کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: کسی شخص کو کسی دوسرے پر فضیلت حاصل نہیں ہے البتہ تقویٰ کا معاملہ مختلف ہے
حدیث نمبر: 13076
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : ¤ " إِنَّ أَنْسَابَكُمْ هَذِهِ لَيْسَتْ بِسِبَابٍ عَلَى أَحَدٍ ، وَإِنَّمَا أَنْتُمْ وَلَدُ آدَمَ ، طَفُّ الصَّاعِ لَمْ تَمْلَؤْهُ . لَيْسَ لِأَحَدٍ فَضْلٌ عَلَى أَحَدٍ إِلَّا بِالدِّينِ أَوْ عَمَلٍ صَالِحٍ ، حَسْبُ الرَّجُلِ أَنْ يَكُونَ فَحَّاشًا بَذِيئًا بَخِيلًا جَبَانًا " . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” تمہارے یہ نسب اس لائق نہیں ہیں کہ تم ان کی وجہ سے کسی کو برا کہو ، تم لوگ سیدنا آدم علیہ السلام کی اولاد ہو ، صاع میں ایسی کمی جس ک تم بھر نہیں سکتے ( یعنی ہر انسان میں کوئی کمی کوتاہی ہوتی ہے ) کسی شخص کو کسی دوسرے پر کوئی فضیلت حاصل نہیں ہے ، البتہ دین یا نیک عمل کے حوالے سے فضیلت کا معاملہ مختلف ہے ، اور آدمی کے لئے ( برا ہونے کے لئے ) اتنا ہی کافی ہے کہ وہ فحش کلام کرنے والا ، بدزبان ، کنجوس یا بزدل ہو ۔ “
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 13076
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف ولکن الحدیث حسن لغیرہ
حدیث نمبر: 13077
وَفِي رِوَايَةٍ : " إِنَّ أَنْسَابَكُمْ هَذِهِ لَيْسَتْ بِمَسَبَّةٍ عَلَى أَحَدٍ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَفِيهِ لِينٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” تمہارے یہ نسب کسی کو برا کہنے کا سبب نہیں ( بن سکتے ) ہیں ۔ “
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، جس میں کمزور ہونا پایا جاتا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 13077
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (158/4)»
حدیث نمبر: 13078
وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لَهُ : ¤ " انْظُرْ ، فَإِنَّكَ لَسْتَ بِخَيْرٍ مِنْ أَحْمَرَ وَلَا أَسْوَدَ ، إِلَّا أَنَّ تَفْضُلَهُ بِتَقْوَى " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ إِلَّا أَنَّ بَكْرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيَّ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِي ذَرٍّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : ” تم اس بات کا جائزہ لو ! کیونکہ تم کسی سرخ فام ( یعنی سفید فام ) یا سیاہ فام سے زیادہ بہتر نہیں ہو ، البتہ تم تقویٰ کے حوالے سے اس پر فضیلت رکھتے ہو گے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، البتہ بکر بن عبداللہ مزنی نے سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 13078
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ منقطع
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (158/5)»
حدیث نمبر: 13079
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : ¤ " إِنَّ رَبَّكُمْ وَاحِدٌ ، وَأَبَاكُمْ وَاحِدٌ ، فَلَا فَضْلَ لِعَرَبِيٍّ عَلَى أَعْجَمِيٍّ ، وَلَا أَحْمَرَ عَلَى أَسْوَدَ إِلَّا بِالتَّقْوَى " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " إِنَّ أَبَاكُمْ وَاحِدٌ ، وَإِنَّ دِينَكُمْ وَاحِدٌ ، أَبُوكُمْ آدَمُ ، وَآدَمُ خُلِقَ مِنْ تُرَابٍ " . ¤ وَرِجَالُ الْبَزَّارِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تمہارا پروردگار ایک ہے ، تمہارے جدامجد ایک ہیں ، کسی عربی کو کسی عجمی پر فضیلت حاصل نہیں ہے اور کسی سرخ ( یعنی سفید فام ) کو کسی سیاہ فام پر برتری حاصل نہیں ہے ، البتہ تقویٰ کے حوالے سے ( برتری ہونے کا ) معاملہ مختلف ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” تمہارے جدامجد ایک ہیں اور تمہارا دین ایک ہے ، تمہارے جدامجد سیدنا آدم علیہ السلام ہیں اور سیدنا آدم علیہ السلام کو مٹی سے پیدا کیا گیا ۔ “ امام بزار کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 13079
