کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: بے وقوف شخص سے لاتعلقی اختیار کرنا اور اس سے چشم پوشی اختیار کرنا
حدیث نمبر: 12953
عَنْ عُمَيْرِ بْنِ حَبِيبِ بْنِ خُمَاشَةَ ، وَكَانَ قَدْ أَدْرَكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عِنْدَ احْتِلَامِهِ - : ¤ أَنَّهُ أَوْصَى وَلَدَهُ فَقَالَ : يَا بَنِيَّ ، إِيَّاكُمْ وَمُجَالَسَةَ السُّفَهَاءِ ، فَإِنَّ مُجَالَسَتَهُمْ دَاءٌ ، مَنْ يَحْلُمُ عَنِ السَّفِيهِ يُسَرُّ ، وَمَنْ يُجِبْهُ يَنْدَمْ ، وَمَنْ لَا يَرْضَى بِالْقَلِيلِ مِمَّا يَأْتِي بِهِ السَّفِيهُ يَرْضَى بِالْكَثِيرِ . قُلْتُ : فَذَكَرَهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمیر بن حبیب بن خماشہ رضی اللہ عنہ جنہوں نے بلوغت کے زمانے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ پایا ہے ۔ انہوں نے اپنے بیٹے کو یہ تلقین کی تھی اور فرمایا : اے میرے بیٹے ! بے وقوفوں کی ہمنشینی سے بچ کے رہنا کیونکہ ان کی ہمنشینی ایک بیماری ہے ، جو شخص بے وقوف کے مقابلے میں بردباری کا مظاہرہ کرے گا ، وہ خوش رہے گا ، جو شخص اس کو جواب دے گا وہ ندامت کا شکار ہو گا ، اور بے وقوف کی طرف سے آنے والی تھوڑی چیز سے جو راضی نہیں ہو گا وہ زیادہ سے راضی ہو گا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ( راوی کہتے ہیں : ) اس کے بعد انہوں نے پوری روایت ذکر کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12953
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (50/17)»