کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: اس شخص کا بیان جو چھینکتا ہے ، اور اللہ تعالیٰ حمد کا بیان نہیں کرتا ہے
حدیث نمبر: 12910
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : ¤ عَطَسَ رَجُلَانِ عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَحَدُهُمَا أَشْرَفُ مِنَ الْآخَرِ ، فَعَطَسَ الشَّرِيفُ فَلَمْ يَحْمَدِ اللَّهَ ، فَلَمْ يُشَمِّتْهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعَطَسَ الْآخَرُ ، فَحَمِدَ اللَّهَ ، فَشَمَّتَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ¤ قَالَ : فَقَالَ الشَّرِيفُ : عَطَسْتُ عِنْدَكَ فَلَمْ تُشَمِّتْنِي ، وَعَطَسَ هَذَا عِنْدَكَ فَشَمَّتَّهُ ؟ قَالَ : فَقَالَ : " إِنَّ هَذَا ذَكَرَ اللَّهَ فَذَكَرْتُهُ ، وَأَنْتَ نَسِيتَ اللَّهَ فَنَسِيتُكَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ رِبْعِيِّ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، وَهُوَ ثِقَةٌ مَأْمُونٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود دو افراد کو چھینک آئی ، ان میں سے ایک شخص دوسرے سے نمایاں حیثیت رکھتا تھا ، نمایاں حیثیت رکھنے والے شخص نے چھینکا تو اس نے اللہ تعالیٰ کی حمد بیان نہیں کی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے جواب بھی نہیں دیا ، دوسرے شخص نے چھینکا ، اس نے اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے جواب دیا ( یعنی جوابی دعا دی ) تو اس نمایاں حیثیت کے شخص نے کہا: میں نے آپ کے پاس چھینکا لیکن آپ نے مجھے جواب نہیں دیا ، لیکن اس شخص نے آپ کے پاس چھینکا تو آپ نے اسے جواب دیا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس شخص نے اللہ کا ذکر کیا تھا تو میں نے اس کا ذکر کیا اور تم اللہ تعالیٰ ( کا ذکر کرنا ) بھول گئے تھے ، تو میں بھی تمہیں بھول گیا ( یعنی میں نے تمہیں تمہارے حال پر چھوڑ دیا ) ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف ربعی بن ابراہیم کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ اور مامون ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12910
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (1402) اخرجه احمد فى المسند (328/3)»
حدیث نمبر: 12911
وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ أَنَّ عَامِرَ بْنَ الطُّفَيْلِ قَدِمَ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْمَدِينَةَ ، فَرَاجَعَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَارْتَفَعَ صَوْتُهُ ، وَثَابِتُ بْنُ قَيْسٍ قَائِمٌ بِسَيْفِهِ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا عَامِرُ غُضَّ مِنْ صَوْتِكَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : وَمَا أَنْتَ وَذَاكَ ؟ فَقَالَ ثَابِتٌ : أَمَا وَالَّذِي أَكْرَمَهُ ، لَوْلَا أَنْ يَكْرَهَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَضَرَبْتُ بِهَذَا السَّيْفِ رَأْسَكَ . فَنَظَرَ إِلَيْهِعَامِرٌ وَهُوَ جَالِسٌ ، وَثَابِتٌ قَائِمٌ ، فَقَالَ : أَمَا وَاللَّهِ يَا ثَابِتُ لَئِنْ عَرَضْتَ نَفْسَكَ لِي لَتُوَلِّيَنَّ عَنِّي ، فَقَالَ ثَابِتٌ : أَمَا وَاللَّهِ يَا عَامِرُ لَئِنْ عَرَضْتَ نَفْسَكَ لِلِسَانِي لَتَكْرَهَنَّ حَيَاتِي . فَعَطَسَ ابْنُ أَخٍ لِعَامِرِ بْنِ الطُّفَيْلِ ، فَحَمِدَ اللَّهَ ، فَشَمَّتَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ عَطَسَ عَامِرُ بْنُ الطُّفَيْلِ ، فَلَمْ يَحْمَدِ اللَّهَ ، فَلَمْ يُشَمِّتْهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ عَامِرٌ : شَمَّتَّ هَذَا الصَّبِيَّ وَتَرَكْتَنِي ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : ¤ " إِنَّ هَذَا حَمِدَ اللَّهَ " . ¤ قُلْتُ : فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . وَهُوَ بِطُولِهِ فِي غَزْوَةِ بِئْرِ مَعُونَةَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْمُهَيْمِنِ بْنُ عَبَّاسٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : عامر بن طفیل نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مدینہ منورہ آیا ، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بحث کرنے لگا ، اس کی آواز بلند ہو گئی ، اس وقت سیدنا ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھڑے ہوئے تھے ۔ انہوں نے کہا: اے عامر ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اپنی آواز کو پست رکھو ، اس نے کہا: تمہارا اس بات کے ساتھ کیا واسطہ ہے ، سیدنا ثابت رضی اللہ عنہ نے کہا: اس ذات کی قسم ! جس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو عزت عطا کی ہے ، اگر یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ناگوار نہ گزرتی ہوتی تو میں نے اس تلوار کے ذریعے تمہارا سر اڑا دینا تھا ، عامر نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھا آپ تشریف فرما تھے اور سیدنا ثابت رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے تھے ۔ اس نے کہا: اللہ کی قسم ! اے ثابت اگر تم اپنے آپ کو میرے مقابلے میں پیش کرو ، تو تم ضرور مجھ سے پھر جاؤ گے ، تو سیدنا ثابت رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم ! اے عامر اگر تم اپنے آپ کو صرف میری زبان کے مقابلے میں پیش کر دو ، تو تمہیں میری زندگی بری لگے گی ، اس وقت عامر بن طفیل کے بھتیجے کو چھینک آئی ، اس نے اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کی ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو چھینک کا جواب دیا : پھر عامر بن طفیل کو چھینک آئی ، اس نے اللہ تعالیٰ کی حمد بیان نہیں کی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے جواب نہیں دیا ، تو عامر نے کہا: آپ نے اس بچے کو جواب دیدیا ہے ، اور مجھے نہیں دیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس نے اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کی تھی ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ، جو طویل حدیث کے طور پر غزوہ بئر معونہ میں موجود ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالمہیمن بن عباس ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12911
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7524)»