کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: خواتین کے ساتھ مشابہت اختیار کرنے والے مردوں اور مردوں کے ساتھ مشابہت اختیار کرنے والی خواتین کا بیان
حدیث نمبر: 13196
عَنْ رَجُلٍ مِنْ هُذَيْلٍ قَالَ : رَأَيْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِي وَمَنْزِلُهُ فِي الْحِلِّ وَمَسْجِدُهُ فِي الْحَرَمِ ، قَالَ : فَبَيْنَا أَنَا عِنْدَهُ ، رَأَى أُمَّ سَعِيدٍ ابْنَةَ أَبِي جَهْلٍ مُتَقَلِّدَةً قَوْسًا ، وَهِيَ تَمْشِي مِشْيَةَ الرِّجَالِ ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : مَنْ هَذِهِ ؟ فَقُلْتُ : هَذِهِ أُمُّ سَعِيدٍ بِنْتُ أَبِي جَهْلٍ . فَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " لَيْسَ مِنَّا مَنْ تَشَبَّهَ بِالرِّجَالِ مِنَ النِّسَاءِ ، وَلَا مَنْ تَشَبَّهَ بِالنِّسَاءِ مِنَ الرِّجَالِ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ . وَالْهُذَلِيُّ لَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِاخْتِصَارٍ ، وَأَسْقَطَ الْهُذَلِيَّ الْمُبْهَمَ ، فَعَلَى هَذَا رِجَالُ الطَّبَرَانِيُّ كُلُّهُمْ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ہذیل قبیلے سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا عبداللہ بن عمرو العاص رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ ان کی رہائش گاہ حرم کی حدود سے باہر تھی اور ان کی نماز والی جگہ حرم کے حدود کے اندر تھی ، راوی کہتے ہیں : ایک مرتبہ میں ان کے پاس موجود تھا ، انہوں نے ابوجہل کی صاحبزادی اُم سعید کو دیکھا کہ جس نے کمان لٹکائی ہوئی تھی اور وہ مردوں کی طرح چلتی ہوئی جا رہی تھی ، تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : یہ کون ہے ؟ میں نے بتایا : یہ ام سعید بنت ابوجہل ہے ، تو سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” وہ ہم میں سے نہیں ، جو عورتیں مردوں کے ساتھ مشابہت اختیار کرتی ہیں ، اور جو مرد عورتوں کے ساتھ مشابہت اختیار کرتے ہیں ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور ہذیلی شخص سے میں واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے انہوں نے مبہم ہذلی شخص کا ذکر نہیں کیا اس بنیاد پر طبرانی کے تمام رجال ثقہ ہوں گے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور ہذیلی شخص سے میں واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے انہوں نے مبہم ہذلی شخص کا ذکر نہیں کیا اس بنیاد پر طبرانی کے تمام رجال ثقہ ہوں گے ۔
حدیث نمبر: 13197
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ امْرَأَةً مَرَّتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مُتَقَلِّدَةً قَوْسًا ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَعَنَ اللَّهُ الْمُتَشَبِّهَاتِ مِنَ النِّسَاءِ بِالرِّجَالِ وَالْمُتَشَبِّهِينَ مِنَ الرِّجَالِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ عَنْ شَيْخِهِ عَلِيِّ بْنِ سَعِيدٍ الرَّازِيِّ وَهُوَ لَيِّنٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک خاتون نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزری جس نے کمان گلے میں لڑکائی ہوئی تھی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اللہ تعالیٰ مردوں کے ساتھ مشابہت اختیار کرنے والی عورتوں پر اور عورتوں کے ساتھ مشابہت اختیار کرنے والے مردوں پر لعنت کرے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں اپنے استاد علی بن سعید رازی کے حوالے سے نقل کی ہے ، اور وہ کمزور ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں اپنے استاد علی بن سعید رازی کے حوالے سے نقل کی ہے ، اور وہ کمزور ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 13198
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْمُخَنَّثِينَ مِنَ الرِّجَالِ ، وَالْمُتَرَجِّلَاتِ مِنَ النِّسَاءِ . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ ثُوَيْرُ بْنُ أَبِي فَاخِتَةَ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کے ساتھ مشابہت اختیار کرنے والے مردوں اور مردوں کے ساتھ مشابہت اختیار کرنے والی عورتوں پر لعنت کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ثویر بن ابوفاختہ ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام أحمد امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ثویر بن ابوفاختہ ہے اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 13199
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مُخَنَّثِي الرِّجَالِ الَّذِينَ يَتَشَبَّهُونَ بِالنِّسَاءِ ، وَالْمُتَرَجِّلَاتِ مِنَ النِّسَاءِ الْمُتَشَبِّهَاتِ بِالرِّجَالِ ، وَرَاكِبَ الْفَلَاةِ وَحْدَهُ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ طَيِّبُ بْنُ مُحَمَّدٍ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَضَعَّفَهُ الْعُقَيْلِيُّ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان مردوں پر لعنت کی ہے ، جو عورتوں کے ساتھ مشابہت اختیار کرتے ہیں ، اور ان عورتوں پر لعنت کی ہے ، جو مردوں کے ساتھ مشابہت اختیار کرتی ہیں اور ویرانے میں اکیلے سوار پر لعنت کی ہے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی طبیب بن محمد ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے اور عقیلی نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی طبیب بن محمد ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے اور عقیلی نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 13200