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2044 و 3583)»
حدیث نمبر: 13080
وَعَنْ حَبِيبِ بْنِ خِرَاشٍ الْعَصْرِيِّ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : ¤ " الْمُسْلِمُونَ أُخْوَةٌ ، لَا فَضْلَ لِأَحَدٍ عَلَى أَحَدٍ إِلَّا بِالتَّقْوَى " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ عَمْرِو بْنِ جَبَلَةَ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا حبیب بن خراش عصری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” مسلمان بھائی بھائی ہیں ، کسی کو کسی دوسرے پر فضیلت حاصل نہیں ہے ، البتہ تقویٰ ( کے حوالے سے فضیلت حاصل ہونے ) کا معاملہ مختلف ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالحمید بن عمرو بن جبلہ ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 13080
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (3547)»
حدیث نمبر: 13081
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : مَا أُعْجِبَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِشَيْءٍ ، وَلَا أَعْجَبَهُ شَيْءٌ مِنَ الدُّنْيَا ، إِلَّا أَنْ يَكُونَ فِيهَا ذُو تُقًى . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَهُوَ لَيِّنٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی بھی چیز پسند نہیں تھی اور نہ ہی دنیا کی کوئی چیز آپ کو اچھی لگتی تھی البتہ اگر اس میں پرہیزگاری کا پہلو ہو تو حکم مختلف ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور وہ کمزور ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 13081
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه أبو يعلى فى المسند (4552) اخرجه احمد فى المسند (69/6)»
حدیث نمبر: 13082
وَعَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ : سَمِعَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ رَجُلًا يَقُولُ : أَنَا أَوْلَى النَّاسِ بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . فَقَالَ : غَيْرُكَ أَوْلَى بِهِ مِنْكَ ، وَلَكَ نَسَبُهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ شَيْخِهِ الْمِقْدَامِ بْنِ دَاوُدَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
حمید بن عبدالرحمن بن عوف بیان کرتے ہیں : سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا زیادہ قریبی ہوں ، تو سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تمہارے علاوہ دوسرے ( لوگ ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے تم سے زیادہ قریب ہیں ، البتہ تمہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نسبی تعلق کا شرف حاصل ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد مقدام بن داؤد کے حوالے سے نقل کی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 13082
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (283)»
حدیث نمبر: 13083
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : ¤ " إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ أَمَرَ اللَّهُ مُنَادِيًا يُنَادِي : أَلَا إِنِّي جَعَلْتُ نَسَبًا وَجَعَلْتُمْ نَسَبًا ، فَجَعَلْتُ أَكْرَمَكُمْ أَتْقَاكُمْ ، فَأَبَيْتُمْ إِلَّا أَنْ تَقُولُوا : فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ خَيْرٌ مِنْ فُلَانِ بْنِ فُلَانٍ ، فَالْيَوْمَ أَرْفَعُ نَسَبِي وَأَضَعُ نَسَبَكُمْ ، أَيْنَ الْمُتَّقُونَ ؟ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ طَلْحَةُ بْنُ عَمْرٍو وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب قیامت کا دن ہو گا تو اللہ تعالیٰ ایک منادی کو حکم دے گا ، جو یہ اعلان کرے گا ، خبردار ! ایک نسب میں نے بنایا تھا ، اور ایک نسب تم لوگوں نے بنایا ، میں نے تم میں سے سب سے زیادہ معزز اس شخص کو بنایا جو تم میں سب سے زیادہ پرہیزگار ہو ، لیکن تم لوگوں نے یہ بات نہیں مانی اور یہ کہا: کہ فلاں بن فلاں جو ہے ۔ وہ فلاں بن فلاں سے بہتر ہے ، آج میں اپنے نسب کو سربلندی عطا کروں گا اور تمہارے نسب کو پست کر دوں گا ، پرہیزگار لوگ کہاں ہیں ؟ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی طلحہ بن عمرو ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 13083
