کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: اس شخص کا بیان ، جو اہل جاہلیت کے حوالے سے ، فخر کا اظہار کرتا ہے
حدیث نمبر: 13085
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَا تَفْخَرُوا بِآبَائِكُمُ الَّذِينَ مَاتُوا فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لِمَا يُدَهْدِهُ الْجُعَلُ بِمَنْخَرَيْهِ خَيْرٌ مِنْ آبَائِكُمُ الَّذِينَ مَاتُوا فِي الْجَاهِلِيَّةِ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ بِنَحْوِهِ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " لَلَّذِي يُدَهْدِهُ الْجِعْلَانُ بِأَنْفِهِ خَيْرٌ مِنْهُمْ " . وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” اپنے ان آباؤ اجداد کے حوالے سے فخر نہ کرو جو زمانہ جاہلیت میں مر گئے تھے ، اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، جعل ( نامی کیڑہ یا پرندہ ) اپنے نتھنوں سے جو کچھ نکالتا ہے وہ تمہارے ان آباؤ اجداد سے زیادہ بہتر ہے ، جو زمانہ جاہلیت میں مر گئے تھے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور معجم کبیر میں اس کی مانند نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” جعلان ( نامی پرندے یا کیڑے ) کے ناک میں سے جو نکلتا ہے وہ ان لوگوں سے زیادہ بہتر ہے ۔ “ امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 13085
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (11862 و 11861) أخرجه احمد فى المسند (2739)»
حدیث نمبر: 13086
وَعَنْ أَبِي رَيْحَانَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنِ انْتَسَبَ إِلَى تِسْعَةِ آبَاءٍ كُفَّارٍ ، يُرِيدُ بِهِمْ عِزًّا وَكَرَامَةً ، فَهُوَ عَاشِرُهُمْ فِي النَّارِ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ وَأَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوریحانہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص نو کافر آباؤ اجداد کی طرف نسبت کر کے ( یعنی ان کے حوالے سے اپنا نسب بیان کر کے ) عزت اور کرامت کے اظہار کا ارادہ کرتا ہے ، تو جہنم میں وہ ان کے ساتھ دسواں فرد ہو گا ۔ “
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، امام أحمد کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 13086
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه أبو يعلى فى المسند (1439) أخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (446) اخرجه احمد فى المسند (134/4)»
حدیث نمبر: 13087
وَعَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ قَالَ : انْتَسَبَ رَجُلَانِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ أَحَدُهُمَا : أَنَا فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ ، فَمَنْ أَنْتَ لَا أُمَّ لَكَ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : انْتَسَبَ رَجُلَانِ عَلَى عَهْدِ مُوسَى - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ أَحَدُهُمَا : أَنَا فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ ، حَتَّى عَدَّ تِسْعَةً ، فَمَنْ أَنْتَ لَا أُمَّ لَكَ ؟ فَقَالَ : أَنَا فُلَانُ بْنُ فُلَانِ ابْنِ الْإِسْلَامِ . قَالَ : فَأَوْحَى اللَّهُ تَعَالَى إِلَى مُوسَى - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : إِنَّ هَذَيْنِ الْمُنْتَسِبَيْنِ : أَمَّا أَنْتَ أَيُّهَا الْمُنْتَمِي - أَوِ الْمُنْتَسِبُ - إِلَى تِسْعَةٍ فِي النَّارِ فَأَنْتَ عَاشِرُهُمْ ، وَأَمَّا أَنْتَ يَا هَذَا الْمُنْتَسِبُ إِلَى اثْنَيْنِ فِي الْجَنَّةِ فَأَنْتَ ثَالِثُهُمَا فِي الْجَنَّةِ " . رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ يَزِيدَ بْنِ زِيَادِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں دو آدمیوں نے ایک دوسرے کے مقابلے میں نسب بیان کیا ، ان میں سے ایک نے کہا: میں فلاں بن فلاں ہوں ، تم کون ہو ؟ تمہاری ماں نہ رہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں دو آدمیوں نے نسب بیان کیا ، ان میں سے ایک نے یہ کہا: کہ میں فلاں بن فلاں ہوں ، یہاں تک کہ اس نے اپنے نو اجداد شمار کروائے ( اور پھر بولا: ) تم کون ہو ، تمہاری ماں نہ رہے ۔ اس شخص نے جواب دیا : میں فلاں بن فلاں بن اسلام ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تو اللہ تعالیٰ نے سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی طرف یہ وحی کی : یہ دو افراد ہیں ، جنہوں نے ایک دوسرے کے مقابلے میں نسب کا اظہار کیا ہے ، تو اے وہ شخص جس نے اپنی نسبت ان نو افراد کی طرف کی ، جو جہنم میں ہیں تو تم ان کے ساتھ دسویں ہو گے ، اور اے وہ شخص جس نے اپنی نسبت دو افراد کی طرف کی ، جو جنت میں ہیں ، تو تم ان کے ساتھ تیسرے فرد جنت میں ہو گے ۔ “
یہ روایت عبداللہ بن أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف یزید بن زیاد بن ابوالجعد کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 13087
