کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: اس شخص کا بیان جو نسب کے حوالے سے یا کسی اور حوالے سے ( کسی دوسرے شخص کو ) عار دلائے
حدیث نمبر: 13091
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : سَبَبْتُ رَجُلًا فِي الْإِسْلَامِ بِأُمٍّ لَهُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، فَاسْتَعْدَى عَلَيَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ فِيكَ شُعْبَةٌ مِنَ الْكُفْرِ " . فَلَمَّا ذَكَرَ الْكُفْرَ اضْطَرَبَتْ رِجْلَايَ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَا أَسُبُّ مُسْلِمًا بَعْدَهُ أَبَدًا . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ يَعْقُوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے ایک مسلمان شخص کو اس کی زمانہ جاہلیت سے تعلق رکھنے والی ماں کے حوالے سے برا کہا: ، اس شخص نے میرے خلاف نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے شکایت کی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تمہارے اندر کفر کا ایک شعبہ ہے “ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کفر کا ذکر کیا تو میری ٹانگیں کانپنے لگیں ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے ، میں اس کے بعد کبھی کسی مسلمان کو برا نہیں کہوں گا ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یعقوب بن محمد زہری ہے جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور جمہور نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یعقوب بن محمد زہری ہے جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور جمہور نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 13092
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : كَانَ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَوْلَيَانِ ، حَبَشِيٌّ وَقِبْطِيٌّ ، فَاسْتَبَّا وَالنَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَسْمَعُ فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ : يَا حَبَشِيٌّ . وَقَالَ الْآخَرُ : يَا قِبْطِيٌّ . فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا تَقُولُوا هَذَا ، إِنَّمَا أَنْتُمَا رَجُلَانِ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِنَحْوِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : يَا قِبْطِيُّ مَكَانَ : يَا نَبَطِيُّ ، وَقَالَ : " مِنْ آلِ مُحَمَّدٍ " مَكَانَ : " أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - " . وَفِي إِسْنَادِهِمَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ وَهُوَ عَلَى ضَعْفِهِ حَسَنُ الْحَدِيثِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دو غلام تھے ، ان میں سے ایک حبشی تھا اور ایک قبطی تھا ، ان دونوں کا جھگڑا ہو گیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ سن رہے تھے ، اُن میں سے ایک نے دوسرے سے کہا: اے حبشی ! دوسرے نے کہا: اے قبطی ! تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم لوگ اس طرح نہ کہو ! تم دونوں سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب سے تعلق رکھنے والے دو افراد ہو ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں اس کی مانند نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے ” اے نبطی“ کی جگہ ” اے قبطی “ کے الفاظ نقل کئے ہیں اور ” اصحاب محمد “ کی جگہ ” آل محمد “ کے الفاظ نقل کئے ہیں ۔ ان دونوں روایات کی سند میں ایک راوی یزید بن ابوز یاد ہے اور وہ اپنے ضعیف ہونے کے باوجود حسن الحدیث ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں اس کی مانند نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے ” اے نبطی“ کی جگہ ” اے قبطی “ کے الفاظ نقل کئے ہیں اور ” اصحاب محمد “ کی جگہ ” آل محمد “ کے الفاظ نقل کئے ہیں ۔ ان دونوں روایات کی سند میں ایک راوی یزید بن ابوز یاد ہے اور وہ اپنے ضعیف ہونے کے باوجود حسن الحدیث ہے ۔
حدیث نمبر: 13093
وَعَنْ ثَوْبَانَ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَا تُؤْذُوا عِبَادَ اللَّهِ ، وَلَا تُعَيِّرُوهُمْ ، وَلَا تَطْلُبُوا عَوْرَاتِهِمْ ، فَإِنَّهُ مَنْ تَطَلَّبَ عَوْرَةَ أَخِيهِ الْمُسْلِمِ ، طَلَبَ اللَّهُ عَوْرَتَهُ حَتَّى يَفْضَحَهُ فِي بَيْتِهِ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مَيْمُونِ بْنِ عَجْلَانَ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” اللہ کے بندوں کو اذیت نہ پہنچاؤ ، تم انہیں عار نہ دلاؤ ، تم ان کے پوشیدہ معاملات تلاش نہ کرو کیونکہ جو شخص اپنے مسلمان بھائی کے پوشیدہ معاملے کی تلاش کرے گا ، اللہ تعالیٰ اس کے پوشیدہ معاملے کی طرف متوجہ ہو کر اس شخص کو رسوائی کا شکار کر دے گا ، جبکہ وہ ( شخص ) اپنے گھر میں موجود ہو گا ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف میمون بن عجلان کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف میمون بن عجلان کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