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (642)»
حدیث نمبر: 13084
وَعَنْ قَنْبَرَ حَاجِبٍ مُعَاوِيَةَ قَالَ : كَانَ أَبُو ذَرٍّ يُغْلِظُ لِمُعَاوِيَةَ قَالَ : فَشَكَاهُ إِلَى عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ وَإِلَى أَبِي الدَّرْدَاءِ وَإِلَى عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ وَإِلَى أُمِّ حَرَامٍ فَقَالَ : إِنَّكُمْ صَحِبْتُمْ كَمَا صَحِبْتُ ، وَرَأَيْتُمْ كَمَا رَأَيْتُ ، فَإِنْ رَأَيْتُمْ أَنْ تُكَلِّمُوهُ ، ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَى أَبِي ذَرٍّ فَجَاءَ ، فَكَلَّمُوهُ فَقَالَ : أَمَّا أَنْتَ يَا أَبَا الْوَلِيدِ ، فَقَدْ أَسْلَمْتَ قَبْلِي وَلَكَ السِّنُّ وَالْفَضْلُ عَلَيَّ ، وَقَدْ كُنْتُ أَرْغَبُ بِكَ عَنْ مِثْلِ هَذَا الْمَجْلِسِ ، وَأَمَّا أَنْتَ يَا أَبَا الدَّرْدَاءِ ، فَإِنْ كَادَتْ وَفَاةُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَتَفُوتُكَ ، ثُمَّ أَسْلَمْتَ ، فَكُنْتَ مِنْ صَالِحِي الْمُسْلِمِينَ ، وَأَمَّا أَنْتَ يَا عَمْرُو ، فَقَدْ جَاهَدْتَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَمَّا أَنْتِ يَا أُمَّ حَرَامٍ ، فَإِنَّمَا أَنْتِ امْرَأَةٌ ، وَعَقْلُكِ عَقْلُ امْرَأَةٍ ، فَمَا أَنْتِ وَذَاكَ ؟ فَقَالَ عُبَادَةُ : لَا جَرَمَ لَا جَلَسْتُ مِثْلَ هَذَا الْمَجْلِسِ أَبَدًا . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ قَنْبَرُ حَاجِبُ مُعَاوِيَةَ ذَكَرَهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ وَلَمْ يُوَثِّقْهُ ( وَلَمْ يَجْرَحْهُ ) ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے دربان ، قنبر بیان کرتے ہیں : سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ پر تنقید کرتے تھے ، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے اس کی شکایت سیدنا عبادہ بن صامت ، سیدنا ابودرداء اور سیدنا عمرو بن العاص اور سیدہ ام حرام رضی اللہ عنہم سے کی اور یہ کہا: کہ آپ لوگ بھی اسی طرح صحابی ہیں ، جس طرح وہ صحابی ہیں ، اور آپ لوگ بھی ایک رائے رکھتے ہیں جس طرح ان کی ایک رائے ہے ، اگر آپ مناسب سمجھیں تو ان کے ساتھ بات چیت کریں ، پھر انہوں نے سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیجا ، وہ تشریف لائے ، ان حضرات نے ان کے ساتھ بات چیت کی تو سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے سیدنا ابوولید ! آپ نے مجھ سے پہلے اسلام قبول کیا تھا آپ کو عمر میں برتری کا شرف بھی حاصل ہے اور مجھ پر فضیلت بھی حاصل ہے اور میں اس طرح کی محفل میں آپ کے ساتھ میں رغبت رکھتا ہوں ، اسے سیدنا ابودرداء ! جہاں تک آپ کا تعلق ہے ، تو قریب تھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کی وجہ سے آپ ( صحابی ہونے ) سے رہ جاتے ، لیکن پھر بھی آپ نے اسلام قبول کیا ، پھر بھی آپ صحابہ میں سے ہیں ، اے سیدنا عمرو ! جہاں تک آپ کا تعلق ہے ، تو آپ نے اللہ کے رسول کے ساتھ جہاد کیا ، اے ام حرام ! جہاں تک آپ کا تعلق ہے ، تو آپ ایک خاتون ہیں اور آپ کی عقل ایک خاتون کی عقل ہے ، تو پھر آپ کا اس کے ساتھ کیا واسطہ ہے ، تو سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ ضروری ہے کہ میں اس طرح کی محفل میں کبھی نہ بیٹھوں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی قنبر ہے ، جو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا دربان ہے ، ابن ابوحاتم نے اس کا ذکر کیا ہے ۔ انہوں نے اس کی توثیق نہیں کی اور اس پر جرح بھی نہیں کی ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 13084
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (147/5)»