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (128/5)»
حدیث نمبر: 13088
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " انْتَسَبَ رَجُلَانِ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ عَلَى عَهْدِ مُوسَى - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَحَدُهُمَا مُسْلِمٌ وَالْآخَرُ مُشْرِكٌ ، فَانْتَسَبَ الْمُشْرِكُ فَقَالَ : أَنَا فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ حَتَّى عَدَّ تِسْعَةَ آبَاءٍ . ثُمَّ قَالَ لِصَاحِبِهِ : انْتَسِبْ لَا أُمَّ لَكَ . فَقَالَ : أَنَا فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ وَأَنَا بَرِيءٌ مِمَّا وَرَاءَ ذَلِكَ . فَنَادَى مُوسَى فِي النَّاسِ فَجَمَعَهُمْ ، ثُمَّ قَالَ : قَدْ قُضِيَ بَيْنَكُمَا ، أَمَّا أَنْتَ الَّذِي انْتَسَبْتَ إِلَى آبَاءٍ ، فَإِنَّكَ تُوَفِّيهِمُ الْعَاشِرَ فِي النَّارِ ، وَأَمَّا أَنْتَ الَّذِي انْتَسَبْتَ إِلَى أَبَوَيْكَ فَأَنْتَ امْرُؤٌ مِنْ أَهْلِ الْإِسْلَامِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَأَحْمَدُ مَوْقُوفًا عَلَى مُعَاذٍ وَأَحَدُ أَسَانِيدِ الطَّبَرَانِيِّ رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ وَكَذَلِكَ رِجَالُ أَحْمَدَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں بنی اسرائیل سے تعلق رکھنے والے دو افراد نے ایک دوسرے کے سامنے اپنا نسب بیان کیا ، ان میں سے ایک مسلمان تھا اور دوسرا مشرک تھا ، مشرک نے نسب بیان کرتے ہوئے یہ کہا: کہ میں فلاں بن فلاں ہوں ، یہاں تک کہ اس نے اپنے نو آباء کے نام بیان کئے ، پھر اس نے اپنے دوسرے فریق سے کہا: تم اپنا نسب بیان کرو تمہاری ماں نہ رہے ، تو اس نے کہا: میں فلاں بن فلاں ہوں اور میں اس چیز سے بری ہوں ، جو اس سے پیچھے ہے ، سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے لوگوں میں اعلان کروا کے انہیں جمع کروایا اور پھر فرمایا : جہاں تک تمہارا تعلق ہے ، اے وہ شخص ! جس نے اپنا نسب نو آباء تک بیان کیا ہے ، تم جہنم میں ان کے ساتھ مل کے دس کی تعداد کو پورا کر دو گے ، اور اے وہ شخص جس نے اپنے دو آباء تک کے نسب کو بیان کیا ہے تم اہل اسلام میں سے ایک فرد ہو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، امام أحمد نے اسے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ پر موقوف روایت کے طور پر نقل کیا ہے ، امام طبرانی کی مختلف اسانید میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، امام أحمد کے رجال کا معاملہ بھی اسی طرح ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 13088
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (139/20) اخرجه احمد فى المسند (241/5)»
حدیث نمبر: 13089
وَعَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " كُلُّكُمْ بَنُو آدَمَ ، وَآدَمُ مِنْ تُرَابٍ ، لَيَنْتَهِيَنَّ قَوْمٌ يَفْخَرُونَ بِآبَائِهِمْ ، أَوْ لَيَكُونُنَّ أَهْوَنُ عَلَى اللَّهِ مِنَ الْجِعْلَانِ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ الْحَسَنُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْعُرَنِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم سب سیدنا آدم علیہ السلام کی اولاد ہو ، اور سیدنا آدم علیہ السلام کو مٹی سے پیدا کیا گیا تھا ، لوگ اپنے آباؤ اجداد پر فخر کرنے سے یا تو باز آ جائیں گے ، یا پھر وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک جعلان ( نامی کیڑے یا پرندے ) سے زیادہ بے حیثیت ہوں گے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حسن بن حسین عرنی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 13089
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2043 و 3584)»
حدیث نمبر: 13090
وَعَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ ذُكِرَ عِنْدَهُ شَرَفُ الْجَاهِلِيَّةِ فَقَالَ : دَعُوا هَذَا فَإِنَّ الْإِسْلَامَ عَمَّرَ بُيُوتًا كَانَتْ خَامِلَةً ، وَأَخْمَلَ بُيُوتًا كَانَتْ عَامِرَةً ، فَإِنْ أَبَيْتُمْ ، فَإِنَّ أَخَا بَنِي تَمِيمِ بْنِ جُدْعَانَ لَمَّا مَاتَ تَقَسَّمَ النَّاسُ الْمَجْدَ بَعْدَهُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
ہشام بن عروہ بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کو سنا ، ان کے سامنے زمانہ جاہلیت کے شرف کا ذکر کیا گیا تو انہوں نے فرمایا : اسے چھوڑ دو کیونکہ اسلام نے ایسے گھروں کو آباد کیا ہے ، جو بے آباد تھے اور ایسے گھروں کو بے آباد کر دیا ہے ، جو پہلے آباد تھے ، اگر تم نہیں مانتے تو بنو تمیم بن جدعان سے تعلق رکھنے والا فرد جب مر جاتا ہے ، تو اس کے بعد لوگ بزرگی کو تقسیم کر لیتے ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن ابوزناد ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 13090
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف