کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: چھینکنے والے کو جواب دینے کی ترغیب دینا
حدیث نمبر: 12912
عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : ¤ " إِذَا عَطَسَ الْعَاطِسُ ، فَشَمِّتْهُ ، وَلَوْ مِنْ خَلْفِ سَبْعَةِ أَبْحُرٍ ، وَمَنْ شَمَّتَ عَاطِسًا ، ذَهَبَ عَنْهُ ذَاتُ الْجَنْبِ وَوَجَعُ الضِّرْسِ وَالْأُذُنَيْنِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ مِحْصَنٍ الْعُكَاشِيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب کوئی چھینکنے والا چھینکے تو تم اسے جواب دو ، خواہ سات سمندروں سے پار سے دو ، جو شخص چھینکنے والے کو جواب دیتا ہے اس سے ذات الجنب کی بیماری اور داڑھوں اور کان کا درد رخصت ہو جاتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن محصن عکاشی ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12912
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (700)»