کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: نبی اکرم ﷺ کے نام اور آپ کی کنیت کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 12833
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنَ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ ، عَنْ عَمِّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : ¤ " لَا تَجْمَعُوا بَيْنَ اسْمِي وَكُنْيَتِي " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
عبدالرحمن بن ابوعمرہ اپنے چچا کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میرے نام اور میری کنیت کو جمع نہ کرو ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12833
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (435/3)»
حدیث نمبر: 12834
وَعَنْ أَبِي حُمَيْدٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : ¤ " مَنْ تَسَمَّى بِاسْمِي فَلَا يَكْتَنِي بِكُنْيَتِي " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي سَبْرَةَ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوحمید رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص میرے نام کے مطابق نام رکھتا ہے ، تو وہ میری کنیت کے مطابق کنیت اختیار نہ کرے “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوبکر بن ابوسبرہ ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12834
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1990)»
حدیث نمبر: 12835
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : ¤ " سَمُّوا بِاسْمِي وَلَا تُكَنُّوا بِكُنْيَتِي " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ وَرِجَالُ أَحَدِهِمَا ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” میرے نام کے مطابق نام رکھو لیکن میری کنیت کے مطابق کنیت اختیار نہ کرو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ، اور ان دونوں میں سے ایک کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12835
درجۂ حدیث محدثین: رواه الطبراني بإسنادين ورجال أحدهما ثقات.
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير ( 12990 و 12513)»
حدیث نمبر: 12836
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ فَضَالَةَ - يَعْنِي الظَّفَرِيَّ - قَالَ : قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَنَا ابْنُ أُسْبُوعَيْنِ ، فَأُتِيَ بِي إِلَيْهِ ، فَمَسَحَ عَلَى رَأْسِي وَقَالَ : ¤ " سَمُّوهُ بِاسْمِي ، وَلَا تُكَنُّوهُ بِكُنْيَتِي " . ¤ وَحُجَّ بِي مَعَهُ حِجَّةَ الْوَدَاعِ ، وَأَنَا ابْنُ عَشْرِ سِنِينَ ، فَلَقَدْ عَمَّرَ مُحَمَّدٌ حَتَّى شَابَ رَأْسُهُ ، وَمَا شَابَ مَوْضِعُ يَدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ يَعْقُوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَغَيْرُهُ ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا محمد بن فضالہ ظفری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے ، تو میں دو ہفتوں کا تھا ، مجھے آپ کی خدمت میں لایا گیا ، آپ نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور ارشاد فرمایا : ” میرے نام کے مطابق اس کا نام رکھ دو لیکن میری کنیت کے مطابق اس کی کنیت نہ رکھنا ۔ “ راوی بیان کرتے ہیں : میرے والد مجھے ساتھ لے کر حجۃ الوداع پر گئے تھے اس وقت میری عمر دس سال تھی ، راوی کہتے ہیں : سیدنا محمد بن فضالہ رضی اللہ عنہ کی عمر طویل ہوئی تھی ، یہاں تک کہ ان کے سر کے بال سفید ہو گئے تھے لیکن اس جگہ کے بال سفید نہیں ہوئے تھے جہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دست مبارک رکھا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یعقوب بن محمد زہری ہے ، جسے ابن حبان اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12836
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (244/19)»
حدیث نمبر: 12837
وَعَنْ أَبِي غَزِيَّةَ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : ¤ " لَا تَجْمَعُوا بَيْنَ اسْمِي وَكُنْيَتِي " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ رَبِيعَةَ الرَّحَبِيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوغزیہ انصاری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میرے نام اور میری کنیت کو جمع نہ کرو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یزید بن ربیعہ رحبی ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12837
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (329/22)»
حدیث نمبر: 12838
وَعَنْ عُبَيْدِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : ¤ " لَا تَجْمَعُوا بَيْنَ اسْمِي وَكُنْيَتِي " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ حَفْصَةُ بِنْتُ الْبَرَاءِ وَلَمْ أَعْرِفْهَا ، وَمَنِ اخْتَلَفَ فِي الِاحْتِجَاجِ بِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبید بن عازب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میرے نام اور میری کنیت کو جمع نہ کرو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حفصہ بنت براء ہیں ، اور میں اس خاتون سے واقف نہیں ہوں اور ایک ایسا راوی ہے جس سے استدلال کرنے کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12838
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 12839
وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : ¤ " تُسَمُّونَهُمْ مُحَمَّدًا ثُمَّ تَلْعَنُونَهُمْ ! " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ ، وَفِيهِ الْحَكَمُ بْنُ عَطِيَّةَ وَثَّقَهُ أَحْمَدُ وَضَعَّفَهُ غَيْرُهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم لوگ ان ( بچوں ) کا نام محمد لکھ لیتے ہو ، اور پھر ان پر لعنت بھی کرتے ہو ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی حکم بن عطیہ ہے ، جسے امام أحمد نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12839
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1987) اخرجه ابو يعلى فى المسند (3386)»
حدیث نمبر: 12840