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ : لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْمُتَشَبِّهِينَ مِنَ الرِّجَالِ بِالنِّسَاءِ ، وَالْمُتَشَبِّهَاتِ مِنَ النِّسَاءِ بِالرِّجَالِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَالْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عَطِيَّةُ الْعَوْفِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کے ساتھ مشابہت اختیار کرنے والے مردوں اور مردوں کے ساتھ مشابہت اختیار کرنے والی عورتوں پر لعنت کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عطیہ عوفی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عطیہ عوفی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 13201
وَعَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَعَنَ الْمُؤَنَّثِينَ مِنَ الرِّجَالِ ، وَالْمُذَكَّرَاتِ مِنَ النِّسَاءِ ........ . وَفِيهِ مُبَارَكُ بْنُ سُحَيْمٍ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مردوں کے ساتھ مشابہت اختیار کرنے والی عورتوں اور عورتوں کے ساتھ مشابہت اختیار کرنے والے مردوں پر لعنت کی ہے ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی مبارک بن سحیم ہے اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 13202
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَرْبَعَةٌ لُعِنُوا فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَأَمَّنَتِ الْمَلَائِكَةُ : رَجُلٌ جَعَلَهُ اللَّهُ ذَكَرًا فَأَنَّثَ نَفْسَهُ وَتَشَبَّهَ بِالنِّسَاءِ ، وَامْرَأَةٌ جَعَلَهَا اللَّهُ أُنْثَى فَتَذَكَّرَتْ وَتَشَبَّهَتْ بِالرِّجَالِ ، وَالَّذِي يُضِلُّ الْأَعْمَى ، وَرَجُلٌ حَصُورٌ ، وَلَمْ يَجْعَلِ اللَّهُ حَصُورًا إِلَّا يَحْيَى بْنَ زَكَرِيَّا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ الْأَلْهَانِيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” چار قسم کے لوگوں پر دنیا اور آخرت میں لعنت کی گئی ہے اور فرشتے اس پر آمین کہتے ہیں ، ایک وہ شخص جسے اللہ تعالیٰ نے مذکر بنایا ہے ، اور وہ اپنے آپ کو مؤنث بنائے اور خواتین کے ساتھ مشابہت اختیار کرے ، ایک وہ عورت جسے اللہ تعالیٰ نے مؤنث بنایا ہو اور وہ خود کو مذکر بنائے اور مردوں کے ساتھ مشابہت اختیار کرے ، اور وہ شخص جو کسی نابینا کو گمراہ کر دے اور وہ شخص جو عورتوں سے لاتعلق رہتا ہو ، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے صرف سیدنا یحیی بن زکریا علیہما السلام کو ایسا بنایا ہے کہ وہ عورتوں سے لاتعلق رہیں “ ( یعنی شادی نہ کریں ) ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن زید الہانی ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن زید الہانی ہے اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 13203
وَعَنْ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ : لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْمُتَشَبِّهِينَ مِنَ الرِّجَالِ بِالنِّسَاءِ ، وَالْمُتَشَبِّهَاتِ مِنَ النِّسَاءِ بِالرِّجَالِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ عُبَيْدٍ ، وَهُوَ خَبِيثٌ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کے ساتھ مشابہت اختیار کرنے والے مردوں اور مردوں کے ساتھ مشابہت اختیار کرنے والی عورتوں پر لعنت کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن عبید ہے ، اور وہ خبیث اور متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن عبید ہے ، اور وہ خبیث اور متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 13204
وَعَنْ وَاثِلَةَ قَالَ : لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْمُخَنَّثِينَ مِنَ الرِّجَالِ ، وَالْمُتَرَجِّلَاتِ مِنَ النِّسَاءِ وَقَالَ : " أَخْرِجُوهُمْ مِنْ بُيُوتِكُمْ " . فَأَخْرَجَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْجَشَةَ ، وَأَخْرَجَ عُمَرُ فُلَانًا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ حَمَّادُ مَوْلَى بَنِي أُمَيَّةَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا واثلہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کے ساتھ مشابہت اختیار کرنے والے مردوں اور مردوں کے ساتھ مشابہت اختیار کرنے والی عورتوں پر لعنت کی ہے ، اور ارشاد فرمایا ہے : ایسے لوگوں کو اپنے گھروں سے نکال دو ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انجشہ کو نکلوا دیا تھا ، اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فلاں شخص کو نکلوا دیا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حماد ہے ، جو بنوامیہ کا غلام ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حماد ہے ، جو بنوامیہ کا غلام ہے اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 13205
وَعَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - دَخَلَ بَيْتَ أُمِّ سَلَمَةَ ، فَرَأَى عِنْدَهُمْ مُخَنَّثًا وَهُوَ يَقُولُ : يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أُمَيَّةَ ، لَوْ قَدْ فَتَحَ اللَّهُ الطَّائِفَ ، لَأَرَيْتُكَ بَادِيَةَ بِنْتَ غَيْلَانَ ، وَهِيَ تُقْبِلُ بِأَرْبَعٍ وَتُدْبِرُ بِثَمَانٍ . فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا يَدْخُلُ عَلَيْكُمْ هَؤُلَاءِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمر بن ابوسلمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں داخل ہوئے ، تو آپ نے ان کے ہاں ایک ہیجڑے کو پایا جو یہ کہہ رہا تھا : اے عبداللہ بن ابوامیہ ! اگر اللہ تعالیٰ نے طائف فتح کروا دیا تو میں تمہیں بادیہ بنت غیلان دکھاؤں گا ، جو آتی ہے تو چار سلوٹیں پڑتی ہیں ، اور جاتی ہے تو آٹھ پڑتی ہیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس قسم کے لوگ تمہارے ہاں اندر نہ آئیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