کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: مرد اور مرد کی ، عورت اور عورت کی مباشرت کی ممانعت
حدیث نمبر: 13190
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا يُبَاشِرُ الرَّجُلُ الرَّجُلَ وَلَا الْمَرْأَةُ الْمَرْأَةَ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ ، وَأَحَدُ إِسْنَادَيْ أَحْمَدَ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ وَكَذَلِكَ رِجَالُ الْبَزَّارِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” کوئی مرد کسی مرد کے ساتھ ، یا کوئی عورت کسی عورت کے ساتھ مباشرت نہ کرے ( یعنی اس طرح نہ لیٹیں کہ دونوں کے جسم پر کوئی کپڑا نہ ہو ، اور ان کے جسم ایک دوسرے کے ساتھ ملے ہوں ) ۔ “
یہ روایت امام أحمد امام بزار اور امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے امام أحمد کی دو اسناد میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، امام بزار کے رجال کا معاملہ بھی اسی طرح ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 13190
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (1094) أخرجه البزار فى المسند (2074) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (11728) اخرجه احمد فى المسند (2873 و 2774)»
حدیث نمبر: 13191
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " لَا يُبَاشِرُ الرَّجُلُ الرَّجُلَ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ ، وَلَا تُبَاشِرُ الْمَرْأَةُ الْمَرْأَةَ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ " . قَالَ : فَقُلْتُ لِجَابِرٍ : أَكُنْتُمْ تَعُدُّونَ الذُّنُوبَ شِرْكًا ؟ قَالَ : مَعَاذَ اللَّهِ . رَوَاهُ أَحْمَدُ فِي جُمْلَةِ أَحَادِيثَ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِاخْتِصَارٍ ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : کوئی شخص ایک ہی کپڑے میں دوسرے شخص کے ساتھ مباشرت نہ کرے اور کوئی عورت ایک ہی کپڑے میں دوسری عورت کے ساتھ مباشرت نہ کرے ( یعنی وہ اس طرح سے اکٹھے نہ ہوں کہ ان کے جسم پر صرف ایک ہی کپڑا ہو ، جسم پر اور کچھ نہ ہو ) راوی کہتے ہیں : میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا : کیا آپ لوگ گناہوں کے ارتکاب کو شرک شمار کرتے تھے ؟ انہوں نے جواب دیا : اس بات سے اللہ کی پناہ ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن ابوزناد ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 13191
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (389/3)»
حدیث نمبر: 13192
وَعَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ قَالَ : سَأَلْتُ جَابِرًا عَنِ الرَّجُلِ يُبَاشِرُ الرَّجُلَ ، فَقَالَ جَابِرٌ : زَجَرَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ ذَلِكَ وَسَأَلْتُ جَابِرًا عَنِ الْمَرْأَةِ تُبَاشِرُ الْمَرْأَةَ فَقَالَ : نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَفِيهِ ضَعْفٌ وَهُوَ حَسَنُ الْحَدِيثِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ابوزبیر بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے ایسے شخص کے بارے میں دریافت کیا : جو دوسرے شخص کے ساتھ مباشرت کرتا ہے ، تو سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے بتایا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع کیا ہے ، میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے ایسی عورت کے بارے میں دریافت کیا : جو دوسری عورت کے ساتھ مباشرت کرتی ہے ، تو انہوں نے بتایا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کرنے سے منع کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ، اور وہ حسن الحدیث ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 13192
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (348/3)»
حدیث نمبر: 13193
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا يُبَاشِرُ الرَّجُلُ الرَّجُلَ وَلَا تُبَاشِرُ الْمَرْأَةُ الْمَرْأَةَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ عَنْ شَيْخِهِ مُحَمَّدِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدٍ ، أَبِي عُمَرَ الضَّرِيرِ ، وَفِي الْمِيزَانِ مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدٍ الْمِصْرِيُّ فَإِنْ كَانَ هُوَ هَذَا فَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” مرد کسی مرد کے ساتھ ، یا عورت کسی عورت کے ساتھ مباشرت نہ کرے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں اپنے استاد محمد بن عثمان بن سعید ابوعمر ضریر کے حوالے سے نقل کی ہے ، میزان الاعتدال میں یہ بات مذکور ہے یہ راوی محمد بن عثمان بن سعید مصری ہے ، اگر تو یہ وہی ہے تو پھر یہ ضعیف ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 13193
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 13194
وَعَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا تُبَاشِرُ الْمَرْأَةُ الْمَرْأَةَ إِلَّا وَهُمَا زَانِيَتَانِ ، وَلَا يُبَاشِرُ الرَّجُلُ الرَّجُلَ إِلَّا وَهُمَا زَانِيَانِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ عَنْ شَيْخِهِ عَلِيِّ بْنِ سَعِيدٍ الرَّازِيِّ وَفِيهِ لِينٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو عورت دوسری عورت کے ساتھ مباشرت کرتی ہے تو وہ دونوں زنا کرنے والی شمار ہوتی ہیں اور جو مرد دوسرے مرد کے ساتھ مباشرت کرتا ہے وہ دونوں زنا کرنے والے شمار ہوتے ہیں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں اپنے استاد علی بن سعید رازی کے حوالے سے نقل کی ہے ، جس میں کمزوری پائی جاتی ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 13194
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 13195
وَعَنْ سَمُرَةَ - يَعْنِي ابْنَ جُنْدُبٍ - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَنْهَى النِّسَاءَ أَنْ يَضْطَجِعَ بَعْضُهُنَّ مَعَ بَعْضٍ إِلَّا وَبَيْنَهُنَّ ثِيَابٌ ، وَأَنْ يَضْطَجِعَ الرَّجُلُ مَعَ صَاحِبِهِ إِلَّا وَبَيْنَهُمَا ثَوْبٌ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ يُوسُفُ بْنُ خَالِدٍ السَّمْتِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خواتین کو اس بات سے منع کرتے تھے کہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ یوں لیٹیں کہ ان کے درمیان کوئی کپڑا نہ ہو ، البتہ ان کے درمیان کوئی کپڑا ہو تو حکم مختلف ہے ، اور اس بات سے بھی منع کیا ہے کہ کوئی شخص دوسرے شخص کے ساتھ یوں لیٹے کہ ان کے درمیان کوئی کپڑا نہ ہو ، البتہ اگر ان کے درمیان کوئی کپڑا ہو تو حکم مختلف ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یوسف بن خالد سمتی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 13195
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2073) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7041)»