وَعَنْ أَبِي رَافِعٍ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : ¤ " إِذَا سَمَّيْتُمْ مُحَمَّدًا فَلَا تَضْرِبُوهُ وَلَا تَحْرِمُوهُ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، عَنْ شَيْخِهِ غَسَّانَ بْنِ عُبَيْدٍ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَغَيْرُهُ ، وَفِيهِ ضَعْفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جب تم ( کسی بچے کا ) نام محمد رکھ دو تو تم اس کی پٹائی نہ کرو اور تم اسے محروم نہ رکھو ۔ “
یہ روایت امام بزار نے اپنے استاد غسان بن عبید کے حوالے سے نقل کی ہے ، جسے ابن حبان اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12840
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1988)»
حدیث نمبر: 12841
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنَ بْنِ أَبِي لَيْلَى قَالَ : نَظَرَ عُمَرُ إِلَى ابْنِ عَبْدِ الْحَمِيدِ - وَكَانَ اسْمُهُ مُحَمَّدًا - وَرَجُلٌ يَقُولُ لَهُ : فَعَلَ اللَّهُ بِكَ يَا مُحَمَّدُ . فَسَمَّاهُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ ، فَأَرْسَلَ إِلَى بَنِي طَلْحَةَ وَهُمْ سَبْعَةٌ ، سَيِّدُهُمْ وَكَبِيرُهُمْ مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ فَغَيَّرَ أَسْمَاءَهُمْ ، فَقَالَ مُحَمَّدٌ : أُذَكِّرُكَ اللَّهَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، فَوَاللَّهِ مُحَمَّدٌ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَمَّانِي . فَقَالَ : قُومُوا ، فَلَا سَبِيلَ إِلَى شَيْءٍ سَمَّاهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَاللَّفْظُ لَهُ ، وَأَحْمَدُ وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
عبدالرحمن بن ابولیلی بیان کرتے ہیں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عبدالحمید کے بیٹے کی طرف دیکھا ، اس کا نام محمد تھا ، اور وہ شخص اس سے یہ کہہ رہا تھا : اے محمد ! اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ یہ کرے ، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کا نام عبدالرحمن رکھ دیا ، پھر انہوں نے بنو طلحہ کو پیغام بھیجا ، وہ سات افراد تھے ، ان سب کے سردار اور ان سب کے بڑے محمد بن طلحہ تھے ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کے نام تبدیل کیے ، تو محمد بن طلحہ نے کہا: اے امیرالمؤمنین میں آپ کو اللہ کا واسطہ دے کر کہتا ہوں ( کہ آپ ایسا نہ کریں ) کیونکہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا یہ نام رکھا ہے ، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم اٹھ جاؤ ! کیونکہ جس کا نام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تجویز کیا ہو اسے ( تبدیل کرنے کی ) کوئی صورت نہیں ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، روایت کے یہ الفاظ ان کے نقل کردہ ہیں اور امام أحمد نے نقل کی ہے امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12841
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (242/19) أخرجه احمد فى المسند (216/4)»
حدیث نمبر: 12842
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : ¤ " مَنْ وُلِدَ لَهُ ثَلَاثَةٌ فَلَمْ يُسَمِّ أَحَدَهُمْ مُحَمَّدًا فَقَدْ جَهِلَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُصْعَبُ بْنُ سَعِيدٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جس شخص کے تین بچے ہوں اور وہ ان میں سے کسی کا نام محمد نہ رکھے تو اس نے جہالت کا مظاہرہ کیا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مصعب بن سعید ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12842
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (110/7)»
حدیث نمبر: 12843
وَعَنْ وَاثِلَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : ¤ " مَنْ وُلِدَ لَهُ ثَلَاثَةُ أَوْلَادٍ ، لَمْ يُسَمِّ أَحَدَهُمْ مُحَمَّدًا فَقَدْ جَهِلَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ مُوسَى بْنِ وَجِيهٍ وَهُوَ كَذَّابٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا واثلہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جس شخص کے ہاں تین اولادیں ہوں ( یعنی تین بیٹے ہوں ) اور وہ ان میں سے کسی کا نام محمد نہ رکھے تو اس نے جہالت کا مظاہرہ کیا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمر بن موسیٰ بن وجیہ ہے اور وہ کذاب ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12843
درجۂ حدیث محدثین: موضوع
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (94/22)»
حدیث نمبر: 12844
وَعَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ قَالَ : حَدَّثَنِي ظِئْرُ مُحَمَّدِ بْنِ طَلْحَةَ قَالَ : لَمَّا وُلِدَ مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ أَتَيْتُ بِهِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَا سَمَّيْتُمُوهُ ؟ " . قُلْنَا : مُحَمَّدٌ . قَالَ : " هَذَا اسْمِي ، وَكُنْيَتُهُ أَبُو الْقَاسِمِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُثْمَانَ أَبُو شَيْبَةَ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤ قَالَ الطَّبَرَانِيُّ : مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ وُلِدَ فِي حَيَاةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَسَمَّاهُ مُحَمَّدًا وَكَنَّاهُ أَبَا الْقَاسِمِ . ¤
محمد محی الدین
عیسیٰ بن طلحہ بیان کرتے ہیں : محمد بن طلحہ کی دائی ماں بیان کرتی ہیں کہ جب محمد بن طلحہ پیدا ہوئے ، تو میں انہیں لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تم لوگ اس کا کیا نام رکھو گے ؟ ہم نے عرض کی : محمد ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ میرے نام کے مطابق ہے اور اس کی کنیت ابوالقاسم ہو گی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن عثمان بن ابوشیبہ ہے اور وہ متروک ہے ۔ امام طبرانی کہتے ہیں : سیدنا محمد بن طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں پیدا ہوئے تھے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نام محمد رکھا تھا ، اور ان کی کنیت ابوالقاسم تجویز کی تھی ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12844
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (187/25)»