَرْضَ مِنْ صِغَرِ الْحِمَارِ ، إِذَا أَنَا بِطَلْعَةِ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ يُبْصِرُ فِي الْقَمَرِ فَقُلْتُ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، أَيْنَ تُرِيدُ ؟ قَالَ : حَاجَةً لِي . قُلْتُ : أَلَا تَرْكَبُ ؟ قَالَ : بَلَى . فَتَخَلَّفْتُ عَلَى عَجُزِ الْحِمَارِ فَقُلْتُ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ . فَقَالَ : لَا أَفْعَلُ ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " صَاحِبُ الدَّابَّةِ أَحَقُّ بِصَدْرِ الدَّابَّةِ ، وَصَاحِبُ الْفِرَاشِ أَحَقُّ بِصَدْرِ الْفِرَاشِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ كَثِيرٍ أَبُو النَّضْرِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
مہاجر جو آل زیاد کے غلام ہیں وہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ میں اپنے گدھے پر سوار تھا ، اور اس کے چھوٹے ہونے کی وجہ سے میرے پاؤں زمین کے قریب پہنچ رہے تھے ، اسی دوران میرے سامنے امیرالمؤمنین سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ آ گئے جو چاند کو دیکھ رہے تھے ، میں نے کہا: اے امیرالمؤمنین ! آپ کہاں جانے کا ارادہ رکھتے ہیں ۔ انہوں نے کہا: اپنے ایک کام کے سلسلے میں ، میں نے عرض کی : کیا آپ سوار نہیں ہوں گے ، انہوں نے کہا: ٹھیک ہے میں پیچھے ہٹ کر گدھے کے پچھلے حصے پر ہو گیا اور میں نے عرض کی : اے امیرالمؤمنین ! آپ سوار ہو جائیں ۔ انہوں نے فرمایا : میں ایسا نہیں کروں گا میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جانور کا مالک اس کے اگلے حصے کا زیادہ حق دار ہوتا ہے ، اور بچھونے کا مالک بچھونے کے نمایاں حصے کا زیادہ حق دار ہوتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن کثیر ابونضر ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن کثیر ابونضر ہے اور وہ ضعیف ہے ۔